پختون فلاحی تنظیم اور استحکام پاکستان کانفرنس
23 اپریل 2018 2018-04-23


پختونوں کی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ جنگ آزادی اور اس سے پہلے اور بعد کے تما م معرکوں میں پٹھان قوم صف اول میں دیکھائی دی ۔ جنگ آزادی سے لیکر قیام پاکستان تک ہر موقع پر برصغیر میں اپنا اثرو رسوخ قائم رکھنے کی خاطر انگریزی سامراج مختلف حیلوں اور بہانوں کے ساتھ یہاں اپنا قبضہ جمانے کی کوشش کرتا رہا لیکن اس کے غرور کو خاک میں ملانے کے لئے پٹھان قوم کے افراداپنی تما م تر صلاحیتوں کے ساتھ دشمن کے خلاف لڑتے نظرآئے اور یہی وجہ ہے کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق 1857سے 1947تک پٹھانوں نے انگریزوں کے خلاف کئی جنگیں لڑیں۔ برصغیر کی تحریک آزادی میں بھی سب سے زیادہ واضح کردار پختونوں کا دکھائی دیتا ہے ۔محمد بن قاسم کے بعد برصغیر میں اسلام کی ترویج و اشاعت کا سہرا بھی انہی کے سر جاتا ہے جب شہاب الدین غوری نے تما م ہندوستان میں پرتھوی راج کو شکست دی اور باقاعدہ طور پر پہلی اسلامی ریاست کی داغ بیل ڈالی ۔
قارئین !یہ بھی پختون ہی تھے جن کی بدولت دہلی پر مسلمانوں نے سات سو سال حکومت کی اور ان میں ساڑھے تین سو سال پختونوں کی حکمرانی شامل ہے ۔ قیام پاکستان کے وقت بھی پختونوں کے جذبہ ایمانی و حریت کے کئی ایسے سچے واقعات دیکھنے اور سننے کو ملتے ہیں جن کی وجہ سے ان کی پاکستان سے محبت اور اس کے لئے دی گئی ان کی قربانیوں کی داستانیں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں ۔ قیام پاکستان سے لیکر اب تک، ہمارے سیاسی آقاؤں کی نا اہلی اور انگریز سامراج کے ذہنی غلام ہو نے کے باعث ، پختونوں پر مظالم رواء رکھے گئے ۔ پرویز مشرف کے دور میں جس طرح پورے خیبر پختونخواہ کو امریکی کالو نی بنا کر کھلے عام امریکہ کو چھوٹ دی گئی اور پھر جس کے نتیجے میں خاک و خون کا بازار گرم کیا گیا ، کتنی پختون آبادیاں تباہ و بر باد ہوئیں اورکتنے پختون بے گھر ہوئے ۔پختونخواہ میں دہشت گردی کا بیچ مشرف دور میں بویا گیا جسے زرداری دور میں خوب توانا کیا گیا لیکن نواز حکومت میں جنرل (ر)راحیل شریف کی قیادت میں دہشت گردی کے اس توانا درخت کو شاخوں سمیت اکھاڑ دیا گیا ۔ اس کے نتیجے میں بھی پختونوں کو پہلے تو دہشت گردوں کے ہاتھوں شدید نقصان اٹھانا پڑا اور پھر جب ضرب عضب کا آغاز ہوا تو انہیں اپنے گھر ، کاروبار اور زمینیں چھوڑ کر ہجرت کر نا پڑی ۔ اس سب کے باوجود بھی ان کے چہروں پر کوئی غم نمایاں نہ تھا۔ پھر بھی یہ پاکستان زندہ باد اور پاک فوج پائندہ باد کے نعرے بلند کرتے نظرآتے تھے ۔
قارئین کرام ! پختون قوم جہاں پاکستان کے قیام کے وقت آگے آگے تھی وہاں پاکستان کو ایک فلاحی ریاست بنانے کی دوڑ میں بھی آگے دکھائی دیتی ہے جس کا ثبوت ہمیں کئی مواقعوں پر ملتا ہے ۔ پختون فلاحی تنظیم بھی’’خدمت سب کیلئے‘‘ کا نصب العین لئے ا یسے ہی جذبے کے تحت نہ صرف پختونوں بلکہ پاکستان میں بسنے والی ہر قوم کے لئے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہے ۔ اس کے روح رواں حاجی نادر خان پچھلے کئی سالوں سے برادری سے بالاتر ہو کر لوگوں کی خدمت میں دیوانہ وار مصروف ہیں۔ اس وقت جب دشمنوں نے پاکستان اور اداروں کے خلاف پختون سیاست کی آڑمیں پنا ایجنٹ چھوڑا ہے ، پختون فلاحی تنظیم نے استحکام پاکستان اور پاک فوج زندہ باد کانفرنس کا انعقاد کر کے پوری دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ پختون پاکستان کی سا لمیت کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے اور پاک فوج سمیت تمام اداروں کے خلاف کسی بھی آواز کو دبانے کے لئے ہر طاقت استعمال کریں گے۔
اس کانفرنس میں جہاں پختونوں کی بہت بڑی تعداد نے شرکت کی وہاں اس بات کا بھی عہد کیا گیا کہ جس طرح ہمارے بڑوں نے قیام پاکستان کے وقت اپنا سب کچھ اس ارض وطن پر نچھاور کیا تھا ، ہم بھی اپنی جان ، مال سمیت ہر طرح سے اس ارض مقدس کی حفاظت کریں گے۔ لیکن اس کے ساتھ انہوں نے حکومت وقت سمیت تما م اداروں سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ کچھ عناصر اب بھی پختون قوم کے بارے نفرت کا عنصر رکھتے ہیں جس کا ثبوت یہ ہے کہ نادرا کے تمام دفاتر میں پختونوں کے شناختی کارڈ پر مختلف اقسم کے اعتراضات لگائے جاتے ہیں اور انہیں ذلیل و خوار کیا جا تا ایسے ہی حالات پاسپورٹ آفس میں ہیں ۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار بھی اس بارے ازخود نوٹس لیتے ہوئے اداروں میں موجود ایسے بھیڑیوں کے خلاف ایکشن لیں جو قیام پاکستان سے لیکر اب تک پاکستان کے لئے قربانیاں دیتے آئے ، پختون بھائیوں کو ذلیل و خوار کر نے میں لطف محسوس کرتے ہیں اور فوری طور پر انہیں یہ احکامات بھی صادر کئے جائیں کہ نادرا سمیت پاسپورٹ آفس میں بلا کسی عذر کے پختونوں کے جائز کام کو روکا نہ جائے اور پہلی فرصت میں ان کا کام کرتے ہوئے دوسرے شہریوں کی طرح انہیں بھی عزت دی جائے ۔


ای پیپر