کروناوائرس:اس رمضان نماز گھر پرپڑھیں
23 اپریل 2020 (23:08) 2020-04-23

رمضان ،وہ مقدس مہینا ہے جب فرشتے اپنے خالق کے حکم سے زمین پراترتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رحمت اور مغفرت سے عبادت گزاروں کی بخشش کا سامان مہیا کرتے ہیں۔اور پھر گزشتہ 14 صدیوں سے دنیا بھر کے مسلمان ماہِ رمضان کو اس طرح روحانی طور پر مناتے ہیں کہ ان کا تزکیہ نفس ہو۔امسال، رمضان ،جو عام طور پر دنیا بھر میں بہت شان وشوکت اوردھوم دھام سے شروع ہوتا تھا،میں دنیا بھر کے مسلمان انتہائی مشکل کا سامنا کر رہے ہیں کیونکہ کروناوائرس سے بچائو کے لیے سماجی فاصلہ رکھنا ضروری ہو چکا ہے اور اس سے مسلمانوں کی عبادت گاہیں بھی مستثنیٰ نہیں۔مختصر یہ کہ مسلمانوں کی دنیا اس سے پہلے اس قسم کے سماجی رویے کی عادی نہیں تھی۔اس وقت دنیا بھر کے مسلمان ایک بہت ہی خطرناک وباء، کروناوائرس کا سامنا کر رہے ہیںجس کی وجہ سے دنیا بھر میں سماجی حالات اور عادات میں تبدیلی واقع ہو چکی ہے۔لیکن امسال دنیا بھر کے مسلمان اس کروناوائر س سے بچائو کی خاطر سماجی فاصلہ پر مشتمل حکمت عملی پر عمل کر رہے ہیںلیکن شاید یہ ایسا وقت بھی ہے کہ دنیا بھر کے مسلمان اللہ تعالیٰ سے گڑگڑا کر اس موذی مرض سے بچائو کے لیے دعائیںمانگیں۔اس امر میں شک نہیں کہ پنج وقتہ نمازمسلمانوں کے لیے مساجد میں ادا کرنا ضروری ہے لیکن سعودی عرب سمیت تمام

اسلامی ممالک نے پنج وقتہ نماز کی مساجد میں ادائی موخر کر دی ہے تاکہ سماجی فاصلہ کے کلیے پر عمل کرتے ہوئے پنج وقتہ نماز کوگھروں پر ہی ادا کیاجا ئے۔تاہم،ماہ رمضان میں نمازتراویح ایک اضافی عبادت کی حیثیت سے منظم انداز میں مسجد میں باجماعت ادا کی جاتی ہے جس کے دوران قرآن پاک کی تلاوت ہوتی ہے اور مسلمان روزہ رکھنے کے لیے عام طور پرنمازتراویح کو ضروری سمجھتے ہیں۔نماز تراویح کا تقاضا ہے کہ رمضان کے تمام مہینے میں نمازعشاء کے بعد اس نماز تراویح کے دوران قرآن پاک کی تلاوت سنی جائے اور روزانہ قرآن کا کچھ حصہ تلاوت کرتے ہوئے تیس روزوں کے بعد قرآن پاک ختم کیا جائے۔ لیکن امسال ، رمضان کے مقدس مہینے میں اس قدیم روایت سے کچھ روگردانی کرنا ہو گی تاکہ کروناوائرس سے بچائو کی خاطر سماجی فاصلہ رکھنے کے کلیے پر عمل کیا جا سکے۔اس لیے دنیا بھر کے مسلمانوں کو چاہیے کہ اس رمضان میں نمازتراویح اپنے گھر پر ادا کریں حالانکہ نمازتراویح میں قرآن پاک کی تلاوت سننے سے جو روحانی لطف حاصل ہوتا ہے،اس کا مقابلہ کوئی نہیں اور اس امر کی گواہی ہر مسلمان دے گا۔جب نمازتراویح کے دوران مسلمان قرآن پاک کی تلاوت سنتے ہیں تو وہ قرآن کے الفاظ اپنی زندگیوں پر منطبق کرنے کی کوشش کرتے ہیںتاکہ وہ تزکیہ نفس کے مقصد میں کامیاب ہو سکیں۔نماز تراویح کے دوران جب مسلمان اکٹھا ہو کرقرآن پاک کی تلاوت سنتے ہیں،ان کی زندگیوں میں انقلا ب برپا ہونے لگتا ہے اور پھر ان کی سماجی زندگیوں میں بھی نمایاں تبدیلی آنا شروع ہو جاتی ہے۔اور یہ بھی درست ہے کہ گھر پرنماز تراویح ادا کرنے کے باعث کسی بھی قسم کی روحانی واردات واقع ہونے کا کوئی امکان نہیں ہوتا لیکن اسلام جو ایک سچا اور فطری مذہب ہے،نے مسلمانوں کو عبادات میں بھی آسانی فراہم کی ہے،مثلاً مسافر،روزہ ترک کر سکتا ہے،جو مسلمان سفر میں ہو،اس کے لیے نماز کی ادائی میں بھی سہولت مہیا کی گئی ہے۔اسی طرح،موجود حالات کا تقاضا ہے کہ کروناوائرس سے بچائو کے لیے سماجی فاصلہ کے کلیے پر عمل کرتے ہوئے اس رمضان میں نماز تراویح گھر پر ادا کرنے کا اہتمام کیا جائے کیونکہ اعمال کا دارومدارنیت پر ہے۔مزیدبرآں اسلامی تعلیمات کے مطابق ہر مسلمان پر فرض ہے کہ وہ کسی بھی مشکل،وباء یا مصیبت کے وقت اپنی زندگی کی حفاظت کو ترجیح دے۔مختصر یہ کہ اس وقت مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ کرونا وائرس کے بچائو کے لیے مقررہ طبی اصول یعنی سماجی فاصلہ کو کامیاب بنانے کی خاطر مساجد میںباجماعت نمازتراویح ادا کرنے کے بجائے اسے گھر پرہی پڑھنے کا اہتمام کریں اور یہ نہ سمجھیں کہ اس طرح ثواب میں کمی ہو گی۔

(بشکریہ:گلف نیوز،ترجمہ:ریاض محمودانجم)


ای پیپر