تبدیلی کا سفر
23 اپریل 2019 2019-04-23

تبدیلی کا سفر کہاں جا کر کہاں رکے گا۔ اس کا حتمی جواب تو فی الحال کسی کے پاس نہیں۔ لیکن عارضی طور پر یہ سلسلہ تھم گیا ہے۔ قطعی عارضی طور پر۔ کپتان تو ایک ہی ہلے میں سب کچھ نمٹا دینا چاہتا تھا۔ شاید یہ حکمت عملی درست ثابت ہوتی کہ جو شو رو غوغا مچنا ہے۔ ایک ہی دفعہ مچ جائے۔ آخر کار ایک وقت آتا ہے گرد بیٹھ ہی جاتی ہے۔لہٰذا شاید پہلی مرتبہ کپتان نے مشورہ دینے والوں کی مان لی۔ لیکن وہ کپتان ہی کیا جو دل میں آئی کو ٹال دے۔ لہٰذا دونوں زیر نگیں صوبوں میں تبدیلی آکر رہنی ہے۔ اوپر سے نیچے تک۔ کے پی میں تو خیر ایک مرتبہ پھر مراد سعید کی جیت ہوئی۔ اور وہ اپنے نامزد کردہ وزیراعلیٰ کو بچانے میں کامیاب ہوئے۔ کپتان کی نظر میں اگر کوئی پرفیکٹ وزیر ہے تو وہ جناب مراد سعیدہیں۔ کے پی جہاں پرویز خٹک نے پانچ سال کامیابی سے حکومت کی۔ وہ اپنے آپ کو بلا شرکت غیرے اگلے پانچ سالوں کیلئے تخت پشاور پر براجمان دیکھتے تھے۔ لیکن ان کو کیا معلوم تھا کہ ان کے نام پر کانٹا لگا دیا گیا۔ دوسرا چوائس عاطف خاں تھے۔ جو اچھے میزبان ہیں۔ لیکن ان کی دال بھی نہ گلی۔ اور سوات کے درویش صفت محمود خان چیف منسٹر بن گئے۔ اب تو خیر ان پر بھی افتخار درانی بٹھا دئے گئے۔ جن کو بظاہر فاٹا انضمام کے بعد نئی سیٹوں پر الیکشن کا انچارج بنا دیا گیا۔ مراد سعید کو بیک وقت کپتان اور فیصلہ سازی میں دخیل جہانگیر ترین کی حمائت حاصل ہے۔ لہٰذا عین اس وقت جب کپتان کے ہاتھ میں پکڑا چھرا سی ایم کے پی پر پھرنے والا تھا۔ مراد سعید آگے بڑھے اور اپنے نامزد کردہ کو صاف بچا لے گئے ورنہ سلیم تیمور جھگڑا اور عاطف میں سے کسی کو نامزد کرنے کی تیاری تھی۔ ایسا ہوتا تو آسانی سے نیا چیف منسٹر منتخب ہوجاتا۔ لیکن اصل مسئلہ تو پنجاب کا تھا۔ لیکن اس سے پہلے پرابلم آئی نیا وزیر خزانہ منتخب کرنے کی۔ شوکت ترین انکار کرگئے۔ ایک اور صاحب کا نام آیا لیکن وہ نادہندہ نکلے جبکہ ایک اور چوائس کے پاس دہری شہریت تھی۔ وہ بن تو جاتے لیکن تقرری چیلنج ہوجاتی۔ قدرتی چوائس تھی عمر ایوب۔ میرٹ ان کا بھی یہی تھا کہ الحمدو اللہ کبھی کوئی پارٹی نہیں چھوڑی۔ ان کو گرین سگنل دیا گیا کہ وہ بجٹ تک وزارت خزانہ کی اضافی ذمہ داری پوری کریں۔ ساتھ کسی ٹیکنو کریٹ بطور مشیر تعینات کردیا جائے گا۔نام بہر حفیظ شیخ ہی کا تھا۔ پھر اچانک کوئی ملاقاتیں آیا اور سب کچھ بدل گیا۔بحرحال اب وہ سب کچھ لمبے دورانیہ کے ڈرامہ کی گزشتہ قسط ہے۔ مسئلہ تو ہے پنجاب کا جہاں جناب بزدار کی حکومت ریموٹ کنٹرول سے چلائی جارہی ہے۔ پنجاب میں سب کچھ حکومت نہیں۔ لہٰذا تبدیلی کی آواز اب توانا ہوتی نظر آتی ہے۔ دبی زبان سے پارٹی اور بہی خواہوں کی جانب سے مشورہ دیا جانے لگا ہے۔ تبدیلی کا مشورہ۔مسئلہ یہ ہے کہ عثمان بزدار کو ہٹا کرکس کو لایا جائے۔ ایک آدھ سیانا تو ایسا ہے جس نے بے اختیار وزارت اعلی سے معذرت کرلی۔ سپیکر پنجاب اسمبلی کا نام آیا تو انہوں خوبصورتی سے ٹال دیا۔ وہ سیانے کھلاڑی ہیں۔ لہٰذا کپتان کو مشورہ دیا کہ فی الحال تبدیلی سے گریز کریں۔ تبدیلی کی صورت میں نئے وزیر اعلی کیلئے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنا ناممکن تو نہیں دشوار ضرور ہوگا۔ جہازوں کو ان گنت اڑانیں بھر نی پڑیں گی۔ لیکن جہاز والا ایسا کیوں کرے گا؟ تب جب اس کی مرضی کا چیف منسٹر بنے گا۔ موجودہ چیف منسٹر بھی انہی کی مرضی کا ہے۔ پھر پارٹی کے اندر اینٹی ترین لابیاں ایک نکاتی ایجنڈے پر متحد ہوچکیں۔،اور کوئی بنے نہ بنے ترین کا بندہ نہیں بننے دینا۔ حکومت اور اپوزیشن کے مابین عددی اعتبار سے چند ممبران کا فرق ہے۔ جو کہ کسی بھی وقت برابر ہوسکتا ہے۔ لہٰذا پی ٹی آئی کو یا تو بڑی تعداد میں اپوزیشن کے ممبران کو توڑنا پڑے گا۔ یا پھر کسی ایسے ممبر کو سیٹ دینا پڑے گا کہ جو جیب ڈھیلی کرے اور ممبران کے مطالبے پورے کرے۔ اب مسئلہ پی ٹی آئی کا یہ ہے وہ اندرونی بحران کا شکار ہے۔ جہانگیر ترین شاہ محمودقریشی کا دھڑا اور چوہدری سرور کے حالی موالی۔ پھر ایک گروپ چوہدری پرویز الٰہی کا بھی ہے۔ جو سورج مکھی کی طرح رخ بدلتا ہے۔ فی الحال چوہدری سرور کا گروپ عثمان بزدار کے ساتھ ہے۔ لیکن کب تک؟ جواب یہ ہے کہ جب تک موزوں متبادل نہیں مل جاتا۔ اس دوران شریف خاندان کی دی جانے والی مبینہ ریلیف کی حتمی شکل بھی سامنے آجائے گی۔ بہر حال فارمولے کئی ہیں لیکن تجاویز کی حد تک۔ تب تک کبھی چوہدری نثار کی پھیلائی کہانی سامنے آئے گی۔ کبھی کچھ نئے نام سامنے آئیں گے۔ تب تک کیلئے لہو گرم رکھنے کو چوہدری سرور کو ٹارگٹ کیا گیا ہے۔ جو مقابلہ تو کرینگے لیکن زیادہ دیر تک نہیں۔ تبدیلی کا سفر جاری رہے گا۔ کبھی تیز کبھی آہستہ۔


ای پیپر