پاگل ، احمق ، بیوقوف
23 اپریل 2019 2019-04-23

ہمارا ایک دوست ہے۔ قد چھ فٹ کے قریب ۔ قدرے بھاری جسم ، چہرے پر گھنی مونچھوں کے ساتھ خط۔ سفید کاٹن کے شلوار قمیض پر واسکٹ پہنے جہاں جاتے ہیں۔ انہیں اندازہ ہوجاتا ہے۔ جاٹ آگیا ہے۔

بارعب شخصیت کے مالک اس دوست کی ایک عادت سے میں بہت تنگ ہوں۔ لاہور میں ہوں تو میل ملاقات رہتی ہے۔ کبھی کہیں کھانا کھانے چلے جاتے ہیں اور کبھی خریداری کرنے۔ موصوف جہاں جاتے ہیں۔ چارپائی ڈال کر بیٹھ جاتے ہیں۔ یعنی یہ سوچ کر کسی بھی دکان میں داخل ہوتے ہیں کہ اب وقت کی گھڑی رک گئی ہے۔ جاتے ہی سیلز مین کا حال چال پوچھیں گے۔ موسم پر تبصرہ کریں گے۔ وہ پوچھے گا ، سر !کیا خریدیں گے ؟ٹھیٹھ پنجابی میں جواب دیں گے۔ آئے ہیں تو خرید بھی لیں گے پہلے پانی تو پلادو۔ وہ چائے پوچھ لے تو شکریہ کے ساتھ منگوانے کا کہہ دیں گے۔ اس کے بعد بہترین چیزیں دکھانے کا کہیں گے۔ سیلز مین ایک کے بعد دوسری شے کا ڈھیر لگاتا جائے گااور میں اکتاہٹ سے پہلو بدلتا جاؤں گا۔ کیونکہ سیلز مین نہیں جانتا ، مجھے پتہ ہوتا ہے کہ ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں۔ چیزیں پسند کرنے کے بعد وہ قیمت پوچھیں گے۔ قیمت سنتے ہی خریداری کا وہ آخری دور شروع ہوجائے گا۔ جس کے بارے میں پہلے بتاچکا ، یہ مرحلہ سیلز مین سے زیادہ مجھے زچ کردیتا ہے۔

محترم دوست واسکٹ کی جیب سے اپنا شناختی کارڈ نکالیں گے اور ٹھیٹھ پنجابی لہجے میں نرمی لاتے ہوئے سیلزمین کو بتائیں گے۔ دیکھ یار !میں پینڈو آدمی ہوں۔ لاہور آیا تھا تو میرا یہ دوست خریداری کے لیے آپ کے پاس لے آیا۔ اتنی بڑی دکان کھولی ہے ، کرایہ بھی بہت دینا پڑتا ہوگا۔ لازمی بات ہے ، پلے سے تو دینا نہیں ، سارا گاہکوں سے جیب سے جائے گا۔ گاؤں میں مشہور ہے ، شہروالے بہت سیانے ہوتے ہیں ، ہم سیدھے سادھے دیہاتیوں کو بیوقوف سمجھتے بھی ہیں اور بنابھی لیتے ہیں۔ دیکھ لینا میں واپس جاؤں تو پنڈ میں کہیں میرا مذاق نہ اْڑے۔ زیادہ تر سیلزمین اس حملے کی شدت کو ناسمجھتے ہوئے فوراً تسلی دینے پر اتر آتا ہے۔ نہیں ، نہیں چودھری صاحب !آپ بے فکر ہوجائیں۔ ہرشے بہترین ہے اور قیمت انتہائی مناسب۔ میرا دوست اصرار جاری رکھتا ہے۔ میرا یہ شہری دوست پڑھا لکھا بھی ہے اور سمجھدار بھی۔ آپ اس سے ساری کسر نکال لینا۔ کافی دیر کی تکرار کے بعد وہ لمحہ آجاتا ہے جس کا مجھے بھی انتظار ہوتا ہے۔ دکاندار حیرت انگیز رعایت دے کر چودھری صاحب کو سامان دے دیتا ہے اور امید کرتا ہے ، اگلی بار آپ ہمارے پاس ہی آئیں گے۔ دکان سے نکلتے ہوئے میرے چہرے پر بے زاری چھلک رہی ہوتی ہے اور دوست کے چہرے پر اطمینان ، جیسے کچھ ہوا ہی نا ہو۔بس فکر میں ڈوبی اتنی آواز آتی ہے۔ چلو بھائی جی !بھوک لگ رہی ہے ، اب روٹی شوٹی کھاتے ہیں۔

ریستوران میں کھانا کھانے جائیں تو وہاں بھی اس سے ملتا جلتا منظر ملتا ہے۔ جاٹ صاحب ویٹر کو بلاکر اس کا حدود اربعہ پوچھتے ہیں۔ سیالکوٹ سے اسلام آباد اور لاہور سے رحیم یارخان تک وہ کہیں کا بھی نکل آئے۔ اس سے کہیں نہ کہیں ڈاکخانہ ملا ہی لیتے ہیں۔ کھانے کا آرڈر دیتے ہوئے اسے بتادیتے ہیں۔ رائتہ سلاد دوبارہ بھی لادینا۔ میٹھے میں جو ہے وہ تو چکھا دو۔ سجی کے ساتھ چاول الگ سے بھی لے آنا۔ مجھے یہ سب ہوتے دیکھنا ایک آنکھ نہیں بھاتا۔ ٹوکنے لگوں تو چپ رہنے کا اشارہ کردیتے ہیں۔ کھانا کھانے کے بعد وہ ویٹر کو ٹپ دیتے ہیں اور اگلی بار جب بھی وہاں جائیں۔ وہ ویٹر بغیر کہے اضافی چیزیں ہمیں سرو کرنے لگ جاتا ہے۔

یقین مانیں !لاہور کے مال روڈ سے لبرٹی مارکیٹ تک۔ جوہر ٹاؤن سے ڈیفنس تک۔حتی کہ اسلام آباد میں بھی۔ ایسی ایسی جگہوں پر یہ رعایتیں میرا دوست لے لیتا ہے ، جہاں پیسے کم کرانے میں مشہور خواتین بھی روپیہ کم نہ کراپائیں ۔ ایک دن تنگ آکر پوچھ ہی لیا ۔ اتنا قد کاٹھ ہے۔ بڑی گاڑی میں گھومتے پھرتے ہو۔ پھر ایسا کیوں کرتے ہو؟مسکر ا کربولا۔ ایک تجربہ کررہاہوں۔ پوچھا وہ کیا ؟ بولا۔ دنیا میں آنے والا ہرانسان زندگی بھر ایک ہی کوشش کرتا ہے۔ اسے پڑھا لکھا ، سمجھدار اور ذہین مان لیا جائے۔ اگر کوئی اسے پاگل ، احمق ، بیوقوف کہے ، بنائے یا بنانے کی کوشش کرے تو وہ طیش میں آجاتا ہے۔حالانکہ ہم سب جانتے ہیں کہ ہم روز بے وقوف بنتے بھی ہیں اور بناتے بھی ہیں، بس مانتے نہیں۔ انسانی نفسیات ہے ، جو خود کو زیادہ سیانا ظاہر کرتا ہے ، اسے سامنے والا چیلنج سمجھ کر بیوقوف بنانے کی کوشش کرنے لگ جاتا ہے۔ یقین نہ آئے تو کسی سیلز مین کو چائے پلا کر اس سے سیانے گاہکوں کے قصے سن لینا۔ میرا اثبات میں سرہلتا دیکھ کر بولے۔ یار !میں اسی انسانی سوچ کو مدنظر رکھ کر الٹ کام کرتا ہوں ۔ پہلے ہی مرحلے میں مان لیتا ہوں۔ میں دیہاتی ہوں ، احمق ہوں ، بیوقوف ہوں۔ انسانی نفسیات کے مطابق جیسے ہی سیلز مین یہ سنتا ہے ، اس کی انا کی تسکین مل جاتی ہے۔ وہ مجھے بیوقوف بنانے کا چیلنج چھوڑ کر خود کو دیالو منوانے کے چیلنج میں لگ جاتا ہے۔ وہ مجھے پہلے الفاظ سے مناتا ہے اور پھر ڈسکاؤنٹ دے کر یقین دلاتا ہے۔ دیکھ لو !میں سیدھے سادھے لوگوں سے ہیراپھیری نہیں کرتا۔ہاں ! کوئی اپنے تئیں زیادہ سیانا آئے اور ہم سے بچ کے تو دکھائے۔

انسانی نفسیات کا یہ پہلو ایسا دلچسپ لگا کہ اس کے بعد جب اکھٹے کہیں گئے۔ دوست کی بری لگنے والی عادت ، دلچسپ مشاہدے میں بدل جاتی ہے ۔ اس دوران واصف علی واصف کی ایک لائن نے سوچ کے نئے در کھول دیئے۔فرماتے ہیں "عقل مند کیلئے ضروری ہے ، وہ بیوقوف نظر آئے "۔ کیسی عجیب بات کہی واصف صاحب نے۔ کوئی بھی رائے بنانے سے پہلے ذرا اپنے اردگرد دیکھ لیں۔ کلرک ہویا حکمران ، سب ہی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ کاروبار ہویا امورحکومت۔ ہمارے نظام میں ذہین سے زیاہ تر لوگ ڈرتے ہیں اور لکیر کے فقیر کو گلے لگائے پھرتے ہیں۔جسے بیوقوف سمجھتے ہیں اسے گھنٹوں بیٹھ کر مشورے دیں گے ، اسے مثالیں دے دے کر سمجھائیں گے۔اپنی نگرانی میں کام کرائیں گے پھربھی غلطی کیا اغلاط بھی ہوجائیں ، اسے ڈانٹ ڈپٹ کر دوبارہ موقع دیں گے لیکن ذہین آدمی کی بات آئے تو اسے بس کام کا سرا ہی پکڑائیں گے اورساری ذمہ داری اس پر ڈال کر خود بے فکر ہوجائیں گے۔ اس کے بعد ذرا سی کوتاہی قیامت ڈھادیتی ہے۔ آپ سے تو یہ امید نہ تھی ، ویسے بڑے ذہین بنتے ہیں۔ یہ تیزدھار جملے اندر تک ہرشے کو کاٹتے چلے جاتے ہیں۔ اسی طرح ملازمتوں میں چھانٹی کی بات آئے تو وہ بچتا ہے جس کے بغیر گزارہ نہ ہوپائے یا پھر وہ جس کے بارے میں یہ سمجھ لیا جائے۔ یہ کسی کو کچھ نہیں لگتا۔ یہ جملہ بھی سننے کو مل جاتا ہے۔ شاید اسی کی دعا سے دفتر چل رہا ہے۔

دل لگتی کہوں ؟ اپنے جاننے والوں میں جو ذہین وفطین ملا ، اکثر پریشان ہی ملا۔ زمانے کی ناقدری کا شکوہ ہی کرتا رہا۔ لیکن وہ دوست جو میرے نزدیک ذہین بھی ہے اور سمجھدار بھی۔گاؤں میں زمینداری کرتا ہے اور شہر میں بخوبی کاروبار چلاتا ہے۔ وہ ہمیشہ خوش باش رہتا ہے۔ وجہ اتنی ہے۔ اس نے انسانی نفسیات یہ گرہ کھول لی ہے کہ خود کو عقل مند منوانے کی کوشش اصل میں ہمیں زندگی بھر بیوقوف بنواتی ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے ؟


ای پیپر