23 اپریل 2020 (12:14) 2020-04-23

اگرچہ طالبان میں مختلف دھڑے اور افراد شامل ہیں،بہت سے لوگ سوال کر رہے ہیں کیا اس وقت طالبان کی سوچ میں تبدیلی آ چکی ہے۔ طالبان قائد ملاعمر کے مو ت کے بعد ملااخترمحمد منصور کو نیا سربراہ منتخب کیا گیا۔ طالبان کے کچھ ممتاز ارکان نے ان کے انتخاب کی حمایت کی جبکہ کچھ نے اعتراض کیا۔اس وقت بھی یہ مسئلہ پیدا ہوا جب منصور کی ہلاکت کے بعد ییبت اللہ اخونزادہ کی جانشینی کا سوال اٹھ کھڑا ہوا۔ لیکن یوںمعلوم ہوتا ہے کہ ہیبت اللہ کی قیادت کے ساتھ طالبا ن کی پالیسی سازوں کا ایک بڑا حصہ زیادہ سے زیادہ ترقی پسند اورر وشن ہو گیا تھا۔اس عرصہ کے دوران اگرچہ طالبان کے کچھ زیادہ انقلابی عناصر نے داعش کے مانند کچھ دیگر تنظیموں میں شرکت اختیار کر لی تھی جبکہ روشن خیال اور حقیقت پسند عناصر، داخلی اور بیرونی طور پر طالبان کی سوچ کو بدلنے میں کامیاب ہو گئے۔ مزیدبرآں، طالبان کے پرانے ارکان کی ایک بڑی تعداد کو جنگ کی دو دہائیوں کے دوران ہلاک کر دیا گیا تھا اور نئی نسل کی آمد شروع ہو چکی تھی۔اس نوجوانوں کے پاس نئے نئے خیالات ،نظریے اور تصورات تھے جنہیں اپنا کر جنگ سے متاثرہ افغانستان میں اندرونی استحکام قائم کیا جا سکتا تھا۔ طالبان اور دیگر انتہاء پسندتنظیموں کے درمیان تین دہائیوں پر مشتمل تعاون کے باعث طالبان یہ یقین کر نے میں کامیاب ہو گئے کہ افغانستان، افغانوں کا ہے۔درحقیقت، طالبان کہیں زیادہ روشن خیال لائحہ عمل کے حامل ہیں جس کے تحت وہ جہاد کوافغانستان کی حکومت کا تختہ الٹنے اور غیرملکی افواج کو ہندوستان سے باہر نکالنے کا ایک ذریعہ سمجھتے تھے جبکہ داعش اور دیگر انتہاء پسندتنظیمیں یہ سمجھتی تھیں کہ ان کا مقصد یہ ہے کہ دنیا پر بالادستی حاصل کی جائے اور ایک اسلامی خلافت قائم کی جائے۔مثال کے طور پرداعش کے موقف کے مطابق افغانستان ایک وسیع تر سلطنت ولایت خورسان کا ایک حصہ ہے لیکن اس ضمن میں طالبان نے اپنا یہ موقف بتدریج بدل لیا کہ افغانستان میں اسلامی خلافت قائم کی جائے اور انہوں نے افغانستان میں ایک اسلامی مملکت کے قیام ہی کو اپنا مقصد بنایا۔تاہم،اس ضمن میں یہ بات ذہین نشین کر لینا چاہیے کہ اب طالبان اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ افغانستان سے غیرملکی افواج کی واپسی کا بہت حد تک تعلق اس بات سے ہے کہ داعش جیسی تنظیموں سے ان کے تعلقات قطع ہو جائیں۔ایک زمانے میںافغانستان کی نوے فیصد سرزمین پر طالبان کا قبضہ تھا لیکن آہستہ آہستہ انہیں یہ ادراک ہو گیا کہ افغانستان میں کسی بھی مطلق العنان حکومت کے قیام کی کوشش کبھی کامیاب نہیں ہوئی ،اس لیے ایک وسیع تر قابل قبول حکومت ہی وقت کا تقاضا ہے۔اس لیے، طالبان کی کوشش یہ ہے کہ وہ خود کو افغانستان کے معاشرے کے ایک حصے کے طور پر منوا لیں۔اس ضمن میں یوں معلوم ہوتا ہے کہ افغان طالبان ،اہل تشیع اور ہزارہ جیسے مذہبی اور نسلی گروہوں کے ساتھ اپنے تعلقات درست کرنا چاہتے ہیں۔ درحقیقت، طالبان کی اب خواہش یہ ہے کہ کسی بھی متوقع حکومت میں افغانستان کے قبائل بھی شامل ہوں جبکہ وہ یہ بھی کوشش کر رہے ہیں کہ دیگر قبائل مثلاً تاجک،ہزارہ اور ازبک پر مشتمل پشتون قبائل بھی ان کے ساتھ شامل ہو جائیں۔ گزشتہ اڑھائی دہائیوں سے ہی پاکستان نے افغان طالبان کی حیثیت کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے جبکہ بہت سے لو گ یہ سمجھتے ہیں کہ افغان طالبان اور پاکستان کی آئی ایس آئی کے درمیان گہرا تعلق ہے۔لیکن گزشتہ دہائی سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ا ب ایسی صورت حال نہیں۔لیکن یہ بات بھی حقیقت ہے کہ متعدد سماجی،سیاسی اور تہذیبی معاملات کے ضمن میں طالبان کی سوچ وہی پرانی ہے لیکن اب یوں معلوم ہوتا ہے کہ اب طالبان کا سیاسی دھڑا،مسلح دھڑے پر بالادستی حاصل کر رہا ہے۔درحقیقت ا س وقت طالبان مختلف سطحوں پر کام کر رہے ہیں کہ تاکہ افغانستان میں اقتدار حاصل کرنے کے بعد انہیں کوئی مشکل پیش نہ آئے

(بشکریہ:ایشیاٹائمز،ترجمہ:ریاض محمودانجم)


ای پیپر