بھارتی مسلمان کے ساتھ بڑھتی زیادتیاں
23 اپریل 2020 (23:12) 2020-04-23

کرونا وائرس بغیر کسی مذ ہب و ملت، رنگ نسل کے پوری دنیاکے سا منے ایک عفریت کے طو ر پر آ ن کھڑا ہو ا ہے۔ اب تک تقریباً پونے دو لاکھ انسانی جانیں اس کی نذر ہوچکی ہیں۔دیکھنے میں آ ر ہا ہے کہ پو ری دنیا کے انسان اپنے ہر طر ح کے تعصبات بھلا کر اس وبا ء سے نمٹنے کے لیئے سر جو ڑ چکے ہیں۔ مگر بھارت واحد ملک ہے جہا ں اس ناگہانی آفت کی آڑ میں مسلمانوں کو نفرت، تعصب اور ظلم و تشدد کا بری طرح نشانہ بنارہا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ہندوتوا یا اکھنڈ ہندو مملکت کی علمبردار مودی حکومت کی شہ پر بھارتی مسلمانوں کو کورونا وائرس کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے ہندو اکثریتی علاقوں سے مار مار کر نکالا جارہا ہے۔ انہیں سبزی، پھل اور کھانے پینے کی دوسری اشیا خریدنے نہیں دی جارہیں اور مسلمان مریضوں کو سرکاری اسپتالوں میں علاج کی سہولت دینے سے انکار کیا جارہا ہے۔ اس سلسلے میں اُتر پردیش میں جہاں ایک انتہا پسند ہندو یوگی وزیراعلیٰ ہے، میڈیا میں اشتہار بھی جاری کیا گیا ہے، عام مسلمانوں کے علاوہ تبلیغی جماعت کے لوگ اس مذموم مہم کا خصوصی نشانہ ہیں جن کے دہلی میں گزشتہ ماہ ایک اجتماع کو کورونا پھیلانے کا ذمہ دار قرار دیا جارہا ہے۔ اسلامی تعاون تنظیم او آئی سی نے مسلمانوں کے خلاف اس نفرت انگیز مہم کی شدید مذمت کی ہے اور بھارتی حکومت سے بجاطور پر مطالبہ کیا ہے کہ اسلامو فوبیا کی اس بے بنیاد مہم کو روکے اور مسلمان اقلیت کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کرے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر یہ سو چ وا ضح ہے کہ ہزاروں افراد کو بھوک اور مصائب میں پھنسانے والی مودی سرکار کا کورونا کے حوالے سے اپنی ناکام پالیسیوں کے خلاف عوامی ردّ عمل سے توجہ ہٹانے کے لیے جان بوجھ کر مسلمانوں کو نشانہ ستم بنانا ویسا ہی سلوک ہے جیسا جرمنی میں نازیوں نے یہودیوں کے ساتھ کیا تھا۔ یہ نسلی بالا دستی ہندو توا نظریئے سے مودی سرکار کے گہرے تعلق کا ایک منہ بولتا ثبوت ہے۔ اسلامی ممالک میں تعاون کی تنظیم او آئی سی کے انسانی حقوق کمیشن نے بھارت کے اندر کورونا کے پھیلائو کا بھونڈا لزام مسلمان پر عائد کرنے اور میڈیا میں ان کی کردار کشی کو اسلام سے نفرت پر مبنی منفی مہم قرار دیا جس کے نتیجے میں مسلمان امتیازی سلوک اور تشدد کا نشانہ بن رہے ہیں۔ تنظیم نے بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کے تحت بھارت میں مسلم اقلیت کے حقوق کے تحفظ کا پُرزور مطالبہ کیا۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے بھی کورونا وائرس پھیلانے کا الزام مسلمانوں پر لگا کر بھارت میں ان پر حملوں، مسجدوں پر ڈنڈا بردار ہندوئوں کی یلغار اور غریبوں کو خوراک پہنچانے والے مسلمان

نوجوانوں کو بزور طاقت روکنے کے بارے میں ایک رپورٹ شائع کی ہے۔ صدر عارف علوی نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ کورونا وبا کے بعد بنیادی طبی سہولتیں دینے کے بجائے بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کے لوگوں پر ظلم و تشدد میں اضافہ کردیا ہے۔ اس حوالے سے بھارتی میڈیا کی یہ رپورٹ مودی سرکار کے منہ پر طمانچہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں 71 ہزار مریضوں کے لیے ایک وینٹی لیٹر اور 3900 کے لیے ایک ڈاکٹر جبکہ ہر 9 کشمیری مسلمانوں پر ایک فوجی مسلط ہے اور 1989ء سے اب تک ایک لاکھ سے زائد افراد کو شہید کیا جاچکا ہے۔ اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں کو بھارتی مسلمانوں کے خلاف مشکل کی اس گھڑی میں بھی انتہا پسند مودی حکومت اور اس کی طفیلی ہندو تنظیموں کے انسانیت دشمن رویے اور شرانگیزانہ کاررائیوں کے بارے میں وزیراعظم عمران خان اور او آئی سی کے بیانات کا فوری نوٹس لینا چاہیے اور بھارتی مسلمانوں کے انسانی حقوق کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

قا رئین کر ا م کو یاد ہو گا کہ گذ شتہ بر س ما ہِ اگست میں متحد ہ عر ب اما رات نے نر یند ر مو دی کو بلا کر اپنے ملک کا سب سے بڑا سول ایوار ڈ دیا تھا۔جس پر پا کستان نے احتجا ج کیا تھااور با ور کر ا یا تھا کہ مو دی سر کا ر کس حد تک مقبو ضہ کشمیر میں انسا نی حقو ق کی خلا ف ور زیو ں میں ملو ث ہے۔ مگر پاکستا ن کے سا تھ اپنے بہترین تعلقا ت کے با وجو دیو اے ای حکو مت نے پا کستان کے احتجاج کو کو ئی اہمیت نہیں دی تھی۔تا ہم اب جب کہ کرونا و با ء کے پھیلنے کو بھار ت کے انتہا پسند ہند و اس وبا ء کو مسلما نو ں سے منسو ب کر ر ہے ہیں تو اس بڑی نا انصا فی کا خلیجی مما لک نے نو ٹس لینا شر و ع کر دیا ہے۔ بھا ر ت کے علا وہ خلیجی مما لک میں کا م کر نے وا لے ہندو ئو ں نے جب سو شل میڈ یا پر مسلما نو ں کو نشا نہ بنا نا شر وع کیا تھاتو اس تکلیف دہ امر کو سعو دی عر ب بھی محسو س کیئے بغیر نہ رہ سکا۔ یہی وجہ ہے کہ اب خلیجی مما لک اور سعو دی عر ب کی بھا ر ت کے لیئے حما ئت کم ہو تی نظر آ رہی ہے۔ بھا رت کی حکمران جما یت کے سا تھ ساتھ وہا ں کے سر کر دہ سیا ستدا ن بھی مسلما نو ں کو مطعو ن کر نے میں جتے ہو ئے ہیں۔ کیا ا نسا نی آ نکھ نہیں دیکھ رہی کہ مقبو ضہ کشمیر میں مسلما نو ں پر بھا رتی مظا لم کیا کم تھے کہ کر ونا کا فا ئد ہ اٹھا تے ہو ئے بھا رت کے با سی مسلما نو ں پہ وہا ں کی حکو مت نے ظلم کا نیا با ب کھو ل دیا ہے۔ اس وقت میرا دل چاہ رہا ہے کہ اپنے ملک کے ان نا م نہا د مسلما نو ں سے آ ج دو قو می نظر ئیے کے نا گز یر ہو نے کے با رے میں استفسا ر کروں۔ ان سے یہ بھی گزا رش کر وں گا کہ اگر دو قو می نظر ئیے کی ان کی نظر وں میں کو ئی اہمیت نہیں تو بھا رت میں وہا ں کے مسلما نو ں پہ جا ری ظلم و ستم کا کچھ تو جوا ز پیش کر یں۔ بہر کیف جہا ں بھا رتی میڈ یا مسلما نو ں کے خلا ف زہر اگلنے میں مصر و ف ہے، وہیں مقبوضہ کشمیر میں بھا رتی فو ج کشمیر ی صحا فیو ں کو ہرا سا ں کر نے کے عمل میں مصرو ف ہے۔ بھا رتی فو ج نے ایک خا تو ن صحا فی پر کا لے قا نو ن کے تحت ایف ا ئی آ ر درج کر رکھی ہے۔ خا تو ن صحا فی مسرت ز ہر ہ کا صر ف اتنا قصو ر تھا کہ وہ کیمر ے کی آ نکھ سے بھا رتی مظا لم کو بے نقا ب کر تی تھی۔اس طر ح کے مظالم میں ملوث ہونے کے باوجود بھارتی فو ج نہ جا نے کس خو ف کا شکا رہے کہ اس نے کر ونا ء کی آ ڑ میں مقبو ضہ کشمیر میں مز ید فو ج بھیجنا شر و ع کر دی ہے۔ چنا نچہ دو روز پہلے ایک خصو صی ٹر ین سے ایک ہزا ر کے قر یب فو جی جمو ں پہنچے ہیں۔ اب جبکہ خلیجی مما لک اور سعو دی عر ب بھا ر ت میں مسلما نو ں پہ جاری ظلم و ستم سے آ گا ہ ہو تے جا رہے ہیںتو ہما ری حکو مت کا فر ض بنتا ہے کہ وہ ان مما لک کی نظر مقبو ضہ کشمیر کے مظلو م مما لک کی جا نب بھی مبذ ول کر ائے۔ اس وقت لو ہا گر م ہے ۔ اس کے ٹھنڈا ہو نے کا انتظا ر نہ کیا جائے۔ سفارتی ٹیبل پہ مسئلہ کشمیر کو اجاگر کر نے کا یہ ایک سنہری مو قع ہے۔ بے شک ہم خو د اس وقت لا تعدا د مسا ئل میں گھر ے ہو ئے ہیں، مگر مقبو ضہ وا دی کا مسئلہ بھی تو ہما را ذاتی مسئلہ ہے۔ اب بھی اگر ہم اس مسلے سے رو گردا نی کر یں گے تو تا ریخ کو کیا جو اب دیں گے۔


ای پیپر