ٹینشن ہو رہی ہے؟
23 اپریل 2019 2019-04-23

مشہور برطانوی وزیر اعظم سرونسٹن چرچل نے (Stress)یا ’’ذہنی دباؤ‘‘ کے بارے میں کہا جب میں اپنی پریشانیوں پر نظرڈالتا ہوں تو مجھے ایک عمر رسیدہ شخص کی کہانی یا د آتی ہے جس نے بستر مرگ پر اپنی زندگی کی تمام مشکلات کی روداد سنا ڈالی حالانکہ ان میں سے زیادہ تر مشکلات کبھی رونما ہوئی نہیں تھیں۔

اس طرح ایک مشہور امریکی مصنف اور خود ترقی (Self Development)کے معروف خطیب وین ڈائر کا مقولہ ہے:

’’جو کچھ آپ کے وجود کے باہر ہو رہا ہے اس پرآپ کا اختیار بالکل نہیں ہے۔ لیکن جو کچھ آپ کے اندر ہو رہا ہے اس پر آپ کا کچھ اختیار ضرور ہے۔

ایک چینی کہاوت بھی کچھ یوں ہے کہ : ٹینشن وہ ہے جو آپ کے خیال میں آپ کو ہونا چاہیے اور سکون ہے وہ جو کہ آپ اصل میں ہیں۔ ‘‘

ٹینشن ، اسٹریس ، ذہنی دباؤ یا تناؤ۔ جس نام سے بھی پکاریں یہ زندگی کی ایک حقیقت ہے ۔ جدید ریسرچ کے مطابق ذہنی دباؤ اور ذہنی و جسمانی توڑ پھوڑ (Breakdown)کا تعلق عمر سے نہیں بلکہ رویہ (Attitude)سے ہے۔

80اور 90کی دہائی کے نوجوانوں کے چند اسٹریس یہ تھے :۔

* امتحان کی رات پسندیدہ ہیرو کی فلم Releaseہو جانے کا Stress۔ * رات گئے پھر نے پھرانے کے بعد ابا جی کے گھر ہونے کا اسٹریس ۔ *موٹر سائیکل ایک اور چلانے والے چار ہونے کا اسٹریس۔ * اپنا پسندیدہ ٹی وی پروگرام صرف ایک دفعہ چلائے جانے کا اسٹریس۔ *کرکٹ بال کا سکی تیز غصہ والے شخص کے گھر پندرویں دفعہ گرنے کا اسٹریس۔جبکہ آج کل کچھ اس قسم کے اسٹریس نظر آئے ہیں۔ *اسمارٹ فون کا نیا ماڈل دوست کے ہاتھ میں دیکھے جانے کا اسٹریس۔ * Facebook postکو زیادہ Likesنہ ملنے کا stressیا کسی اور کو زیادہ likesمل جانے کا اسٹریس۔* Whatsappگروپس میں رہوں یا نکلوں

کا stress * آج مجھے کوئی stressنہیں؟ کا اسٹریس ۔* لیکچر کے دوران selfieنہ لے پانے کا stress. * Followers instagramکے نمبر بڑھنے یا گھٹنے کا stress(چاہے اپنے ہوں، چاہے کسی اور کے)۔

سو نوجوانوں کی زندگی میں تعلیم ، سماجی اُمیدیں ، سخت مقابلہ (Serve Competition)، وقت کی قلت، (خود ساختہ ) اور اس طرح اور بہت سے stressشامل ہو گئے ہیں۔

شاید stressکا وجود ازل سے قائم ہے۔ صرف ہیئت بدلتی رہی ہے۔

پھر تو مسئلہ سامنے ہے اور حل تلاش ہے۔ مشہور مصنف PauloCoelhoلکھتا ہے۔ ’’زندگی کے کسی بھی اہم فیصلے سے پہلے کچھ ایسا کر لینا چاہیے جس سے سکون ملے۔

تو پھر ٹینشن کس بات کی؟آج کل تو طلباء و طالبات ایک ایسے شاندار دور میں علم کا حصول کرنے کی تگ و دو میں ہیں جس میں صرف ایک Click سے دنیائے علم کاسارا خزانہ آپ کے قدموں میں۔

ایک ہزار میل دور بیٹھا پروفیسر آپ کی دسترس میں۔ دنیا کی ہر تعلیم گاہ ، یونیورسٹی اور درس گاہ کی معلومات آپ کی دہلیز پرتو پھر ٹینشن کس بات کی؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم نے ٹینشن پرزیادہ اورStress Managementپر توجہ دینی کم کر دی ہے ؟ کیا ہم Stress Managementکرتے بھی ہیں۔

یا ہم نے اسے ایکٹ ایسی کشتی سمجھ لیا ہے جو بغیر چپوں اور ملاح بھی خودی اپنی منزل تک پہنچ جائے گی؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم نے اپنے stressکو ناؤ کو حالات کی روانی پر چھوڑ دیا ہے ؟

جہاں اساتذہ ، بڑے بہن بھائی ، درس گاہیں اور خاندان اپنا کردار ادا کرتے ہیں وہیں طالب علم پر بھی یہ ذمہ داری عائع ہوتی ہے کہ وہ Stress Managmenet کو پلان (منصوبہ بنائے) کرے اور stress کے وقت نہیں بلکہ اس کے ہونے سے پہلے اس کو پیش بینی (Anticipation)کرے۔

خاکسار کا ایک چھوٹا سا فارمولہ پیش ہے جس سے Stress Management میں قدرے افاقے کی توقع ہے اور اس میںیکسر ردو بدل کی گنجائش ملحوظ خاطر رکھی گئی ہے ؟

* مان لیا کہ ذہنی دباؤ تو ہونا ہے اس لیے زندگی کی باقی ضروریات کی طرح اس کی بھی نگہداشت کرنی ہوگی۔ * روز کچھ وقت کسی اچھے کام میں صرف کریں۔ یہ دینی فریضہ بھی ہے اور اس سے ایک ناقابل بیان خوشی بھی محسوس ہوتی ہے۔* دینی فرائض یا پابندی سے ادا کریں۔ خدا سے لو لگانے سے دل کو بیش بہا / سکون نصیب ہوتا ہے۔ * یہ بھی مان لیں کہ ہر چیز ، ہر کام روز نہیں ہو سکے گا۔ اتنا کرنے کی کوشش کریں جتنا ہو سکے۔ * چھوٹی چھوٹی کامیابیوں ، نعمتوں ، اچھی خبروں ، پر خوش رہیں ۔ بہت ساری چھوٹی خوشیاں اصل میں ایک بہت بڑی خوشی کے حصے ہیں، لیکن شاید ہم اُنہیں اس طرح اس نظر سے نہیں دیکھ پاتے۔ * جو پہلے ہو چکا اُس کا اب کچھ نہیں کیا جاسکتا ۔ صرف سبق سیکھا جا سکتا ہے اور جو آگے ہونا ہے اس کے لیے صرف کوشش اور دعا کی جاسکتی ہے۔ یہ بھی بہت ہے۔ * کل ، آج اور کل میں سے لفظ آج پر زیادہ توجہ دیں۔ بہترین آج ہی بہترین کل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

کہاں آکے رکتے تھے راستے

کہاں موڑ تھا، اُسے بھول جا

* تعلیم و تربیت سے ایک ایسا اچھا انسان بننے کی کوشش کریں جو کہ ساتھ ساتھ ایک اچھا ڈاکٹر ، اچھا انجینئر اور اچھا professionalبھی ہو۔ * دوسروں کی بجائے اپنی غلطیوں سے لطف و اندوز ہوں۔ غلطیاں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ آپ کچھ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں(مزا تو شاید آئے گا لیکن اس کے فوائد زیادہ ہیں)۔

ہم یہی کر سکتے ہیں، شاید تھوڑا زیادہ یا تھوڑا کم تو پھر اُس بات پر یقین ، بلکہ یقین کامل ہمیں stress

freeہونے میں انتہائی اہم ہے جسے میاں محمد بخش نے سیف الملوک نے یوں بیان کیا ۔

مالی دا کم پانی لانا بھر بھر مشکاں پاوے

مالک دا کم پھل پُھل لانا، لاوے یا نہ لاوے

جانے میں قارئین تک اپنی بات پہنچا بھی پایا ہوں کہ نہیں؟

ٹینشن ہو رہی ہے۔


ای پیپر