پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ
23 اپریل 2020 (12:17) 2020-04-23

شہباز شریف کے انٹرویو کا ان دنوں بہت چرچا ہے جو انہوں نے گزشتہ ہفتے ممتاز صحافی سہیل وڑائچ کو دیا ہے… حق اور مخالفت میں تبصرے ہو رہے ہیں… مسلم لیگ (ن) کے صدر، قائد حزب اختلاف اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب نے انکشاف کیا ہے 2018ء کے انتخابات سے دو تین ماہ قبل اسٹیبلشمنٹ انہیں وزیراعظم بنانے پر آمادہ ہو چکی تھی… باقاعدہ مذاکرات کر رہی تھی… یہاں تک کابینہ میں شامل کئے جانے والے افراد کی فہرست بھی تیار ہو رہی تھی… پھر بڑے بھائی اور اصل قائد ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ والا بیانیہ آڑے آ گیا جبکہ شہباز شریف نے برملا کہا ہے ان کو سیاست میں فوج کے کردار پر کوئی اعتراض نہیں… مقتدر قوتوں نے عمران خان کے حق میں فیصلہ کر لیا… اس بیان سے جس کی کسی جانب سے تردید نہیں کی گئی ہماری ریاست اور سیاست کے بارے میں تین چار حقائق سامنے آتے ہیں… ایک یہ کہ شہباز شریف صاحب وزیراعظم بننے کے لئے شدت کے ساتھ خواہشمند ہیں… اس کی خاطر وہ اپنے بھائی اور سیاسی قائد یہاں تک کہ اپنی جماعت کے اعلان کردہ سیاسی نظریات پر بھی سمجھوتہ کرنے کے لئے تیار ہیں… دوسری جانب ہماری اسٹیبلشمنٹ نہ صرف انہیں نواز کے مقابلے میں پسند کرتی ہے بلکہ ان کی اس کمزوری کو بخوبی سمجھتی ہے کہ چھوٹے بھائی کو ایک مرتبہ یہ عہدہ دے کر شریف خاندان کی سیاست پر قدغن لگائی جا سکتی ہے… لیکن شہباز کا مسئلہ یہ ہے وہ اس منزل کی جانب ایک قدم آگے بڑھاتے ہیں پھر والدین کی تاکید اور بھائی کا احترام دیکھ کر دو قدم پیچھے بھی ہٹ جاتے ہیں… یہ حقیقت بھی ان کے سر میں سمائی رہتی ہے کہ عوامی مقبولیت کے مالک نوازشریف ہیں… اگر انہوں نے بھائی کی مرضی کے خلاف اتنا بڑا قدم اٹھایا تو سیاسی زمین پر پائوں جمے نہ رہیں گے اور خالصتاً اسٹیبلشمنٹ کے رہین منت بن کر رہ جائیں گے… گزشتہ پچیس برسوں سے انہیں بار بار یہ پیشکش کی گئی… غلام اسحق خان نے نرغے میں لانے کی کوشش کی… جنرل پرویز مشرف انہیں وزارت عظمیٰ کی خلعت پہنانا چاہتے تھے بشرطیکہ بھائی سے ناطہ توڑ دیں… بات آگے بھی بڑھی ، پھر double minded ہو گئے… نوازشریف اپنے مؤقف پر ڈٹے رہے… جماعت کی اکثریت بھی ان کے ساتھ تھی… عوامی مقبولیت کا گراف بھی حق میں تھا… شہباز شریف کو نواز کی قیادت میں پنجاب کی وزارت اعلیٰ پر اکتفا کرنا پڑا… خوب کارگزاری دکھائی… تمام صوبوں کے لئے مثال بن گئے… لیکن وزیراعظم بننے کی خواہش مچلتی رہی… اب جو تیسری مرتبہ منتخب ہونے والے نوازشریف سے اقامہ کی آڑ میں وزارت عظمیٰ چھین لی گئی تو انہوں نے اس سارے کام کے پردے میں خلائی مخلوق کی کارفرمائی کا تذکرہ بلند کیا… پھر ان کی جانب سے ووٹ کو عزت دو کا نعرہ گونجنے لگا شہبازشریف نے بھائی کا ساتھ دینے کے باوجود اس بیانیے سے اپنے آپ کو دور رکھا… انہوں نے مقتدر قوتوں کے ساتھ تعلقات کی کھڑکی کھلی رکھی… اب انہی کی زبانی معلوم ہوا ہے اس مرتبہ بھی نوازشریف سے بالا بالا ان کے معاملات طے ہوا چاہتے تھے… وزیراعظم بننے میں تھوڑی سی کسر باقی رہ گئی تھی مگر اسٹیبلشمنٹ کو غالباً اعتبار نہ آیا نواز جو نعرہ بلند کر رہے ہیں اس سے سو فیصد انحراف اور بڑے بھائی سے مکمل علیحدگی شائد شہباز کے لئے آسان نہ ہو اس لئے بنا بنایا کھیل ایک مرتبہ پھر بگڑ گیا… قرعہ فال عمران خان کے نام نکل

آیا… شہباز شریف ایک مرتبہ پھر بھائی کو لندن چھوڑ کر لاہور میں آ براجمان ہوئے ہیں… سیاسی مبصرین کا خیال ہے عمران کی ناکامیوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ’’اوپر‘‘ والوں کے ساتھ رابطے میں ہیں… لیکن نیب ان کی جان نہیں چھوڑ رہا طلب کر لیا گیا ہے… دھمکیاں دی جا رہی ہیں… نہ پائے ماندن نہ جائے رفتن…

زیربحث انٹرویو سے اسٹیبلشمنٹ کے بارے میں باردگر یہ حقیقت واشگاف ہو گئی ہے کہ اپنی بالادستی اور منظم ریاستی طاقت کے بل بوتے پر حکومتوں کے نصب و عزل کا کام گرفت میں لے رکھا ہے… انتخابات ضرور کرائے جاتے ہیں… آئین کے تحت عوام سے ان کا فیصلہ بھی حاصل کیا جاتا ہے، لیکن آخر دم پر نتائج کو اس طرح Manupulate کیا جاتا ہے کہ حکومت ان کا پسندیدہ لیڈر اور اس کی جماعت بنائیں، ورنہ کسی نہ کسی بہانے اکھاڑ پھینکا جاتا ہے… پاکستان کی سیاسی تاریخ اس کی مثالوں سے بھری پڑی ہے… نوازشریف بوجوہ راندہ درگاہ ٹھہرا… 2013ء کے انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگایا گیا… نیا گھوڑا تیار کر کے عمران خان کو میدان میں لایا گیا… وہ شور قیامت اٹھا کہ کانوں پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی… سپریم کورٹ کے تین ججوں پر مشتمل تحقیقاتی کمیشن بنا… اس نے فیصلہ دیا چھوٹی موٹی بے قاعدگیاں یقینا ہوئی تھیں مگر اس نوعیت کی دھاندلی نہیں ہوئی کہ نتائج کو بدل کر رکھ دے… اس کے بعد پانامہ اور اس کے حوالے سے بے پناہ کرپشن کا غلغلہ بلند کیا گیا… جے آئی ٹی بنائی گئی… ٹھوس ثبوت نہ ملا چونکہ نوازشریف کی حکومت اکھاڑ پھینکنا مقصود تھا اس لئے اعلیٰ ترین عدالت کے ذریعے اقامہ جیسے مضحکہ خیز الزام کی پاداش میں نوازشریف کو اٹھا پھینک کر اپنی بالادستی کو یقینی بنا لیا گیا… شہباز شریف اگرچہ بھائی کے ساتھ کھڑے تھے، لیکن ان کے تازہ ترین انٹرویو سے معلوم ہوتا ہے موصوف دیرینہ خواہش پوری کرنے کی خاطر مقتدر قوتوں کے ساتھ اندر اندر پینگیں بڑھا رہے تھے… بیل منڈے کو چڑھا چاہتی تھی مگر حاکمان اعلیٰ نے پھر رائے بدل لی… نئے مہرے کو آگے کر دیا… جسے 2018ء کے چنائو میں اگرچہ قطعی اکثریت مل نہ سکی تھی… پنجاب جیسے صوبے میں وہ عملاً ہار رہا تھا لیکن وہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کیسی اور اس کا خاص شہرت رکھنے والا محکمہ زراعت کس کام کا اگر معجزہ نہ دکھاتا… عمران کی حکومت بالادست قوتوں کی کھلم کھلا پشت پناہی اور پارلیمان میں چھوٹی چھوٹی جماعتوں کی وقتی تائیدو حمایت کے سہارے کھڑی ہے… بنیادی فیصلے اگرچہ وہیں سے صادر ہو رہے ہیں…

اس دوران شہبازشریف نے ایک اور کامیابی حاصل کر لی… چودھری شوگر ملز کیس میں نیب کی حراست میں نوازشریف پر بیماری نے سخت حملہ کیا… جان کے لالے پڑ گئے… کارفرمائوں سمیت پورے ملک کے اندر سخت تشویش کی لہر دوڑ گئی… سابق وزیراعظم کو لاہور کے سروسز ہسپتال میں منتقل کر دیا گیا… شہباز شریف پوری فکرمندی کے ساتھ بھائی کی دیکھ بھال اور ہر قیمت پر ان کی جان بچانے میں پیش پیش تھے… طے ہوا انہیں لندن منتقل کر دیا جائے… خصوصی اہتمام کے ذریعے انہیں وہیں پہنچایا گیا… اس دوران شہباز شریف نے معلوم نہیں بھائی پر کیا جادو کیا انہوں نے نواز کو بطور قائد مسلم لیگ (ن) جنرل قمر جاوید باجوہ کو توسیع دینے کے مسودہ قانون پر اپنی جماعت کے اراکین اسمبلی کی مہر لگوانے پر راضی کر لیا… چنانچہ توسیع مل گئی… نوازشریف جو کام سارے سیاسی کیریئر کے دوران کرنا نہیں چاہتے تھے وہ بالآخر ہو گیا… ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کا نعرہ اپنا زور اور اپنی طاقت گنوا بیٹھا… اس کے مہینہ ڈیڑھ مہینہ بعد بڑے بھائی اور قائد کو لندن کے گوشہ عافیت میں چھوڑ کر شہباز وطن لوٹ آئے ہیں… کورونا وائرس پوری دنیا کی مانند ہمارے ملک کے عوام کے لئے بھی جان لیوا ثابت ہو رہا ہے… عمران حکومت کی ناکامیاں پہلے ہی سب پر عیاں تھیں… کہا جانے لگا کہ اسٹیبلشمنٹ کے اعلیٰ حلقوں کے اندر بھی اس کی کارکردگی کے بارے میں اضطراب پایا جاتا ہے… کورونا کی بلائے ناگہانی نے ہاتھ پائوں جکڑ کر رکھ دیئے… اس عالم میں شہباز شریف نے جو اپنی وزارت اعلیٰ کے دور میں ڈینگی جیسے موذی مرض کا قلع قمع کرنے کے لئے شاندار اور نتیجہ خیز اقدامات کئے تھے… اب امید تھی لاہور پہنچیں گے… یعنی دیار غیر سے وطن وارد ہوں گے تو ان کی صلاحیتوں اور تجربے سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے گا… موصوف کی قیادت میں نئی حکومت کے قیام کا ڈول ڈالا جائے گا… مگر فوری طور پر ایسا ہوتا معلوم نہیں ہو رہا… اسٹیبلشمنٹ جو ایک مہرے کو دوسرے کے خلاف استعمال کے فن سے خوب واقف ہے… عمران خان پر دبائو ہے کہ اس نے مسلسل سرتسلیم خم نہ رکھا تو شہباز ہمارے پاس ہے… شہباز کو بھی نیب کے ذریعے نوٹس بھجوا کر باور کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے وہ مطلوبہ اور پسندیدہ ضرور ہے لیکن بلینک چیک نہیں دیا جا سکتا… سب کچھ جانچ پرکھ کر اور پکی ضمانتیں حاصل کر کے فیصلہ کن قدم اٹھانا مقصود ہوا تو آپ کی بھی سنی جا سکتی ہے… پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ… رہ گئے پاکستان کے عوام، اس ملک کا آئین اور منتخب پارلیمنٹ ان کی حیثیت ثانوی ہے…


ای پیپر