جنوبی پنجاب اور بہاولپور صوبے سے متعلق بڑ ی خوشخبری
23 اپریل 2019 (18:17) 2019-04-23

اسلام آباد : قو می اسمبلی میں مسلم لیگ(ن) نے انتظامی بنیادوں پر جنو بی پنجاب اور بہاولپور صو بوں کے قیام کے حوالے سے آئینی (ترمیمی ) بل پیش کردیا۔

بل کے متن میں قومی اسمبلی کیلئے بہاولپور صوبے سے 15عام نشستیں ،خواتین کیلئے3اور مجموعی طور پر18نشستیں مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ جنوبی پنجاب کیلئے قومی اسمبلی کیلئے مجموعی طور پر38نشستیں جن میں31عام نشستیں اور 7خواتین کی نشستیں شامل ہیں کی تجویز دی گئی ہے جبکہ بل میں بہاولپور کی صوبائی اسمبلی کیلئے 31 عام نشستیں جبکہ خواتین کی 7 مخصوص نشستیں اور ایک اقلیتی نشست مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

اسی طرح جنوبی پنجاب اسمبلی کیلئے 64 عام نشستیں ‘ خواتین کی 14 اور 2 اقلیتیں نشستیں مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ ایوان نے متفقہ طور پر بل پیش کرنے کی منظوری دیدی اور بل متعلقہ قائمہ کمیٹی کو مزید غور کےلئے بھیج دیا گیا۔ بل کی حکومت اتحادی جماعت مسلم لیگ (ق)نے مکمل حمایت کی ۔رانا ثناءاللہ نے کہاکہ ملک میں انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کا قیام ہمیشہ سے مطالبہ رہا ہے اور سیاسی سطح پر اس میں اتفاق رائے پایا جاتا ہے، اس مسئلہ کو عوام میں پذیرائی حاصل ہے اور ماضی میں معاملہ کو انتخابات میں سیاسی فائدہ کے طور پر استعمال کیا گیا، گزشتہ انتخابات میں بھی اس کو انتخابی انجینئرنگ کے طور پر اس کو استعمال کیا گیا، اب ضرورت ہے کہ انتظامی بنیادوں پر صوبوں کا قیام عمل میں لایا جائے، طارق بشیر چیمہ نے کہاکہ بہالپور کو تخت لاہور سے ہٹا کر تخت ملتان کے مت حوالے کیا جائے ، بل کی منظور ی کے لئے کسی جماعت کے پاس دو تہائی اکثریت نہیں اس صور تحال میں بل لولی پاپ ہے۔

تحریک انصاف کے عامر ڈوگرنے کہا کہ ہماری حکومت اور پارٹی کا وعدہ ہے کہ جنوبی پنجاب کو شناخت دینی ہے، بہاولپور صوبے کے حوالے سے اختلاف رائے موجود ہے، جنوبی پنجاب کیساتھ بہاولپور صوبے کے قیام کا بل پیش کرنا (ن) لیگ کی سازش ہے تا کہ جنوبی پنجاب صوبہ نہ بنے، ہم ان کی سازش کو بے نقاب کریں گے۔ جبکہ متحدہ قو می مو ومنٹ کے ارکان نے مطالبہ کیا کہ بل میں جنو بی سند ھ صوبہ کے قیام کو بھی شامل کیا جائے جسکی پاکستان پیپلز پارٹی نے شدید مخالفت کی اور پی پی اور ایم کیوایم کے درمیان ایوان میں تکرار ہوئی۔منگل کو قو می اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کی صدارت میں ہوا ۔ اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کے راہنماﺅں رانا ثناءاللہ، احسن اقبال، رانا تنویر حسین،میاں نجیب الدین اویسی، عبد الرحمن کانجو کی جانب سے راناثناءاللہ نے جنوبی پنجاب، بہالپور سمیت ملک میں انتظامی بنیادوں پر نئے صوبو ں کے قیام کے حوالے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور میں مزید ترمیم کرنے کا بل ( دستور (ترمیمی ) بل 2019ایوان میں پیش کرنے کی اجازت کے لئے تحریک پیش کی۔

سپیکر نے ایوان سے بل پیش کرنے کی اجازت کے لے ووٹنگ کرائی ۔ جس کو ایوان نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔رانا ثناءاللہ نے بل کو متعارف کراتے ہوئے کہاکہ ملک میں انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کے قیام ہمیشہ سے مطالبہ رہا ہے اور سیاسی سطح پر اس میں اتفاق رائے پایا جاتا ہے، جنوبی پنجاب کا صوبہ بنانے کے حوالے سے 2002میں قرارداد آئی، اس پر پنجاب اسمبلی میں متفقہ طور پر قرار دادمنظور کر چکی ہے، بہاولپور کے ارکان کے شدید مطالبہ پر بہاولپور ریاست کی بحالی کے حوالے سے جو بانی پاکستان نے وعدہ کیا تھا بعد میں عمل نہیں ہوا، صوبہ بہاولپور کے قیام کے لئے پنجاب اسمبلی نے قرارداد پیش کی گئی تھی کہ انتظامی بنیادوں پر قیام کیا جائے،اس حوالے سے عملدرآمد کے لئے نیشنل کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھاتا کہ اس حوالے سے اتفاق رائے اور متفقہ طور پر طریقہ کار طے کیا جائے، اس کے بعد اس پر کوئی کام نہیں ہوا، اس مسئلہ کو عوام میں پذیرائی حاصل ہے اور کو انتخابات میں سیاسی فائدہ کے طور پر استعمال کیا گیا.

گزشتہ انتخابات میں بھی اس کو انتخابی انجینئرنگ کے طور پر اس کو استعمال کیا گیا۔ اس لئے اب ضرورت ہے کہ انتظامی بنیادوں پر صوبوں کا قیام عمل میں لایا جائے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے راہنما سیدنوید قمر نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اصولی طور پر پنجاب میں نئے صوبوں کے قیام کی حمایت کرتی ہے، بل میں تین صوبوں کے قیام کی بات کی گئی ہے، اس پر تمام سیاسی جماعتوں کی رضامندی ضروری ہے، پاکستان تحریک انصاف کے راہنما عامر ڈوگرنے کہا کہ ہماری حکومت اور پارٹی کا وعدہ ہے کہ جنوبی پنجاب کو شناخت دینی ہے، حکومت ملتان میںسول سیکرٹریٹ بنا رہی ہے، بہاولپور صوبے کے حوالے سے اختلاف رائے موجود ہے،(ن) لیگ کی سازش ہے کہ جنوبی پنجاب صوبہ نہ بنے ہم ان کی سازش کو بے نقاب کریں گے۔ مسلم لیگ ( ن) کے راہنمااحسن اقبال نے کہا کہ پارلیمنٹ کی تاریخ میں آ ج ایک تاریخی دن ہے ۔ جنوبی پنجاب کا کئی سالوں سے اپنا بنیادی حق صوبہ جنوبی پنجاب کے قیام کا مطالبہ تھا پر بل ایوان میں پیش کیا جا رہا ہے، پاکستان پیپلز پارٹی کی حمایت پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں، پی ٹی آئی بے شک اس کو سازش کہے لیکن جنوبی پنجاب کے صوبے کے قیام کے حوالے سے ترمیم کی بھرپور حمایت کرے۔

مسلم لیگ (ق ) راہنما اور وزیر ہاﺅ سنگ طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ بل کی بھرپور حمایت کرتا ہوں، لیکن تخت لاہور نے بہاولپور پربہت ظلم کئے ہیں، خداکےلئے تخت لاہور کے بعد ہمیں تخت ملتان کے حوالے نہ کیا جائے،بل کےلئے کسی جماعت کے پاس دو تہائی اکثریت نہیں ہے، یہ بل لولی پاپ ہی لگتاہے، ہم علیحدہ صوبہ بنانا چاہتے ہیں، کل کے بجائے آج صوبہ بنایا جائے، بہاولپور کا صوبہ بنایا جائے، ہم پنجاب اسمبلی میں بہاولپور صوبہ کےلئے بل لائیں گے، اتنظامی بنیادوں پر صوبوں کے قیام کے لئے پیش کئے گئے بل کی حمایت کرتے ہیں۔ رانا ثناءاللہ نے کہا کہ تخت لاہور کے جوتے کھانے کا دعویٰ کرنے والے تاریخ دیکھیں، بہاولپور سے آ کر انہوں نے تخت لاہور میں اور مرکز میں حکومتیں کی ہیں۔

رانا ثناءاللہ نے کہا کہ تخت لاہور کے جوتے کھانے کی بات کرنے والے تاریخ دیکھیں، بہاولپور سے آ کر لوگوںنے تخت لاہور میں اور مرکز میں حکومتیں کی ہیں۔ ایم کیو ایم کے راہنما اقبال محمد علی نے کہا کہ نئے صوبوں کے قیام کے بل کی مکمل حمایت کرتے ہیں، بل میں جنوبی سندھ کے صوبہ کا قیام بھی بل میں شامل کیا جائے، سندھ میں بھی انتظامی بنیاد پر صوبہ بنایا جائے۔پاکستان پیپلز پارٹی کے راہنماسابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ نئے صوبے کے قیام کےلئے آئین میں طریقہ کار موجود ہے، صوبوں کے قیام کےلئے پیپلز پارٹی نے عملی قدم اٹھایا، انتظامی بنیاد پر صوبے قائم ہونے چاہئیں، لیکن عجیب قسم کی پوائنٹ سکورنگ کی جا رہی ہے، تا کہ جو کام ہونے والا ہے وہ بھی نہ ہو، سندھ کو تقسیم کرنے کی آج تک جس نے کوشش کی وہ ناکام ہوا، جنوبی پنجاب کا مطالبہ جائز ہے، صوبوں کو لسانی بنیاد پر تقسیم کرنا درست نہیں ہے، ایسے مطالبات کے ذریعے جنوبی پنجاب کے قیام میں روڑے اٹکانے کی کوشش کی جارہیہے، اس دوران ایم کیو ایم اورپی پی پی کے ارکان کے درمیان کراچی کو علیحدہ صوبہ بنانے کے حوالے سے تکرار ہوئی۔ وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا کہ بل متعلقہ کمیٹی میں بھیجا جائے، وہ اس پر بحث کریں گے، ایوان نے بل پیش کرنے کی منظوری دی۔ ڈپٹی سپیکر نے بل قائمہ کمیٹی کو ریفر کر دیا۔


ای پیپر