سرخیاں ان کی؟
23 اپریل 2019 2019-04-23

*۔۔۔جو وزیر ملک کے لیے فائدہ مند نہ ہوا تبدیل کر دوں گا۔۔۔ وزیر اعظم

*۔۔۔ جناب عمران خان وزیر اعظم پاکستان نے وفاقی کابینہ کی کارکردگی نتیجہ خیز بنانے کے لیے اس وقت اچانک بعض اہم ترین وزراء کے قلمدان تبدیل کر دیے جب وزیر اعظم کے ترجمان خصوصی جناب ندیم افضل چن ایسی خبروں کو بے پر کی قرار دے رہے تھے۔ بلکہ خود وزیر خزانہ جناب اسد عمر بھی لا علم تھے ۔ بہر حال ہمارا یہ بھی المیہ ہے کہ ہمارے ہاں بعض ایسے افراد موجود ہیں جو ’’ Unwarranted criticism ‘‘ کے چمپئن ہیں۔ وہ کچھ کرتے ہیں نہ کرنے دیتے ہیں شاید ایسے افراد کے متعلق ہی کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ آرزو نصف زندگی ہے اور بے حسی نصف موت۔۔۔ لہٰذا اگر ایک شخص فیصلہ کر لیتا ہے کہ اس نے ہار نہیں ماننی تو نہ صرف اس کے ساتھیوں بلکہ قوم کا بھی اولین فرض ہے کہ وہ اس کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہو جائے تاکہ راستہ نکلے اور منزل نظر آئے اور منزل کے لیے راستہ نہیں ، قدم بھی اٹھانے پڑتے ہیں فیصلے بھی کرنے پڑتے ہیں۔ لکھتے لکھتے نہ جانے کیوں مجھے عظیم کپتان کے وہ فیصلے یاد آ گئے۔ جن کی بنیاد پر میرا اپنے ہیرو سے عقیدت کا رشتہ قائم ہوا تھا۔ یعنی 1987 ء میں جب قومی کرکٹ ٹیم بھارت کا دورہ کر رہی تھی، غالباً پہلے دو ٹیسٹ ڈرا ہوئے تو عظیم کپتان جناب عمران خان کی تبدیلیوں کے باوجود نتائج اخذ نہیں ہو رہے تھے۔ مگر مسلمان کے لیے مایوسی کُفر ہے اسی بنیاد پر کپتان نے پھر ردو بدل کی ٹھانی اور پاکستان سے جناب اقبال قاسم جناب یونس احمد جناب اعجاز احمد کو فوراً بھارت بلوالیا۔ مگر اس کے با وجود تیسرے ٹیسٹ کی کہانی بھی پہلی کہانیوں سے مختلف نہ تھی۔ لیکن جدو جہد کا سفر جاری رہا۔ پھر چوتھے ٹیسٹ کے لیے کچھ نئے فیصلے کیے گئے اور جناب شعیب محمد کی جگہ جناب اعجاز احمد کو کھلایا گیا تو انہوں نے نا ممکن کو ممکن کر دکھایا یعنی ایک باؤلر نے سنچری داغ دی۔ مگر افسوس کہ ان کی سنچری بھی کام نہ آئی اور یہ ٹیسٹ بھی ڈرا ہو گیا۔ مگر قومی ٹیم کے عظیم کپتان کے عزم میں کمی آئی نہ فیصلہ سازی میں جھجک محسوس کی بلکہ انہوں نے اپنی یقینی کامیابی کے لیے اپنا سفر جاری رکھا۔ پھر پانچوں ٹیسٹ کے لیے قومی ٹیم میدان میں اُتری تو جیسے اپنا تو دل دھڑکنا ہی بھول گیا پوری قوم سکتے کی کیفیت تھی۔ یہ بھارت کا شہر بنگلور تھا۔ اس ٹیسٹ کے لیے سپن ( Spin ) وکٹ تیار کی گئی تھی۔ ویسے بھی جناب روی شاستری اور جناب مہندر سنگھ کی آف سپن باؤلنگ کا جادو سر چڑھ کر بول رہا تھا۔۔۔ لہٰذا پہلی اننگز میں پاکستان نے 116 اور بھارت نے جواباً 144 رنز سکور کیے۔ اسی طرح دوسری اننگز میں پاکستان نے 249 اور بھارت کی ٹیم 204 پر ڈھیر ہو گئی۔کرکٹ کی تاریخ جناب اقبال قاسم اور جناب

توصیف احمد کی چار چار وکٹوں اور بے مثال باؤلنگ کو کبھی فراموش نہیں کر سکتی جن کی بدولت پاکستان تاریخی فتح سے ہمکنار ہوا۔ پورا ملک خوشیوں سے جھوم اُٹھا تھا اور ہر کوئی سجدہ، شکر ادا کر رہا تھا ۔ معزز قارئین بے حد معذرت، کہ بات کدھر سے کدھر نکل گئی؟ واپس پلٹتا ہوں۔ بات ہو رہی تھی کہ فیصلے لینے پڑتے ہیں۔ بلکہ میں تو کہتا ہوں کہ بسا اوقات فیصلے بدلنے بھی پڑتے ہیں ۔ جناب عمران خان سے میری آخری ملاقات لاہور میں جناب پرویز خٹک وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے ہمراہ انتخابات سے قبل ہوئی تھی۔ جس طرح جناب پرویز خٹک کو 2013 ء کے انتخابات کے نتائج ابھی آ رہے تھے تو سب سے پہلے میں نے انہیں فون کر کے وزیر اعلیٰ بننے کی خبر دی تھی۔ جس پر وہ خود بھی حیران رہ گئے تھے۔ اسی طرح جناب عمران خان کو وزیر اعظم بننے کی پیشگی مبارک باد دی تھی اور بصد احترام کہا تھا کہ وزیر اعظم صاحب آپ کونہ صرف نئی ٹیم اور جوہری تبدیلیوں کی ضرورت ہو گی بلکہ چند بولڈ فیصلوں کی بھی ضرورت پڑے گی۔ ورنہ حال جناب نواز شریف اور جناب زرداری سے مختلف نہ ہو گا۔ لہٰذا اگر آج متوقع نتائج بر آمد نہ ہونے کے سبب کچھ وزراء کو تبدیل کر دیا گیا تو کونسا گناہ ہو گیا ہے۔ ویسے بھی جیسے ٹیم میں ردو بدل کپتان کا حق ہوتا ہے۔ اسی طرح کابینہ میں ردو بدل وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کے قانونی اختیار میں شامل ہوتا ہے۔ پھر ایسے ماتم کی ضرورت کیا ہے۔ قومی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ قومی ہیرو اور عوامی لیڈر ذوالفقار علی بھٹو شہید نے اپنے اقتدار کے ابتدائی ایام میں کابینہ کے کئی اہم ترین ارکان بلکہ وزیر اعلیٰ پنجاب کو بھی فارغ کر دیا تھا۔ لہٰذا میرا تو یہی مشورہ ہے کہ اب بھی کئی تبدیلیوں کی ضرورت ہے اور میرے خصوصی ذرائع کے مطابق آئندہ اہم ترین فیصلے بھی متوقع ہیں۔ ویسے بھی جو حکومت اپنی معیشت کو مضبوط کرنے کے لیے مزید قرضے لینے پر مجبور ہو اور اسی مقصد کے لیے سابق وزیر خزانہ جناب اسد عمر امریکی یاترا کے لیے گئے تھے اور ان کے مطابق IMF 6 سے 8 ارب ڈالر قرض دے گا۔ یوں کچھ دیگر ذرائع ملا کر پاکستان کے زر مبادلہ کے ذخائر میں بہتری لائی جائے گی۔ جو ظلم کے مترادف ہے۔ کیونکہ جو قرض دیں گے وہ ایجنڈا بھی دیں گے۔ اگرچہ یہ امر کسی طرح بھی باعث انصاف نہیں کہ موجودہ حکومت کو تمام مسائل بالخصوص معاشی مسائل کا ذمہ دار قرار دیا جائے بلکہ یہ تو گزشتہ 72 برس پے محیط دُکھ بھری داستان ہے ۔ ایک ایسی ماں کی کہانی جسے اس کے اپنے بیٹوں نے لوٹا ہے اور دونوں دونوں ہاتھوں سے لوٹا ہے۔ کیونکہ جس کے جتنے لمبے ہاتھ تھے وہ اتنا بڑا لٹیرا تھا۔ تاہم ملکی معیشت کو سنبھالا دینے اور درست سمت منتقل کرنے کے لیے جو نئے ، ٹھوس ، اور انقلابی فیصلے کرنے تھے حکومت کے معاشی ماہرین ان سے متفق نہیں۔ شاید اب اسی سبب کابینہ میں ردو بدل کیا گیا ہے۔ جو حکومتی ’’ IMAGE ‘‘ کو بچانے کے لیے وقت کی اہم ضرورت تھی۔یوں بھی قوم سے مایوسی اور غیر یقینی کے خاتمے کے لیے PTI حکومت کو ایسے ویژنری اور عوام دوست رہنماؤں کی ضرورت ہے جو نہ صرف معیشت کی ڈگمگاتی کشتی کو پار لگانے کا فن جانتے ہوں بلکہ خارجی سطح پر واشنگٹن، لندن اور بیجنگ پاکستان کو کس عینک سے دیکھ رہے ہیں۔ اس نظر پہ بھی نظر رکھنے کی اہلیت رکھتے ہوں۔ کیونکہ خود انحصاری اور خود کفالتی نظام ادھار کی روٹیاں کھانے اور خواب دیکھنے سے قائم نہیں ہو گا نہ اس کے بغیر خارجہ پالیسیاں پروان چڑھیں گی۔ بلکہ اس کے لیے جدید دور میں کرشماتی فیصلے لینے ہوں گے جبکہ آٹھ ماہ گزر چکے ہیں اور اس سے پہلے کہ ’’ بڑے بے آبرو ہو کر تیرے کوچے سے ہم نکلے‘‘؟ کے مصداق وقت کروٹ بدلے۔ وقت کا ضیاع روکنا ہو گا ۔ صحیح سمت کا انتخاب کرنا ہو گا اور نئے رجحانات جیسے اعلیٰ سطحی فیصلے کرنا ہوں گے۔ ایسے حکمت سے بھر پور فیصلے جن سے قومی میدانوں میں نئی نئی فتوحات کے جھنڈے گاڑھے جا سکیں اور قوم بام عروج حاصل کر سکے۔

بقول شاعر۔

اک دل ہے کہ بسایا نہیں جاتا ہم سے

لوگ صحراؤں کو گلستان بنا دیتے ہیں

*۔۔۔ پنجاب بینک کا نیا سربراہ مقرر۔۔۔!

*۔۔۔ صد شکر کہ پنجاب حکومت نے دانشمندانہ فیصلہ کرتے ہوئے ملک کے تجربہ کار معروف اور مستند بینکر جناب طالب رضوی کو بینک آج پنجاب کا نیا سربراہ مقرر کر دیا ہے۔ بلا شبہ ماضی میں اس بینک کے ساتھ ایسا سلوک کیا گیا ہے ۔ جو ایک سوتیلی ماں بھی اپنے بچوں سے روا نہین رکھتی۔ اس لیے بے حد خوشی کہ مثالی شہرت کے حامل جناب طالب رضوی کی تقرری کا نوٹیفکیشن بروز جمعہ جاری ہوا ہے ۔ میرے ذرائع کے مطابق تقریباً ڈیڑھ سو امیدواروں میں سے انہیں منتخب کیاگیا ہے۔ جبکہ بینکنگ حلقوں میں ان کی تعیناتی کو نیک شگون قرار دیا جا رہا ہے۔ وہ نہ صرف بڑے بڑے کمرشل بینکوں میں اعلیٰ خدمات سر انجام دے چکے ہیں بلکہ کئی اعلیٰ سطحی فیصلوں کا حصہ بھی رہے ہیں۔ اس لیے اس اہم ترین ذمہ داری پر میں انہیں دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ وہ نہ صرف بینک آف پنجاب بلکہ ملکی معیشت کو مستحکم اور مضبوط کرنے کے لیے اپنا مثالی کردار ادا کریں گے؟ کسی نے کیا خوب کہا تھا کہ۔

اچھا لگتا ہے مجھے گل تو بجا لگتا ہے

وہ بھی مری ہی طرح محو دعا لگتا ہے

شکریہ بے حد شکریہ


ای پیپر