وقت آزمائش ہے، صبر کیجیے…
23 اپریل 2020 (12:13) 2020-04-23

وبا کے ان دردناک دنوں میں جب میں یہ دیکھتی ہوں کہ ہر انسان کو صرف اپنی فکر ہے تو قیامت کے اس منظر کا تصور سامنے آ جاتا ہے جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس دن ہر انسان کو اپنی اپنی پڑی ہو گی، اولاد والدین کو اور والدین اولاد کو پہچاننے سے قاصر ہوں گے۔ کورونا کے خوف نے جہاں ہمیں بطور قوم جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے وہاں ہی اہم ترین فریضہ جو ہم پر فرض ہے اسے بطور معاشرہ جان بوجھ کر یا انجانے میں نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ہم حقوق الٰہی پورے کرنے لیے تو بہت تردد کرتے نظر آتے ہیں مگر حقوق العباد (جنھیں اللہ تعالیٰ نے اپنے حقوق پر بھی ترجیح دی ہے) کو بھول بیٹھے ہیں۔ انسان اس دنیا میں تنہا آتا ضرور ہے مگر یہاں تنہا رہنا ممکن نہیں ہے، دوسروں کے ساتھ مل جل کر رہنے، معاشرہ بنانے اور ایک دوسرے کی مدد کرنے کی صفت کے باعث انسان کو سماجی جانور کا نام بھی دیا گیا ہے۔دوسرا صرف سماجی ضرورت کے تحت ہی نہیں بلکہ اپنی ذاتی ضروریات کی تکمیل کے لیے، مشکلات سے نکلنے کے لیے، تکلیفوں کے حل کے لیے اور برے و خوشگوار تجربات کے لیے بھی انسان کو اپنے جیسے دوسرے انسانوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس طرح ہر انسان کا فرض بنتا ہے کہ وہ اگر اپنے لیے ہمدردی و مدد کی امید رکھتا یے تو دوسروں کے لیے بھی یہی کرے۔کورونا کے عہد میں یہ درست ہے کہ حکومتی اور سماجی سطح پر مخیر اداروں کی جانب سے لوگوں کی مدد کے لیے 100 فیصد کوشش کی جارہی ہے۔کوئی راشن تقسیم کر رہا ہے تو کوئی بے سہارا مریضوں کی داد رسی میں مصروف ہے لیکن اس سب کے باوجود آپ اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو آپ کو 1 یا 2 نہیں بلکہ درجنوں سفید پوش ایسے نظر آئیں گے جن تک نہ حکومتی امداد پہنچتی ہے اور نہ ہی وہ زبان سے کسی کو کچھ بتانے یا مانگنے کا حوصلہ کر پاتے ہیں۔کسی سیانے

نے کہا ہے کہ اگر تم کسی کو بھوکا دیکھو تو یہ نہ سوچو کے اس کا رزق رب نے بند کیا ہے بلکہ یہ سوچو کے کوئی قبضہ مافیا اس کے رزق پر قابض ہوا بیٹھا ہے۔ اسلام کے بنیادی رکن میں زکوٰۃ کو شامل کرنے کے پیچھے بھی یہی حکمت ہے کہ دنیا میں سرمایہ کسی ایک طبقے کے بجائے تمام طبقات میں گردش کرتا رہے۔ اگر سرمایہ، خیرات، راشن یا مالی امداد کی صورت میں محض ایک ہی طبقے میں رہے تو اصل حق دار ان سب تکلفات کے باوجود محروم رہ جائیں گے ۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ

" اور نماز قائم کرواور زکوۃ ادا کرو "

حدیث شریف میں آتا ہے کہ

"اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے، کلمہ شہادت پڑھنا یعنی گواہی دینا کہ نہیں ہے معبود برحق مگر اللہ کی ذات اور حضرت محمدؐ اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ دینا اور بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا'' ۔

یعنی نماز کے ساتھ بھی زکوۃ کا حکم ہے اور اسلام کا تیسرا بنیادی رکن بھی زکوۃ ہے ۔ موجودہ صورتحال میں دو طریقوں سے حق دار کا حق مارا جا رہا ہے۔ ایک وہ جو دینے والا ہے اصل حق دار کو تلاش کرنا اسکی ذمہ داری ہے اور دوسرا وہ جو لینے والا ہے اسکی ذمہ داری بھی ہے کہ وہ خود دیکھے کیا وہ اپنا حق لے رہا ہے یا کسی اور کا حق مارنے جا رہا ہے؟ وبا کے دنوں میں مخیر حضرات سڑکوں پر کھڑے ہو کر راشن بانٹ دیتے ہیں جبکہ راشن ان غیر ضروری افراد تک پہنچ جاتا ہو جو اسے فالتو گردانتے ہوئے دوبارہ فروخت کرنے سٹور پر پہنچ جاتے ہیں۔ دوسروں کا مال ناجائز طور پر کھانا حرام ہے۔ اللہ تعالٰی سورۃ النساء میں فرماتا ہے کہ

"اے ایمان والو! تم ایک دوسرے کا مال آپس میں ناحق طریقے سے نہ کھاؤ سوائے اس کے کہ تمہاری باہمی رضا مندی سے کوئی تجارت ہو، اور اپنی جانوں کو مت ہلاک کرو، بیشک اللہ تم پر مہربان ہے" ۔

یہ بات بھی اہمیت کی حامل ہے کہ ہم بطور معاشرہ صدقہ، خیرات اور ایک عام تحفے میں فرق نہیں پہچانتے۔ صدقہ کسی مستحق کو دینا لازم ہے خاص طور پر صدقہ واجبہ یعنی زکوٰۃ اور فطرانہ وغیرہ جبکہ تحفہ یا ہدیہ کسی بھی امیر یا غریب کو اظہارِ خلوص یا محبت کی نیت سے دیا جا سکتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے یہاں کیا ہوتا کے کہ کوئی سیاست دان راشن تقسیم کرتا ہے تو وہ سب سے پہلے اپنے حلقے کے کارکنوں کو حق دار سمجھتا ہے چاہے ان پر صدقے کا مال جائز ہو یا نہ ہو۔ اسی طرح خیرات لینے والے متعدد گھرانے اس بات کی پرواہ نہیں کرتے کہ صدقے کا مال ان پر جائز بھی ہے یا نہیں۔وبا کے باعث لاک ڈاؤن کی صورتحال میں بہت سے ایسے دیہاڑی دار مزدوروں کا روزگار بند ہے جو راشن پیکج کے اصل مستحق ہیں لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ وہ لوگ جو دیہاڑی دار مزدور نہیں ہیں چند اوزار لے کر سڑکوں پر صرف اس نیت سے نکلتے ہیں کہ راشن اکٹھا کر کے فروخت کر سکیں۔ اس طرح کی حرکات ایک طرف تو حق دار کا حق مارنے کے مترادف ہیں اور دوسری طرف وبا کی صورتحال میںجب اصل حق دار کے پاس کوئی متبادل موجود نہیں ہے کسی کا حق دبا کر رکھنا ناقابل معافی جرم ہے ۔ حکومت نے ذخیرہ اندوزی اور گرانفروشی کے خلاف قانون بھی بنا دیا ہے جس کے تحت ذخیرہ اندوزوں کو ذخیرہ شدہ مال کی آدھی مالیت کے برابر جرمانہ اور 3سال تک قید بھگتنا ہو گی ۔کورونا وبا کی صورتحال میں ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے کہ اپنے ارد گرد لوگوں میں یہ شعور اجاگر کریں گے صدقہ کا مال کسی پر جائز اور کون دینے والوں میں شامل ہونا چاہیے اور اگر کوئی ذخیرہ اندوزی یا گرانفروشی میں ملوث پایا جائے تو اس کے خلاف کاروائی شروع کرانے میں رپورٹ کر کے بھی اپنا کردار ادا کریں۔


ای پیپر