لسانی عصبیتوں کے پرچارک پریشر گروپس
23 اپریل 2018 2018-04-23


کڑوا سچ یہ ہے کہ محض یہ بتانے سے کہ وطن عزیز نے ترقی کی کہکشاں پر کمندیں پھینک دی ہیں اور معاشی شعبوں میں بے انتہا ترقی ہوئی ہے اور اس ترقی کے ثمرات عام آدمی تک پہنچانے کو یقینی بنانے کے لیے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا جائے گا، کافی نہیں ہوا کرتا۔ حکمرانوں کے بیانات جب تک زمینی حقیقت نہیں بنتے، انہیں ارباب بصیرت محض لفظی اسراف سے تعبیر کرتے ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہر مہذب جمہوری ملک میں ارباب حکومت پسماندہ اور محنت کش طبقات کی بحالی کے لیے ایسے مربوط فلاحی اقدامات کرتے ہیں جو ان کے معیارِ زندگی کو بلند کرنے میں معاون کا کردار ادا کر سکیں۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے بین الاقوامی چارٹر کے مطابق صحت ، تعلیم ، ماحول اور علاج کیلئے بچوں کو بنیادی سہولتیں ترجیحاتی بنیادوں پر فراہم کرنا ہر ذمہ دار ریاست کے ارباب حکومت کا اولین فرض ہوتا ہے۔ پاکستان میں شہریوں اور بچوں کی محرومیوں کی جڑیں دھرتی اور تاریخ میں انتہائی گہری ہیں۔ گردو پیش پھیلی یہ محرومیاں جو غریب والدین کو اپنے پھولوں اور کلیوں ایسے نرم و نازک اور معصوم بچوں کو محنت و مشقت اور روٹی روز گار کے لیے تپتے صحرا میں حوادث کے بگولوں کا رزق بننے پر مجبور کر دیتی ہیں، در حقیقت ان محرومیوں نے استحصالی سرمایہ دارانہ نظام ، طبقاتی تفریق اور معاشی نا ہمواریوں کی کوکھ سے جنم لیا ہے۔
یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ جاگیردارانہ، کارخانہ دارانہ اور سرمایہ دارانہ پس منظر رکھنے والے لا شمار حضرات و خواتین مختلف ادوار میں اقتدار و اختیار کی بلند ترین شہ نشینوں پر براجمان رہے اور آج بھی ہیں ۔ ان میں سے کسی نے بھی کبھی خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والے محروم طبقات اور ان کی نسلوں کی فلاح و بہبود کا نہیں سوچا۔ پاکستان ہی نہیں یورپ اور امریکا کے بڑے شہروں میں ان کی عیاشانہ، شاہانہ اور رئیسانہ جائیدادوں اور آفشور کمپنیوں میں اضافہ روز افزوں ہے جبکہ ان کی جاگیروں میں بسنے اور کارخانوں میں دس پندرہ ہزار روپے ماہانہ پر مزدوری نیکرنے والے محنت کش بے زر اور بے در پیدا ہوتے اور ان کے بچے فٹ پاتھوں، گرین بیلٹوں ، پارکوں ، انڈر پاسوں اور بڑے پلازوں کے تھڑوں کے نیچے سرد و گرم موسموں کے جبر سے پناہ ڈھونڈتے زندگی بسر کردیتے ہیں۔97فیصداستحصالی طبقات سے تعلق رکھنے والے تین فیصد پاناموی اور اقاموی سیاسی و صنعتی خاندان ملک بھر کے تمام وسائل اور ذرائع آمدن پر قابض ہیں۔
مقام حیرت ہے کہ اس سیاہ منظرنامے کے باوجود گزشتہ10 برسوں سے منتخب جمہوری حکمرانوں کے معاشی خود کفالت، اقتصادی خودانحصاری ، صنعتوں کے فروغ، مقامی و بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی، میرٹ کی بحالی اور عام آدمی کے معیار زندگی کی سر افرازی کے بلند بانگ دعوے ملک کے طول وعرض میں گونج رہے ہیں اور دوسری جانب عالمی ادارے اور غیر جانبدار اقتصادی ماہرین اربابِ حکومت کے ان دعووں کی قلعی کھولنے کے لئے ایسی رپورٹس شائع اور جاری کر رہے ہیں جن کے ذریعے وطنِ عزیز کے شہریوں اور عالمی برادری کو یہ باور کروایا جا رہا ہے کہ معاشی خوشحالی اور عام آدمی کے معیارِ زندگی کے حوالے سے پاکستان کا شمار آج بھی دنیا کے پسماندہ ترین ممالک میں ہوتا ہے۔ معاشی طور پراس پسماندہ ترین ملک کے شہری دنیا کے غریب ترین اور ان کے منتخب جمہوری حکمران دنیا کے امیر ترین حکمرانوں میں شمار ہوتے ہیں۔المیہ تو یہ ہے یہ حکمران جی حضوریوں اور خوشا مدیوں کے محدود دوائر میں محبوس و محصور ہیں جس کی وجہ سے ان کا عوامی رابطہ انتہائی کمزور ہے۔ وہ خوشامدیوں کے حصار میں گھرے رہنے کو ترجیح دیتے ہیں اور یہ خوشامدی اپنی نوکری پکی کرنے کے لئے انہیں صبح و شام ’’سب اچھا ‘‘کی ’’سریلی، مسکّن اور خواب آور راگنی ‘‘سنا کر حقائق کی دنیا سے دور لے جاتے ہیں۔دولت کے نشے میں بد مست یہ حکمران بذات خود بھی حقائق کا سامنا کرنے سے کتراتے اور گھبراتے ہیں۔وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ آزاد میڈیا اور آزاد عدلیہ کے اس دور میں حقائق کو تادیر پردۂ اخفا میں نہیں رکھا جا سکتا۔
ایک عالمی ادارے یو این ڈی پی (یونائیٹڈ نیشنز ڈویلپمنٹ پروگرام) کی ایک مطبوعہ رپورٹ کے مندرجات کے مطابق ’’ پاکستان میں آبادی کے 44فیصد افراد غربت کی آخری لکیر سے بھی نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں، ملک میں2کروڑ20لاکھ بچے چائلڈ لیبر کا شکارہیں،جن 75فیصد بچوں کو سکولوں میں داخلہ ملتا ہے، ان میں سے 25فیصدبچے پرائمری سے قبل ہی سکول چھوڑ دیتے ہیں جبکہ صرف 27 فیصد بچے سیکنڈری سکولوں میں داخلہ لیتے ہیں، پاکستان میں 80فیصد بیماریاں صرف اس وجہ سے ہوتی ہیں کہ لوگوں کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں، پانچ سال سے کم عمر کے 38فیصد بچے کم خوراک اور بھوک کا شکار ہیں، صرف 15فیصد حاملہ خواتین کو قدرے طبی سہولیات میسر ہیں، پاکستان میں 10میں سے 7افراد کسی نہ کسی جسمانی مرض کا شکار ہیں جبکہ 10میں سے 9افراد ذہنی امراض میں مبتلا ہیں‘‘۔ اس رپورٹ کے اعداد و شمار کی تغلیط و تردید کی جا سکتی ہے لیکن اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ ملک کی ایک قابل ذکر آبادی غربت کی لکیر سے نیچے حیوانی سطح پر زندگی بسر نہیں کر رہی۔22 کروڑشہریوں میں سے چند کروڑ کو پینے کے صاف پانی کی بنیادی سہولت حاصل ہے۔ لیکن حکومتی دعووں کے مطابق ’’تمام بچوں کے لئے حصولِ تعلیم کے دروازے کھلے ہیں اور ہر شہری کے لئے علاج معالجہ کی سہولیات مطلوبہ عالمی معیار کے مطابق مہیا ہیں‘‘۔اس کے برعکس پاکستان کی سب سے بڑی عدالت انصاف کے چیف جسٹس ثاقب نثار کے ریمارکس ہیں کہ ’پنجاب میں نظام تعلیم کا بیڑا غرق کر دیا ، یہ ہے کارکردگی پنجاب حکومت کی‘۔
پاکستان ایسے ممالک میں جہاں تعلیم کے لیے بجٹ میں انتہائی قلیل رقم مختص کی جاتی ہے، وہاں اساتذہ معاشی طور پر کبھی آسودہ اور خوشحال نہیں ہو سکتے۔ جب اساتذہ معاشی طور پر آسودہ اور خوشحال نہ ہوں اور وہ اپنی قلیل تنخواہ میں اپنے اور اپنے بچوں کے لیے تین وقت کی خوراک ، پوشاک ، رہائش اور علاج معالجے کی بنیادی ضروریات کو بھی پورا نہ کر سکیں تو ذہنی پریشانی اور اعصابی تناؤ کے عالم میں ان کے لیے تدریس و تعلم کا فرض ادا کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ نا ممکن ہو جاتا ہے۔ یوں تو موجودہ حکومت کی جانب سے فروغ تعلیم کی باتیں بہت کی جاتی ہیں لیکن زمینی حقائق انہیں زبانی جمع خرچ کے کھاتے میں ڈالتے ہیں۔ پرائمری سکول کے اساتذہ کی تنخواہ کم از کم سوا تولہ سونے کی قیمت کے برابر ہونا چاہیے۔ مڈل سکول کے اساتذہ کی تنخواہ کسی بھی طور ڈیڑھ تولہ سونا کے نرخ سے کم نہیں ہونا چاہیے۔ ہائی سکول کے اساتذہ کو کم از کم اتنی پر کشش تنخواہیں تو دی جانا چاہئیں جتنی موجودہ حکومت موٹر وے پولیس کے ایک انسپکٹر کو دیتی ہے۔یہ کیسی حیران کن بات ہے کہ ہماری وفاقی حکومت جتنا بجٹ سولہ کروڑ عوام کے بچوں کو تعلیمی سہولیات فراہم کرنے کے لیے مختص کرتی ہے، امریکہ اور دیگر کئی ترقی یافتہ ممالک میں اتنا بجٹ صرف ایک یونیورسٹی کے لیے مختص کیا جاتا ہے۔ یوں تو ہم ہر معاملے میں امریکہ اور مغرب کی پیروی کو روشن خیالی کی دلیل اور سند تصور کرتے ہیں لیکن جب تعلیم کا معاملہ آتا ہے تو ہم افریقہ کے پسماندہ ترین ممالک کو بباطن اپنا آئیڈیل بنا لیتے ہیں۔ تعلیمی پسماندگی کے لحاظ سے پاکستان بنگلہ دیش اور سری لنگا ایسے چھوٹے ممالک سے بھی کہیں پیچھے ہے۔
یہ جمہوری جلالۃ الملک اور منتخب مہا بلی حصول تعلیم، علاج معالجہ کی سہولیات اور صاف پانی کی فراہمی کو اپنی ترجیح کیسے بنا سکتے ہیں۔ وہ تو غسل بھی امپورٹڈ فرنچ منرل واٹر سے کرتے ہیں اور 22 کروڑ شہریوں کی اکثریت صاف پانی کی بوند بوند کو ترستی ہے۔ وہ ہسپتالوں کی حالت زار پر کیوں توجہ دیں کہ اُن کو تو علاج معالجے کی سہولیات لندن کے مہنگے ترین ہسپتالوں میں حاصل ہے جہاں وہ ہر دوسرے تیسرے ماہ اپنے میڈیکل چیک اَپ کے لیے جاتے ہیں۔ وہ سکولوں کی حالت کو عالمی معیار کے مطابق کیوں بنائیں کہ اُن کے نواسے اور پوتے تو برطانیہ اور امریکہ کے مہنگے ترین تعلیمی اداروں سے مہنگی ترین ڈگریاں خریدنے کی قوت رکھتے ہیں۔ زرداریوں، نوازشریفوں ، چودھریوں اور ترینوں کو عام آدمی کے مسائل کی کیا خبر۔ اُن کی بے ضابطگیوں، بے قاعدگیوں، بدعنوانیوں اور قومی خزانے پر شب خون مارنے کی داستانیں زبان زد عام ہیں۔ بیرون ملک اُن کے کھربوں کے اثاثے ہیں، اس ملک میں اُن کا رکھا ہی کیا ہے۔ اُن کے صاحبزادوں کی شہریت بھی تو برطانیہ کی ہے اور انہوں نے پاکستان سے وفاداری کے بجائے ملکہ برطانیہ کی وفاداری کا حلف اُٹھا رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں ریاست مخالف کوئی بھی تحریک اُٹھے وہ اس کے سرپرست بن جاتے ہیں۔ یہ امر غنیمت ہے کہ حالیہ برسوں میں ڈکٹیٹر ضیاء الحق کے دور میں قائم ہونے والی اکثر تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کی کتاب سیاست پر دی اینڈ لکھ دیا گیا ہے۔ ایم کیو ایم، سپاہ صحابہ، سپاہ محمد، جیش محمد ، بلوچ لبریشن فرنٹ، بلوچ لبریشن ملیشیاز ، ٹی ٹی پی اور دیگر وطن دشمن اور امن دشمن جماعتوں کی سیاہ کاریوں کا دور ختم ہو چکا ۔ اب نئی تحریکیں ان لٹیرے سیاستدانوں کی سرپرستی میں فاٹا اور سوات میں پروان چڑھائی جا رہی ہیں۔ عدلیہ اور افواج پاکستان کے مخالف نعرے ان کے جلسوں، جلوسوں اور ریلیوں میں گونج رہے ہیں۔ یہ لسانی بنیادوں پر قائم کی جانے والی تحفظ تحریکیں اور لاپتا افراد کی بازیابی کا ناٹک رچانے والی فارن فنڈڈ این جی اوز اور ان کے رہنما جنہیں را، سی آئی اے اور این ڈی ایس کی بھی سرپرستی حاصل ہے، اس قابل نہیں کہ انہیں کھل کھیلنے کے مواقع ارزاں کیے جائیں۔ ماضی میں یہی لوگ پختونستان، گریٹر بلوچستان، سندھو دیش اور جاگ پنجابی جاگ ایسے نعرے لگا کر لسانی عصبیتوں کو پروان چڑھاتے رہے ہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ ان کے چہروں پر پڑے ہوئے سیاست کے دبیز نقابوں کو نوچ دیا جائے اور ان کا اصل چہرہ عوام کو دکھایا جائے۔
موجودہ حکمرانوں کے پیش کردہ پانچ بجٹوں میں سے ہر بجٹ امیروں کا بجٹ رہا اور حکومت غریب مکاؤ پالیسی پر ایک تسلسل کے ساتھ بلا توقف انتہائی سنگدلی سے عمل پیرا رہی۔ موجودہ حکومت کے تمام بجٹ ملک کے بالائی طبقہ (ELITE CLASS) ملٹی نیشنلز ،سرمایہ داروں اور کارخانے داروں کے مفاد ت کے آئینہ دار رہے جبکہ متوقع بجٹ بھی غریب عوام کو ریلیف دینے کا باعث نہیں بنے گا۔ بلا خوف تردید پورے تیقن کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ حکومت کے اقتصادی مشیروں کی جانب سے اقتصادی ترقی کے جو دعوے کیے جاتے رہے ، ان کی حیثیت افسانے سے زیادہ نہیں۔ سرکاری ملازمین حکومت کی جانب سے تنخواہوں میں اضافے کے اعلان کو اونٹ کے منہ میں زیرے سے تشبیہہ دیتے رہے۔یاد رہے کہ محنت کش طبقات کو کسی ایک جلسہ ،جلوس ، سیمینار ، سیمپوزیم اور ریلی سے خطاب کے دوران سنہرے مستقبل کے خواب دکھاتے ہوئے ’’گا، گے ، گی‘‘ کی راگنی الاپنے والے حکمران تادیر اپنی مقبولیت ، محبوبیت اور ہر دلعزیزی کو قائم اور بر قرار نہیں رکھ سکتے۔


ای پیپر