عدالتی فعالیت اور نیب کی کارکردگی
23 اپریل 2018 2018-04-23


آج کل اس موضوع پر ملک کے دانشور ، قانون دان اور کالم نویس خوب طبع آزمائی فرما رہے ہیں۔ کچھ لوگ عدالتی فعالیت اور نیب کی کارکردگی کے خلاف لکھ رہے ہیں۔ فطرتاً انسان status quo قائم رہنے میں ہی عافیت سمجھتا ہے،اس لیے کچھ لوگ کہتے ہیں No news is good news۔ لیکن فطرت کے قوانین اس کے برعکس عمل پیرا ہوتے ہیں جن سے مفر ممکن نہیں۔ آپ ذرا ان دونوں اداروں پر نظر ڈالیں۔ وہی عدالتیں ، وہی ججز ، وہی قوانین ، وہی وکلاء ہیں ۔ کچھ بھی نہیں بدلا۔ ہاں ایک شخصیت کے عدلیہ کے سب سے اونچے عہدہ پر براجمان ہونے سے یوں لگتا ہے جیسے پوری عدلیہ فعال ہوگئی ہے۔ وہ شخصیت ہیں اس ملک کے چیف جسٹس ثاقب نثار۔انہوں نے عدلیہ کے اندر ایک نئی روح پھونک دی ہے۔ ہمارے ملک میں وقت کے ساتھ ساتھ شخصیتیں مضبوط ہوتی گئیں اور ادارے کمزور ہوتے گئے۔ کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا تھا کہ میاں نواز شریف جیسی طاقتور شخصیت اور ان کا حکمران خاندان ( مریم نواز کا تفویض کردہ نام) عدالتوں میں پیش ہوں گے۔ شرجیل میمن جیسا ارب پتی شخص ، پیپلز پارٹی کا چہیتا جیل میں زندگی گزار رہا ہوگا۔
راؤ انوار جیسا منہ زور ایس پی بھاگ کر خود سپریم کورٹ پیش ہو جائے گا۔ اس سب کا کریڈٹ ایک شخص کو جاتا ہے جو اس وقت پوری قوم کی امید بن چکا ہے۔ اب تو کسی فرد یا خاندان کے ساتھ اس ملک کے کسی کونے میں بھی ظلم ہوتا ہے تو وہ محترم چیف جسٹس ثاقب نثار کو پکارتا ہے۔ لیکن اس ملک کے طاقتور افراد اور گروہوں کو وہ ایک آنکھ نہیں بھاتے۔ذہن میں رہے کہ ان افراد میں وہ اشخاص بھی شامل ہیں جو پوری پوری حکومتوں کے مالک ہیں ۔ جن کے ایک اشارہ ابرو پر حکومتی عہدہ داران اور حکومتی ادارے فوری حرکت میں آ جاتے ہیں۔ حکومتوں کے پاس ہر نوع کے بے شمار وسائل موجود ہوتے ہیں اور جس قسم کے نظام میں یہاں حکومتیں کام کرتی ہیں اس میں کوئی روک ٹوک یا احتساب کے خطرات کا کوئی وجود ہی نہیں ہوتا۔ عدالتی فعالیت پر سب سے بڑا اور جائز اعتراض یہ ہوتا ہے کہ عدالتی فعالیت کے پیچھے کارفرما عدلیہ کا کوئی اپنا ایجنڈا نہ ہو، کوئی سیاسی مقاصد نہ ہوں۔
پورا ملک دیکھ رہا ہے کہ چیف جسٹس ثاقب نثار صرف انہی معاملات میں نوٹس لیتے ہیں جن کا تعلق اس ملک کے مظلوم عوام کے بنیادی حقوق سے ہوتا ہے اور یہ اختیار انہیں اس ملک کے آئین نے دے رکھا ہے جسے ظاہر ہے عدلیہ نے نہیں بنایا۔کیا عوام کو صحت اور تعلیم کی سہولیات دینا حکومت کا کام نہیں ہوتا ، اور اگرحکومتیں ا ن فرائض کی ادائیگی میں مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کر رہی ہوں ، حکمران خاندانوں کے افراد کی معمولی سے معمولی بیماری کا علاج لندن کے ہسپتالوں میں ہو اور اپنے ملک میں مریضوں کو ہسپتالوں میں بھی صاف پانی پینے کو نہ ملے تو کیا چیف جسٹس ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا رہے۔محترم چیف جسٹس کئی دفعہ حلفاً پوری قوم کو چیخ چیخ کر بتا چکے ہیں کہ ان کا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں ہے لیکن کچھ لوگ ہیں کہ انہیں ریلیوں کی صورت میں دن دہاڑے ننگی گالیاں دے رہے ہیں۔ ان کو لیڈ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان اور دوسرے سرکاری عہدوں پر براجمان سیاسی لوگ کر رہے ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جن کا تعلق مرکز اور صوبہ کی حکمرا ن سیاسی پارٹی سے ہے۔اس جماعت کی لیڈرشپ اتنی جابر ہے کہ ان کی مرضی کے خلاف کی گئی حرکت کو وہ کبھی معاف نہیں کرتی۔ معلوم نہیں ایسا ان کی مرضی کے بغیر ہوا یا نہیں ، تسی خود سمجھدار ہو ۔ چیف جسٹس صاحب نے بھی عوام کو ان کے حقوق دلانے کو جہاد کا نام دے رکھا ہے۔ابھی دو روزپہلے انہوں نے لاہور میں وکلاء کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ سپریم کورٹ کو کسی کی یک جہتی کی ضرورت نہیں۔انہیں صرف عدالتوں کی بار کونسلز سے یک جہتی چاہیے۔ محسوس ہوتا ہے کہ ایسا کہنا انہیں اس لیے پڑا کیونکہ اس ملک کے ہر نوع کی بصیرت سے عاری سیاستدان عمران خان اپنی پارٹی کے 29اپریل کو لاہور میں ہونے والے جلسہ کو عدلیہ سے یک جہتی کے اظہار کا نام دے رہے ہیں۔خانصاحب سے بھلا کوئی پوچھے کہ آپ کی سیاسی پارٹی کا جلسہ قوم کے عدلیہ سے یک جہتی کا اظہار کیونکر ہو سکتا ہے، اگر آپ کا جلسہ فیل ہو جائے تو مطلب ہے کہ قوم سپریم کورٹ کے ساتھ نہیں کھڑی۔ان کی پارٹی کو چاہیے کہ وہ اپنے لیڈر کو سمجھائیں کہ ان کے اس قسم کے بیانات سے عدلیہ کا تشخص مجروح ہوتا ہے۔چیف جسٹس ثاقب نثار صاحب ایک تجربہ کار اور قابل جج ہیں۔ جمہوریت پر مکمل یقین رکھتے ہیں اور غریبوں کا دردرکھتے ہیں۔قوم سے نامیدی چھٹ جاتی ہے جب ثاقب نثار جیسے لوگ بھی اس قوم میں مل جاتے ہیں۔خوشی ہوتی ہے کہ قوم بانجھ نہیں ہے۔کاش چینی صدر کی طرح انہیں بھی کوئی تا حیات پاکستان کا چیف جسٹس بنا دے۔ خواہشیں کرنے پر تو کوئی پابندی نہیں ہے۔ لیکن اس ملک میں تو نواز شریف ہی تاحیات قائد بنے ہیں۔ نیب دوسرا ملکی ادارہ ہے جس سے اس وقت ملک کے دونوں طاقتور خاندان نالاں ہیں۔ نیب کا ادارہ موجودہ شکل میں 1999 ء سے چل رہا ہے۔جب تک مسلم لیگ (ن) کے پروردہ میجر (ریٹائرڈ) قمر زمان اس کے چیئرمین تھے مسلم لیگ (ن) کو اس ادارہ سے کوئی شکایت نہیں تھی۔ البتہ آصف زرداری اور ان کی جماعت نیب سے خا صے نالاں تھے ۔لیکن قمرزمان کی ریٹائرمنٹ کے بعد جب سے جسٹس جاوید اقبال نے چارج سنبھالا ہے اور کرپٹ لوگوں کے خلاف بلا تفریق ایکشن لینے کا آغاز کیا ہے تب سے مسلم لیگ(ن) بھی نیب کے وجود کے خلاف ہو گئی ہے۔ ساڑھے چار سال نواز شریف اور ان کی حکومت کو نیب میں کوئی برائی نظر نہیں آئی لیکن اب وہ کہتے ہیں کہ یہ ادارہ ایک آمر کا قائم کردہ ہے اسے تو شروع ہی سے ختم کر دینا چاہیے تھا۔ان کا خیال ہے کہ نیب کا رویہ امتیازی ہے اور وہ صرف مسلم لیگ (ن) کی لیڈرشپ کو ٹارگٹ کیے ہوئے ہے۔ ان کے وزیر داخلہ احسن اقبال نے تو نیب کی کارکردگی کو Pre poll rigging سے تعبیر کر دیا ہے۔پورا ملک دیکھ رہا ہے کہ موجودہ چیئرمین نیب پورے خلوص اور دلیری سے اور بلا کسی تفریق کے کرپشن میں ملوث لوگوں کے خلاف دن رات ایک کیے ہوئے ہیں ۔ تقریباً ہر سیاسی پارٹی کے سیاستدان جو کسی نہ کسی طور کرپشن میں ملوث تھے یا ہیں کے خلاف ایکشن لیے جا رہے ہیں ۔ اور تو اور اب تو نیب نے سابق صدر اور آرمی چیف پرویز مشرف کے خلاف بھی اپنی آمدن سے زائد اثاثے بنانے کی بنیاد پر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔اسی طرح تین ریٹائرڈ آرمی جنرلز کے نام بھی ای سی ایل( ECL) میں ڈلوا دیئے ہیں لیکن مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی پھر بھی نالاں ہیں اور اس ادارے کے وجود کو بھی برداشت نہیں کر پا رہے۔چند روز پہلے ڈائریکٹر جنرل نیب لاہور نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بڑی پتے کی بات کی ۔انہوں نے کہا کہ اس ملک کا ہر آدمی چاہتا ہے کہ نیب کرپٹ لوگوں کے خلاف ایکشن تو ضرور لے ، لیکن وہ ایکشن ہمارے خلاف نہیں دوسروں کے خلاف ہو۔ موجودہ چیئرمین نیب بھی اپنی زندگی کی آخری اننگ کچھ اس انداز میں کھیلنا چاہ رہے ہیں کہ جب وہ مالک کائنات کے سامنے پیش ہوں تو سرخرو ہو کرپیش ہوں۔ اس ملک کی ٹریجڈی یہ ہے کہ یہاں کرپٹ لوگ ہی سب سے طاقتور ہیں۔ ان کے سامنے کھڑا ہونا کوئی آسان کام نہیں ۔آپ اپنی عزت اور جان داؤ پر لگا رہے ہوتے ہیں۔ مظلوم اور مجبور قوم ان دونوں اداروں کے سربراہوں سے بہت خوش ہے لیکن ایک خدشہ ضرور لوگوں کے ذہنوں میں پل رہا ہے کہ الیکشن کے بعد اگر یہ دونوں طاقتور خاندان پھر اقتدار میں آ گئے تو انہوں نے اعلیٰ ترین عدلیہ اور نیب کا وہ حشر کر دینا ہے کہ یہ ادارے پھر کسی طاقتور کی طرف آنکھ اٹھا کردیکھنے کی جرات نہیں کر پائیں گے۔اس کام میں وہ دونوں یکجا اور یک جان ہوں گے کیونکہ دونوں کے مفادات مشترک ہیں۔امید ہے خالق کائنات کی مدد اس قوم کے ساتھ ہوگی،ویسے بھی تو ہمارے مذہب میں مایوسی گناہ ہے۔


ای پیپر