وباء کے دنوں میں مسیحاؤں کے منتظر تھیلیسیمیاکے مریض
23 اپریل 2020 (17:01) 2020-04-23

رابعہ رئوف:

(Thalassemia) تھیلیسیمیا ایک موروثی بیماری ہے یعنی یہ والدین کی جینیاتی خرابی کے باعث اولاد کو منتقل ہوتی ہے۔ اس بیماری کی وجہ سے مریض کے جسم میں خون کم بنتا ہے۔ تھیلیسیمیا مائنر کی وجہ سے مریض کو کوئی تکلیف، پریشانی یا شکایت نہیں ہوتی نہ اس کی زندگی پر کوئی خاص اثر پڑتا ہے۔ ایسے لوگ کیریئر (carrier) کہلاتے ہیں۔ علامات و شکایات نہ ہونے کی وجہ سے ایسے لوگوں کی تشخیص صرف لیبارٹری کے ٹیسٹ سے ہی ہو سکتی ہے۔ ایسے لوگ نارمل زندگی گزارتے ہیں مگر یہ لوگ تھیلیسیمیا اپنے بچوں کو منتقل کر سکتے ہیں۔ تھیلیسیمیا میں مبتلا بیشتر افراد اپنے جین کے نقص سے قطعاً لاعلم ہوتے ہیں اور جسمانی، ذہنی اور جنسی لحاظ سے عام لوگوں کی طرح ہوتے ہیں اور نارمل انسانوں جتنی ہی عمر پاتے ہیں۔مرض کی شدت کے اعتبار سے تھیلیسیمیا کی تین قسمیں ہیں۔ شدید ترین قسم تھیلیسیمیا میجر کہلاتی ہے اور سب سے کم شدت والی قسم تھیلیسیمیا مائنر کہلاتی ہے۔ درمیانی شدت والی قسم تھیلیسیمیا انٹرمیڈیا کہلاتی ہے۔تھیلیسیمیا کے مریضوں میں خون اتنا کم بنتا ہے کہ انہیں ہر دو سے چار ہفتے بعد خون کی بوتل لگانے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ ایسے بچے پیدائش کے چند مہینوں بعد ہی خون کی کمی کا شکار ہو جاتے ہیں اور ان کی بقیہ زندگی بلڈ بینک کی محتاج ہوتی ہے۔

تھیلیسیمیا ایک پیدائشی بیماری ہے اور اس بیماری میں مبتلا بچوں کا جسم خون بنانے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ تھیلیسیمیا مائنر کے ساتھ پیدا ہونے افراد نارمل زندگی گذارتے ہیں، لیکن تھیلیسیمیا میجر سے متاثر فرد اگر کسی نارمل فرد سے بھی شادی کرلے تو پیدا ہونے بچوں میں زیادہ امکان ہے کہ وہ تھیلیسیمیا میجر ہوں ،جو خون قدرتی طور پر نہیں بنا پاتے اور انہیں زندہ رکھنے کے لیے کچھ دنوں بعد کسی اور کا خون لگانا ضروری ہوتا ہے۔ کمزور اور بیمار چہرے والے یہ بچے کھیل کود اور تعلیم دونوں میدانوں میں پیچھے رہ جاتے ہیں اور معاشرے میں صحیح مقام نہ پانے کی وجہ سے خود اعتمادی سے محروم ہوتے ہیں۔ بار بار خون لگانے کے اخراجات اور ہسپتالوں کے چکر والدین کو معاشی طور پر انتہائی خستہ کر دیتے ہیں جس کے بعد نامناسب علاج کی وجہ سے ان بچوں کی موت واقع ہو جاتی ہے۔ترقی یافتہ ممالک میں بہترین علاج کے باوجود یہ مریض 30 سال سے 40 سال تک ہی زندہ رہ پاتے ہیں۔ پاکستان میں ایسے مریضوں کی عمر لگ بھگ دس سال ہوتی ہے۔ اگر ایسے بالغ مریض کسی نارمل انسان سے شادی کر لیں تو ان کے سارے بچے لازماً تھیلیسیمیا مائینر کے حامل ہوتے ہیں۔حکومتی سطح پر پاکستان میں اس کے لیے کوئی سروے نہیں کیا گیا ہے لیکن بلڈ بینک کے اعداد و شمار سے اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان میں بی ٹا ئپ تھیلیسیمیا پایا جاتا ہے اور بی ٹائپ تھیلیسیمیا مائنر کی شرح 6 فیصد ہے۔ سال 2000 میں ایسے افراد کی تعداد 80 لاکھ تھی۔ جن خاندانوں میں یہ مرض پایا جاتا ہے ان میں لگ بھگ 15 فیصد افراد تھیلیسیمیا مائنر میں مبتلا ہیں۔کراچی میں قائم تھیلیسیمیا کے علاج اور روک تھام سے متعلق ادارے عمیر ثنا فائونڈیشن کے تیار کردہ تحریری مواد کے مطابق اس وقت پاکستان میں تھیلیسیمیاکے مریضوں کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ ہے اور ہر سال ان مریضوں میں 6 ہزار کا اضافہ ہو رہا ہے۔

خون کا ایک ٹیسٹ جسے ہیموگلوبن الیکٹروفوریسزکہتے ہیں اس بیماری کی تشخیص کر سکتا ہے۔ تھیلیسیمیا کی تشخیص کے لیے یہ ٹیسٹ زندگی میں ایک ہی دفعہ کیا جاتا ہے اور چھ ماہ کی عمر کے بعد کیا جاتا ہے۔تھیلیسیمیا مائنر کے حامل افراد میں ہیموگلوبن A2 کی مقدار بڑھ کر 3.5-7% ہو جاتی ہے۔ملک بھر میں جاری لاک ڈاؤن کے باعث خون کا عطیہ دینے والے افراد نہیں آرہے جس کی وجہ سے خون کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ ہم تکنیکی زبان میں خون کے سٹاک کے لیے ریڈ الرٹ کی ٹرم استعمال کرتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کچھ دنوں میں تھیلیسیمیا کے مریضوں کے لیے رکھا خون ختم ہونے کو ہے، مگر اس وقت ہم ریڈ الرٹ کی حد کو بھی پار کرچکے ہیں۔لاک ڈاؤن کے دوران انٹر سٹی ٹرانسپورٹ کے ساتھ آن لائن ٹرانسپورٹ ایپلیکیشن بشمول اوبر، کریم، بائیکی اور دیگر بھی بند ہیں۔

سڑکوں پر پولیس اور رینجرز کی جانب سے ہر گاڑی اور دیگر سواریوں سے پوچھ گچھ کے باعث شہر میں ہو کا عالم ہے۔ڈاکٹر ثاقب حسین انصاری کے مطابق اس وقت پاکستان میں تھیلیسیمیا سے متاثر بچوں کی تعداد ایک لاکھ ہے جو دنیا بھر میں ایک ہی ملک میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔ ان میں سے 23 ہزار بچے صرف سندھ کے ہیں۔ پاکستان کے ان ایک لاکھ بچوں کی اکثریت کو 17 دن بعد خون لگانا ضروری ہوتا ہے، مگر ان میں سے دس فیصد یعنی دس ہزار بچوں کو سات دنوں میں خون لگتا ہے جبکہ دو فیصد یا دو ہزار بچوں کو ہر دو دن بعد خون دینا ضروری ہوتا ہے۔

سندھ میں تھیلیسیمیا سے متاثر بچوں کے علاج اور انہیں باقاعدگی سے خون دینے کے لیے 13 اضلاع میں 27 مراکز قائم ہیں جو کراچی، حیدرآباد، ایک سکھر، بدین، شہید بینظیرآباد اور میرپورخاص شمال میں ہیں۔کراچی میں تھیلیسیمیا کے سب سے زیادہ مراکز ہیں اور ان مراکز میں سے اکثر مفت علاج مہیا کرتے ہیں۔ ملک میں کورونا کے پیش نظر رضاکارانہ خون کا عطیہ نہ ہونے سے خون کے مرض میں مبتلا تھیلیسیمیا بچوں کے لیے خون کی شدید کمی کا سامنا ہوگیا ہے۔ کراچی میں نہ صرف صوبے کے دیگر اضلاع بلکہ بلوچستان سے بھی تھیلیسیمیا کے بچوں کی بڑی تعداد علاج کے لیے آتی ہے۔ تھیلیسیمیا سے متاثر بچوں کے والدین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ علاج کی رقم کے علاوہ مخصوص مدت بعد اپنے بچے کی جان بچانے کے لیے خون کا حصول ان کے لیے ایک دشوار مسئلہ ہوتا ہے جس کے باعث تھیلیسیمیا سے متاثر بچوں کے والدین کئی چھوٹے شہروں سے کراچی منتقل ہوگئے ہیں جہاں ان کے بچوں کا مفت علاج ہونے کے ساتھ خون کی دستیابی بھی آسان ہوجاتی ہے۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے تھیلیسیمیا کے شکار بچوں کو عوام سے خون کے عطیات دینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال کے تناظر میں ٹرانسپورٹ سمیت دیگر بندشوں کے باعث تھیلیسیمیا کا شکار بچوں کیلئے خون کے عطیات جمع کرنے اور ان کو فراہمی میں مشکلات کا سامنا ہے۔تھیلیسیمیا کا شکار بچوں کے لئے خون کے عطیات دیں کیو نکہ دکھی انسانیت کی خدمت ایک عظیم نیکی ہے ، تھیلیسیمیا کا شکار بچوں کی زندگی خون کے عطیات پر منحصر ہوتی ہے ، خون کے عطیات دینے والوں کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔ ان خیالات کا اظہار صدر مملکت نے جمعہ کو ایف نائن پارک میں قائم تھیلیسیمیا سنٹرکے دورہ کے موقع پر گفتگو کے دوران کیا۔ صدر مملکت نے تھیلیسیمیا کا شکار بچوں سے ملاقات کی اور ان کی خیریت دریافت کی۔صدر مملکت نے سنٹر پر فرائض انجام دینے والے ڈاکٹروں سے بھی ملاقات کی اور متاثرہ بچوں میں تحائف بھی تقسیم کئے۔

قومی ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے کرونا وائرس کے پھیلائو کے سبب تھیلیسیمیا کے مریض بچوں کوپیش آنے والے مسائل دنیا کے سامنے رکھ دیئے ۔ سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ ’’کرونا کے پھیلاؤ سے تھیلسمیا کے بچوں پر سب سے زیادہ اثر ہوا ہے، 28ہزار یونٹ روزانہ سے 3ہزار یونٹ روزانہ کی کلیکشن پر آگئی ہے، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن، اقوام متحدہ،ڈاکٹر ظفر مرزا اور وزیر اعظم عمران خان سے درخواست ہے کہ عوام میں اس بات کی آگاہی پیدا کی جائے کہ کس طرح احتیاط کے ساتھ ان بچوں کا آنے والا کل محفوظ بنایا جا سکے‘‘

مختلف مکتبہ فقر سے تعلق رکھنے والے علماء کرام نے بھی اس وبا کے دنوں میں تھیلیسیمیا کے مریضوں کی طرف روشنی ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ طبی ماہرین کے مطابق ملک میں 49 ہزار تھیلیسیمیا کے مرض میں مبتلا بچوں کی زندگی خطرے میں ہے،خون کے عطیات میں کمی کے بعد تھیلیسیمیا میں مبتلا بچوں کی زندگیاں بچانا مشکل ہوگیا ہے۔ خون کے عطیات نہ ہونے کے سبب بچوں کو مایوس واپس لوٹنا پڑ رہا ہے جو کسی بڑے انسانی المیہ کا باعث بن سکتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق یہ وہ مریض طبقہ ہے جس کو مسلسل خون کی ضروت ہوتی ہے، اب اسپتال تک پہنچنا اتنا آسان نہیں اس لئے لوگ گھروں میں پریشان بیٹھے ہیں۔صرف لاک ڈاؤن کے دوران ہی نہیں بلکہ بعد میں بھی تھیلیسیمیا کے مریض بچوں کے لئے خون کے عطیات دیتے رہیں۔ غریب والدین تھیلیسمیا کے مریض بچے کا علاج نہیں کروا سکتے کیونکہ جب تک بچہ زندہ ہے اس وقت تک علاج چلتا رہتا ہے۔ہمیں ان تھیلیسیمیا کے مرض میں مبتلابچوں کیلئے سوچنا ہوگا کہ ہمیں مشکل کی اس گھڑی میں ان مریض بچوں کی مدد کرنی ہے۔علماء کرام کی پوری قوم سے اپیل ہے کہ ملک بھر میں ان بچوں کیلئے خون کے عطیات دیں۔

تھیلیسیمیا ایک ایسی جینیاتی بیماری ہے جو ساری زندگی ٹھیک نہیں ہوتی، اگر خون کی کمی ہو تو تھیلیسیمیا مائینر کے حامل افراد کو روزانہ ایک ملی گرام فولک ایسڈ (Folic acid) کی گولیاں استعمال کرنا پڑتی ہیں تاکہ ان میں خون کی زیادہ کمی نہ ہونے پائے۔ اسی طرح خواتین میں حمل کے دوران اس کی اہمیت بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔بی ٹا ئپ تھیلیسیمیا میجر میں مبتلا افراد کو ہر دو سے چار ہفتوں کے بعد خون چڑھانے کی ضرورت پڑتی ہے۔ ایک بوتل خون میں تقریباً 250 ملی گرام لوہا (Iron) موجود ہوتا ہے جسے انسانی جسم چار ہفتوں میں پوری طرح خارج نہیں کر سکتا۔بار بار خون کی بوتل چڑھانے سے جسم میں Iron کی مقدار نقصان دہ حد تک بڑھ جاتی ہے اور اس طرح Hemosiderosis کی بیماری ہو جاتی ہے جو دل اور جگر کو بہت کمزور کر دیتی ہے۔ اس لیے بار بار خون لگوانے والے مریضوں کو iron chelating دوائیں استعمال کرنی پڑتی ہیں جو جسم سے زائد iron خارج کر دیتی ہیں۔تھلیسیمیا میجر کا علاج ہڈی کے گودے کی تبدیلی bone marrow transplant سے بھی ہو سکتا ہے جس پر 15 سے 20 لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں۔ تھیلیسیمیا میجر میں مبتلا بچے کم عمری میں ہی مر جاتے ہیں۔

وبا کے دنوں میںجہاں ہماری اجتمائی و انفرادی ذمہ داری یہ ہے کہ اپنے ارد گرد ضرورت مند، مستحق اور دیہاڑی دار طبقے کا خیال رکھیں وہاں ہی تھلیسیمیا کی بیماری میں مبتلا مریض جن کی زندگی کا دارومدا ر ہی ہمارے خون کے عطیہ پر ہے، انکا خیال رکھنا سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ ارباب اختیار ، سماجی کارکنان اور وزیر اعظم ٹائیگر فورس میں رجسٹر ہونے والے پرعزم نوجوانوں سے درخواست ہے کہ مشکل کی اس گھڑی میںصحت مند و توانا افراد کو بچاتے بچاتے تھلیسیمیا کے مریضوں کو موت کے منہ میں جانے سے بھی بچا لیں۔

٭٭٭


ای پیپر