وہاب ریاض ،محمد عامر نے کیسے پاکستان کرکٹ کو نقصان پہنچایا ،وقاریونس کا اہم انکشاف
23 اپریل 2020 (17:32) 2020-04-23

مدثر نذر قریشی:

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے بولنگ کوچ وقار یونس کا کہنا ہے کہ فاسٹ بولرز وہاب ریاض اور محمد عامر نے آسٹریلوی دورے سے پہلے اچانک ٹیسٹ کرکٹ نہ کھیلنے کا فیصلہ کر کے پاکستان کو نقصان پہنچایا اور ایسا کر کے یہ دونوں پاکستانی ٹیم کو مشکل میں چھوڑ گئے تھے۔

وقار یونس نے کہا کہ ان کے انکار کی وجہ سے ہی نوجوان فاسٹ بولرز ٹیم میں شامل کیے گئے۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مصباح الحق کی طرح وقار یونس بھی وہاب ریاض اور محمد عامر کے ٹیسٹ نہ کھیلنے کے فیصلے پر خاصے برہم دکھائی دیتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ وہاب ریاض اور محمد عامر کو اگر ٹیسٹ کرکٹ نہیں کھیلنی تھی تو انھیں کرکٹ بورڈ سے باقاعدہ بات کرنی چاہیے تھی۔ یہ دونوں ٹیم کو مشکل میں چھوڑ گئے تھے اور ان کی اس حرکت سے پاکستان کو نقصان ہوا ہے۔

وقاریونس نے اپنی گفتگو میں ٹوئٹر کا بھی ذکر کیا کہ سوشل میڈیا پر اہم فیصلے نہیں ہوتے۔

یاد رہے کہ محمد عامر نے آسٹریلیا کے دورے کے بعد سری لنکا کے خلاف ہونے والی ٹی ٹوئنٹی سیریز کی ٹیم میں منتخب نہ ہونے پر طنزیہ ٹوئٹ کی تھی جس میں انھوں نے کہا تھا کہ انھیں ٹیسٹ نہ کھیلنے کے فیصلے کی سزا دی گئی ہے۔ یہ ٹوئٹ انھوں نے بعد میں ڈیلیٹ کردی تھی۔

وقار یونس نے سڈنی سے ویڈیو لنک کے ذریعے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے پاکستانی کرکٹ اور خصوصاً کورونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی۔

وقار یونس نے کہا ’کھلاڑی کس فارمیٹ میں کھیلنا چاہتا ہے کس میں نہیں۔ اس بارے میں کسی کو آپ روک نہیں سکتے اور نہ ہی پابندی لگائی جاسکتی ہے لیکن کم از کم کرکٹ بورڈ کو اس بارے میں پتہ ہونا چاہیے۔

’کھلاڑی فیصلہ کرنے سے پہلے بورڈ کو اعتماد میں لے اور اچانک فیصلہ نہ کرے جیسا کہ وہاب ریاض اور محمد عامر نے کیا۔ ان دونوں کا آسٹریلوی دورے سے پہلے اچانک ٹیسٹ چھوڑنے کا فیصلہ ایک بڑا جھٹکا تھا۔‘

کرکٹ فوری شروع نہیں ہو سکتی

وقار یونس سے سوال کیا گیا کہ آسٹریلوی کوچ جسٹن لینگر بند اسٹیڈیم میں کرکٹ اور کیون پیٹرسن آئی پی ایل کی بات کررہے ہیں کیا یہ ممکن ہے؟ تو وقار یونس کا جواب تھا کہ اگر ایک دو ماہ میں حالات نارمل ہوجاتے ہیں تب تو سوچا جا سکتا ہے لیکن فی الحال یہ سب کچھ قبل ازوقت ہے۔

’اصل سوال یہ ہے کہ زندگی کو معمول پر آنے میں کتنا وقت لگے گا۔ جب ہر چیز نارمل ہو جائے گی تب ہی کرکٹ بھی شروع ہو سکے گی لیکن ابھی نہیں۔‘

’انگلینڈ کا دورہ ہمارا ہدف تھا‘

وقار یونس کہتے ہیں کہ انھوں نے ہیڈ کوچ مصباح الحق کے ساتھ یہ منصوبہ بندی بنا رکھی تھی کہ بنگلہ دیش کی سیریز کے بعد ہمارے پاس جو بھی وقت ہے اس میں ہم انگلینڈ کے دورے کی بھرپور تیاری کریں گے۔

محمد عامر

’ہمارے لیے انگلینڈ کا دورہ بہت اہم تھا کیونکہ پچھلے دو دوروں کے دوران پاکستانی ٹیم کی کارکردگی اچھی رہی ہے اور ہم چاہتے تھے کہ اس بار بھی اچھی کارکردگی دکھائیں کیونکہ انگلینڈ میں اچھی کارکردگی سے کھلاڑیوں کے حوصلے بڑھ جاتے ہیں اور ان میں غیرمعمولی اعتماد پیدا ہوتا ہے۔ اگر پاکستانی ٹیم انگلینڈ کا دورہ نہ کر سکی تو یہ بڑی بدقسمتی ہو گی۔‘یاد رہے کہ پاکستانی ٹیم کو انگلینڈ میں تین ٹیسٹ میچ اور تین ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلنے ہیں۔

نئے باصلاحیت بولرز

وقار یونس کا کہنا ہے کہ یہ بات بڑی خوش آئند ہے کہ اس وقت ہمارے پاس بہت اچھے نوجوان فاسٹ بولرز موجود ہیں جن کے پاس سپیڈ اور بولنگ کا آرٹ دونوں موجود ہے۔

’یہ وہ بولرز ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ مزید تجربہ حاصل کریں گے۔ اس وقت چونکہ کرکٹ بہت زیادہ کھیلی جارہی ہے، لہٰذا ہمارے پاس جتنے زیادہ بولرز ہوں گے اتنا اچھا ہے۔‘

وقار یونس کا کہنا ہے کہ ان کے نزدیک اصل کھیل ٹیسٹ کرکٹ ہے اور ٹیسٹ میچ بولرز جتواتے ہیں۔

’اس میں آپ کو پختہ بولرز کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ محدود اوورز کی کرکٹ میں آپ دوسرے بولرز کھلا سکتے ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ مستقبل میں ہمارے پاس آٹھ سے 10 بولرز کا گروپ موجود ہو تاکہ کوئی پریشانی نہ ہو۔‘

مصباح سے اچھے تعلقات

وقار یونس اس تاثر کو ماننے کے لیے تیار نہیں کہ ایک بڑا کرکٹر کبھی بھی کامیاب کوچ ثابت نہیں ہو سکتا اور جب وہ کوچ بنتا ہے تو اس میں انا کا مسئلہ ہو جاتا ہے۔

وقار یونس کا کہنا ہے کہ کرکٹ کو کپتان چلاتا ہے جبکہ کوچ اس کی مدد کرنے کے لیے موجود ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان کے مصباح الحق سے ہمیشہ اچھے تعلقات رہے ہیں۔

’کپتان اور کوچ کی حیثیت سے ہم دونوں نے اچھے نتائج دیے۔ دونوں ایک دوسرے کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ اس وقت بھی جب وہ بولنگ کوچ ہیں تو وہ مصباح الحق کو اپنی رائے ضرور دیتے ہیں۔

وقار یونس کا کہنا ہے کہ اس بار ہیڈ کوچ کے بجائے بولنگ کوچ کا عہدہ انھوں نے اس لیے سنبھالا ہے کہ وہ نوجوان فاسٹ بولرز کے ساتھ زیادہ بہتر انداز میں کام کرسکیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ جونیئر بولرز کے ساتھ بھی کام کریں گے اور اپنے اوپر تنقید کا کسی کو بھی موقع نہیں دیں گے۔وقار یونس کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا میں اس سال ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے بارے میں ابھی کوئی بھی بات نہیں کر رہا ہے کیونکہ آسٹریلیا میں بھی کورونا کی صورتحال اچھی نہیں ہے۔

کورونا اور کرکٹ

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر مصباح الحق کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے پوری دنیا اسوقت انتہائی مشکل صورتحال سے دوچار ہے جس کا اثر ظاہر ہے کرکٹ پر بھی پڑا ہے۔اس مشکل صورتحال میں پاکستانی کرکٹرز اپنی فٹنس اور ذہنی طور پر خود کو مضبوط رکھنے پر کام کررہے ہیں تاکہ جب بین الاقوامی کرکٹ کی سرگرمیاں بحال ہوں تو وہ اس میں حصہ لینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہوں۔

مصباح الحق نے منگل کے روز وڈیو لنک کے ذریعے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ کرکٹ کے لیے مشکل وقت ہے کھلاڑی گھروں میں ہیں لیکن انہوں نے خود کو فٹنس کے اعتبار سے مصروف رکھا ہوا ہے۔انھوں نے بتایا کہ ’کوچنگ سٹاف اور ٹرینر ان تمام کھلاڑیوں سے مسلسل رابطے میں ہیں اور انہیں پلان بھیجے جارہے ہیں۔ اگرچہ یہ آئیڈیل سچویشن نہیں ہے کہ جس میں جمنازیم یا اکیڈمی میں ٹریننگ کی سہولت موجود ہو لیکن اس کے باوجود تمام کھلاڑی اپنی فٹنس کے بارے میں سنجیدہ ہیں انہوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے ایک دوسرے کو چیلنج دے کر اپنی فٹنس کو بہتر رکھنے کا عمل شروع کررکھا ہے۔‘مصباح الحق کا کہنا ہے کہ اس صورتحال میں کھلاڑیوں کے لیے پریکٹس ممکن نہیں ہے لیکن وہ اس وقت کا اس طرح فائدہ اٹھاسکتے ہیں کہ اپنا ہوم ورک مکمل کرلیں۔’پاکستانی ٹیم کی اگلی سیریز انگلینڈ میں ہوگی لہذا کھلاڑیوں کو چاہیے کہ انگلش کنڈیشنز کے بارے میں خود کو باخبر رکھیں اور ایشیز اور انگلینڈ میں پاکستانی ٹیم کی پچھلی دو سیریز کی وڈیوز دیکھیں تاکہ جب وہ میدان میں اتریں تو ان کی تیاری مکمل ہونی چاہیے۔‘

ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ

مصباح الحق کا کہنا ہے کہ آئی سی سی کو چاہیے کہ حالات نارمل ہونے کے بعد جب ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ دوبارہ شروع ہو تو اس کا ازسر نو جائزہ لیا جائے اور اس کا توازن برقرار رکھنے کے لیے اس کے میچوں کے شیڈول کو دوبارہ ترتیب دیا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ہر ٹیم کو کھیلنے کے یکساں مواقع میسر آئیں کسی کے کم اور کسی کے زیادہ میچز نہ ہوں۔مصباح الحق کا کہنا ہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم نے اچھا آغاز لے لیا تھا اور اس کی کارکردگی میں بتدریج بہتری آرہی تھی کہ موجودہ صورتحال کی وجہ سے تسلسل ٹوٹا۔وہ کہتے ہیں کہ خوش آئند بات یہ ہے کہ نوجوان کھلاڑیوں نے اپنی موجودگی کا احساس دلایا جن میں نسیم شاہ اور شاہین شاہ آفریدی قابل ذکر ہیں۔ بیٹنگ میں بابراعظم نے پریشر کو اچھی طرح ہینڈل کیا۔ شان مسعود اور عابدعلی نے اوپنر کی حیثیت سے اچھی کارکردگی دکھائی۔وہ ٹیم کی مجموعی کارکردگی سے مطمئن ہیں۔

٭٭٭


ای پیپر