پشتون تحفظ موومنٹ
23 اپریل 2018 2018-04-23


پشتونوں کی پاکستان موومنٹ سے چلی آرہی پاکستان کے لیے قربانیاں بے مثال ہیں۔ اس غیور قوم نے پاکستان کے لیے ہر آڑھے وقت میں اپنی بساط سے زیادہ اور سب سے آگے بڑھ کر کام کیا۔ قائداعظم پشتونوں کو پاکستان موومنٹ کا ہراول دستہ قرار دیتے تھے۔ پاکستان بننے کے چند ماہ بعد 1948ء میں جب ہندوستانی فوج نے کشمیر پردھاوا بول دیا اور قائداعظم نے اس وقت پاک فوج کے کمانڈرانچیف جنرل سر ڈگلیس گریسی کو جوابی کارروائی کرنے اور حملہ پسپا کرنے کا حکم دیا تو جنرل گریسی نے حکم ماننے سے صاف انکار کر دیا۔ اس کی وجہ سے کشمیر میں فوج کی مدد دیر سے پہنچی لیکن انہیں پشتونوں نے بھارتی فوج کو نہ صرف روکے رکھا بلکہ آزاد کشمیر کا تحفہ پاکستان کو دیا۔ یہ وہی غیور قوم ہے جس نے فوج کے قدم بہ قدم ملک کی حفاظت میں لہو بہایا ہے اور اس نایاب لہو کی کہانیاں کئی جلدوں میں لکھی جاسکتی ہیں
اب ذرا بات ہوجائے پشتون تحفظ موومنٹ اور ان کے سرخیل منظور پشتین کی۔ سوشل میڈیا پر پنجابی ،پٹھان اور بلوچی کیا سبھی پاکستانی بھائی نقیب اللہ محسود کے ماورائے قتل اور راؤ انوار کے گرفتار کرکے کیفر کردار تک پہنچائے جانے کے لیے سرگرم دکھائی دیے اور اس معاملے کو ہم جیسے غیرپشتون صحافیوں نے بھی اسی دردمندی سے اجاگر کیا جتنا کہ پشتون صحافیوں نے کیا ہوگا۔ کیونکہ ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان میں ظلم کسی طبقے پر ہو اس کے خلاف ہر دردمند آواز اٹھائے گا۔ لیکن اگر ظلم کو لسانیت کی ضربیں لگا کر اور دشمن میڈیا پر دشمنوں کی زبان میں اس طرح آواز اٹھائی جائے کہ اول سے آخر تک پاک فوج نشانہ اور ریاستی و عسکری اداروں کے لیے دشنام طرازی کی جائے تو خط کے لفافے سے مضمون بھانپا جا سکتا ہے
موچی دروازے لاہور میں ہونے والے جلسے میں جس وقت کچی عمر کے چند نوجوان پشتون کے جلسے میں یہ کہا جا رہا تھا کہ ہمارے ہزاروں پشتون لاپتہ ہیں اسی وقت تمام اہم پشتون لیڈروں کے ایک جرگے میں ڈی جی آئی ایس پی آر موجود تھے اور پشتون علاقوں میں قائم ہونے والے امن اور ترقیاتی منصوبوں پر سول انتظامیہ کے ساتھ مل کر جائزہ لے رہے تھے اور مبارکبادیں وصول کررہے تھے . ان علاقوں میں امن کا یہ عمل وہی ہے جس کے لیے پنجابی اور اردو بولنے والے فوجیوں نے بھی اپنی جانیں اس لیے قربان کیں کہ ہم سب پہلے پاکستانی ہیں اور بعد میں پشتون یا کچھ اور ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور چیف آف آرمی سٹاف قمر جاوید باجوہ کی ہدایت پر اس جرگے میں کیوں بیٹھے تھے اس لیے کہ پاک فوج کی موجودہ تین قیادتوں نے سیاسی معاملات سیاسی حکومتوں پر چھوڑ کر مکمل توجہ امن و امان کی بحالی پر رکھی ہوئی ہے منظور پشتین سے کوئی پوچھے کہ آپ جو پاک فوج پر گھروں میں گھس کر زیورات چرانے جیسے گھٹیا الزامات پاک فوج پر لگا رہے ہیں اور عسکری قیادت کے خلاف نعرے لگوا کر سوشل میڈیا پر کیمپین چلوا رہے ہیں اس سے کیا تاثر دینا مقصود ہے کیا اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ دشمن کو تکلیف ہے کہ پاکستان کے طول و عرض میں دہشتگردی کے خلاف کامیاب آپریشن ہوئے ہیں اور واضح طور پر بدامنی میں کمی واقع ہوئی ہے یا کسی کو یہ برا لگ رہا ہے کہ پاکستان نے افغان بارڈر پر فینس لگانے شروع کردیے ہیں تاکہ بھارتی پیسے سے خریدے جانے والے دہشتگرد اور بارود ملک خداداد پر نہ چل سکیں۔ پاک فوج پر دشمن ممالک کا ایجنڈا الزامات لگوانا اور قوم کو فوج سے بددل کرنا ہے مگر جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے۔ مشرقی پاکستان میں 1971ء میں پاک فوج پر خواتین کی عصمت دری تک کے الزامات لگائے گئے جنہیں ہندو تاریخ دانوں نے رد کردیا۔ اس بارے میں ایک بنگلہ دیشی ہندو ریسرچ سکالر شرمیلہ بوس نے اپنی کتاب ڈیڈ ریکنگ میں لکھا ہے کہ مکتی باہنی کی طرف سے کی جانے والی مسلمان عورتوں کی عصمت دری کا الزام پاک فوج پرلگا دیا گیا۔ گویا یہ دشمن کا پرانا حربہ ہے اور اب کسی طور چلائے نہیں چل رہا اور نہ چلے گا۔ فوج کا مؤقف اس پر بالکل واضح اور دو ٹوک ہے کہ جنگ میں فوج اور سول دونوں طرف نقصان ہوتا ہے۔ پہلا کام امن قائم کرنا تھا سو کیا گیا۔ اب آگے دیکھنا ہے کہ کس کا کیا نقصان ہوا اور اس کا ازالہ کیسے کیا جائے۔ پشتون علاقوں میں بننے والے ایف ڈی او کی سڑکوں کے نیٹ ورک کو دیکھیں جس پر تیزی سے کام جاری ہے کیڈٹ کالجز اور دیگر تعلیمی اداروں کا ایک جال بچھایا جارہا ہے تاکہ یہ علاقے ترقی کریں۔ فوج میں ان علاقوں سے بھرتیوں کو تیز کردیا گیا ہے۔ فوج اور سول قیادت کے تعاون سے علاقے میں امن کی بحالی کے بعد زندگی کو معمول پر لانے کے لیے واضح اقدامات کیے جارہے ہیں۔ نئی مارکیٹیں یا بازار تعمیر کیے گئے ہیں مگر یہ کیا کہ جب منزل قریب ہے تو کوئی پاکستان اور پاک فوج کے خلاف لے کے رہیں گے آزادی کے نعرے لگاتا سڑکوں پر نکل آئے۔ یہ وہی وقت ہے جب افغان مہاجروں کی واپسی کی بات کی گئی ہے۔ پاکستان مہاجروں کو پناہ دینے والا سب سے بڑا ملک ہے اور یقیناًپاکستان کے وسائل پاکستانیوں پر پہلے خرچ ہونے چاہئیں نہ کہ پناہ گزینوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری رہے اور دشمن پناہ گزینوں کہ آڑ میں پاکستان پر حملہ آور رہے اور عسکری و سول قیادت ہاتھ پر ہاتھ دھری تماشہ دیکھتی رہے۔ جب اس تماشے کوختم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے گیے ہیں اسی وقت پشتون موومنٹ کیوں ؟ اس سب کو سامنے رکھیں تو پاکستان میں پشتون کے حقوق کا نام لے کر پاکستان سے آزادی کے نعرے لگوانے والوں پر پہلی نظر شک کی ہی پڑے گی اور یہ سوال ذہنوں میں جنم لے گا کہ پشتونوں کے حقوق کے نام پر قومی موومنٹ چلائی جانے کی تازہ کوشش پشتون تحفظ موومنٹ کا مقصد کہیں ایم کیوایم لندن کی طرز پر پاکستان کی سالمیت کو نشانہ بنانہ تو نہیں۔ اگر ایسا نہیں ہے تو پشتونوں کے اس چھوٹے سے گروہ کی بات سن کر ان کی تسلی و تشفی کروانی چاہئے مگر ساتھ ہی احتجاج کا طریقہ اور قائدہ پڑھا نا بھی ضروری ہے کہ سیاسی مسئلے کا حل ریاست کی سالمیت کے خلاف کھڑے ہونے سے نہیں نکلتا۔ لیکن اگر واقعی حسین حقانی کی طرح یہ کوئی بھارتی سازش ہے تو پھر پاکستان کی محافظ غیور پشتون قوم ہی کی روایت ہے کہ "دشمن سے پہلے غدار کو سزا دو"


ای پیپر