تفکر ، آیات اور بینات!!
23 اپریل 2019 2019-04-23

اس خاکسار کے اکثر کالم کسی قاری کے سوال کے جواب پر مشتمل ہوتے ہیں، گزشتہ کالم محترم سالک حمید خواجہ کے سوال ایمان باالغیب اور دلیل کے باہمی ربط کی بابت تھا، اندیشۂ طوالت کے سبب ان کے دلکش ادیبانہ اسلوب سے مرصع سوال کو کالم کا حصہ نہ بنا سکا۔ وہ سوال نما مرصع عبارت یوں تھی’’زمانہء مدرسہ کے ایک ہمدمِ دیرینہ سے وٹس ایپی گروہِ احباب کی برقیاتی و فاصلاتی محفل میں دورانِ حالیہ بحث ایک فکری اختلاف رْونما ہوا ہے ، احقر کی طالب علمانہ رائے میں " اَلَّذِینَ یْومِنْونَ باالغَیب سے مْراد اوّلین طور پر بغیر کسی عقلی استدلال و بْرھان و دلیل کے ایمان ھے ، اْن تمام حقائقِ اعلیٰ پر جو فہم و ادراکِ انسانی سے مستْور ہیں ، ایک دفعہ آپ بے دلیلی ایمان لے آئے تو عقلی استعداد کی تسلی و تشفی کیلئے پھر دلیل و بْرھان کے جتنے اشہب بھی دوڑانے ہیں ، وہ آپ سرپٹ بلکہ بگٹٹ دوڑائیے ، جبکہ مذکورہ دوست کے خیال میں آپ کو ایمان بھی عقل کو استعمال کر کے دلیلی صورت میں لانا پڑے گا کہ خرد میں نتیجے سے جواز تک پہنچنے کی صلاحیت اْس کے تخلیق کار کی جانب سے رکھی گئی ھے ، بقول دانائے راز ’’وہ عقل کہ پا جاتی ھے شْعلے کو شرر سے!۔۔۔سوال صرف یہ ھے خاکسار کا کہ اوّلین ایمان لانے کا مرحلہ دلیلی ھے یا غیر دلیلی؟‘‘ چنانچہ گذشتہ ہفتے کا کالم ’’ایمان بالغیب اور دلیل‘‘ تحریر ہوا، جبکہ اس ہفتے لاہور سے برادرم ڈاکٹر حامد اقبال بٹ اور کراچی سے حامد محمود صاحب کے سوالات نے اس موضوع میں مزید وسعت کی گنجائش پیدا کر دی۔

بارہا ایسا ہوا‘ جوشِ طرب اور جذب میں عقل کی تعظیم و تکریم میں جونہی کوئی دقیقہ فروگزاشت ہوا‘ دلیل ، عقل اور منطق کی ہمالیہ پر جھنڈا گاڑنے والے جلال میں آگئے ، تعقل کا سنگھاسن ڈولنے لگا اور اس جوگی کو عقل کے کٹہرے میں کھڑا کر دیا گیا۔ بغیر دلیل ایمان لانے والوں سے سوال کیا گیا کہ قرآن کریم میں عقل سے کام لینے کی دعوت دی گئی ہے، "افلم تکونو تعقلون" ، "افلا یتفکرون"۔۔۔ اور یہ کہ زمین و آسمان کی پیدائش اور دن اور رات کے بدل بدل کر آنے پر غور و فکر کرنے کا حکم واضح ہے، ایسے ہی صاحبانِ تفکر کیلئے اولوالباب کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے۔۔۔

تفکر پر تفکر کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ قرآن دل کو آلہ تفکر مانتا ہے ناں کہ دماغی اور جبلی عقل کو۔ درحقیقت جبلی عقل کو اپنا راہبر بنانے والے اس عقل سے کام نہیں لیتے جسے نورِِ عقل کہا گیا ہے ، جس کا ماخذ روح ہے اور مصدر قلب ہے۔ اولوالباب بھی صاحبانِ دل ہیں ناں کہ محض ذہانت و فطانت کے ہنر سے آراستہ قلبی حسیات سے عاری لوگ! الباب جمع ہے "لْب" کی، جس کے معانی دل ہیں۔

تفکر سے مراد یہ ہے کہ انسان ظاہری دنیا کے مظاہر دیکھ کر باطنی کائنات دریافت کرے۔ محسوس سے غیر محسوس تک کا سفر تفکر ہے۔

قرآن حکیم فرقان مجید میں سورۃ جاثیہ میں بتایا گیا کہ "ہم تمہیں عنقریب آفاق اور انفس میں اپنی نشانیاں ( آیات ) دکھائیں گے یہاں تک کہ تم پر کھل جائے گا کہ وہ حق ہے"۔ حق کسی نظریے، کلیے یا مظہر کا نام نہیں بلکہ ایک ذات کا تخصص ہے۔۔۔ کہ حق ہمیشہ ’’وہ‘‘ ہوتا ہے۔ معلوم ہوا کہ آیات کی تلاوت کا منشا یہ ہے کہ حق ظاہر ہو جائے۔ حق سب سے پہلے قلبِ انسانی پر ظاہر ہوتا ہے۔ آیات کی تلاوت ظاہر اور باطن دونوں میں جب تک نہ ہوگی ،حق منکشف نہ ہوگا۔ ملک الحق المبین کا قولِ برحق سورۃ الاعراف میں صاحبان عرفان کے دامنِ توجہ کو اپنی طرف کھینچ رہا ہے کہ ۔۔۔ جہنم کے لائق وہ لوگ ہیں جن کے پاس دل ہیں لیکن وہ سوچتے نہیں، ان کے پاس آنکھیں ہیں لیکن وہ دیکھتے نہیں اور ان کے پاس کان ہیں لیکن وہ سنتے نہیں، اور ایسے لوگ چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی بدتر، اور یہی غافل لوگوں میں سے ہیں۔ ظاہری اعتبار سے دیکھا جائے تو آیات الٰہی کا انکار کرنے والے عقلی حس سے عاری ہرگز نہ تھے، ان کی آنکھیں بھی ظاہری نظاروں کو دیکھنے کی قدرت رکھتی تھیں، ان کے کان بھی نغمہ عنادل سننے کی صلاحیت رکھتے تھے۔۔۔ لیکن کیا تھا کہ وہ ان آیات کو دیکھنے اور سننے پر قادر نہ تھے جن کو دیکھنے کیلئے دل کی آنکھ درکار تھی، اور جنہیں سننے کیلئے دل کے کانوں کا کھلا ہونا شرط تھا۔۔۔ گویا وہ تفکر کرنے کے اہل نہ تھے کہ تفکر کی جا قلب ہے۔ قرآن جس تفکر کی دعوت دیتا ہے اس کیلئے دماغی آئی کیو اور حواس خمسہ کافی نہیں۔ تفکر کیلئے بصارت سے زیادہ بصیرت درکار ہے۔ "سیرو فی الارض" کی حکمت ابن بطوطہ کی سیر و سیاحت نہیں بلکہ اس کا مقصد یہ دیکھنا ہے کہ " کیف کان عاقبت المکذبین" ۔۔۔ یعنی دیکھو کہ جھوٹوں کی عاقبت کیسی ہوئی۔ یہاں دیکھنا عبرت کی نگاہ سے دیکھنا ہے۔ حق و باطل کا تعلق ظاہری کائنات کے مظاہر سے نہیں ہے۔۔۔ کہ باطل تو کلیہ تخلیق میں داخل ہی نہیں۔۔۔ ربنا ما خلقت ھٰذا باطلا۔ اگر دل کی آنکھ کھل جائے تو عقل اور حواسِ خمسہ اس کے معاون ہو جاتے ہیں۔۔۔ ایسی عقل کو عقلِ سلیم کہا گیا ہے۔ عقل صاحبِ تسلیم کا اثاثہ ہے اور منکرِ حق کے مقدمے میں استغاثہ ہے۔

قرآن کریم باطن سے ظاہر ہوا ہے۔ سو، اس کی درست اور قابلِ یقین تفہیم کیلئے ہمیں باطن کی طرف رجوع کرنا ہوگا تاآنکہ ہر حکم اپنے درست سیاق وسباق میں سمجھ آسکے۔ دیکھنا یہ ہے کہ قرآن کس زندگی کو زندگی کہتا ہے، زندگی کی کس حالت کو موت کا نام دیتا ہے، کس تعقل کو تفکر کہہ رہا ہے، کس آنکھ کو دیدہ بینا کہتا ہے، اور کسے آنکھ ہونے کے باوجود اندھا کہتا ہے۔۔۔ جب تک باطنی اسلوب میسر نہ ہو، فہم قرآن میسر نہیں ہوتی۔

آفاق و انفس میں نشانیاں پانے کیلیے ہمیں اس قلب کی طرف رجوع کرنا ہے جو قلبِِ منیب ہے۔۔۔ وہ دل جو جویائے حق ہے!! آیات وہ نشانیاں ہیں جو فطرت سے فاطر کیطرف توجہ کو منعطف کرتی ہیں ۔۔۔ اور ان آیات کی تلاوت کسی صاحبِ حق کے ذمے ہے، سائینسدان اور فلسفی یہاں بے بس ہیں، وہ فراخی افلاک میں خود خوار و زبوں ہیں۔ ستارہ دلیل ہے۔۔۔ اور دلیل غروب ہو جاتی ہے۔ جب آسمانِِ قلب پر روح کا سورج طلوع ہوتا تو ستارے ماند پڑ جاتے ہیں۔ بیّنات وہ آیات ہیں جہاں دلیل مبہوط ہو کر رہ جاتی ہے۔ جس کے دل کو زندگی ملی اسے وہ زندگی دلیل کے میسر آنے سے میسرنہیں آئی بلکہ دل کی زندگی ملنے کے بعد اسے دلیل کی بے مائیگی کا احساس ہوا۔ جس کا دل مردنی کیطرف مائل ہوا اس نے اپنی عقلی دلیل کو اپنی انا کا مقدمہ بنایا۔ حق تو یہ کہ اس کائنات میں انسان ہی وہ بیّن آیت ہے جس کی تلاوت اسے دلائل کے مقدمات سے نجات دیتی ہے۔ بیّن آیت وہ ہے جو دلیل سے بے نیاز کرتی ہے۔ بیّنۃ ۔۔۔دلیل کی وضاحت سے بے نیاز ہونے کا منظر ہے۔۔۔ اور یہ منظر حضرتِ انسان کی آنکھ ہی دیکھ سکتی ہے۔۔۔ شرط یہ ہے کہ وہ انسان کو تسلیم کر لے۔۔۔ دل سے۔۔۔ محبت کے ساتھ۔۔۔ انسانِ کاملﷺ کو تسلیم کر لے۔ اسی صورت میں اس پر کائنات کا باطن اور خود اس کا اپنا باطن (انفس ) کھلنے کا امکان پیدا ہوگا۔ وگرنہ ظاہر میں تو صرف کلیے ہیں، کلیات ہیں، اور مباحثات ہیں۔ اس کائنات میں نشانیاں دیکھنے والوں کی نشانی یہ ہے کہ ان کا قلب کسی عقلی تجزیے ا ور دلیل سے پہلے ہی گواہی پیش کر چکا ہوتا ہے۔ پُرلطف بات یہ ہے کہ ذات کو ماننے کیلئے دلیل کی ضرورت ہی نہیں ہوتی، دلیل کی ضرورت عام طور انکار کرنے کیلئے پیش آتی ہے۔

داعی دعوت پیش کرتا ہے، دلائل و مباحث کی بساط آراستہ نہیں کرتا۔ داعی ایک ذات ہے۔ ذاتِ حق کو قبول کرنے کیلئے داعی کی ذات کو قبول کرنا ہوتا ہے۔ قبول کرنا دل کا شعبہ ہے ، عقل و دلائل کا نہیں۔ وہ شخص جو ذاتِ حق کو کسی دلیل کی وجہ سے مانتا ہے وہ صرف اپنی عقل کو برحق مانتا ہے۔۔۔ ایک انداز سے دیکھا جائے تو ایسا شخص زعم عقل میں دلیل کو داعی پر فوقیت دینے کی جسارت کرتا ہے۔ اس کا حاصل و ماحاصل صرف صفات کی دنیا ہے، ذات کی خوشبو تک اس کی رسائی نہیں۔۔۔ اس کی منزل میں فطرت ہے، فاطر نہیں!!


ای پیپر