دنیا ماسک خرید رہی ہے اور بھارت اسلحہ
23 اپریل 2020 (23:11) 2020-04-23

بھارتی قیادت اور فوجی سربراہ کی جانب سے جارحیت کی دھمکیوں پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے ہماری وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان پرامن ذمہ دار ایٹمی پاور ہے ۔ بھارت کئی مرتبہ ناپاک عزائم کی تکمیل کے لئے کوشش کر چکا ہے لیکن ہمیشہ افواج پاکستان اور قوم نے منہ توڑ جواب دیا۔اب بھی بھارت اپنی حرکتوں سے باز نہ آیا تو پھر ہم بھول جانے میں حق بجانب ہوں گے کہ بھارت ہمارا پڑوسی اور دنیا کرونا وائرس سے بچائوکی جنگ لڑ رہی ہے۔ بھارت ، اسرائیل اور افغانستان گٹھ جوڑ دنیا کے امن کے لیے خطرہ ہے۔ وزیراعظم عمران خان قومی سلامتی تحفظ کے لئے جو اقدامات اٹھارہے ہیںبحیثیت سچے پاکستانی ہم اس سلسلے میں نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کے تحفظ کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہ کرتے ہوئے حکومت کے اقدامات کوبھرپورمددفراہم کریں گے۔

مقبوضہ کشمیر میں خون کی ہولی کھیلنے والے بھارت نے امسال کے آغاز میں ہی اپنے جنگی جنون سے باز نہ آتے ہوئے ملک کے دفاعی بجٹ میں 6 فیصد اضافہ کر دیا اور یہ لگ بھگ 34 کھرب بھارتی روپے ہوگیا۔یہ دفاعی بجٹ بھارت کے آئندہ مالی سال کے لیے ہے۔ بھارت کے ہٹلر مودی نے دفاعی بجٹ میں 6 فیصد تک اضافہ کرکے اپنی جنگی ترجیحات کا اظہار کر دیا ہے۔ اس بجٹ کو بھارت کے وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے تقریبا تین گھنٹے کے طویل خطاب میں پیش کیا۔ بھارتی دفاعی بجٹ میں اس سے قبل بھی اضافہ ہوا تاہم بجٹ کی رقم میں کرپشن کے بھی خدشات سامنے آئے ہیں۔ ماضی میں بھارتی فوجی اہلکار تیج بہادر یادیو نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو جاری کی تھی جس میں اس نے بھارتی فوجی اہلکاروں کے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک کا پردہ فاش کیا تھا۔ اپنی ویڈیو میں اس کا کہنا تھا کہ ہمیں ملنے والا کھانا افسران کھا جاتے ہیں یا پھر بازار میں بیچ دیا جاتا ہے۔

مودی سرکار بھارت کو جدید اور روایتی ہر قسم کے اسلحہ اور جنگی سازوسامان سے لیس کرکے پاکستان کی آزادی‘ خودمختاری اور سلامتی پر اوچھے وار کرنے کی منصوبہ بندی میں مصروف ہے۔ بھارتی وزیر دفاع بھی واضح طور پر باور کراچکے ہیں کہ ہمیں اپنی دفاعی صلاحیتیوں میں اضافہ کیلئے بیرون ملک سے مزید اسلحہ خریدنا پڑیگا۔یہ حقیقت سب پر عیاں ہے کہ بھارت کا اس خطے میں کسی دوسرے ملک کے ساتھ ایسا کوئی سنگین تنازعہ نہیں ہے جو اسکے ساتھ جنگ پر منتج ہو سکتا ہو۔ اس خطے میں صرف پاکستان ہی وہ واحد ملک ہے جس کے ساتھ اسکی تشکیل کے وقت سے ہی بھارت کی مخاصمت چل رہی ہے اور اس نے دانستہ طور پر کشمیر کا تنازعہ کھڑا کرکے اس ایشو پر بات بے بات اس پر جنگ مسلط کرنے کی منصوبہ بندی کر رکھی ہے۔ اسکے عزائم کا بھی بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ سب تیاریاں پاکستان کی سلامتی پر شب خون مارنے کی ہی ہیں۔

بھارت میں انتہاپسند ہندو نریندر مودی کی حکومت کے قیام کے بعد سے بھارت کی ازلی جارحانہ و توسیع پسندانہ پالیسی میں مزید تیزی آئی ہے اور خطے میں قیام امن کی امیدیں ہر گزرتے دن کے ساتھ کم ہوتی چلی جارہی ہیں۔ بھارت کا جنگی جنون خطے میں پائیدا ر امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ بھارت کا اپنے پڑوسی ممالک کیساتھ رویہ کبھی مستقل طور پر دوستانہ نہیں رہا اور بھارت اپنے پڑوسی ممالک کی امن پسندی کو ’’بزدلی‘‘ تصور کرتا ہے۔ پاکستان جب بھی امن کی بات کرتا ہے بھارت اسے منفی طور پر پاکستان کی کمزوری سمجھتا ہے۔ مستقل امن کی ہر کوشش کی حوصلہ شکنی بھارت کا وطیرہ ہے۔

پوری دنیا کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے اپنے تمام تر وسائل کے ساتھ صحت کے حوالے سے حالت جنگ میں ہے لیکن بھارت پر خطے کی تھانیداری کا بھوت سوار ہے۔ بھارت امریکہ سے ساڑھے 15 کروڑ ڈالر جدید میزائل اور تارپیڈو خرید رہا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے کانگریس کو آگاہ کیا کہ پینٹاگون نے منظوری دیدی جبکہ پینٹاگون نے بھی تارپیڈو کی فروخت کے بارے میں کانگریس کو آگاہ کیا تھا۔

جب سے مودی سرکار برسراقتدار ہے تب تو خطے میں آگ سی لگی ہے۔ بھارتی حکومت نے مسلمانوں اور دیگر تمام اقلیتوں پر اپنے ملک کی سرزمین تنگ کر دی گئی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج نے آگ اور خون کاکھیل شروع کررکھا ہے۔ متنازعہ بھارتی قانون شہریت کے بعد مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈائون کو 262 دن گزر چکے ہیں۔ پورے بھارت میں لوگ کرونا اور بھوک سے مرتے جا رہے ہیں لیکن بھارتی قیادت پاکستان دشمنی میں اپنی رعایا کو بھی زندہ درگور کر رہی ہے۔

بھوک ، افلاس اور وسائل کی عدم دستیابی سے بے حال جنتا کی فکر نہیں بلکہ خطے میں تھانیدار بننے کی پڑی ہوئی ہے جس میں وہ اپنے تمام وسائل بھی جھونکتا جا رہا ہے۔ امریکہ سے ساڑھے 15 کروڑ ڈالر کے میزائل اور تارپیڈوز خریدنے کامعاہدہ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ اس سے پہلے بھی بھارت نے جدید ترین اسلحہ کے انبار لگا رکھے ہیں اور آئے دن اپنے فوجی بجٹ میںاضافہ کرتارہتا ہے حالانکہ بھارت کا فوجی بجٹ پاکستان کے مجموعی بجٹ سے بھی بڑھ کر ہے۔ ایسی صورتحال میں بھارت کی تمام مذموم کوششیں جنوبی ایشیاء میں اپنی تھانیداری کا سکہ جمانے اور بالخصوص خاکم بدہن پاکستان کو نشانہ بنانے کے لئے ہیں۔

اگرچہ پاکستان کے خلاف بھارتی بالادستی کے خواب کی تعبیر حسرت و غم اور یاس کے سوا کچھ نہیں لیکن پھر عالمی طاقتوں کو برصغیر میںامن و امان کی صورتحال کو روزانہ کی بنیاد پر مانیٹر کرنا چاہئے اور دفاعی سامان اور اسلحہ کی خرید و فروخت کے معاہدے کرتے وقت خطے میں امن اور انسانیت کی بقا کو بھی مدنظر رکھنا چاہئے تاکہ مالی وسائل بھوک اور بیماریوں کے خاتمے کے لیے استعمال کیے جا سکیں جس کے نتیجہ میںجنوبی ایشیا میں امن پھلے پھولے اور انسانیت خوشحال ہو۔

بھارت کی جانب سے جنگ بندی کی بلا اشتعال خلاف ورزیاں بھی اسی جنگی مہم کا حصہ ہیں ۔ بھارتی فوج کی جانب سے گزشتہ 24 گھنٹوں میں سیز فائر معاہدے کی متعدد بار خلاف ورزیاں سامنے آئی ہیں۔ جس کے نتیجے میں 4 شہری زخمی ہو گئے۔لیکن یاد رہے کہ اس نازک صورتحال میں افواج پاکستان اور پاکستانی عوام دشمن کی سازش ناکام بنانے کے لیے ہر وقت تیار اور چوکس ہیں۔


ای پیپر