پختونوں کی آواز پر کان دھریں!
23 اپریل 2018 2018-04-23


لاہور میں پختون تحفظ موومنٹ کا پُرہجوم جلسہ کامیاب تھا ۔یہ جلسہ اسی لاہور میں ہوا، جہاں دس بارہ دن قبل خادم حسین رضوی نے دو ہفتے تک داتا دربار اور اس کے قرب و جوار کے علاقوں کو اپنے احتجاجی دھرنے کے ذریعے یرغمال بنائے رکھا تھا جس کی وجہ سے عام شہریوں کو آمد و رفت میں خاصی مشکلات جھیلنا پڑیں۔ یہ وہی خادم رضوی ہیں جنھیں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے اشتہاری مجرم قرار دیا تھا لیکن پنجاب حکومت نے اس کی گرفتاری سے نہ صرف معذوری ظاہر کی بلکہ بعد ازاں اس کے خلاف قائم کئے جانے والے مقدمات بھی ختم کر دئیے ۔ گویا حکومت نے ایک ایسے انتہاپسند کے آگے گھٹنے ٹیک دئیے جو اپنے جلسوں میں چیف جسٹس کو گالیا دیتا تھا اور جس کی دشنام طرازی سے اہم سیاسی شخصیات بھی بچ نہیں سکی تھیں۔ لیکن اس کے مقابلہ میں منظور پشتین کے جلسے نہ صرف پرامن ہوتے ہیں بلکہ ان کے مطالبات قانون اور آئینِ پاکستان کے دائرے کے اندر ہیں۔
سوات اور قبائلی علاقوں میں غلطیاں ہوئی ہیں اور اب ان غلطیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے مزید غلطیاں کی جا رہی ہیں۔مین سٹریم میڈیا کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ پی ٹی ایم کی سرگرمیوں کی بلیک آؤٹ جاری رکھے۔ اس حوالے کچھ معتبر کالم نگاروں کے اردو اور انگریزی کالموں کو بھی اشاعت سے روک دیا گیا۔ اگر کسی مقتدر قوت کا خیال ہے کہ اس طرح وہ پختونوں کو اپنے جائز مطالبات سے پیچھے ہٹانے پر مجبور کرسکے گی تو یہ اس کی بھول ہے ۔استادِ گرامی وسعت اللہ خان نے اپنے ایک تازہ کالم میں اس پر کیسا شان دار تبصرہ کیا ہے ۔ وہ لکھتے ہیں: ’’اڑچن یہ ہے کہ پاکستانی عوام 2018ء میں مگر پاکستانی ریاست 1918ء میں رہ رہی ہے ۔‘‘ حالات بدل چکے ہیں لیکن ہمارے مقتدرین کے خیالات میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوسکی ہے ۔ پی ٹی ایم کی تحریک کے اثرات سوشل میڈیا میں سرعت سے پھیل رہے اور عالمی نشریاتی ادارے ترجیحی بنیاد پر اس کی سرگرمیوں کو کوریج دے رہے ہیں۔
پی ٹی ایم کے مطالبات پر غور کرنے کی بجائے اس کے رہنماؤں کو خائف کیا جا رہا ہے ۔ اگر کسی کے دماغ میں جبر کا منصوبہ پنپ رہا ہے تو اسے ذرا کھلی آنکھوں اور دیدۂ دل کے ساتھ پاکستان کی تاریخ کا مطالعہ کرنا چاہئے ۔ اسے معلوم ہوسکے گا کہ 1971ء میں ریاستی جبر کے کیا نتائج نکلے تھے ؟ اسے بلوچستان کے حالات کو مدنظر رکھنا چاہئے جہاں عوام کی محرومیاں ختم کرنے اور انہیں ان کا حق دینے کی بجائے جب ان کے خلاف کارروائی کی گئی تو اس کے نتیجے میں ابھی تک وہاں صورتِ حال معمول پر نہیں آسکی ۔
یاد رہے جب کسی پر ظلم ہوتا ہے ، کسی کو روزانہ کی بنیاد پر چیک پوسٹوں میں عورتوں، بچوں، بوڑھوں اور جوانوں کے امتیاز کے بغیر ذلیل اور رسوا کیا جاتا ہو، بے گناہ لوگوں کو جبری گم شدگی کا شکار بنایا جاتا ہو، ماورائے عدالت قتل و غارت کا بازار گرم کیا جاتا ہو تو اس کا کوئی ردِ عمل تو ہوگا۔منظور پشتین کے کارواں میں روز افزوں لوگوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے ۔ لوگوں میں ایک نئی جان پڑ رہی ہے ۔ خوف ذہنوں سے نکل رہا ہے اور اس کے نتیجے میں پشتون ہی نہیں بلکہ بلوچ اور ہزارہ بھی آواز بلند کر رہے ہیں۔ اسلام آباد، بلوچستان، پشاور اور اب لاہور میں منعقد ہونے والے جلسوں نے ثابت کردیا کہ عوام کی ایک بڑی تعداد ان کے قدم سے قدم ملا رہی ہے ۔ اگلا جلسہ وہ کراچی اور سوات میں کرنے والے ہیں۔ ان کی تحریک تیزی سے ایک ملک گیر تحریک کی شکل اختیار کر رہی ہے ۔ اس وقت پاکستان کے محب الوطن لوگوں کو ان کا ساتھ دینا چاہئے ۔ کیوں کہ جبر کے شکار صرف پختون نہیں ہیں، ملک بھر میں عوام کا استحصال ہو رہا ہے ، ان کے آئینی حقوق غصب کئے جا رہے ہیں۔ اس تحریک کو ’’پاکستان بچاؤ تحریک‘‘ کی شکل میں تبدیل کر دینا چاہئے ۔ کیوں کہ ریاستِ پاکستان اس وقت کچھ جابر قوتوں کا یرغمال بن چکی ہے ۔ عوام کے ساتھ جتنا ظلم اسٹیبلشمنٹ کر رہی ہے ، اتنی ہی زیادتیاں جمہوری حکمران بھی کرتے رہے ہیں۔ دونوں فریق قوم اور ملک کی بجائے اپنے ذاتی مفادات کے اسیر ہیں۔ انھیں عوام کی محرومیوں اور مشکلات کا کوئی احساس نہیں۔پختون تحفظ موومنٹ کی وجہ سے لوگوں میں شعور بڑھ رہا ہے ۔ جن مظالم کے خلاف پختون اٹھ کھڑے ہوئے ہیں، نہ ان کی طرف سے پختونوں کے مطالبات پر کان دھرا جا رہا ہے اور نہ ہی حکومتی سطح پر کوئی مدبر اور سیاست دان مظلوموں کی اشک شوئی کے لئے قدم آگے بڑھا رہا ہے ۔ جس کے نتیجے میں صورتِ حال بگاڑ کی حدود میں داخل ہو سکتی ہے ۔ کوئی اگر یہ سوچ رہا ہے کہ وہ مناسب وقت پر اس تحریک کے بخئے ادھیڑ دے گا تو اسے اس خام خیالی سے باہر نکل جانا چاہئے ۔ اس کے نتائج بھیانک ہوں گے ۔ معاملہ عالمی سطح پر اٹھایا جائے گا اور وطن عزیز کی سالمیت کے لئے حقیقی خطرات پیدا ہو جائیں گے ۔ ہم پہلے سے ہی ہر طرف سے خطرات میں گھرے ہوئے ہیں، اس لئے مزید خطرات پیدا کرنے کی بجائے پختون تحفظ موومنٹ کے ساتھ مل بیٹھنا چاہئے ۔ ان کی شکایات سننی چاہئیں اور جائز مطالبات کے حل کے لئے فوری اقدامات اٹھانا چاہئیں۔ ان کا کوئی مطالبہ اگر ناجائز ہے تو انھیں دلیل اور شفقت سے سمجھانا چاہئے ۔ ابھی اتنی دیر نہیں ہوئی ہے ۔ریاست کی مثال ماں کی سی ہے ۔ وہ اپنے بچوں کی مشکلات اور شکایات پر ان کے خلاف محاذ نہیں کھولتی، اپنے بچوں کو آپس میں لڑانے کی کوشش نہیں کرتی، ان پر غیرملکی ایجنٹ کا الزام نہیں لگاتی بلکہ شفقت اور محبت سے ان کی دکھ بھری آواز پر کان دھرتی ہے ۔ ان کے رستے ہوئے زخموں پر مرہم رکھتی ہے ۔ ان کے دکھوں کا مداوا کرتی ہے ۔ پاکستانی ریاست کو بھی اس وقت حقیقی ماں کا کردار ادا کرنا چاہئے ۔ اسے سوتیلی ماں کا سا سلوک بند کرنا چاہئے ۔ پختون سچے پاکستانی ہیں، وہ پاکستان کے اندر رہتے ہوئے عزت اور وقار سے جینے کا حق مانگتے ہیں۔ جس طرح ملک کے دوسرے شہریوں کو آئین پاکستان کے تحت ہر طرح کے شہری حقوق حاصل ہیں، اسی طرح وہ بھی ان حقوق کے طلب گار ہیں۔ ان کی آواز پر کان دھریں ایسا نہ ہو کہ ان کے مطالبات کوئی اور رُخ اختیار کریں۔
(نوٹ: قارئین میں سے جو صاحب حقیقت حال سامنے لانے کے لیے دوسرا نقطہ نظر پیش کرنا چاہیں، ہمارے صفحات حاضر ہیں)


ای پیپر