Rana Zahid Iqbal, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
23 اپریل 2021 (11:25) 2021-04-23

ماہِ رمضان المبارک سب سے مقدس اور رحمتوں کا مہینہ ہے۔ اس ماہ میں ایک انسان کے دل میں نرمی، رحم، توبہ اور صبر کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ روضہ فرض قرار دیا گیا ہے تا کہ انسان تقویٰ حاصل کر سکے اور تقویٰ کے معنی ہیں بندہ ہر وقت اللہ سے ڈرتا رہے اور تمام کام اللہ تعالیٰ کی رضا اور ہدایت کے مطابق سرانجام دے۔ رمضان المبارک کا مہینہ عظمت و رفعت اور خیرات و برکات سے لبریز ایک ایسا مہینہ ہے جس میں ہر لمحہ اللہ کے پیارے بندوں پر رحمتوں کا نزول ہوتا رہتا ہے۔ یہ ماہِ مبارک کارِ خیر اور عملِ صالح کا ایسا حسین سنگم ہے جہاں ہر بندۂ مومن فکر صالح اور ذکرِ آخرت کو بنیاد بنا کر اپنے اندر عزم و استقلال فکر و تدبر اور شوقِ عمل کا جذبہ بیکراں پیدا کر سکتا ہے۔۔ اس ماہِ مبارکہ میں نفلی عبادتوں کا اجر فرائض کے مساوی اور ایک فرض عبادت کا ثواب ستر فرضوں کے برابر باری تعالیٰ کی طرف سے ایک عظیم تحفہ ہے جس میں دونوں جہان کی کامیابی و کامرانی مضمر ہے۔ لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آج ہم نے حصولِ زر کو ہی اپنی زندگی کا محور بنا لیا ہے اور لالچ ہمارے ذہنوں میں رچ بس گئی ہے۔ یہی وجہ ہے ہم دنیاوی مال و دولت کی خاطر کسی بات سے بھی اجتناب نہیں کرتے حتیٰ کہ یہ بھی نہیں دیکھتے ہم جو دولت حاصل کر رہے ہیں وہ جائز ہے یا ناجائز۔ ماضی کی طرح اس سال بھی جونہی رمضان کی آمد ہوئی کاروباری لوگوں نے اپنی اپنی چیزوں کے نرخ بڑھا دئے بلکہ یہاں تک کہ بہت سا مال ذخیرہ کر کے رکھاہوا تھا کہ رمضان کے مہینے میں مہنگے مول فروخت کریں گے۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ رمضان المبارک کے با برکت مہینے میں لوگوں کو چیزیں سستی ملنی چاہئیں لیکن مہنگائی کی یہ صورتحال صرف ماہِ رمضان میں ہی شروع نہیں ہوئی بلک عوام مہنگائی سے بہت تنگ ہیںاور مہنگائی کی وجہ حکومتی معاشی مینیجرز کی سمجھ سے باہر ہے وہ تذبذب میں ہیں کہ مہنگائی کو کس طرح کنٹرول کریں۔ تاہم بعض سرکاری اہلکاروں اور نجی شعبے سے متعلق افراد پر مشتمل ملک میں ایک وسیع نیٹ ورک کام کر رہا ہے جس کا طریقۂ واردات ذخیرہ اندوزی کی شکل میں 

اشیاء کی طلب اور رسد میں مصنوعی عدم توازن پیدا کرنے اور اسمگلنگ پر مبنی ہے۔ بد قسمتی سے سرکاری اہلکار ہی ان کی سرپرستی کرتے ہیں۔ بلیک مارکیٹنگ اور رشوت و بد عنوانی یہ تمام اسباب مل کر اس وقت ملک میں ایک متوازی غیر قانونی معیشت چلانے کا باعث بن رہے ہیں۔ جس سے ایک طرف غریب، تنخواہ داراور مزدور پیشہ طبقات بری طرح پس رہے ہیں تو دوسری جانب حکومتی خزانے میں جانے والے محاصل ان غریب دشمن عناصر کی جیبوں میں جا رہے ہیں۔ اس صورتحال میں جب مستقبل قریب میں شرح نمو میں اضافے کا بظاہر کوئی امکان نظر نہیں آتا حکومت کے معاشی مینیجرز کے لئے صورتحال کو سنبھالنا کسی بڑے امتحان سے کم نہیں۔ حکومت معیشت کی بہتری کے لئے جو بھی اقدامات کر رہی ہے اس کے نتائج خاطر خواہ نہیں آ رہے ہیں۔  

مہنگائی میں اضافے سے عوام کی قوتِ خرید میں نمایاں کمی ہوئی ہے، اس لئے ہماری سیاسی قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک کو اقتصادی طور پر خوشحال بنانے کے لئے مل بیٹھ کر منصوبہ بندی کرے۔ اس سے جہاں پاکستان اقتصادی طور پر مضبوط ہو گا وہاں اس سے جمہوریت کو بھی استحکام حاصل ہو سکتا ہے۔ ورنہ دوسری صورت میں عوام سیاسی قیادت کی کارکردگی پر مایوسی کا اظہار کر سکتے ہیں۔ وطنِ عزیز اس وقت معاشی بقاء کی ایک ایسی ہولناک جنگ لڑ رہا ہے جو اس ملک کے حکمران طبقہ، اشرافیہ اور کاروباری ٹرائیکا کی مفاد پرستی کا شاخسانہ ہے جس نے غریب کے منہ سے نوالہ تک چھیننے کی ظالمانہ روش اختیار کر رکھی ہے۔ یہ اندازِ حکمرانی عوام دوستی اور جمہوریت سے کمٹمنٹ کا آئینہ دار نہیں، جب تک معاشی ثمرات کا دھارا عوام کی جھگیوں اور غریب خانوں تک نہیں پہنچائیں گے، اس وقت تک جمہوریت محفوظ نہیں رہ سکتی اور نہ آمریت کی قبر پر غائبانہ لاتیں رسید کرنے سے کام چلے گا۔ مہنگائی اور عوام کی معاشی بدحالی سے پیدا شدہ حقائق نوشتۂ دیوار بنتے جا رہے ہیں۔ خلقِ خدا کے پیٹ میں روٹی نہیں ہو گی، اسے چینی، گھی، چائے، دال، مصالحے، چکن اور سبزی مہنگے داموں ملیں اور غریب آدمی کی قوتِ خرید جواب دے جائے تو کب تک قوم سازش ہو رہی، جمہوریت کو ڈی ریل کرنے والی قوتیں سرگرم ہو گئی ہیں کی وضاحتوں کے لالی پاپ سے بہلتی رہے گی۔ ہر ذمہ دار اپنی ڈفلی بجا رہا ہے، چاروں طرف مفاد پرستانہ تحفظات، افسوسناک تاویلات اور وضاحتوں کا بازار گرم ہے۔ غربت، عدم مساوات اور دولت کی غیر منصفانہ تقسیم نے ایک طرف جمہوریت کے ثمرات سے عوام کو محروم کر رکھا ہے تو دوسری جانب ریاستی اداروں کی شکست و ریخت، قانون کی حکمرانی کے فقدان، روزمرہ اشیاء کی من مانی قیمتوں پر فروخت، مٔوثر مانیٹرنگ اور ذخیرہ اندوزوں کی گرفتاری اورا نہیں سزا دلانے پر مامور اداروں اور اہلکاروں کی بے بسی جب کہ بد عنوانی، بے حسی، سنگدلی اور مفاد پرستانہ طرزِ عمل نے عوام اور اپوزیشن رہنماؤں کو بھی مایوس کر دیا ہے۔

آئی ایم ایف جس کے بارے میں پی ٹی آئی کا برسرِ اقتدار آنے سے قبل خیال تھا کہ اس سے رجوع نہیں کیا جائے گا اس کی شرائط پوری کرنے کے لئے بلا سوچے سمجھے گیس، بجلی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کئی بار اضافہ کر دیا گیا ہے۔ جب کہ قوم کو یہی بتایا جاتا رہا تھا کہ آئی ایم ایف کی شرائط قبول نہیں کی جائیں گی۔ اب یہ شرائط حکومت کے ساتھ عوام کے گلے کا پھانس بن چکی ہیں۔ مہنگائی میں کمی کے حوالے سے عملی طور پر کچھ نہیں کیا جا رہا ہے یہی وجہ ہے کہ مہنگائی کا گھوڑا بے لگام ہوتا جا رہا ہے اور عوام کی امیدیں اس کے قدموں تلے کچلی جا رہی ہیں۔ حالات کا تقاضا ہے کہ عوام کو مایوس نہ کیا جائے اور ان کے مسائل پر توجہ دی جائے جو حکومت کی ذمہ داری ہے۔اس حوالے سے یہ بات یاد رکھی جائے کہ اس بار عوام طفل تسلیوں سے بہلنے والے نہیں کچھ ٹھوس کرنا ہو گا۔ یہ بات بالکل واضح ہے اگر حکومت نے مہنگائی کو روکنے کے لئے کوئی ٹھوس قدم نہ اٹھایا اور اپوزیشن نے احتجاجی تحریک جیسا کہ وہ عندیہ دے رہی ہے شروع کر دی تو عوام بھی اس میں شامل ہو گئے پھر حکومت کے لئے حالات کو سنبھالنا مشکل ہو جائے گا۔ اس لئے حکومت کو کچھ ایسے اسباب پیدا کرنے کی کوشش کرنی ہو گی جو فنانس کے مسائل کو آسانی سے حل کرنے میں مدد دے سکیں۔


ای پیپر