تم بھی تماشابننے کیلئے تیاررہو
23 اپریل 2020 (12:13) 2020-04-23

غربت برسوں سے ہمارے اڑوس پڑوس میں ڈیرے ڈال کرخراٹے مارتی رہی اور ہم چوکوں، چوارہوں ، ریگستانوں،صحرائوں اورشہروں میں غریب تلاش کرتے پھرتے رہے۔جس طرح ہرمانگنے والا بھکاری نہیں ہوتااسی طرح ہرمٹھی بندکرنے اورہاتھ سمیٹنے والاامیربھی نہیں ہوتا۔ہاتھ پھیلانایہ غربت کی کوئی نشانی نہیں ۔اس دنیا،اس ملک اوراس معاشرے میں ایسے ہزاروں ولاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں لوگ ایسے بھی ہیں جو غربت، تنگدستی، مجبوری، لاچاری اور فقروفاقوں کے باوجودشرم کے مارے کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتے۔سوچنے کی بات ہے ایسے لوگ پھر ایسے معاشرے میں جہاں دس روپے کی امدادبھی کیمرے، فیس بک، یوٹیوب، اخبارات اور ٹی وی چینلز پر دنیا کے سامنے دی جارہی ہوکیسے یہ رازبے رازکریں گے کہ وہ کوئی غریب،فقیر،مجبوراورلاچار ہیں۔۔؟غربت واقعی بہت بڑی بلاء ہے لیکن آج اس غربت سے بھی بڑی آفت ایک غریب ،مجبور، لاچار، تنگدست اورایک خودار ماں،بہن،بیٹی،باپ،بیٹے یاکسی بھائی کی آٹے کے ایک تھیلے،پانچ کلو چینی، ایک کلو ڈالڈا یا دو کلوچاول امدادلینے کی تصویر کا امداد کے گھرمیں پہنچنے سے پہلے فیس بک، یوٹیوب، اخبارات اورٹی وی چینلزپرسامنے آنا ہے۔ جولوگ شرم کے مارے ساری عمراپنی غربت، تنگدستی، مجبوری، لاچاری اورفقروفاقوں کودنیاسے چھپائے رکھے۔جوفقروفاقوں کوہنسی خوشی گلے لگائے پرشرم کاکڑواگھونٹ کبھی نہ پیئے۔ جو ایک خشک روٹی، خالی پانی اور گھاس پر صرف اس لئے گزارا کریں کہ ان کے چہرے سے خودداری،شرم وحیاء کی چادر کہیں سرک نہ جائیں۔ پھر جب اچانک بیس کلو آٹے اور پانچ کلوچینی لینے پر ان کاشرم وحیاسے لبریزچہرہ فیس بک ،یوٹیوب ،اخبارات اورٹی وی چینلزپردنیاکے سامنے آئے گاتوخداراصرف ایک منٹ کے لئے سوچیں ۔ایسے لوگوں پرپھرکیاگزررہی ہو گی۔۔؟ ایسے لوگ پھرشرم سے پانی پانی ہوکرمریں گے نہیں توکیاخاک جئیں گے۔۔؟ماناکہ غربت کی کوئی قیمت نہیں۔بھوک پھرانسان سے دنیا کا ہر کام اوردھندہ کروا دیتی ہے مگرایک بات یادرکھیں کہ شرم وحیاء کے مقابلے میں غربت،بھوک وافلاس بھی کچھ نہیں۔ اکثر خودار لوگ غربت،بیروزگاری،فقروفاقوں اوربھوک وافلاس کے ہاتھوں بھوک سے بلک بلک کرجان تودے دیتے ہیں

لیکن شرم وحیاء پروہ کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے۔ دین اسلام جس نے ہرمعاملے میں قدم بقدم ہماری رہنمائی فرمائی۔ صدقہ، خیرات، زکوٰۃ اور غریب، مجبور اور لاچار لوگوں وانسانوں کی مددکرنے کے طور طریقے بھی ہمیں کھل کر بتا دیئے ہیں۔ جب تم کسی کی مدد کرنا چاہو تواس طرح کرو کہ اگردائیں ہاتھ سے کسی غریب، مجبور اور لاچارکوکچھ دو توبائیں ہاتھ کوبھی اس کی خبرنہ ہو۔نام کے توہم سب مسلمان ہیں لیکن اسلامی تعلیمات، حدود اور قیودسے آج ہم اتنے دوراتنے دورہوگئے ہیں کہ اتنے دوروہ کالے کافربھی نہیں ہونگے۔دس کلوآٹے یاپانچ کلوچینی پرکسی کی غربت کامذاق اڑانایاکسی کودنیاکے سامنے تماشابنانایہ کہاں کی انسانیت۔۔؟ کونسی مسلمانی۔۔؟ اورکہاں کی بھلائی وخیر خواہی ہے۔۔؟پہلے جو کہا جاتا تھا کہ نیکی کردریامیں ڈال۔کیاوہ نیکی اب صرف ایچ ڈی کیمرے، فیس بک، یوٹیوب، اخبارات اور ٹی وی چینلز پر ڈالنے کے لئے رہ گئی ہے۔۔؟ غریب، مجبور اور لاچار مائوں، بہنوں، بیٹیوں، بیٹوں اور بھائیوں کی امدادلینے والی تصاویرہم پہلے کھینچواتے ہیں اورایک کلوآٹے کی امدادہم انہیں بعدمیں دیتے ہیں۔کسی غریب اورمجبورماں ،بہن ،بیٹی اوربھائی کی تصویربناتے ہوئے کیاہم نے کبھی یہ سوچا۔۔؟کہ اگراس طرح کوئی ہمیں ایک کلوآٹے اور پائوچینی کے لئے دنیاکے سامنے تماشا بنائیں توپھرہم پرکیاگزرے گی۔۔؟ یا پھر ہماری کیا حالت ہو گی۔۔؟ اس ملک میں مہنگائی ،غربت اور بیروزگاری کی وجہ سے پہلے ہی ہر شخص کا جینا حرام اور محال ہو گیا تھا۔ اوپرسے کروناکی وباء نے غریب طبقے پربجلیاں گرادی ہیں۔ لاک ڈائون اورنظام زندگی مفلوج ہونے کے باعث آج ملک میں سفیدپوش طبقے کے لئے زندگی کانظام چلانا مشکل ہی نہیں ناممکن ساہوکررہ گیاہے۔ان حالات میں ضرورت اس بات کی تھی کہ مخیرحضرات آگے بڑھتے اوران غریبوں کے چولہے بجھنے سے بچانے میں اپنا کردار اداکرتے مگرافسوس ہزاروں کروڑپتیوں اوردرجنوں ارب پتیوں کے بیچ میں بھی آج کوئی ایسامخیرنظرنہیں آرہاجنہوں نے اپنے درغریبوں کے لئے واہ کردیئے ہوں۔مشکل کی اس گھڑی میں گنتی کے جوچندلوگ آگے بڑھے ہیں یاسامنے آئے ہیں ۔انتہائی معذرت کے ساتھ انہیں بھی کسی غریب، مجبور اور لاچار کو کوئی امداددینے سے زیادہ اس ایک سیلفی کی پڑی ہوئی ہے جس سیلفی سے میڈیااورسوشل میڈیاپروہ کرائے کے چندٹٹوئوں سے اپنی کچھ واہ واہ کرواسکیں۔میڈیااورسوشل میڈیاپرجب کسی غریب اورمجبورماں،بہن اوربیٹی کو آٹے کاایک تھیلاتھمانے کی سیلفی جب نظروں سے گزرتی ہے تودل پھٹنے لگتاہے۔کیاغریب اب اس کام کے لئے ہی رہ گئے ہیں ۔۔؟غریبوں کی غربت کااس طرح مذاق اڑانے سے یہ زمین پھٹتی کیوں نہیں۔۔؟یہ آسمان ہم پرگرتاکیوں نہیں ۔۔؟لوگ کرونا کا رونا رو رہے ہیں ۔ہمارے جیسے اعمال اورافعال ہیں ۔ان کے مقابلے میں تویہ کروناشروناکچھ بھی نہیں ۔ہم توپتھروں کی بارش اورکسی دردناک عذاب کے اس سے بھی زیادہ مستحق ہیں۔جب ہمیں بے حساب دینے والااپنے خزانوں سے مال اور زر دیتے ہوئے ہمارامذاق نہیں اڑاتاپھرہم کون ہوتے ہیں چندٹکوں کی خاطرکسی غریب، مجبور اور لاچار کامذاق اڑانے والے۔ میڈیا،سوشل میڈیااورسیلفی کے بغیربھی کسی غریب اورمجبورکی مددکی جاسکتی ہے۔رات کے اندھیرے میں غریبوں کے گھروں میں راشن دینے والے بھی توکسی کی مدد کر رہے ہیں ۔بیواہ خواتین،بے سہارا مائوں، بہنوں، بیٹیوں اور یتیموں کی چپکے سے کفالت کرنے والے بھی تو کسی کی مددکررہے ہیں ۔بٹگرام میں ایک نوجوان ڈاکٹر فیاض پنجگل فکرانسانیت کے سائے تلے فیس بک، میڈیا اور سوشل میڈیاسے ہٹ کرعملی میدان میں سرکاری ہسپتالوں کے اندراورباہراس لاک ڈائون کے دوران غریب اورمجبورعوام میں تیارکھانامفت تقسیم کررہے ہیں۔ کسی بھوکے کوکھاناکھلاناتوویسے بھی ثواب کاکام ہے پھراوپرسے جب لاک ڈائون ہوپھر تویہ ثواب یقینی طورپر ڈبل اورٹرپل ہوگا۔دس کلوآٹے اورپانچ کلوچینی پرکسی غریب ماں،بہن اوربیٹی کوتماشابنانابہت آسان مگراپنے گھرمیں اپنے ہاتھوں سے کھانابناکرکسی غریب، مجبور اور بھوکے کوکھلانابہت مشکل ہے اوریہی مشکل اس وقت وہ اصل مدد اور تعاون ہے جس کی اس ملک ،قوم اور معاشرے کوسب سے زیادہ ضرورت ہے۔فیس بک پر تیس مارخان بننے والے ہمارے نام نہادسخی بادشاہوں کو ڈاکٹرفیاض پنجگل جیسے نوجوانوں کی بے لوث خدمت اورپرخلوص جذبے سے کچھ سبق حاصل کرکے مشکل کی اس گھڑی میں غریبوں اورمجبوروں کی حقیقی معنوں میں مددکے لئے آگے بڑھناچاہیئے۔


ای پیپر