آئین، عدلیہ اور حکومت
23 اپریل 2018 2018-04-23


منصف اعلیٰ ایک بارپھر گرجے ہیں۔ اس بار انہوں نے تعلیم کا معاملہ اٹھایا ہے کہ پنجاب میں تعلیم کا بیڑا غرق ہے۔ شہباز شریف سے میرٹ کا حساب مانگا ہے تو وہاں خواجہ سعد رفیق کوبھی اشارے میں پیغام پہنچایا ہے۔ کچھ سوال احسن اقبال سے پوچھے ہیں۔ محترم چیف جسٹس ثاقب نثار 31 دسمبر 2016ء کو عہدے پر فائز ہوئے۔ اُن کے منصب پر فائز ہوتے ہی ’’پانامہ کیس‘‘ چھایا رہا۔ وزیر اعظم نواز شریف کو ہٹایا گیا۔ مسلم لیگ کی حکومت جس کو اگست 2014ء کے بعد سکون کا ایک دن بھی کام کے لیے میسر نہیں ہوا ، اب اس کی مدت کا خاتمہ دنوں کی بات ہے۔ جوڈیشل ایکٹوازم نے اتنی شدت اختیار کر لی ہے کہ خود سینئر وکلاء کی طرف سے بھی اعتراض اٹھنا شروع ہو گئے ہیں۔ میاں ثاقب نثار کے مطابق سندھ سے لے کرخیبر پختونخوا تک صوبائی حکومتوں کی کارکردگی کا سوال اٹھایا گیا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ وہ جو کچھ بھی کر رہے ہیں، آئین کے اندر رہ کر کرتے ہیں مگر اس سے منفی تاثر ایک سیاسی جماعت کی طرف جا رہا ہے۔ اسی کے رہنما زد میں ہیں ۔ وہی توہین عدالت کی زد میں آ رہے ہیں۔ یہ وقت عوام کے فیصلے کا ہے جو جولائی 2018ء کے تیسرے یا آخری ہفتے یہ فیصلہ کرنے والے ہیں کہ کس حکومت کی کارکردگی بہتر تھی۔ مگر نئے نئے سوال اٹھ رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کے ایک امیدوار نے قیادت کی اجازت سے سینیٹ انتخاب میں کروڑوں میں ووٹ خریدے۔ یہ معاملہ تو آپ کی توجہ کا طالب ہے۔ تحریک انصاف کی قیادت کو کس نے حکم دیا کہ ووٹ سنجرانی کو دینا ہے، یہ الزام لگایا ہے سراج الحق نے۔ ایک آئینی ادارہ کیا برائے فروخت ہے۔ یہ سوال آئین اور قانون کا ہے۔ ایک ایسا ملک جہاں آئین متحرک ہو، عدالتیں انصاف دے رہی ہوں اور حکومت اپنا وجود منوا رہی ہو تو ایسے ماحول میں جوڈیشل مارشل لا کی بات کی جا رہی ہو نامناسب ہے یہ اصطلاح پہلی بار اگست 2014ء میں سنی تھی جب جاوید ہاشمی نے اس منصوبہ سے پردہ اٹھایا تھا کہ مستقبل میں نواز شریف کی حکومت کو ہٹا کر کس طرح عدالتیں اپنی طاقت منوائیں گی۔ پھر جو کچھ بھی ہو گا عمران خان کے لیے جگہ نکلے گی۔ جاوید ہاشمی کے ان انکشافات کے بعد ابھی تک عدالت عظمیٰ کی جانب سے ہاشمی کو بلاوا نہیں آیا۔ از خود نوٹس جس انداز سے لیے جا رہے۔ آئینی امور کے ماہرین کی طرف سے اعتراض ہونے لگا ہے کہ عدلیہ کی اپنی حدود ہیں اس سے آگے وہ نہیں بڑھ سکتی مگر یہ اعتراض شدید ہو رہا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کو جوڈیشل مارشل لاء کی وضاحت کرنا پڑی کہ ایسا نہیں ہو گا سترہ جج کھڑے ہو جائیں گے۔ اس ملک میں صرف جمہوریت ہی چلے گی۔ اس کے باوجود یہ اعتراض اپنی جگہ ہے عدلیہ نہ انتظامیہ بن سکتی ہے اور نہ پارلیمنٹ کا متبادل۔جہاں تک سترہ ججوں کی بات ہے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے کے حوالے سے ماضی کچھ اور بتاتا ہے۔ ضیاء الحق کے دور کا پہلا چیف جسٹس جسٹس یعقوب علی خان تھا۔ مارشل لاء لگاتے ہی خود ضیاء الحق نے چیف جسٹس کے چیمبر میں جا کر ملاقات کی اور کہا کہ ہم نے مجبوراً مارشل لاء لگایا ہے۔ ہمیں آپ کا تعاون درکار ہے۔ چیف جسٹس نے مارشل لاء لگنے کے بعد بھی ضیاء الحق سے کہہ دیا تھا عدالتیں آئین کے مطابق کام کرتی رہیں گی۔ جسٹس میاں ثاقب نثار جو کچھ کر رہے ہیں وہ بنیادی حقوق کا سوال اٹھا رہے ہیں مگر کچھ سوال اُن کی طرف بھی جاتے ہیں۔
جب بھٹو کا مقدمہ آخری سماعتوں کی طرف بڑھ رہا تھا بھٹو دور میں زیر عتاب رہنے والے لوگوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر پی ٹی وی کے سامنے لایا گیا اورظلم کی داستانیں نشر کی گئیں بلکہ وائٹ پیپر بھی جاری کیا گیا جس میں بھٹو کی کردار کشی کا پورا سامان تھا۔ اس کو روکا جانا چاہیے تھا ۔ چیف جسٹس نے جب توہین عدالت کا نوٹس لیا تو تیر کمان سے نکل چکا تھا۔ اب ضیاء الحق نے عدلیہ پر ایک اور حملہ کیا تو ضیاء الحق نے ’’پرویژنل آرڈر‘‘ 1981ء جاری کر دیا۔ ضیاء الحق نے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججوں سے کہا وہ نیا حلف اٹھائیں اور جو جج حلف اٹھائے گا وہ چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر اور اس کے کسی ماتحت کے کسی حکم کو اپنے سامنے چیلنج ہونے کی اجازت نہیں دے گا۔ ضیاء الحق نے جسٹس مولوی مشاق اور جسٹس انوار الحق کو حلف اٹھانے کے لیے بلایا ہی نہیں تھا البتہ سپریم کورٹ کے جسٹس دراب پٹیل اور جسٹس فخر الدین جی ابراہیم نے ضیاء الحق سے کہا ہم یہ چیلنج قبول نہیں کر سکتے کیونکہ آپ مغربی اور اسلامی نظریے کے مطابق قانون سے بالاتر نہیں ہو سکتے۔ آپ جو بھی کام کریں گے اور جو اختیارات آپ کو نصرت بھٹو کیس میں دیئے گئے ہیں ان کے اوپر عدالتوں کو حق حاصل ہو گا کہ اگر کسی شہری کے حقوق پر زد پڑتی ہے تو اس کو حق حاصل ہے کہ عدالتوں میں آ کر اپنی داد رسی کے لیے پٹیشن پیش کرے۔ آپ چاہتے ہیں کہ حلف اٹھایا جائے کیونکہ آپ کے پاس فوجی طاقت ہے تو ہمارے پاس بھی اخلاقی طاقت ہے لہٰذا ہم اسے قبول کرنے سے انکا کرتے ہیں۔ اس زمانے میں جسٹس شیخ آفتاب حسین شریعت کورٹ کے چیف جسٹس تھے، انہیں کہا گیا کہ آپ کو او ایس ڈی بنایا جاتا ہے۔ انہوں نے استعفیٰ دے دیا کہ میرا ضمیر گوارا نہیں کرتا او ایس ڈی کیسے جج ہو سکتا ہے۔ یہ تو ضیاء الحق کے مارشل لاء کی بات ہے۔ ججوں نے ضیاء الحق کی اس شرط کو قبول کر لیا اور پی سی او حلف اٹھا لیا۔ بنیادی انسانی حقوق معطل ہو گئے۔ سیاسی جماعتیں اور جمہوریت دفن ہو گئی۔ دلچسپ بات یہ تھی اس زمانے میں سیاسی کارکنوں نے بھٹو کی پھانسی کے خلاف احتجاج بھی کیے جبکہ تین کارکنوں نے خود سوزی کرتے ہوئے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ اصل سوال یہ ہے کہ عدلیہ کی عزت توہین عدالت لگانے سے نہیں ہو گی۔ اگر کوئی سخت بات کرتا ہے اس کو توہین کے پہلو سے ہی حل نہیں کرنا چاہیے۔ بلکہ انصاف سے معاملہ حل ہونا چاہیے۔ چیف جسٹس کے متحرک ہونے سے حکومتیں بد دل ہو گئی ہیں۔ گڈ گورننس ایک دو ماہ میں کیسے آ سکتی ہے۔ یہ تو ستر سال کا روگ ہے جس کی ذمہ داری عدلیہ ، مقننہ اور انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے، جہاں 4 مارشل لاء حکومتیں فیل ہو گئی ہوں سیاست دان کیسے کامیاب ہو سکتے ہیں، جن کو مدت ہی پوری نہ کرنے دی گئی ہو۔


ای پیپر