جواب دہ علماءنہیں وزیراعظم ہوگا
23 اپریل 2020 2020-04-23

اگرسوچا، سمجھا اور دیکھا جائے تو عقل سے بڑی نعمت خداوندی شاید کوئی اور نہیں اور یہ محض وہم یا گمان نہیں۔تخلیق آدم، منصب آدم اور کارآدم بھی اسی نقطہ کے گرد گھومتی ہے۔بطور مسلمان ہمارے لیے قرآن روشنی اور ہدایت کا وہ مینارہ ہے جو ازل سے ابد تک تیرگی سے تنویر تک لے جاتا ہے۔خالق کائنات نے بار بار کہا کہ عقل والوں کے لیے نشانیاں۔ کیا جاننے والے اور نا جاننے والے ایک جیسے ہو سکتے ہیں؟اہل خرد کہاں اور جہل کی پستیوں میں گرے رہنے والے کہاں؟ عجب المیہ ہے کہ وارثان علم ہی اس سے دوری اور اتنی دوری اختیار کرتے جا رہے ہیں کہ دکھائی دینے لگا ہے کہ شاید ان کا اس سے کبھی واسطہ رہا ہی نہیں۔بات ذرا اورآسان کیے دیتے ہیں کہ شاید ہم اس دور پرفتن میں داخل ہو چکے ہیں جہاں عقل، علم کہیں بہت پیچھے اور ذاتی عناد، نمود ونمائش اور دنیاوی مفادات اتنے بڑھ چکے ہیں کہ اغیار تو اغیار اپنوں کو بھی اب کسی خاطر نہیں لاتے۔ اب کورونا کا معاملہ ہی دیکھ لیںپاکستان سمیت تمام اسلامی ممالک اور کرہ ارض پر بسنے والے انسانوں کو اس وائرس کی وبا کا سامنا ہے۔بیشتر ممالک نے اپنے عوام کو اس کے شر سے بچانے کے لیے لاک ڈاون اور کرفیو لگایا ہوا ہے۔پاکستان کے عوام کو بھی مسلسل لاک ڈاو¿ن کا سامنا ہے اور لوگ ہیں کہ اب وہ گھروں میں رہنے پر تیار دکھائی نہیں دیتے۔رمضان المبارک کا مہینہ لوگوں کو جوڑتا اور قریب لاتا ہے لیکن اس مرتبہ جو ملنے کی کوشش بھی کر رہے ہیں انہیں دور رہنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔مجبور شوق سے نہیں بلکہ مجبوری کے تحت کیا جارہا ہے کیونکہ دنیا بھر میں سماجی دوری کا نظریہ نافذ ہو چکا ہے۔

سماجی میل جول کی تقریبات کورونا وائرس کی نرسری بن چکی ہیں۔اسی وجہ سے دنیا بھر کے مذاہب کی عبادت گاہیں اجتماعی عبادت کے لیے بند کر دی گئی ہیں۔ بیت اللہ، مسجد نبوی اور آئمہ طاہرین کے روضے بھی عارضی طور پر بند ہیں۔ایسے میں مملکت خداد داد پاکستان میں بعض علما مساجد میں اجتماعی نماز اور تراویح پر بضد ہیں۔حکومت اور اداروں کی خواہش اور کوشش ہے کہ کسی بھی طرح سے لوگ سماجی دوری کو برقرار رکھیں کیونکہ اسی میں ہم سب کی بقا و سلامتی ہے۔صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی علما سے ملاقات کر کے رمضان المبارک کے لیے 20 نکاتی ضابطہ اخلاق کا اعلان کر چکے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے ایک مرتبہ پھر سے ملک بھر کے ممتاز علماءکرام کے وفد سے ملاقات کی ہے۔علمائے کرام نے لاک ڈاو¿ن سے متعلق وزیر اعظم کے موقف کی بھرپور تائید کی اور مکمل تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔سمجھ نہیں آیا کہ وزیراعظم کے کون سے موقف کی تائید کی؟کیا وزیر اعظم ہی مساجد کھولنا چاہتے تھے اور علماءانکاری تھے؟ان سوالوں کے جواب میں تلاش ہی کررہا تھا کہ کچھ دیر میں اچانک ٹی وی اسکرین پر وزراءنمودار ہوئے۔وزیر مذہبی امور نورالحق قادری اور ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے مساجد کھولنے کا اعلان کر دیا۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب مسلمانوں کے مفتی اعظم اور تمام بڑی شخصیات کا اصرار ہے کہ نمازیں اور تراویح گھروں پر پڑھی جائیں تو پھر پاکستان میں مساجد کیوں کھولی گئیں؟سعودی عرب کی علما کونسل پہلے ہی دنیا بھر کے مسلمانوں سے اپیل کر چکی ہے کہ نماز گھروں پر ادا کی جائیں۔کیونکہ اجتماعات کی وجہ سے کورونا وائرس پھیل رہا ہے اور انسانی زندگی بچانا ایک عظیم عمل ہے۔مفتی اعظم بھی رمضان المبارک میں نماز تراویح گھروں پر پڑھنے کی تاکید کر چکے ہیں۔سعودی عرب میں آج سے نہیں بلکہ 20 مارچ سے تمام مقدس مقامات عام لوگوں کے لیے بند ہیں۔متحدہ عرب امارات میں بھی مساجد سے اللہ اکبر کی صدائیں اسی طرح پانچوں وقت بلند ہو رہی ہیں لیکن باجماعت نمازوں پر پابندی ہے۔اسی طرح ایران اور عراق میں تمام آئمہ طاہرین کے روضوں پر حاضری بند کی ہوئی ہے۔کیا ہمارا اور سعودی عرب، ایران، ملائیشیا اور ترکی کا مذہب اسلام الگ ہے؟کیا وہ ہم سے کم تر ہیں اور ان کا ایمان کمزور ہے؟خدارا ہمیں ایسے موقع پر سیاست سے اجتناب برتنا چاہیے ہم سیاستدانوں کو تو کہتے ہیں کہ وہ سیاست کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے لیکن ہمارے علما کرام کیا کر رہے ہیں؟لہٰذا حکومت کو عوام کے وسیع تر مفاد میں فیصلہ کرنا چاہیے اور مصلحت پسندی کے بجائے اپنی رٹ قائم کرنی چاہیے۔حکومت اور اس کے وزراءبار بار معذرت پسندانہ رویہ کیوں اختیار کر رہے ہیں؟وزیر اعظم کو مبہم بات چیت کے بجائے اپنا فیصلہ صادر کرنا ہوگا، ان فیصلوں پر عملدرآمد کرنا سب پر فرض ہے اور ریاستی اداروں کی زمہ داری ہوتی ہے کہ حکومت کے فیصلوں پر عملردرآمد یقینی بنائیں۔انسانی زندگیاں ہر چیز پر مقدم ہیں انہیں بچانے کے لیے سب کچھ قربان کیا جاسکتا ہے۔میری وزیر اعطم عمران خان سے یہی گزارش کہ براہ کرم مزید وقت ضائع نہ کیا جائے۔

آپ ملک کے وزیراعظم ہیں، وزیر اعظم بن کر ہی فیصلہ کریں اور اپنی باگ دوڑ کسی اور کے ہاتھ میں نہ دیں۔ وزیراعظم صاحب جواب دہ آپ ہوں گے علما کرام نہیں،اورآخری بات کہ

اپنے بھی خفا مجھ سے بیگانے بھی ناخوش

میں زہر ہلاہل کو کبھی کہہ نا سکا قند


ای پیپر