سب سے افضل نما زکونسی ہے ؟
23 اپریل 2019 (19:13) 2019-04-23

نماز تہجدکے فضائل:

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : ”ان (اہل ایمان) کے پہلو ان کے بستروں سے دور رہتے ہیں“۔ (سورة السجدہ) نیز فرمایا: ”بے شک پرہیزگار بہشتوں اور چشموں میں ہوں گے اور اپنے رب کی عطا کردہ نعمتیں لے رہے ہوں گے (اس بات پر کہ) بے شک یہ لوگ اس سے پہلے (دنیا میں) نیکوکار تھے، رات کو (تہجد پڑھنے کی وجہ سے ) بہت کم سوتے تھے اور اخیر شب میں استغفار کیا کرتے تھے“۔ (سورة الذاریات)۔

حدیث شریف میں بھی نمازتہجد کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے ۔ ارشاد رسول کریم ہے ”اے لوگو! سلام کو پھیلاو¿، لوگوں کو کھانا کھلاو¿، رشتہ داریوں کو جوڑو اور رات میں تہجد کی نماز پڑھو، جب کہ لوگ سو رہے ہوں، تم جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو جاو¿ گے۔ (جامع ترمذی)

حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم رات کو (اس قدر طویل) قیام کرتے تھے کہ آپ کے پاو¿ں مبارک پھٹ جاتے، میں نے آپ سے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ اس طرح کیوں تکلیف برداشت کرتے ہیں، جب کہ آپ کے تو اگلے پچھلے گناہ معاف کر دیے گئے ہیں؟ آپ نے فرمایا: تو کیا میں (اللہ تعالیٰ کا) شکرگزار بندہ نہ بنوں۔ (متفق علیہ)۔

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا: رمضان کے بعد سب سے افضل روزے اللہ تعالیٰ کے مہینے، محرم کے روزے ہیں اور فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز رات کی نماز(تہجد) ہے ۔ (مسلم)

حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم نے فرمایا: رات کی نماز دو دو رکعت ہے ۔ پس جب تمہیں صبح ہو جانے کا اندیشہ ہو تو پھر آخر پر ایک رکعت وتر پڑھ لے۔ (متفق علیہ، البخاری)

حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ سے دریافت کیا گیا کہ کون سی نماز افضل ہے ؟ تو آپ نے فرمایا: لمبے قیام والی۔ (مسلم) رسول اللہ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسندیدہ نماز حضرت داو¿دؑ کی نماز ہے اور اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسندیدہ روزہ حضرت داو¿دؑ کا روزہ ہے ۔ حضرت داو¿دؑ آدھی رات سوتے تھے اور اس کا تیسرا حصہ نماز پڑھتے تھے۔ پھر اس کا چھٹا حصہ سوتے تھے۔ وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن نہیں رکھتے تھے۔ (متفق علیہ)

حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ کو فرماتے ہوئے سنا: بے شک رات میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ جس مسلمان کو میسر آجائے اور وہ اللہ تعالیٰ سے دنیا و آخرت کے بارے میں کوئی چیز طلب کرے تو اللہ تعالیٰ اسے وہی چیز عطا فرما دیتا ہے اور گھڑ ی ہر رات میں ہوتی ہے ۔ (مسلم)

حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ جب رات کو (تہجد کے لئے ) بیدار ہوتے تو اپنی نماز کا آغاز دومختصر رکعتوں سے فرماتے تھے۔ (مسلم)

حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ جب کسی تکلیف وغیرہ کی وجہ سے رسول اللہ کی نماز تہجد چھوٹ جاتی تو آپ دن کے وقت 12رکعتیں ادا فرماتے۔ (مسلم)۔

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی رات کو عبادت کیلئے بیدار ہو اور غلبہ نیند کی وجہ سے قرآن پڑھنا اس کے لئے مشکل ہو رہا ہو اور اسے معلوم نہ ہو کہ وہ کیا پڑھ رہا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ لیٹ جائے (تھوڑ ی دیر سو جائے اور بعد میں نماز پڑھ لے۔ (مسلم)

حضرت مسروق ؒتابعی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے پوچھا کہ حضور کو کس طرح کا عمل زیادہ پسند تھا؟ انہوں نے جواب دیا کہ وہ کام جس کو پابندی سے کیا جائے آپ کو زیادہ پسند تھا، میں نے پوچھا حضور رات میں تہجد کے لئے کس وقت اٹھتے ہیں؟ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے جواب دیا کہ آپ اس وقت اٹھتے جس وقت مرغ آواز دیتا ہے ،یعنی آخری شب میں۔ (بخاری ومسلم)

محاسبہ¿ نفس کا وقت

تہجد کا وقت اپنی ماضی کی زندگی کا محاسبہ کرنے اور اپنے کیے ہوئے گناہوں پر ندامت کا بہترین وقت ہے ۔ اس وقت انسان کی یادداشت کی صلاحیت (Ability To Recall) اپنے عروج پر ہوتی ہے ۔ 1990ءکی دہائی میں امریکہ کے سائنسی جریدے (Scientif American) میں ایک ریسرچ چھپی تھی جو امریکہ کی یونیورسٹی آف پنسلو ینیا اور اسرائیل کی ایک یونیورسٹی میں کی گئی تھی، جس میں انسانوں اور جانوروں کے دماغوں پر برقی ایلیکٹروڈ (Electrodes) لگا کر نیند کے دوران ان کے دماغوں کا تجزیہ کیا گیا۔ اس تحقیق کا نتیجہ یہ تھا کہ نیند لینے کے بعد انسانی یادداشت کی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے ۔ اس لحاظ سے رات کی آخری گھڑیوں میں جب بندہ نیند سے بیدار ہو کر تہجد کی نماز ادا کرتا ہے تو دعا کے دوران اپنی ماضی کی کوتاہیوں کو رات کی خاموشی میں بآسانی یاد کر سکتا ہے ۔۔۔ ان پر ندامت کے آنسو بہا کر اللہ کے حضور گڑگڑا کر معافی مانگ سکتا ہے ۔۔۔ آئندہ کے لیے اپنے گناہوں سے صدقِ دل سے توبہ کر سکتا ہے ۔ اسی قسم کے لوگوں کے متعلق اللہ تعالٰی ارشاد فرمایا :

”(یہ وہ لوگ ہیں) جو کہتے ہیں: اے ہمارے رب! ہم یقینا ایمان لے آئے ہیں سو ہمارے گناہ معاف فرما دے اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے۔ (یہ لوگ) صبر کرنے والے ہیں اور قول و عمل میں سچائی والے ہیں اور ادب و اطاعت میں جھکنے والے ہیں اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے ہیں اور رات کے پچھلے پہر (اٹھ کر) اللہ سے معافی مانگنے والے ہیں“۔(آل عمران)

تہجد کی نماز اور گریہ و زاری تبھی نفع بخش ہو سکتے ہیں جب انسان رزقِ حلال کا اہتمام کرتا ہو اور اس کے گھر میں سب لوگ حلال رزق کماتے ہوں۔ آج کے دور میں حرام ذرائع جگہ پر جوائ، سود، بلیک مارکیٹنگ، ذخیرہ اندوزی اور سمگلنگ کی صورت میں موجود ہیں۔ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم شعوری اور لاشعوری طور پر ان ذرائع کو استعمال کرکے اپنا اور اپنے زیر کفالت افراد کا پیٹ بھرتے ہیں اور پھر سکون و اطمینان بھی چاہتے ہیں، ایسا ممکن نہیں ہوتا۔ پس نماز تہجد اور دیگر عبادات کی قبولیت کا تقاضا کسب حلال اور حقوق العباد کی ادائیگی ہے ۔

تہجد کے وقت اٹھنے کے طبی فوائد

رات کی آخری گھڑیوں میں اٹھ کر تہجد ادا کرنے سے ویسے تو وہ تمام میڈیکل فوائد حاصل ہوتے ہیں جو ہر نماز سے حاصل ہوتے ہیں۔ مثلاً جسم کے پٹھوں اور جوڑوں کی ورزش سجدہ کی وجہ سے چہرے کے مساموں (Tissues) میں خون کی مزید گردش۔۔۔ انسان کے Sinuses میں جمع شدہ بلغم کا اخراج۔۔۔ رات کو تنفس (Breathing) کی رفتار آہستہ ہونے کی وجہ سے پھیپھڑوں کے مکمل طور پر کھل نہ سکنے کی وجہ سے جو ایک تہائی ہوا (Residual Air) جمع ہوتی ہے اسے بھی پھیپھڑوں سے نکلنے اور داخل ہونے کا موقع مل جاتا ہے ۔۔۔ سجدے کی حالت میں دماغ کو زائد خون پہنچتا ہے جو اس کی نشوو نما کے لیے اہم کردار ادا کرتا ہے ۔

صبح کی تازہ ہوا میں سانس لینے سے پھیپھڑوں اور دماغ کو تقویت ملتی ہے ۔ امریکہ کے نامور مفکر، سیاستدان او رسائنسدان بینجمن فریکلن (Benjamin Franklin) نے سحر خیزی کے انہی فوائد کے پیشِ نظر اپنی کتاب (Poor Richards Almand) میں یہ قول زریں رقم کیا تھا۔

”رات کو جلدی سونا اور صبح جلدی اٹھنا انسان کو صحت مند، مالدار اور عقلمند بناتا ہے “۔

٭٭٭


ای پیپر