مفلسی حس لطافت کو مٹا دیتی ہے
23 اپریل 2020 (12:16) 2020-04-23

پاکستان میں بد قسمتی سے اداروں یا نظریات کے مقابلے میں شخصیات کی اہمیت زیادہ ہے۔ یہاں سیاست میں نام پیدا کرنے کیلئے آپ کے پاس کوئی اضافی فورم ہوتو آپ دوسروں کی نسبت زیادہ مشہور ہوجاتے ہیں۔ یہ ایکسٹرا صلاحیت آپ کو دوسروں سے منفرد بناتی ہے اگر آپ کھلاڑی ہیں اداکار ہیں فیوڈل ہیں صنعتکار ہیں ڈاکٹر ہیں یا وکیل ہیں یا ریٹائرڈ بیوروکریٹ پولیس افسر یا جرنیل ہیں تو بھی آپ کے چانسز دوسروں کی نسبت زیادہ ہیں اور آپ کیلئے سیاسی سوجھ بوجھ کی شرط میں خاصی ڈسکائونٹ مل جاتی ہے۔

وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے انسداد غربت ڈاکٹر ثانیہ نشتر جو پیشے کے لحاظ سے کارڈ یالوجسٹ ہیں اور ان کا حکومتی عہدہ وفاقی وزیر کا ہے ان کے حالیہ احساس پروگرام پر میرا کالم لکھنے کا کوئی ارادہ نہیں تھامگر فیصل آباد سے ہمارے دوست اور تحریک انصاف کے سینئر رہنمااور انصاف لا ئرزونگ کے سابق صدر محترم میاں عبدالرئوف ایڈووکیٹ نے ڈاکٹر ثانیہ نشتر کی تعریف ہی اتنی زیادہ کردی ہے کہ ریکارڈ کی درستی ناگزیر ہوگئی ہے۔ میاں عبدالرئوف جیسے زیرک سیاستدان اور ماہر قانون کا خیال ہے کہ ملک میں زراعت کے فروغ کیلئے حکومت کو چاہیے کہ ڈاکٹر ثانیہ نشتر کو زرعی بینک کا سربراہ مقرر کر دے۔

کسی بھی سکیم یا پراجیکٹ کی worth کا اندازہ لگانے کیلئے اس کا موازنہ ضروری ہے تاکہ ایک عام آدمی کو اندازہوسکے کہ ان دو میں سے زیادہ بہتر کون ساہے یا دونوں میں سے نقائص کسی میں زیادہ ہیں۔ یہاں مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے تجزیہ نگاروں اور ان کو پڑھنے والوں کی ذہن سازی ایسے خطوط پر ہوچکی ہے کہ اگر آپ کسی ایک پارٹی کی کوئی اچھی کوالٹی بیان کردیں تو سمجھاجاتا ہے کہ لکھنے والے کا تعلق اس پارٹی سے ہے حالانکہ تجزیہ غیر جانبدار اور بے لاگ ہونا چاہیے۔

ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے غربت کی تشخیص یا مستحقین کو ڈھونڈنے کاجو طریقہ اختیار کیا ہے، اس کے 8پوائنٹ رکھے گئے تھے جن میں سے پہلا یہ تھا کہ درخواست گزار کے نام پر کوئی گاڑ ی رجسٹرڈ نہیں ہے دوسرایہ تھا کہ اس کے یا اس کے جیون ساتھی کے نام پر کوئی موٹر سائیکل رجسٹرڈ نہیں ہے۔ تیسرا یہ تھا کے ان دونوں میں سے کسی کا پاسپورٹ یافارن ٹریول کی ہسٹری تو نہیں ہے۔ ایک شرط یہ بھی تھی کہ اس کا ٹیلی فون یا موبائل کا ماہانہ بل 1000روپے سے زیادہ تو نہیں ہے۔

میں بطور کالم نگار اپنے آپ پر پیپلز پارٹی کی حمایت کا لیبل لگوانے جیسے خطرناک رسک کے باوجود ڈاکٹر

ثانیہ نشتر کی اس پالیسی کا موازنہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں مروجہ اس درخواست فارم کے ساتھ کرنے کی جرأت کررہا ہوں جو پیپلز پارٹی کو ورلڈ بینک نے تیار کر کے دیا تھا جیسے Poverty Score Cardکہا جاتا تھا ۔ اس فارم کی سکروٹنی اگر ایمانداری اور نیک نیتی سے کی جاتی تو یہ ایک بہترین اور مثالی طریقہ تھا جس میں معاشرے کے پسے ہوئے ultra poorیا شدید غربت کا شکار افراد کو نہایت شفاف انداز میں ڈھونڈا جاسکتا تھا۔

آئیں اب ذرا Poverty Score Cardکے سوالنامے کا جائزہ لیتے ہیں۔ پہلا سوال یہ تھا کہ آپ کے گھر میں لیٹرین کس طرح کی ہے (اس سوال کا مقصد یہ نہیں تھا کہ آپ لیٹرین کے پتھر اور اس کے اندز فکس کردہ سینٹری فٹنگ کی تفصیلات دیں) اس وقت سندھ کے اصل مستحقین کا جواب یہ ہوتا تھا کہ ہمارے گھر میں لیٹرین موجود ہی نہیں ہے۔دوسرا سوال یہ تھا کہ آپ کے بچے کتنے ہیں اور 11سال سے کم عمر بچوں کی تعداد کیا ہے۔ تیسرا سوال آپ کتنے کمروں کے گھرمیں رہتے ہیں پھر پوچھا جاتا تھا کہ آپ کے گھر میں ٹیلی ویژن ہے۔ یہ ایسے چبھتے ہوئے سوال تھے کہ ان کے جوابات سے جو مستحقین ابھر کر سامنے آتے تھے یہ سارے وہ لوگ تھے جن کے بارے میں آپ یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ اگر گھر کا سربراہ ایک دن کام پر نہ گیا تو رات کو اس گھر میں فاقہ کشی ہوگی۔

اب آپ اس سکور کا رڈ کو ڈاکٹر ثانیہ نشتر کے سوالنامے سے موازنہ کریں تو آپ خود فیصلہ کریں ان دونوں فول پروف طریقہ کا ر کون ساہے۔ اگر پیپلز پارٹی کے دور میں ہزاروں سرکاری افسروں اور سیاستدانوں نے اس فنڈ میں کرپشن کی ہے تو اس میں سکروٹنی کا قصور نہیں ہے کرپشن ایکHuman Errorہے، اس میں جانچ پڑتال کے اس نظام کی غلطی نہیں تھی بلکہ سسٹم چلانے والوں کی غلطی تھی مگر ڈاکٹر ثانیہ نشتر کے نظام میں اتنی صلاحیت ہی نہیں کہ وہ غربت کا درست اندازہ لگا سکے۔ پاکستان میں ہزاروں خوشحال غیر مستحق افراد ہیں جن کے نام پر گاڑی موٹر سائیکل حتیٰ کہ موبائل فون بھی نہیں ہے اور نہ انہوں نے آج تک پاسپورٹ بنایا ہے تو کیا ان میں اگر حکومت کو دھوکہ دنیا چاہیے تو آپ اس کا کیسے سدباب کریں گے۔

تیز رفتاری ہمیشہ خطرناک ہوتی ہے۔موجودہ حکومت کی پالیسی یہ تھی کہ جتنی جلدی ہوسکے پیسے بانٹ دئیے جائیں اس جلد بازی پر میرٹ اور سکروٹنی کو قربان کردیا گیا۔ دوسری بڑی غلطی یہ تھی کہ اس میں سوائے نادرا کے کمپیوٹر کے کوئی گرائونڈ چیک سرے سے موجود ہی نہیں تھا۔ سارے کیس اسلام آباد بیٹھ کر پاس کئے گئے کہ کون مستحق ہے اور کون نہیں ہے۔ جیسے جیسے وقت گزرے گا نئی نئی کہانیاں سامنے آئیں گی۔ غربت پیسے باٹنے سے ختم نہیں ہوتی اس کیلئے ایک منصفانہ نظام ناگزیر ہوتا ہے جس میں عام آدمی کیلئے مواقع مہیا کئے جائیں۔

اس موقع پر مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان کا غریبوں میں 12000 روپے کی تقسیم کی ایک تقریب کا احوال قابل ذکر ہے جس میں وہ ایک عورت سے پوچھتی ہیں کہ آپ اس رقم کا کیا کروگی اس نے کہا میرے 8بچے ہیںجس پر مشیر اطلاعات نے قہقہہ لگایا اور ڈھیر سارے مردوں کی موجودگی میں اس سے پوچھا کہ تمہارے میاں اس کے علاوہ کیا کرتے ہیں اس عورت کا جواب اس لئے سنائی نہیں دیا کہ قہقہوں کی گونج ا س کی آواز سے کہیں زیادہ بلند ہو چکی تھی۔ اتنی بڑی تاریخی اور عالمی ٹریجڈی کے باوجود ہمارے معاشرے سے سیاست ہے کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی اور امداد کے نام پر اس غریب عورت کی تذلیل افسوسناک ہے۔

مفلسی حس لطافت کو مٹا دیتی ہے

بھوک آداب کے سانچوں میں نہیں ڈھل سکتی


ای پیپر