یہ ملاقات اِک بہانہ ہے! ....(چھٹی قسط )
23 اپریل 2020 2020-04-23

وزیراعظم عمران خان کے ساتھ اپنی حالیہ ملاقات کے حوالے سے گزشتہ کالم میں، میں عرض کررہا تھا وہ جب سے وزیراعظم بنے، یہ میری اُن سے تیسری ملاقات تھی، پہلی دو ملاقاتوں کا ذکر میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا، یہ ملاقاتیں اُن کی وزارت عظمیٰ کے ابتدائی عرصے میں ہوئیں، بیوروکریسی میں میری بڑی دوستیاں ہیں، یہ دوستیاں زیادہ اِس لیے ہیں میں گورنمنٹ کالج لاہور میں پڑھتاتھا، میرے زمانہ طالب علمی کے کئی دوستوں اور کلاس فیلوز نے سی ایس ایس کیا، اُن کے ساتھ دوستیاں برقرار رہیں، پھر اُن کی نسبت سے اُن کے ”بیچ میٹس“ کے ساتھ دوستیاں ہو گئیں ،اب حالت یہ ہے میرے پاس دوست کم ہیں افسر زیادہ ہیں، جیسا کہ میں بارہا عرض کرچکا ہوں وزیراعظم عمران خان کے ساتھ میرے چوبیس برس پرانے تعلقات ہیں، میں نے اُن کے لیے طویل جدوجہد کی، جو ظاہر ہے اُن کی ذات سے زیادہ اِس ملک کے لیے کی، میں یہ سمجھتا تھا، کسی حدتک اب بھی سمجھتا ہوں وہ ایک مختلف حکمران ہیں، خصوصاً وہ ہماری روایتی سیاست کی مکاریوں اور چالاکیوں سے اتنے آشنا نہیں جتنے اُن سے پہلے حکمران تھے اور اِس کی بنیاد پر وہ ہر شخص، ہرادارے پر حاوی تھے، یا مختلف طریقوں سے اُنہیں خرید لیا کرتے تھے، پچیس تیس برسوں کے اقتدار کی وجہ سے بیوروکریٹس کے ایک وسیع گروہ کو مختلف جائز ناجائز طریقوں سے انہوں نے اپنا گرویدہ بنایا ہوا تھا، بیوروکریسی اُنہیں مال بنانے کے راستے اِس لیے دکھاتی تھی اِس کے بدلے میں مال بنانے میں وہ خود بھی بڑی آسانی محسوس کرتی تھی، عمران خان کا خیال تھا صرف اپنی ”ایمانداری“ سے ہی سسٹم کو تمام خرابیوں اور لعنتوں سے وہ پاک کردیں گے، شاید اب اُنہیں اچھی طرح اندازہ ہوگیا ہوگا ”ایمانداری “سے سسٹم میں موجود خرابیاں دور کرنے میں زیادہ رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، تجربہ انسان کو بہت کچھ سکھاتا ہے ، ....ان کی چوبیس سالہ سیاسی جدوجہد کے بعد ہم ظاہر ہے یہ تو نہیں کہہ سکتے سیاست میں اُن کا کوئی تجربہ نہیں مگر اِس حقیقت سے منہ نہیں موڑ سکتے حکومت میں اُن کا کوئی تجربہ نہیں تھا، مسائل سے نمٹنے کا جو ادراک ایک حکمران کے پاس ہونا چاہیے وہ اُس سے محروم تھے، اُوپر سے محض اقتدار کے حصول کے لیے ایسی ایسی بڑھکیں وہ مارتے رہے عملی طورپر جو ممکن نہیں تھیں، اب اِس کا اُنہیں کوئی پچھتاوا ہوتا بھی ہوگا تو اِس کا کوئی خاص فائدہ نہیں، گزشتہ دوبرسوں سے بے شمار معاملات میں اُن کی غلط حکمت عملی، خصوصاً یوٹرن کی سیاست نے اُن کے امیج پر گہری ضرب لگائی ہے جس کا ازالہ 2020میں کسی حدتک شاید ہونے والا تھا مگر بدقسمتی ملک کورونا کا شکار ہوگیا جس کے نتائج سے نمٹنے کے لیے کم ازکم میرے خیال میں اب ایک وزیراعظم الگ سے ہونا چاہیے خیر یہ ایک الگ داستان ہے ، .... میں عرض کررہا تھا وزیراعظم عمران خان کے حالیہ اقتدار کے ابتدائی دنوں میں میری اُن کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں کا کہیں ذکر میں نے اِس لیے نہیں کیا خان صاحب کے وزیراعظم بنتے ہی بیوروکریسی میں موجود میرے دوستوں نے مجھ پر مختلف طریقوں سے دباﺅ ڈالنا شروع کردیا میں اُن کی من پسند پوسٹنگ کراﺅں، اُنہیں خان صاحب کے ساتھ میرے ذاتی تعلقات کا اچھی طرح اندازہ تھا، اِس کی بنیاد پر وہ اس یقین میں مبتلا تھے خان صاحب وزیراعظم بننے کے بعد ہرافسر مجھ سے پوچھ کر لگائیں گے، کچھ نادان دوست اس حدتک اِس یقین میں مبتلا تھے وزیراعظم حلف اُٹھانے کے فوراً بعد اپنا پرنسپل سیکرٹری حتیٰ کہ ملٹری سیکرٹری بھی میری مرضی کا تعینات کریں گے، جیسے ہی خان صاحب نے وزارت عظمیٰ کا حلف اُٹھایا بے شمار افسروں نے اپنے اپنے کارناموں بلکہ ” ناکردہ کارناموں“ کی لمبی چوڑی تفصیلات سے مجھے آگاہ کرنا شروع کردیا، ایک افسر نے نمایاں طورپر اپنی ایک ”خوبی“ یہ بتائی ”پاکستان بھر کی خوبصورت عورتوں سے اُس کے بڑے ذاتی مراسم ہیں، وہ اُن کا کوئی حکم نہیں ٹالتیں“ .... اِسی طرح بیسویں گریڈ کے ایک ڈی ایم جی افسر میرے پاس آئے، کہنے لگے ”شہباز شریف مجھے اِس لیے کسی اچھی پوسٹ پر نہیں لگاتا تھا میں اُس کی خوشامد نہیں کرتا تھا “،....میں نے عرض کیا ” اگر یہ ”خوبی“ واقعی آپ میں ہے پھرخان صاحب نے بھی آپ کو کسی اچھی پوسٹ پر نہیں لگانا“ .... میرا خیال تھا میری بات سُن کر وہ شرمندہ ہوگا، پر وہ بے شرم کہنے لگا ” دیکھیں نا جی خان صاحب تو ”Deserve“ کرتے ہیں اُن کی خوشامد کی جائے “۔ ایک پوسٹل سروس کا افسر شہباز شریف کے بہت قریب تھا، قربت کی واحد وجہ یہ تھی وہ اُن کی جھڑکیاں اور گالیاں وغیرہ باقاعدہ ایک ”کارثواب“ سمجھ کر برداشت کر لیا کرتا تھا، اس بے عزتی کی اُسے اتنی عادت پڑ گئی تھی جس روز اُسے کوئی گالی نہ جھڑکی وغیرہ نہ پڑتی وہ سمجھتا سی ایم صاحب شاید اُس سے ناراض ہوگئے ہیں، ایک بار میں نے اُس سے کہا” یار اتنی بے عزتی برداشت کرتے ہوئے تمہیں ذرا تکلیف نہیں ہوتی؟۔ کہنے لگا ”بھائی ”پارٹ آف گُڈپوسٹنگ“ ہے ، اس میں تکلیف والی کیا بات ہے ؟“....خان صاحب کے وزیراعظم بننے کی ابھی خبر ہی آئی تھی، اُس کا مجھے فون آگیا، پھر وہ خود آگیا ، آتے ہی شہباز شریف کی کمزوریاں بیان کرنا شروع کردیں، ایک ایسی کمزوری بھی بیان کردی میں سوچ میں پڑ گیا اُسے اِس بارے میں کیسے پتہ ہے ؟، ابھی پنجاب حکومت تشکیل نہیں پائی تھی، میں نے ایسے ہی ازرہ مذاق اُس سے کہا ”پنجاب میں پھر سے شہباز شریف کی حکومت بن رہی ہے ، معاملات تقریباً طے ہوچکے ہیں، شہباز شریف اِن دنوں مجھ سے رابطے میں ہیں ، معاملات طے کروانے میں میرا بھی ہاتھ ہے “ .... اُس نے بغیر مجھ سے یہ پوچھے میرا کون ساہاتھ ہے ؟ میرا بایاں ہاتھ چُومنا شروع کردیا، ہاتھ وغیر چُوم چاٹ کر وہ فارغ ہوا ساتھ ہی شہباز شریف کی تعریفیں شروع کردیں، .... یہ رویہ یا کلچر محض دوچار یا دس بارہ افسران کا نہیں، سچ پوچھیں تقریباً ساری بیوروکریسی ہی ایسی ہے ، اِس لیے وزارت عظمیٰ کا حلف اُٹھانے سے ایک دو دن پہلے خان صاحب کو میں نے سمجھایا تھا ”افسران کو تعینات کرتے ہوئے یہ مت سوچئے گا فلاں افسر شہباز شریف کے ساتھ کام کرتا رہا ہے یا فلاں زرداری کے ساتھ یا اُس کے دور میں اہم عہدے پر رہا ہے اور اِس لیے اب ہم نے اُسے کسی عہدے پر تعینات نہیں کرنا “.... یہ افسر کسی کے نہیں ہوتے، یہ صرف ”اچھی پوسٹنگ“ کے ہوتے ہیں، جو یہ ”ہڈی“ اُنہیں ڈال دے وہ اُسی کے ہو جاتے ہیں، ابتداءمیں خان صاحب کو میری یہ بات سمجھ نہیں آئی، کسی افسر کو کسی اہم عہدے پر تعینات کرنے سے پہلے اللہ جانے کتنی ہی ایجنسیوں سے اُس کی وہ رپورٹ لیا کرتے تھے کہیں اِس افسر کا سابقہ حکمرانوں سے کوئی تعلق یا رابطہ تو نہیں؟،مگر اب لگتا ہے میری بات اُن کی سمجھ میں آگئی ہے ، بلکہ کچھ زیادہ ہی سمجھ میں آگئی ہے کہ اب تقریباً ہر شاخ پر سابقہ حکمرانوں کے اُلو ہی بیٹھے ہیں جو موجودہ حکمرانوں کو بھی یہ یقین دلانے میں کامیاب ہوگئے ہیں کہ وہ صرف اُن ہی کے ” پٹھے“ ہیں۔ (جاری ہے )


ای پیپر