پاکستان کو دھمکیاں، مودی عوام کو بے وقوف بنا رہے ہیں
23 اپریل 2018 2018-04-23


بھارتی فوج نے آزاد کشمیر میں سرجیکل سٹرائیک کر کے بڑے نقصان اور مشتبہ حملہ آوروں کے لانچ پیڈز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، جسے پاکستان نے مسترد کر تے ہوئے کنٹرول لائن پر فائرنگ کی تصدیق کی۔ بھارتی میڈیا کے مطابق ان سرجیکل سٹرائیکس میں پاکستان کے چھ کیمپوں کو نشانہ بنایا گیا اور بھارتی فوج کے سپیشل کمانڈرز نے سرحد سے تین کلومیٹر اندر گھس کر کارروائی کی۔ تاہم پاک فوج نے بھارت کا یہ دعویٰ مسترد کر دیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ بھارت کا یہ دعوی بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی تھا۔ بھارت کی جانب سے کسی علاقے میں سرجیکل سٹرائیکس نہیں کی گئی۔ کنٹرول لائن پر بلا اشتعال فائرنگ کی گئی اور میڈیا ہائپ کیلئے اسے سرجیکل سٹرائیکس کا نام دیا گیا۔ ایسا کرنا سچائی کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کے مترادف ہے۔
پاک فوج نے بھارت کی بلا اشتعال فائرنگ کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی سرجیکل سٹرائیکس کی گئی تو اس کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ بھارت کے ڈی جی ایم او کی طرف سے مشتبہ حملہ آوروں کے لانچ پیڈ کا ذکر جھوٹ پر مبنی ہے۔پاکستانی سرزمین پرسرجیکل سٹرائیک کی گئی تو اسی انداز میں سخت جواب دیا جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ انڈین فوج نے لائن آف کنٹرول پر کیل، بھمبر اور لیپا سیکٹر پر بلا اشتعال فائرنگ ضرور کی ہے، دو پاکستانی فوجیوں کی شہادت بھی فائرنگ کے تبادلے میں ہوئی۔ سرحد پار فائرنگ کو سرجیکل سٹرائیکس کا رنگ دینا حقیقت کو مسخ کرنے کے برابر ہے۔
عسکری ماہرین نے کہاہے کہ بھارتی وزیراعظم مودی صرف اپنے عوام کے سامنے ہمیں دھمکیاں دے رہا ہے جبکہ اس میں اتنی ہمت نہیں کہ وہ پاکستان پر حملہ کرے ۔ بھارت کو پاکستان کی فوجی طاقت کا اندازہ ہے اسلئے وہ کچھ دیر تک گیدڑبھبکیاں لگانے کے بعدخودہی خاموش ہو جائے گا۔بھارت 70 سال سے پاکستان کودنیا میں تنہا کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن ابھی تک اسے کامیابی نہیں ملی اور نہ ہی ملے گی۔ جنرل(ر)اسلم بیگ نے کہا کہ مودی اپنی اوقات بھول کر پاگل ہو گیا ہے۔خودانڈین میڈیامیں یہ خبریں چل رہی ہیں کہ بھارتی فوج میں لڑنے کی صلاحیت نہیں۔بھارتی فوج کا اس وقت بہت براحال ہے۔اس کے پاس ہتھیارہی نہیں جبکہ کرپشن اور آپس کی لڑائیاں بھی بہت زیادہ ہیں ۔بھارتی فوج صرف2 ہفتے تک لڑ سکتی ہے جبکہ پاک فوج کے پاس 6 ہفتے تک لڑنے کی صلاحیت موجود ہے ۔ہم اس وقت طیارے اور ٹینک خود بنا رہے ہیں جبکہ بھارت میں ایسا کچھ نہیں ہے۔بھارتی فوج کی طرف سے مودی کوایسی ہی بریفنگ دی گئی جس کے بعداس کا دماغ ٹھنڈا ہو گیا اور اس نے سرجیکل آپریشن کی بات نہیں کی۔جنرل(ر)عبد القیوم کاکہناتھاکہ بھارت شروع سے ہی چاہتا تھا کہ پاکستان کمزور ملک بن کر رہے اوراسے بھی ایسے ہی دبا دیا جائے جیسے مالدیپ اور سری لنکا کو دبایا گیا ہے۔ لیکن پاکستان ایٹمی طاقت بن گیااور اب بھارت کیلئے پاکستان کو ہضم کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ انڈیانے 1971ء میں سازشوں سے پاکستان کو توڑاجبکہ اب خیبرپختونخوا، بلوچستان اور کراچی میں دہشتگردی کروا رہاہے ۔ گزشتہ برس ا ڑی ڈرامہ بھارت نے خودہی رچایا تھا۔
حقیقت یہ ہے کہ اس وقت کشمیر میں تحریکِ آ زادی عروج پر ہے توہم کیوں وہاں دخل اندازی کرینگے ؟ بھارت اپنی حماقتوں کی وجہ سے خودہی دنیامیں تنہاہوجائے گا۔ پاکستان اوربھارت دونوں ایٹمی قوتیں ہیں جوآپس میں نہیں لڑیں گی۔ اگرجنگ ہوئی تودنیامیں بہت تباہی آئے گی لہٰذابھارت کی طرف سے جنگ کے نعرے جلدہی ٹھنڈے پڑجائیں گے البتہ وہ اپنے عوام کو دکھانے کیلئے کنٹرول لائن پرحالات خراب کرسکتاہے جبکہ افغانستان سے بھی دہشتگردی کرائی جائے گی۔ اس صورت حال میں ہمیں چوکنا رہناہوگا۔ ہماری افواج تو جنگ کیلئے تیار ہیں اورہماری عوام کو بھی اس کیلئے تیار ہونا پڑیگا۔
پاکستان میں سرجیکل سٹرائیک کابھارتی دعویٰ جھوٹا، کھوکھلا اور بے بنیاد ہے جس کی کھلے عام تردید کرچکے ہیں ۔ بار بار جھوٹ کو دہرانے سے جھوٹ سچ نہیں بن جاتا۔ مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ ہفتے بھارتی قابض افواج نے چار کشمیری نوجوانوں کو شہید کیا۔ بھارتی قا بض افواج کے ہا تھو ں 8سا لہ بچی آصفہ کے بہیما نہ قتل نے عا لمی ضمیر کو جنجھو ڑ کر رکھ دیا ہے۔ بھا رت افسوس ناک وا قعہ کے حوالے سے عا لمی برادری کی تنقید کا سا منا کر رہا ہے۔ مقبو ضہ کشمیر میں بھا رتی ظلم و ستم بیدر دی سے جا ری ہے، ایرانی رہبر انقلاب نے بھی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قابض افواج کے ظلم و ستم کی مذمت کی ہے۔
کچھ عرصہ قبل بھارتی آرمی چیف بپن راوت نے بھی پاکستان کو نام نہاد سرجیکل سٹرائیک کی دھمکی دی تھی۔ بھارتی دارالحکومت نئی دلی میں ایک کتاب کی رونمائی کے دوران بھارتی آرمی چیف کا کہنا تھا کہ سرجیکل سٹرائیک ایک پیغام تھا جو ہم دینا چاہتے تھے اور میرے خیال سے پیغام ان کو سمجھ آ گیا تھا۔ دوسری طرف کا رویہ ٹھیک نہ ہوا تو ضرورت پڑنے پر سرجیکل سٹرائیک دوبارہ بھی دہرا سکتے ہیں ۔ بھارت نے گزشتہ سال ستمبر میں سرجیکل سٹرائیک کا دعویٰ کیا تھا جسے پاکستان نے سختی سے مسترد کر دیا تھا جبکہ بین الاقوامی میڈیا نے بھی اس کی قلعی کھول کر رکھ دی تھی۔
بھارتی وزیر اعظم کے دفتر میں وزیر مملکت جتیندر سنگھ نے کنٹرول لائن پر سرجیکل سٹرائیک کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے کنٹرول لائن پر سرجیکل سٹرائیک کا منصوبہ بنا لیا گیا ہے۔ کسی بھی صورت میں فیصلہ کن کارروائی ہوگی لیکن حکومت منصوبہ بندی کے بارے میں جانکاری نہیں دے سکتی۔صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انکا کہنا تھا کیا ہم نے میڈیا کو پہلے بتایا تھا کہ سرجیکل سڑائیک کرنی ہے آپریشن ختم ہونے کے بعد جانکاری دی گئی۔ہم آپکو نہیں بتائیں گے کہ کیا کرنا ہے لیکن ہم بہر صورت فیصلہ کن کارروائی کریں گے۔ سیکورٹی ایجنسیاں وہ سب کریں گی جو انہیں کرنا ہوگا،آپ نتائج دیکھیں گے۔
گزشتہ سال ستمبر میں بھارت نے کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول پر پاکستان کے زیرِ انتظام علاقے میں مبینہ شدت پسندوں کے خلاف ’سرجیکل سٹرائیکس‘ کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔جبکہ پاکستان کا کہنا تھا کہ سرحد پار فائرنگ کو سرجیکل سٹرائیکس کا رنگ دینا حقیقت کو مسخ کرنے کے برابر ہے۔ بھارتی برّی فوج کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز نے بتایا کہ ’سرجیکل آپریشن کنٹرول لائن پر نصف رات شروع ہوا اور صبح تک چلا ۔ اس کارروائی میں متعدد دہشت گرد اور ان کے سہولت کار مارے گئے ۔ تاہم انھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ ’سرجیکل سٹرائیکس‘ کن علاقوں میں کی گئیں۔
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے واضح طورپر کہا گیا تھا کہ بھارت نے پاکستان کے زیرِ انتظام علاقے میں کوئی سرجیکل آپریشن نہیں کیا ہے تاہم انڈین فوج نے لائن آف کنٹرول پر کیل، بھمبر اور لیپا سیکٹر پر بلا اشتعال فائرنگ ضرور کی۔مبینہ دہشت گردوں کے اڈوں پر سرجیکل حملوں کا تصور انڈیا کی جانب سے جان بوجھ کر تشکیل دیا گیا ایک ایسا فریبِ نظر ہے جس کا مقصد غلط تاثر دینا ہے۔ ایل او سی پر فائرنگ رات ڈھائی بجے شروع ہوئی اور صبح آٹھ بجے تک جاری رہی اور اس سے پاکستان کے دو فوجی ہلاک ہوئے۔ پاکستان کی افواج نے بھی ’انڈین جارحیت‘ کا بھرپور جواب دیا اور اگر پاکستانی سرزمین پر سرجیکل حملوں کیے گئے تو ان کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔یہ انڈیا کی جانب سے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت صرف اپنے میڈیا اور عوام کو مطمئن کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ اگر آئندہ بھی انڈیا کی جانب سے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کی گئی تو اس کا اسی انداز میں جواب دیا جائے گا۔
بھارت نے لائن آف کنٹرول کے مختلف سیکٹر پر کراس بارڈر فائرنگ شرو ع کی تھی جس پر پاک فوج نے بھر پور جوابی کارروائی کرتے ہوئے تین بھارتی چوکیوں کو تباہ کردیا جس کے نتیجے میں14 بھارتی فوجی ہلاک ہو گئے جبکہ ایک فوجی کو تتہ پانی سے گرفتار کر لیا گیا۔ گرفتار کیے گئے بھارتی فوجی کا نام بابو لال چوہان ولد بشن چوہان تھا جبکہ اس کی عمر 22 سال تھی۔ گرفتار فوجی ہندو مذہب کا پیروکار اور بھارتی ریاست مہاراشٹرا کا رہائشی تھا۔ گرفتار بھارتی فوجی کو نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا تھا۔ اس کے بعد بھارتی صحافیوں سے گفتگو میں اس بات کی تصدیق ہوئی کہ کئی بھارتی فوجیوں کی لاشیں امر تسر اور چندی گڑھ میں موجود ہیں جن کو چھپانے کی بھرپور کوشش کی جارہی ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر فیصل نے برطانوی سرزمین پر نریندرمودی کی پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی پر رد عمل میں کہا ہے کہ پوری دنیا جانتی ہے دہشت گرد اور ان کا سرغنہ کون ہے۔ بھارت پاکستان میں دہشت گردوں کی پشت پناہی کررہاہے۔ پاکستان کی حراست میں کمانڈر کلبھوشن یادیو ثبوت ہے کہ کون دہشت گردی کررہا ہے۔ کلبھو شن یا دیو کے معاملہ پر بھا رت نے عالمی عدالت انصاف میں جوا ب الجواب جمع کروا دیا ہے جس کا جا ئزہ لینے کے بعد رد عمل دیا جا ئے گا۔


ای پیپر