شہباز شریف کی بڑھتی ہوئی مشکلات
23 اپریل 2018 2018-04-23


میاں نواز شریف کی تاحیات نا اہلی کے بعد پاکستان مسلم لیگ ن کی کشتی سیاست کی منجدھار میں ہچکولے کھا رہی ہے۔ ان حالات میں شہباز شریف پارٹی کی قیادت سنبھال چکے ہیں۔ جس بڑی کرسی پر انہیں بٹھایا گیا ہے اسے انگریزی میں Hotseat (بطور محاورہ) کہا جاتا ہے۔ جسے اردو میں چولہے پر رکھے گرم لوہے پر بیٹھنے کے مترادف کہا جائے گا۔ شہباز شریف اپنے انقلابی فیصلوں انتظامی مہارت اور اعتدال کی سیاست کے ماہر سمجھے جاتے ہیں لیکن انہیں وفاقی طرز حکومت کا تجربہ نہیں ہے۔ چھوٹے صوبوں کے ساتھ ڈیل کرنا اور انہیں برابری کا احساس دلانا اور منصفانہ حکومت کا تاثر دینا آسان کام نہیں ہے۔
شہباز شریف کے مستقبل کے کردار میں ان کی صحت کا عنصر بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ اس وقت ان کی عمر 65 سال ہے اور وہ خود کہتے ہیں کے وہ cancer survivor ہیں۔ اور اب بھی وقفے وقفے سے علاج کے لیے لندن جاتے آتے ہیں۔ محالفین ان کی لندن یاترا کا ضمنی پہلو نکال لیتے ہیں کہ 35 سالہ قومی سیاست اور اقتدار کے دوران انہوں نے پنجاب میں عالمی معیار کا ایک بھی ہسپتال قائم نہیں کیا جہاں ان کا علاج یا کم از کم ٹیسٹ ہی کیے جا سکیں۔
نواز شریف کے دور میں ان کی حیثیت فٹ بال ٹیم کے گول کیپر کی تھی کہ ان کا کردار اس وقت شروع ہوتا تھا جب ان کی بقیہ پوری ٹیم دفاع میں ناکام ہو جاتی تھی تو وہ یقینی گول روک لیتے تھے۔ البتہ پانامہ کا معاملہ ایک ایسا گول تھا جو وہ نہیں بچا سکے۔ حالانکہ وہ بلا کے گول کیپر تھے۔ اس پر بھی پارٹی کے اندرونی حلقوں میں دوسری رائے پائی جاتی ہے کہ یہ وہ گول ہے جسے وہ بچانا ہی نہیں چاہتے تھے۔ جب سے مریم نواز نے پارٹی میں جانشینی کا فتنہ اٹھایا ہے وہ اور حمزہ شہباز سائیڈ لائن میں چلے گئے تھے۔ اس موقع پر پارٹی کی سینئر قیادت دو کیمپوں میں بٹ گئی تھی۔ ایک دھڑا نواز شریف کا حمایتی تھا اور دوسرا شہباز شریف کا ۔ یہی وجہ تھی کہ پارٹی کو یہ فیصلہ کرنے میں بڑی دیر لگی کہ ن لیگ کا چیئر مین کس کو بنانا ہے اور نا اہلی کے فوراً بعد وزیر اعظم کس کو بنانا ہے۔ نواز شریف نے دانستہ طور پر اس وقت شہباز شریف کے وزیر اعظم بننے کی مخالفت کی تھی۔ اس وقت میاں صاحب کو امید تھی کہ وہ واپس آ جائیں گے۔ لائف ٹائم نا اہلی کسی کے ذہن میں نہیں تھی کیونکہ اس معاملے پر آئین خاموش تھا۔
اس سارے معاملے میں آپ نے دیکھا ہو گا کہ شہباز شریف کا مؤقف نواز شریف اور مریم نواز سے الگ تھلگ تھا۔ پانامہ کے آغاز سے لے کر 29 جولائی 2017ء یعنی نواز شریف کے اقتدار سے الگ ہونے تک تو وہ تقریباً خاموش رہے۔ اس اثناء میں حمزہ شہباز بھی کہیں نظر نہیں آئے۔ این اے 120 میں کلثوم نواز کے الیکشن میں دونوں نے کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ فوج اور عدلیہ کے خلاف نواز شریف کی آتش فشانی کو پوری دنیا نے دیکھا مگر شہباز شریف نے اعتدال کا راستہ اپنایا۔ چوہدری نثار علی خان کے معاملے میں بھی دونوں بھائیوں کی رائے مختلف رہی۔ شہباز شریف اب بھی یہ سمجھتے ہیں کہ چوہدری نثار کے پارٹی چھوڑنے سے انہیں ناقابل تلافی نقصان ہو گا۔ مگر مریم نواز کے آتشین بیانات پھر ماحول خراب کر دیتے ہیں۔ اسی طرح شہباز شریف پارٹی میں پرویز، شعیب، دانیال عزیز، طلال چوہدری ، مریم اورنگزیب جیسے خوشامدی ٹولے کی عزت افزائی کے خلاف تھے مگر نواز شریف میڈیا وار میں ان پر تکیہ کیے بیٹھے تھے۔
شہباز شریف کی قیادت کو سب سے بڑا جھٹکا ساؤتھ پنجاب نے دیا ہے جہاں جنوبی صوبہ محاذ کے نام پر بننے والا گروپ ن لیگ کی دھجکیاں بکھیرنے میں کامیاب ہو چکا ہے۔ وہ گروپ اتنا طاقتور بن کر ابھرا ہے کہ گزشتہ ہفتے شہباز شریف کو اپنا بہاولپور کا جلسہ منسوخ کرنا پڑا کیونکہ پارٹی کے اندر پھوٹ کے بعد جلسہ گاہ میں لگائے گئے بل بورڈز پر ن لیگی اعلیٰ قیادت کی تصویروں میں منحرف کارکنوں نے ان کے چہروں پر سیاہی مل دی تھی۔ شہباز شریف سمجھ دار تھے انہوں نے بھانپ لیاکہ کہیں سیالکوٹ کے جلسے میں خواجہ آصف کے چہرے پر سیاہی والا واقعہ دوبارہ نہ ہو جائے۔ پھر انہیں جامع نعیمیہ لاہور میں نواز شریف کی آمد پر ہونے والا نا خوشگوار واقعہ یاد آیا اور انہوں نے اپنا جلسہ بہاولپور کینسل کر دیا۔
شہباز شریف کے آگے اس وقت بہت سے پہاڑ کھڑے ہیں۔ سینیٹ الیکشن میں ان کی پارٹی اکثریت کے باوجود ہار چکی ہے۔ جنوبی پنجاب ان کے ہاتھ سے نکل چکا ہے۔ بلوچستان میں ان کی حکومت کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ کے پی کے اور سندھ میں وہ پہلے ہی کوئی گراؤنڈ نہیں رکھتے۔ شمالی پنجاب یعنی جی ٹی روڈ اضلاع میں ان کا اثرو رسوخ تیزی سے کم ہوا ہے اور ان کی پارٹی کے لوگ پی ٹی آئی میں شامل ہو رہے ہیں۔ پانامہ معاملے کے دو سال تک کہا جاتا رہا کہ ن لیگ میں فارورڈ بلاک نہیں بن سکا لیکن حالیہ جو کچھ ہوا ہے یہ تو فارورڈ بلاک سے بہت آگے کی بات ہے۔
اس وقت شہباز شریف کا سب سے بڑا چیلنج ماڈل ٹاؤن قتل عام کی وہ جے آئی ٹی رپورٹ ہے جسے پبلک کرنے کی سماعت سپریم کورٹ میں روزانہ کی بنیاد پر چل رہی ہے۔ یہ وہ رپورٹ ہے جس میں وہ اور وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کو قصور وار قرار دیا گیا ہے۔ اس پر آنے والا فیصلہ مسلم لیگ ن کو تابوت میں تبدیل کر سکتا ہے جسے مائنس تھری کہا جائے گا۔ بات یہیں ختم نہیں ہوتی شہباز شریف کے خلاف کرپشن اور بدعنوانی کے لاتعداد کیس نیب میں ہیں۔ احمد چیمہ کی گرفتاری کے بعد کسی وقت بھی کچھ ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ میٹرو بس ملتان ، میٹرو پنڈی، اورنج لائن لاہور، نندی پور پاور پراجیکٹ، قائد اعظم سولر پاور۔ صاف پانی کمپنی اور بہت سے منصوبوں میں سینکڑوں ارب روپے کے غبن کے الزامات میں اگر ایک بھی ثابت ہو گیا تو شہباز شریف بھی نا اہل ہو جائیں گے اور ن لیگ جدہ جلاوطنی والی پوزیشن میں آجائے گی۔
اگر شہباز شریف عدالتی فیصلوں کے نتیجے میں پارٹی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہوتے ہیں تو بطور سیاسی پارٹی یہ مسلم لیگ ن کے لیے مہلک ہو گا۔ اس کے بعد عمرانیات کا سوال یہ ہے کہ اگر تو یہ واقعی نظریاتی پارٹی ہے تو پارٹی کا تسلسل اور ووٹ بینک متاثر نہیں ہوں گے۔ (ایسا ہوتا نظر نہیں آتا) کیونکہ لیڈر آتے جاتے رہتے ہیں۔ کوئی فرد ناگزیر نہیں ہوتا مگر نظریات باقی رہتے ہیں۔ یہ بہت بڑا Litmus test ہے جس کا رزلٹ آنا باقی ہے۔ آثار یہی ہیں کہ پارٹی یہ ٹیسٹ کلیئر نہیں کر سکے گی۔
دیکھنا یہ ہے کہ تاریخ شہباز شریف کے ساتھ کیا سلوک کرتی ہے اور وہ تاریخ پر کس حد تک اپنا اثر چھوڑتے ہیں۔ انہیں ٹوٹی پھوٹی، کرپشن رسیدہ اور موقع پرست ممبران پر مبنی جو پارٹی ورثے میں ملی ہے اگر وہ اس پٹری سے اتری ہوئی ریل گاڑی کو واپس چلانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ ان کی تاریخی کامیابی ہو گی۔


ای پیپر