جانور۔یات
23 اپریل 2019 2019-04-23

دوستو، کہتے ہیں کہ انسان ایک سماجی جانور ہے،یہ ’’چول‘‘ جس نے بھی ایجاد کی ہم اس سے بالکل بھی متفق نہیں، اللہ پاک نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایاجو چائے بھی پیتا ہے جو اشرف المشروبات ہوتی ہے، اب بھلا بتائیے آپ نے کبھی کسی جانور کو چائے پیتے دیکھا ہے؟؟۔۔ آج کا موضوع روایت سے کچھ ہٹ کر ہے، آج ہم جانوروں کی بات کریں گے۔۔جانوروں سے متعلق آپ سے کچھ باتیں شیئر کریں گے۔۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ہم آپ سے جو باتیں بھی شیئرکررہے ہیں،دوران مطالعہ ہمیں پتہ چلیں اور یہ ساری باتیں ہمارے لئے بھی حیران کن تھیں۔۔اس لئے ایسی باتیں جن سے نالج میں اضافہ ہوضرور ایک دوسرے سے شیئر کرنی چاہیئے۔۔ورنہ تو اب حالت یہ ہوگئی ہے کہ لوگ چاند دیکھ کر مبارک باد کا پیغام اس طرح بھیجتے ہیں کہ جیسے چاند صرف اسی نے دیکھا اور یہ بھی باور کرایا جاتا ہے کہ جو سب سے پہلے اطلاع دے گاجنت اس پر واجب ہوجائے گی۔۔اللہ معاف کرے۔۔ اب اگر اس طرح چاندنظر آنے کی اطلاع دینے پرجنت واجب ہونے لگے تو پھر پیغامات بھیجنے والوں سے زیادہ تو رویت ہلال کمیٹی پر جنت واجب ہوئی۔۔خیر یہ تو جملہ معترضہ تھا۔۔ چلیں جانوروں سے متعلق کچھ معلومات میں اضافہ کرلیں۔۔

مگرمچھ کے متعلق کہاجاتا ہے کہ وہ اپنی زبان کبھی باہر نہیں نکال سکتا۔۔ مگرمچھ کے ہاضمے کی طاقت اتنی ہوتی ہے کہ وہ لوہے کا کیلا بھی ہضم کر سکتا ہے۔۔ سمندری کیکڑے کا دل اس کے سر میں ہوتا ہے۔۔۔ خنزیر یعنی سوّر کبھی آسمان کی طرف نہیں دیکھ سکتا۔۔ چوہے اور گھوڑے کبھی الٹی نہیں کرتے۔۔ہم اکثر کتوں کو دیکھ کر دوڑ لگاسکتے ہیں،انسان یہ سمجھتا ہے کہ وہ کتے سے تیز دوڑ سکتا ہے ایسا بالکل بھی نہیں، کسی غلط فہمی میں مت رہیئے گا،کیونکہ کتے انسان سے نہ صرف تیز دوڑ سکتے ہیں بلکہ انسان سے زیادہ تیز نظریں بھی رکھتے ہیں۔۔یہ تو حدیث مبارکہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کم و بیش مفہوم کچھ یوں ہے کہ ۔۔جب کتے اورگدھے کے بولنے کی آواز سنا کرو تو تیسرا کلمہ پڑھا کرو،کیوں کہ یہ جانور وہ کچھ دیکھتے ہیں جو عام انسان کبھی نہیں دیکھ سکتے۔۔کتوں کی ایک کمزوری ہے کہ وہ کلربلائنڈ ہوتے ہیں یعنی رنگوں کی پہچان ہیں رکھتے۔۔گوریلا( یعنی بندروں کی نسل کا سب سے طاقت ورجانور) ایک دن میں چودہ گھنٹے سوتا ہے، اب کہیں آپ بھی اس کا ریکارڈ توڑکر طاقت حاصل کرنے نہ بیٹھ جانا۔۔کہتے ہیں کہ کہ نر گھوڑے کے 40 دانت ہوتے ہیں جبکہ مادہ گھوڑے کے صرف 36 دانت ہوتے ہیں۔۔ چوہے ایک سال میں لاکھوں بچّے پیدا کر سکتے ہیں۔۔ زرافہ گھوڑے سے زیادہ تیز دوڑ سکتا ہے۔۔ اْلّو کو صرف نیلا رنگ ہی دکھائی دیتا ہے۔۔ اونٹوں کی 3 پلکیں ہوتی ہیں جس سے وہ ریگستان میں ریت سے اپنی آنکھوں کو بچاتے ہیں۔۔ اونٹنی کے دودھ سے دہی نہیں بنتااور یہ بھی مشاہدے میں آیا ہے کہ اونٹنی کا دودھ چوبیس گھنٹے کے اندر اندر استعمال کرنا چاہیئے ورنہ اس میں کیڑے پڑجاتے ہیں۔۔ اونٹ کو جب غصہ آتا ہے تب وہ چھینکتا ہے۔۔۔ ہاتھی کو پسینہ ناخن کے ذریعہ نکلتا ہے۔۔ شتر مرغ کے لئے کہاجاتا ہے کہ یہ ایسا پرندہ ہے جو پتھر بھی کھالیتا ہے۔۔زراف بیچارہ ایسا جاندار ہے جو کوئی آواز نہیں نکال سکتا، اسے بلاشبہ بے زبان جانور کہاجاسکتا ہے۔۔ اچھا ایک جانور ایسا بھی ہے کبھی نہیں مرتا ہمیشہ زندہ ہی رہتا ہے۔۔جی ہاں۔۔فش جیلی کی ایک قسم ہے۔۔

بات شترمرغ کی چل رہی ہے تو اب تو اس کا گوشت لاہور اور کراچی کی مارکیٹوں میں فروخت بھی ہونے لگا۔۔اس کا انڈا سب سے بڑا انڈا ہوتا ہے،اس کے ایک انڈے سے بنائے ہوئے آملیٹ سے پورا گھر آرام سے ناشتہ کرسکتا ہے۔۔ شترمرغ چونکہ پرندہ ہے اس لئے اب ذکر ایسے پرندے کاجسے کبوتر کہاجاتا ہے۔۔جس پر لالی وڈ اور بالی وڈ میں کئی گانے بھی بن چکے۔۔ہمارے پیارے دوست نے کبوتر سے متعلق کچھ دلچسپ معلومات ہم سے واٹس ایپ پر شیئر کی ہیں جس کے مطابق۔۔کبوتر دلچسپ اور حیرت انگیز صلاحیتوں کا حامل ایسا پرندہ ہے جو شیشے میں خود کو پہچاننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔۔ اسے اپنے گھر کا راستہ یاد ہوتی ہے،کبوتر انسانی نظر سے زیادہ تیز آنکھ رکھتا ہے اور ہموار سطح کو تھری ڈی میں دیکھ سکتا ہے۔ان میں مختلف کبوتروں میں فرق پہچاننے کی خوبی بھی ہوتی ہے۔۔یہ لمبے عرصے تک مختلف تصاویر اور ڈیزائن ذہن نشین کرسکتے ہیں۔ان کی سننے کی صلاحیت انسانوں سے زیادہ تیز ہوتی ہے،یہ کہیں درجے کم فریکوئنسی کی آواز بھی سن سکتے ہیں۔۔یہ واحد پرندہ ہے جسے پانی نگلنے کے لئے اپنا سر آسمان کی طرف نہیں کرنا پڑتا۔کبوتروں کی اڑان کی برداشت ایک دن میں سو کلومیٹر کی رفتار سے پندرہ سو سے سترہ سو کلو میٹر ہے۔آج کے دور میں بھی کبوتر جنگی مقاصد کے تحت، فرانسیسیی، سوئس، اسرائیلی،سوئیڈن اور چائنیز فوج کے استعمال میں ہیں۔کبوتر اور فاختہ میں بہت زیادہ مشابہت پائی جاتی ہے۔چھیس میل کی دور تک کبوتر با آسانی دیکھ سکتے ہیں۔ پہاڑ کی چوٹی پر بیٹھا کبوتر سینکڑوں میل کی دوری سے ہواؤں کا شور تک سن سکتا ہے۔ایک عام کبوتر کی چونچ سے دم تک اوسطاً لمبائی تیرہ انچ ہوتی ہے۔ایک بالغ کبوتر کے قریبا دس ہزار پر ہوتے ہیں۔کبوتروں کی اوسطاً عمر تیس سال ہوتی ہے۔کبوتر ایک سیکنڈ میں دس مرتبہ’’ پر‘‘ ہلا سکتاہے اور اس کا دل ایک منٹ میں چھ سو بار دھڑکتا ہے۔اسلام کے علاوہ ہندووازم،سکھ ازم اور بدھ مت میں بھی کبوتروں کو دانہ ڈالنا ثواب سمجھا جاتا ہے۔

ایک چوہیا اپنے تین ننھے ننھے بچوں کے ساتھ سیر کررہی تھی کہ ایک بلی سامنے آگئی۔ اس سے پہلے کہ بلی ان پر جھپٹتی ، چوہیا اپنی پوری طاقت سے چلائی۔۔ بھوں بھوں غررررررر۔ بھوں بھوں۔۔ بلی ہکا بکا رہ گئی اور کنفیوز ہو کر الٹے قدموں واپس چلی گئی۔چوہیا نے مڑکر اپنے بچوں کو دیکھا اور مسکراتے ہوئے کہنے لگی۔۔ دیکھا بچو ! تعلیم کے فائدے۔ اب تم جان گئے ہوگے کہ مادری زبان کے علاوہ کوئی اور زبان سیکھنا کتنا ضروری ہے۔۔تین چوہے شیخیاں بگھار رہے تھے۔ ایک بولا۔۔میں اتنا بہادر ہوں، ایک دفعہ میں چوہے مار گولیوں کا پورا پیکٹ کھا گیا۔۔دوسرا کہنے لگا۔۔ میں اتنا بہادر ہوں، ایک دفعہ میں’’ کڑکی‘‘ میں آ گیا تو میں نے اسے توڑ پھوڑ کر رکھ دیا۔۔تیسرے نے جب دونوں کی باتیں سنیں تو مونچھوں پر تاؤ دے کر بولا۔۔’ میں اپنی بہادری کا قصہ بعد میں سناوں گا، ابھی تو میں گھر بلی کی پھینٹی لگانے جا رہا ہوں۔۔ایک دن باباجی نے بڑے اداس موڈ میں ہم سے کہا۔۔کاش میں چوہا ہوتا۔۔ہم باباجی کی عجیب سے خواہش پر حیرت زدہ رہ گئے۔۔پوچھا، وہ کیوں باباجی۔۔باباجی نے ٹھنڈی آہ بھری اور جواب دیا۔۔میری بیوی چوہوں سے بہت ڈرتی ہے۔


ای پیپر