خامو ش اور پرامن انقلاب کے اثرات
23 اپریل 2020 (23:10) 2020-04-23

ہمارے تصورمیںہمیشہ یہی بات رہتی ہے انقلاب ہمیشہ خونی آیا کرتے ہیں لیکن خاموش انقلاب کی بنیاد آج سے ساڑھے چودہ سو سال نبی آخر الزمان محمد مصطفیٰؐ نے رکھ دی تھی۔یہ اس کائنات کا سب سے بڑا خاموش انقلاب تھا۔لیکن آج میں بلوچستان میں آنے والے خاموش اور پرامن انقلاب پر لکھنا چاہتا ہوں ۔ کوروناکی خبریں ویسے تو چار ماہ سے ہر میڈیا پر بھی چل رہی ہیں اور شائع بھی ہو رہی ہیں لیکن بدقسمتی سے گزشتہ 10دنوں میں خطرناک حد تک بہت تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ مرنے والوں کے ساتھ ساتھ مریضوں میںبھی اضافہ ہو رہا ہے۔ پہلے ہر شہر میں مریضوں کے آنے کی خبریں تھیں اب لوگ کورونا کو روکنے کی تدابیر کو بہت غور سے پڑھ رہے ہیں ۔ اب لوگوں کو یہ دلچسپی زیادہ ہے کہ کونسا شہر ، کونسا علاقہ، کونسا صوبہ کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے بہتر اقدامات کر رہا ہے۔ہر صوبے کے وزیراعلیٰ ہر ڈویژن کے کمشنر اور ہر ضلع کے ڈپٹی کمشنر اپنی اپنی حکمتِ عملی سے کام کر رہے ہیں کہ مرض ہے بڑھتا ہی جا رہا ہے۔میں اسلا م آباد ، راولپنڈی اور جی ٹی روڈ کے ذریعے لاہور تک انتظامات اور خیبر پختونخواہ کے انتظامات کو دیکھ رہا ہوں ۔مجھے چند دن پہلے ایک ضروری کام کے سلسلے میں بذریعہ کار کوئٹہ بلوچستان جانے کا اتفاق ہوا۔بدقسمتی سے بلوچستان میںجس کی لاٹھی اس کی بھینس کے معقولے پر عمل ہوتا نظر آتا تھا۔اس دفعہ کوئٹہ شہر کا ایک مختلف منظر دیکھاکہ دن کے وقت شہر گیا ایک بازار میں بھگدڑ اور افراتفری سے لوگ بھاگ رہے تھے ۔ سڑک کے درمیان ایک نوجوان لڑکی پورے اسلامی لباس حجاب/ماسک میں بہت تیز تیز قدم بڑھاتے ہوئے آ رہی ہے اور اس کے دائیں بائیں اور پیچھے 6/6 فٹ کے فاصلے پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درجنوں جوان تیز دوڑتے بلکہ بھاگتے ہوئے آ رہے ہیں اور وہ لڑکی بڑے پراعتماد لہجے میں احکامات جاری کرتی ہوئی جا رہی ہے۔کچھ لوگوں کو ڈانٹتے ہوئے گزر رہی ہے اور کچھ کو گرفتار کرنے کے احکامات جاری کرتی جا رہی ہے۔معلوم ہوا کہ جو شخص پہلی دفعہ نظر آ رہا ہے اس کو ڈانٹ اور تنبیہ کر کے گزر رہی ہے اور جس کو ایک سے زیادہ مرتبہ اور بازار میں گھومتے ، احتیاط نہ کرتے، ماسک نہ پہنتے دیکھتی ہے اس کو گرفتار کر کے لے جا رہی ہے۔ مزید پوچھنے پر پتہ چلا کہ یہ لڑکی سیدہ ندا کاظمی

اسسٹنٹ کمشنر کوئٹہ شہر ہیں ۔یہ صبح 9بجے سے رات گئے تک سڑکوں پر اسی تیز رفتاری کے ساتھ پیدل چلتی ہے اور تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد دوبارہ چھاپے مارنے آ جاتی ہے۔ کورونا میں احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے یہ خود بھی سٹاف سے چھ فٹ کے فاصلے پر چل رہی تھی۔اس لئے وہ نمایاں نظر آ رہی تھی۔ملنے سے پہلے میں نے اپنے ایک صحافی دوست سے اس کے کام کی کارکردگی پوچھی تو اس نے بتایا کہ لڑکی سید زادی ہے۔ کوئٹہ سے پہلے اس کی پوسٹنگ 2018ء میں پشین میں بحیثیت اسسٹنٹ کمشنر ہوئی۔ یہ پہلی خاتون اسسٹنٹ کمشنر تھی جس کو بلوچستان کے ’’بی‘‘ ایریا میں یہ ذمہ داریاں سونپی گئیں ۔وہاں اس نے ذخیرہ اندازوں ، سمگلروں اور جعلی دوائیاں بیچنے والوں کا ناک میں دم کر دیا۔پشین کے ایک بڑے میڈیکل سٹور پر چھاپہ مار کر جعلی اور پرانی تاریخ کی دوائیاں پکڑیں اور سٹور کے مالک کو سزا دلوانے کے لئے قانونی کاروائی شروع کی توپتہ چلا کہ وہ دکاندار ایک مقامی ایم پی اے کا رشتہ دار ہے۔ اس نے اسسٹنٹ کمشنر سیدہ ندا کاظمی پر دباؤ ڈالا۔نہ مانی تو سیاسی اثرو رسوخ استعمال کر کے اس کی پوسٹنگ کرادی۔سید زادی نے پوسٹنگ منظور کر لی لیکن جرائم پیشہ افراد کے ساتھ رعایت کرنے سے انکار کر دیا۔اس کے ساتھ میرے صحافی دوست نے بتایا کہ کوئٹہ میں بھی آتے ہی کوئٹہ کے واحد فائیو سٹار ہوٹل سیرینہ پر چھاپہ مارا اور بہت ساری غلطیوں کو پکڑتے ہوئے دس لاکھ جرمانہ کیا ۔اس سے اگلے ہی دن کوئٹہ شہر کے دوسرے بڑے ہوٹل عثمانیہ پر چھاپہ مارا۔ ان کی غلطیوں اور کوتاہیوں پر پانچ لاکھ جرمانہ کیاتو اب کوئٹہ پورا شہرمحتاط ہو چکاہے۔ہر شخص صفائی اور معیار پر پوری توجہ دے رہا ہے۔سب کو معلوم ہو گیا ہے کہ جب سیرینہ اور عثمانیہ جیسے ہوٹل کے مالکان کے ساتھ کوئی رعایت نہیں ہو سکتی تو باقی کسی کے ساتھ رعایت کاسوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ دوسرے دن سیدہ ندا کاظمی سے ان کے دفتر میں ملاقات ہوئی توانہوں نے اپنے بارے میں تفصیلاً بتایا کہ میں عام گورنمنٹ سکولوں سے پڑھ کر آئی ہوں۔اعلیٰ تعلیم بلوچستان یو نیورسٹی سے حاصل کی ۔ پھر ایک سکول میں پڑھاتی بھی رہی۔ان کے ساتھ پبلک سروس کمیشن کی تیاری کر کے امتحان دیا تو میرٹ پر میری سلیکشن ہو گئی۔میں روزِ اول سے ہر امتحان میں پہلے نمبر پر آتی رہی۔انہوں نے بتایا کہ میں یونیورسٹی کی بہترین مقررین میں سے تھی خصوصاً تقریری مقابلوں میں میرے ایسے دلائل ہوتے تھے کہ ہمارے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اقبال کہا کرتے تھے کہ ندا کاظمی لوگوں کے دلوں اور ذہنوں کو اپنی خوبصورت تقاریر میں موزوں الفاظ کے چناؤاور پرکشش لہجے سے متاثر کرلیتی ہے اور میں ہمیشہ فرسٹ آتی رہی۔ندا کاظمی بڑے کمال کے شعر کہتی اور لکھتی ہیں ۔وہ اشعار ان کے اپنی زندگی کے نشیب وفراز میںغوطہ زن نظرآتے ہیں ۔ انہوں نے اپنی کچھ شاعری مجھے بھی سنائی جو یقینا قابلِ داد تھی۔مجھے یہ بہت سی چیزیں پروین شاکر سے ملتی نظر آتی ہیں ۔ مثلاً شعر و ادب سے شغف، ابتدائی پریکٹیکل زندگی کا آغاز پرائیویٹ سکول ٹیچنگ، بہترین مقرر، شاعرہ اور سید زادی ہیں ۔ سیدہ ندا کاظمی نے سب سے آخر میں اپنی ذاتی زندگی کے بارے میں بتایا کہ ہم پانچ بہنیں اور ایک بھائی ہیں ۔میری والدہ صرف JVٹیچر تھیں۔ ابھی ہم بہت چھوٹی تھیں اور ہمارا بھائی صرف 3سال کا تھا کہ13دسمبر 2005ء میںہمارے والد کو ٹارگٹ کلنگ میں شہید کر دیا گیا۔پھر ہماری ماں نے باپ اور ماں دونوں رشتوں سے ہماری تربیت اور سرپرستی کی۔وہ گورنمنٹ جاب کرنے کے ساتھ ساتھ شام کو بہت سارے بچوں کو ٹیوشن پڑھاتیں اور فیسوں سمیت ہمارے دوسرے اخراجات برداشت کرتیں ۔اور انہوں نے ہمیں تعلیم کے ساتھ ساتھ نہایت اعتماددیا۔اسی لئے میں سٹیج پر آ کر بھی پورے کھڑاک سے بولتی تھی۔نداکاظمی کی دو چھوٹی بہنیں سٹیٹ بنک کراچی میں اعلیٰ عہدے پر کام کر رہی ہیں ۔ ان سے دونوں چھوٹی بہنیں سی ایس ایس کی تیاری کر رہی ہیں ۔بھائی بھی یونیورسٹی پہنچ چکا ہے۔نداکاظمی کے ساتھ ساتھ ان کی غیور سیدزادی ماں کی عظمت کو بھی سات سلام، جس نے خاوند کی شہادت کے بعد اپنے اوپر مظلومیت اور بیوگی کا لبادہ اوڑھنے کی بجائے اپنی اولاد کی اس طرح تربیت کی ۔ جب نوجوان پڑھی لکھی نسل خصوصاً خواتین یہ سوچ کرمیدان میں آکر جرائم پیشہ لوگوں کو للکارنا شروع کر دیں اس دن سمجھ لو کہ انقلاب آ گیا ہے۔میں نے پہلی دفعہ 2015ء میں یونیورسٹی کا دورہ کرنے اور طلباء وطالبات کا اعتماد دیکھنے کے بعد اپنے کالموں او ر اپنی کتاب ’’بلوچستان : عکس اور حقیقت‘‘ میں تحریر کر دیا تھا کہ بلوچستان میں انقلاب آ چکا ہے۔ میرے وہ الفاظ تاریخ کا حصہ ہیں۔ بلوچستان کی یہ تبدیلی معمولی بات نہیں۔پاکستان کے لیے اورخاص طور پر بذاتِ خود بلوچستان کے لئے سب سے اہم اور سب سے بڑی ترقی کا اعلان ہے۔آج اسسٹنٹ کمشنر پر کالم لکھنے کا مقصدصرف یہ ہے کہ یہ مثبت تبدیلی ’’بلوچستان‘‘جیسے صوبے میں آ رہی ہے۔


ای پیپر