کراچی کی سیاست اور شہباز شریف
23 اپریل 2018 2018-04-23


حصول اقتدار کے لئے کراچی اہم بنتا نظر آرہا ہے۔ کثیر لسانی سندھ کے دارالحکومت اس شہر میں مختلف زبانوں علاقوں، اور نسل کے لوگ ہی آباد نہیں بلکہ مختلف مکاتب فکر، مذاہب ، سیاسی خیالات کے لوگ ایک ہی شہر میں بہت بڑی تعداد میں رہتے ہیں۔ پاکستان کے کسی اور شہر یا علاقے میں یہ کثیر رنگی موجود نہیں۔ گزشتہ برسوں کے دوران تحریک انصاف اور جماعت اسلامی خاص طور پر سرگرم رہیں۔ لیکن وہ کوئی زیادہ حصہ نہیں نکال پائیں۔ کراچی جو پچاس اور ساٹھ کے عشرے میں سیاسی فکر کے حوالے سے ترقی پسند اور روشن خیال سوچ کے ساتھ کھڑا تھا، مزدور اور طلباء تحریکیں اس شہر کی پہچان تھیں۔ یہ تحریکیں مقبول، رائے عامہ خواہ دانش و فکر کے طور پر تو تھی ہی لیکن اقتدار کے ایوانوں پر بھی اثر انداز ہو رہی تھیں۔ اس نے 70 ء کے انتخابات میں اپنا مذہبی رنگ دکھایا۔ اور یہاں سے مولانا شاہ احمد نورانی کی جمعیت علمائے پاکستان اور جماعت اسلامی جیتی۔ پیپلزپارٹی کے حصے میں کچھ آیا، لیکن انتخابی نتائج پرزیادہ تر چھاپ دیوبندی اور بریلوی مکاتب فکر رکھنے والی ان دو مذہبی جماعتوں کی تھی۔ 70کا عشرہ اس کشمکش میں گزرا کہ شہر میں مذہبی سیاست حاوی ہو یا ترقی پسند، لبرل سوچ۔ ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف پاکستان قومی اتحاد کی تحریک میں جمعیت علمائے پاکستان اور جماعت اسلامی کی قیادت میں اس شہر نے سرگرم کردار ادا کیا۔ ضیا دور میں شہر میں لسانی سیاست زور پکڑتی گئی جس کا بیج 70 کے عشرے میں بویا گیا تھا۔ پہلے یہ لسانی سیاست مہاجر سیاست کے طور پر سامنے آئی۔ آل پاکستان مہاجر سٹوڈنٹس آرگنائزیشن، اور پھر ایم کیو ایم کی شکل میں سامنے آئی۔ پنجابی لسانی سیاست پنجابی پختون اتحاد کے نام سے ملک اعوان نے کرنے کی کوشش کی ۔ پنجابی لسانیت کا کھلا اظہار 88 ء کے انتخابات کے بعد مدھم پڑ گیا۔ بعد میں پشتون اور سندھی عنصر بھی شامل ہوئے۔ پشتون لسانی کا کھلا اور بھرپور اظہار مشرف دور میں رہا۔ اس تمام عرصے میں گاہے گاہے ان لسانی گروہوں کے درمیان مسلح تصادم بھی ہوتے رہے۔ جس کے نتیجے میں سینکڑوں جانیں ضایع ہوئیں۔ لسانی سیاست مروج ہونے کے بعد اس میٹروپولیٹن شہر میں مذہبی خواہ ترقی پسند فکر اور سیاست بڑی حد تک ہلکی پڑگئی۔ ضیاء الحق نے روایتی مذہبی سیاسی جماعتوں کی جگہ پر مختلف مکاتب فکر میں نئے مذہبی گروپ پیدا کئے تاکہ پاکستان کا یہ بڑا شہر مذہبی بیانیے سے باہر نہ جاسکے۔ اور اس شہر کا کنٹرول اسلام آباد سے ہو سکے۔ مشرف دور میں کراچی میں جہادی عنصر کا ظہور ہوا۔ ایک مذہبی مکتب فکر رکھنے والے دوسری فکر کی مساجد پر قبضے کرنے لگے۔
ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن اور اس کے اندر گروہ بندیوں نے ایک نئی صورت حال پیدا کردی۔ اور ہر فکر اور سیاست کے لوگ اپنی جگہ بنانا چاہ رہے ہیں۔ یہ صورت حال نئی صف بندی کا تقاضا کر رہی ہے۔ مذہبی جماعتوں کے محاذ کامتحدہ مجلس عمل کی شکل میں دوبارہ وجود سامنے آیا ہے۔ متوازی اور متصادم فکر رکھنے والی مذہبی جماعتیں ایک ساتھ ہیں۔ یہ اتحاد اپنی نوئیت میں اگرچہ نیا نہیں۔ ذولفقار علی بھٹو کے خلاف چلنے والی پی این اے کی تحریک میں بریلوی خواہ دیوبندی مکاتب فکر کی سیاسی جماعتیں، جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام، اور جمعیت علمائے پاکستان وغیرہ ایک ساتھ تھیں۔ بعد میں مشرف دور میں بھی ان جماعتوں کا ساتھ رہا۔اب کراچی میں لبیک یا رسول اللہ بھی سرگرم ہو گئی۔ ماضی میں بریلوی مکتب فکر کا بڑا مرکز کراچی رہا ہے جس کی قیادت مولانا شاہ احمد نورانی کرتے تھے۔ اس فکر اور تنظیم نے احمدیوں کے خلاف مہم، خواہ پی این اے کی تحریک میں بھرپور کردار ادا کیا۔ مولانا شاہ احمد نورانی کے انتقال کے بعد اور سیاست میں مسلح اور جہادی عنصر آنے کے بعد بریلوی فکر کا مرکز کراچی سے پنجاب منتقل ہو گیا۔ ایم کیو ایم کے اندر پہلی دراڑ حقیقی کی شکل میں پڑی تھی۔ دوسری دراڑ تب پڑی جب ایک گروپ نے سنی تحریک کے نام سے اپنی شناخت کرائی۔ یہ دراصل بریلوی کتب فکر کے لوگ تھے۔ لیکن سنی تحریک سیاسی طور پر اپنی جگہ نہیں بنا پائی۔ کراچی میں اس مکتب فکر کے حوالے سے خلا موجود تھا، جس کو پنجاب میں قائم ہونے والی لبیک یا رسول اللہ جماعت آکر بھرنے کی کوشش کر رہی ہے۔اس جماعت نے گزشتہ چند ہفتوں کے دوران عوام میں اپنے وجود کا بھرپور اظہار کرنے کی کوشش کی ہے۔ اپنے کام کا آغاز فلاح عامہ کے کاموں سے کیا۔ میڈیکل کیمپ لگائے اور دیگر 250 سے زائد کیمپ منعقد کئے۔ کراچی میں تاجر برادری میں سوچ کی جڑیں رکھنے کی وجہ سے بریلوی مکتب فکر کے پاس مالی وسائل بھی ہیں اور ووٹ بھی۔ وہ ماضی میں اس کا مظاہرہ بھی کر چکے ہیں۔ لیکن یہ جماعت نواز لیگ مخالف ہونے کے باوجود مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کا حصہ نہیں۔لہٰذا کراچی میں یہ جماعت ایم ایم اے کے متوازی اور مخالف کھڑی نظر آتی ہے۔ جس کا اظہار انتخابات میں ہوگا۔
کراچی کی سیاست خواہ کچھ بھی ہو لسانی بنتی جارہی ہے۔اکثرسندھی اور بلوچ آبادی پیپلزپارٹی کو ووٹ دینے جارہی ہے۔ اردو بولنے والوں کا ووٹ بڑی حد تک تقسیم ہوگا لیکن یہ تقسیم آپس میں ہی ہوگی۔ یہاں بسنے والے پنجابی نواز لیگ کو وٹ دیں گے۔ پختون ووٹ عوامی نیشنل پارٹی، تحریک انصاف اور مولانا فضل الرحمٰن کی جے یو آئی میں تقسیم ہوگا۔ بلدیاتی انتخابات میں پنجابی اور ہزارہ بیلٹ سے تعلق رکھنے والی آبادی نے نواز لیگ کو ووٹ دیا تھا۔ یہ امر دلچسپ ہے کہ گزشتہ بلدیاتی انتخابات اور 2013ء کے عام انتخابات کے رجحانات مختلف رہے۔ 2013ء کے انتخابات میں تحریک انصاف نے کراچی سے مجموعی طور پر آٹھ لاکھ کے لگ بھگ ووٹ لئے تھے۔ لیکن بلدیاتی انتخابات میں اس کا یہ ووٹ سامنے نہیں آیا۔
نواز لیگ کے صدرشہباز شریف نے ایک ہفتے میں کراچی شہر کا دوسرا دورہ کیا۔ پورے سندھ کے بجائے ان کا زور صرف اس کے دارالحکومت کراچی پر ہے۔ انہوں نے ایم کیو ایم بہادرآباد کے خالد مقبول صدیقی اور اس کے ساتھیوں، عوامی نیشنل پارٹی کے شاہی سید سے ملاقاتیں کیں۔ اور لیاری میں پارٹی ورکرز کنونشن سے خطاب کیا۔ شہباز شریف کہتے ہیں کہ کراچی والے بنی گالہ اور بلاول ہاؤس کے دھوکے میں نہ آئیں۔ یہ دونوں ہم نوالہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی کو نظر نہیں آتا۔ کراچی کی اگر ترقی چاہتے ہو تو نواز لیگ کو ووٹ دیں۔ شہباز شریف کے یہ دو جملے ’’ہمیں کراچی میں اپنی طاقت کا اندازہ ہے، سب مل کر ساتھ چلیں ‘‘ معنی خیز ہیں۔ ایم کیوایم جو خود گروپوں میں بٹی ہوئی ہے لیکن ماضی میں اس نے کسی اور جماعت سے انتخابی اتحاد نہیں کیا، اور اب بھی نہیں کرے گی۔ ایسے میں شہباز شریف ایم کیو ایم کے رہنماؤں سے ملاقات کرکے یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ نواز لیگ ایم کیو ایم کے خلاف نہیں۔نواز لیگ کی کوشش ہے کہ پختون اور پنجابی ووٹ ایک جگہ پر جمع ہو۔ شہباز شریف کی حالیہ کوشش اس کی ایک کڑی نظر آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پیپلزپارٹی نے شہباز شریف کی کراچی کی سیاست میں انٹری کو خطرے کی گھنٹی قرار دیا ہے۔ اور کراچی کے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ پرانے شکاریوں سے بچیں۔
سندھ میں پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف جلسے کر رہی ہیں، ایسے میں نواز لیگ سندھ کے منظر نامے سے غائب تھی۔ لہٰذا سندھ میں نواز لیگ کو سرگرمی دکھانی ضروری تھی۔ لیکن اس سرگرمی میں دو نقص ہیں، ایک یہ کہ صرف کراچی تک محدود ہے، دوسری یہ کہ سرگرمی نواز شریف کے بجائے شہباز شریف کے ذریعے کی جارہی ہے، جن کا سندھ میں امیج سافٹ نہیں بلکہ ہارڈ ہے۔


ای پیپر