زردتبدیلی!
23 اپریل 2019 2019-04-23

وفاقی کابینہ میں ردوبدل پر مجھے فیض احمد فیض اور قدرت اللہ شہاب میں ہونے والا مکالمہ یاد آگیا۔ ایک بار فیض صاحب نے شہاب صاحب سے کہا ”پاکستان کے حالات دیکھ کر میں یہ خطرہ محسوس کرتا ہوں پاکستان کہیں ختم ہی نہ ہوجائے“۔ ....شہاب صاحب بولے”فیض، میرا خطرہ تمہارے خطرے سے زیادہ بڑا ہے کہ پاکستان، کہیں ایسے ہی نہ چلتارہے“،....وزیراعظم عمران خان چونکہ ایک ضدی انسان ہیں، سو مجھے یہ خطرہ تھا وہ اپنے کچھ نکمے، نااہل اور کرپٹ وزیروں کو نکالنے یا اُن کے محکمے تبدیل نہ کرنے کی ضِدپراڑے نہ رہیں، جبکہ میرے ایک عزیز دوست کو میرے خطرے سے زیادہ بڑاخطرہ یہ تھا وہ نااہل وزیروں کو نکال کر یا اُن کے محکمے تبدیل کرکے اُن کی جگہ اُن سے زیادہ نااہل وزیر نہ لے آئیں،.... کیونکہ پاکستان میں ایک سے بڑھ کر ایک نالائق پڑا ہے، ہمارے حکمران یا ہماری حکومتیں اِن نالائقوں کو بڑے بڑے عہدوں سے نوازنے میں کوئی حرج اِس لیے محسوس نہیں کرتے کہ اُن کے سفارشی بڑے تگڑے ہوتے ہیں، ہم یہ سمجھتے رہے اسد عمر بڑے تگڑے ہیں، کیونکہ اُن کے سفارشی خود وزیراعظم تھے، مگر حفیظ شیخ اُن سے بھی تگڑے نکلے کیونکہ اُن کے سفارشی وزیراعظم سے بھی تگڑے ہیں، سنا ہے اُن کا سفارشی ”آئی ایم ایف“ ہے، چنانچہ اپنے اِس ”مستقل سفارشی“ کی طاقت کے بل بوتے پر حکومت کِسی کی بھی ہو وہ ہمیشہ کوئی نہ کوئی ”مالی عہدہ“ لینے میں کامیاب ہوجاتے ہیں، وہ پیپلزپارٹی یعنی زرداری کے بھی وزیر خزانہ تھے۔ تب عمران خان اُن پر بڑی تنقید کرتے تھے، اِس تنقید کا بدلہ حفیظ شیخ نے اب اُن کا ”وزیرخزانہ“ بن کر لے لیا ہے، ہماری اُن سے گزارش ہے اپنا بدلہ وزیراعظم عمران خان تک ہی محدود رکھیں، اِس بدلے کا دائرہ غربت اور مہنگائی سے پِسے ہوئے عوام تک وسیع نہیں ہونا چاہیے۔ اُن کا پی ٹی آئی سے کوئی تعلق نہیں، بطور وزیر یا مشیر خزانہ نہ اُن کی تقرری سے اِس تاثر کو مزید تقویت مِلی ہے پوری پی ٹی آئی میں ایک شخصیت ایسی نہیں جو ملک کے مالی معاملات کو اچھی طرح چلاسکے، اسد عمر سے بڑی اُمیدیں تھیں۔ وہ خود بھی پُراُمیدتھے، افسوس اپنی اُمید سمیت کسی کی اُمیدوں پر وہ پورا نہیں اُتر سکے، البتہ اِس حوالے سے اُنہوں نے بڑے کردار کا مظاہرہ کیا مزید کوئی عہدہ سنبھالنے سے معذرت کرلی۔ اُمید ہے اُن کی یہ معذرت ملک وقوم کے لیے بڑی مبارک ثابت ہوگی، ٹلیوں اور ٹرینوں کے وزیر شیخ رشید فرماتے ہیں ”وہ اسد عمر کو کوئی اور محکمہ لینے پر مجبور کریں گے“۔ ....ایسی صورت میں اسد عمر کو چاہیے وہ بھی پی ٹی آئی یا ملکی مفاد میں شیخ رشید کو مجبور کریں کہ وزارت وغیرہ چھوڑ دیں، بلکہ ہوسکے تو سیاست وغیرہ بھی چھوڑ دیں۔ اپنے سابقہ محسنوں شریف برادران کو بُرا بھلا کہہ کر اپنی سیاست زیادہ سے زیادہ مزید کتنا عرصہ وہ چمکا لیں گے ؟۔ اب مختلف ٹاک شوز میں بولتے بولتے اچانک وہ خاموش ہو جاتے ہیں، یا تو اُن کا ضمیر اُنہیں ملامت کرتا ہے یا مزید جھوٹ بولنے کی اُن میں سکت نہیں رہی۔ ویسے یہ امکان بہت کم ہے وہ سیاست چھوڑدیں، اُن کا تعلق پنڈی سے ہے اور پنڈی والوں کو ایسے ”لوٹوں“ کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی ضرورت اکثر محسوس ہوتی رہتی ہے، عمران خان نے فرمایا تھا ”شیخ رشید کو میں اپنا چپڑاسی بھی نہ رکھوں“۔ ....پھر یہ ہوا اپنے وزیراعظم بننے کی مجبوری میں وہ اُسے اپنا وزیر بنانے پر مجبور ہوگئے، اور اب وقتاً فوقتاً اُس کی تعریفیں کرنے پر بھی مجبور ہیں۔ وہ جتنی چاہیں اُس کی تعریفیں کرلیں پر یاد رکھیں یہ ”لوٹا“ زیادہ عرصے تک کسی کے ”ٹائلٹ“ میں نہیں رہ سکتا ،.... بہرحال ہم یہ توقع کررہے تھے نوماہ بعد عوام کو کچھ ایسے ریلیف ملنا شروع ہوجائیں گے جو وزیراعظم کے دعووں یا نعروں کے مطابق سو دِنوں بعد مِلنے شروع ہو جانے تھے، افسوس نوماہ میں تبدیلی کا ”کاکا“ یا ”کاکی“ ہونا تو دورکی بات ہے تبدیلی کا ”کھسرا“ بھی نہیں ہوا، اب محض کابینہ میں تھوڑی بہت تبدیلی کرکے عوام کو نیا لالی پاپ دے دیا گیا ہے، عوام اب نئے سِرے سے اِس اُمید سے بندھ گئے ہیں کابینہ میں ردوبدل سے ہی اُن کے حالات شاید بہتر ہوجائیں، اِس ”معجزے“ کے امکانات اِس لیے ذرا کم ہیں کابینہ میں تبدیلی کے بعد جِن لوگوں کو مختلف عہدوں سے نوازا گیا وہ پہلے بھی مختلف حکومتوں کا حصہ رہ چکے ہیں، پہلے بھی وہ کِسی حیثیت میں ایسی کارکردگی نہیں دکھا سکے کہ اب اُن سے کوئی اُمید باندھی جائے، .... پی ٹی

آئی والوں کا یہ مو¿قف بڑا جائز ہے کہ ستر برسوں کی گندگی نوماہ میں صاف نہیں ہوسکتی، بلکہ میرے خیال میں تو سات برسوں میں بھی صاف نہیں ہوسکتی، مگر اِس گندگی میں اضافہ تو نہیں ہونا چاہیے، پنجاب میں یہ اضافہ بڑی تیزی سے ہورہا ہے، وزیراعظم کو جلد یا بدیر ضرور یہ احساس ہوگا وزیراعظم بننے کے بعد سب سے بڑی غلطی اُنہوں نے پنجاب کے وزیراعلیٰ کے انتخاب میں کی، اور اِس پر بلنڈر یہ کہ اِس انتخاب کو مسلسل ”حسنِ انتخاب“ قرار دے رہے ہیں، اِس ”حُسنِ انتخاب“ نے دیگر نااہلیوں کے ساتھ ساتھ یہ کیا کہ پنجاب میں چُن چُن کر اپنے ایسے رشتہ داروں کو اہم انتظامی عہدوں سے نوازاجِن کی شہرت یہ ہے گندے نالے میں گرے ہوئے نوٹ منہ سے اُٹھانا پڑیں، اُس سے بھی گریز نہیں کرتے،.... ہمارے محترم وزیراعظم اپنے اِس ”حُسن انتخاب“ کو بہت ایماندار قرار دیتے ہیں، ایماندار تو محترم وزیراعظم خود بھی بہت ہیں۔مگر اب شاید پاکستان میں یہ المیہ بھی ثابت ہونے جارہا ہے ”اہلیت“ ....ایمانداری سے زیادہ اہمیت کی حامل ہوتی ہے، ہمیں تو اب بھی اپنے وزیراعظم کی نیک نیتی پر کوئی شبہ نہیں،پر اُن کے ساتھ جو ٹیم جُڑی ہوئی ہے یا جوڑ دی گئی ہے وہ اُن کے بلند اور نیک مقاصد میں اُنہیں کبھی کامیاب نہیں ہونے دے گی، نوماہ میں حکومت نے جِن نااہلیوں کے مظاہرے کیے اُن کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ زرداری اور شریف برادران کی لُوٹ مار کو لوگ اب آہستہ آہستہ نظرانداز کرتے جارہے ہیں ،اُوپر سے ایک انتہائی غلیظ سسٹم کی موجودگی میں اِن چوروں اور ڈاکوﺅں سے ”برآمدگی“ بھی نہیں ہورہی، اُن میں سے کوئی خوفزدہ نہیں ہے، سب کو پتہ ہے حکومت تبدیل ہوئی ہے سسٹم تبدیل نہیں ہوا، وہ اس یقین میں مبتلا ہیں بجائے اِس کے عمران خان سسٹم تبدیل کرے سسٹم عمران خان کو تبدیل کردے گا،جوبہت حدتک سسٹم نے اُنہیں کر بھی دیا ہے، اُن کے بے شمار اقدامات اس کے گواہ ہیں .... کہا جارہا ہے ”بیوروکریسی نیب وغیرہ سے خوفزدہ ہے اِس لیے وہ کوئی کام نہیں کررہی، میرے نزدیک یہ تاثر بالکل غلط ہے، بیوروکریسی نے کسی خوف کے تحت نہیں بلکہ موجودہ حکمرانوں کو ناکام بنانے کے لیے کام کرنا چھوڑے ہوئے ہیں، کیونکہ محترم وزیراعظم نے آتے ہی نعرے لگادیئے تھے ” ہم افسروں سے بڑے بڑے بنگلے اور گاڑیاں وغیرہ چھین لیں گے، اور ہم خود کھائیں گے نہ کسی کو کھانے دیں گے .... وغیرہ وغیرہ“ ....بیوروکریسی نے اِن نعروں اور دعووں کو اللہ جانے اب تک اتنا سیریس کیوں لیا ہوا ہے ؟؟؟


ای پیپر