احتساب کا احتساب

23 اپریل 2018

نیب آج کل بہت زیادہ متحرک ہے، موجودہ چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے جب عہدہ سنبھالا تو اعلان کیا کہ اب احتساب سب کا ہو گا اور بلاامتیاز ہو گا۔ احتساب ہوتا ہوا بھی نظر آئے گا۔ نئے چیئرمین کے آتے ہی نیب کے مردہ گھوڑے میں پھر سے جان پڑ گئی۔ آئے روز مقدمات، ریفرنسز، انکوائریوں کی منظوری جس رفتار سے دی جا رہی ہے لگتا ہے ”وقت کم ہے اور مقابلہ سخت“
ہر عام انتخابات سے پہلے احتساب کا جن بوتل سے باہر آ جاتا ہے، بلاامتیاز اور سب کے احتساب کا تاثر دینے کے لئے بہت زیادہ گرد اڑائی جاتی ہے لیکن احتساب سب کا ہوتا ہے نہ بلاامتیاز۔ ٹارگٹ مخصوص ہوتا ہے، ٹارگٹ حاصل ہوتے ہی یہ ”جن“ پھر اسی بوتل میں بند کر دیا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں ہمیشہ احتساب بطور ہتھیار استعمال کیا گیا۔ ہر دور میں مخالفین کو دبانے، سیاسی وابستگیاں تبدیل کرانے اور سیاسی جماعتیں توڑنے، بنانے کیلئے احتساب فارمولا سے ہی کام لیا گیا۔ آمر اور سیاسی حکمران دونوں ہی اس سے مستفید ہوتے رہے۔ پیپلزپارٹی کے دور اقتدار میں مسلم لیگ اور مسلم لیگ کے دور میں پیپلزپارٹی، آمروں کے ادوار میں سر اٹھانے کی کوشش کرنے والے ہر رہنما اور سیاسی جماعت کے کھاتے احتساب کے نام پر کھلتے رہے۔ مقدمات، ریفرنسز بنائے جاتے رہے، عدالتوں میں پیشیا ںاور سزائیں ہوتی رہیں۔
زیادہ دور نہیں جاتے میثاق جمہوریت سے پہلے میاں نوازشریف کی وزارت عظمیٰ کے دور میں آصف علی زرداری سے بڑا کرپٹ اور ملک دشمن کوئی نہیں تھا۔ اس وقت چیئرمین احتساب کمیشن سیف الرحمن کا طوطی بولتا تھا وہ آئے روز نئے نئے انکشافات کرتے تھے، کبھی لندن میں سرے محل اور کبھی سوئس اکاﺅنٹس کا چرچا ہوتا تھا۔ آصف زرداری پر ریفرنس پہ ریفرنس اور مقدمے بنائے گئے، عدالتوں میں پیشیاں بھگتیں، قید بھی کاٹی لیکن بالآخر ہوا کیا.... ایک ایک کر کے تمام ریفرنس، تمام مقدمے ختم اور آصف زرداری بری ہو گئے جس کے نتیجے میں ان کا سیاسی قد پہلے سے بہت اونچا ہو گیا اور وہ پیپلزپارٹی کی کمان سنبھالنے کے ساتھ ساتھ ایوان صدر تک جا پہنچے۔
پرویز مشرف آمریت کے دور میں شریف خاندان کا کڑا احتساب ہوا، 10سال کیلئے ملک بدر کر دیا گیا۔ مسلم لیگ (ن) کو توڑ کر مسلم لیگ (ق) بنائی گئی۔ اس سے پہلے پیپلزپارٹی کے دوراقتدار میں بھی شریف خاندان زیرعتاب رہا۔ آج کل ایک مرتبہ پھر شریفوں اور لیگیوں کے احتساب کی باری چل رہی ہے۔ شکنجہ کس دیا گیا ہے۔ نوازشریف کو وزیراعظم ہاﺅس اور پارٹی صدارت سے نکالنے کے بعد سیاست سے آﺅٹ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ میاں شہباز شریف پربھی احد چیمہ اور ماڈل ٹاﺅن کیس کی شکل میں خطرے کی تلوار لٹکا دی گئی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے کئی وزراءاور رہنما مختلف مقدمات اور نیب ریفرنسز کا سامنا کر رہے ہیں۔ چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کی بات اس حد تک تو درست ثابت ہوگئی کہ احتساب ہوتا دکھائی دے گا۔ اب احتساب دکھائی تو دے رہا ہے لیکن صرف مسلم لیگ (ن) کا ۔ چیئرمین نیب کااحتساب سب کا “ اور ”بلاامتیاز احتسابکا نعرہ صرف نعرہ ہی رہ گیا ۔ فرق صرف یہ ہے کہ پچھلے ادوار میں حزب اختلاف کا احتساب ہوتا تھا اور آج حکمران جماعت اور اس کی قیادت نشانے پر ہے۔ سیاسی قوتیں اور پارلیمنٹ اتنی کمزور ہو چکی ہیں کہ عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ اس پر حاوی ہو گئی ہیں۔میاں نوازشریف اور ان کے ساتھیوں پر دھڑا دھڑ کیس اور ریفرنس بنائے جا رہے ہیں۔ نیب اور عدالتوں میں پیشیاں ہو رہی ہیں۔ اس سے مسلم لیگ (ن) کے خدشات کو تقویت ملتی ہے کہ نیب کو انتخابات میں اس کا راستہ روکنے اور پارٹی کو توڑنے کے لئے استعمال کیا جائے گا۔ انہی خدشات کی بنیاد پر مسلم لیگ (ن) کے قائد نوازشریف نے مطالبہ کیا کہ نئی حکومت آنے تک نیب قانون معطل کیا جائے لیکن کسی فورم پر اس مطالبے پر غور کرنا بھی گوارا نہیں کیا گیا۔ سینیٹ الیکشن سے کچھ عرصہ قبل بلوچستان حکومت کی تبدیلی اور چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں جو کرشمے دکھائے گئے اس سے جہاں پس پردہ قوتوں کا کردار واضح ہوا، وہیں پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کا چہرہ بھی بے نقاب ہوا اور عام انتخابات کیلئے متوقع صف بندی کا عندیہ بھی ملا۔ سندھ سے باہر ہونے والے ہر ضمنی انتخاب میں اپنے امیدواروں کی ضمانتیں ضبط کرانے والی پیپلزپارٹی کے لیڈر آصف زرداری نے چیئرمین سینیٹ انتخاب کے بعد بیان میں کہا کہ آئندہ انتخابات میں ان کی پارٹی کامیاب ہو گی اور چیئرمین سینیٹ کی طرح پنجاب کی وزارت اعلیٰ بھی مسلم لیگ (ن) سے چھین لیں گے۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے تازہ بیان میں یہ انکشاف کیا کہ پی ٹی آئی نے انہیں کہا ”اوپر“ سے حکم ہے چیئرمین سینیٹ کیلئے صادق سنجرانی کو ووٹ دیں۔ سراج الحق کے بیان سے واضح ہو گیا کہ سینیٹ میں مسلم لیگ (ن) کا راستہ ”اوپر“ والی طاقت کے کہنے پر پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف نے روکا اور آصف زرداری اسی طاقت کے بل بوتے پر پنجاب کی وزارت اعلیٰ مسلم لیگ (ن) سے چھیننے کے دعوے کر رہے ہیں اور احتساب کے پیچھے بھی وہی طاقت ہو سکتی ہے۔
ان حالات میں عوام کے ذہنوں میں کئی سوالات اٹھنے لگے ہیں کہ :
o....کیا انتخابات شفاف، آزادانہ، منصفانہ اور غیرجانبدار ہو سکیں گے؟
o....کیا مسلم لیگ (ن) کو پیپلزپارٹی، تحریک انصاف اور دیگر جماعتوں کی طرح الیکشن لڑنے کے مساوی مواقع مل سکیں گے؟
o....عدالتی فیصلے اور نیب الیکشن پر اثرانداز نہیں ہوں گے؟
عوام ان سوالات کے تسلی بخش جواب چاہتی ہے جن کے جوابات دیئے بغیر آئندہ الیکشن منصفانہ نہیں کہلا سکیں گے۔ کہتے ہیں درست کام غلط طریقے سے غلط وقت پر کیا جائے گا تو اس کا تاثر غلط ہی ہو گا۔ احتساب سب کا ہو، میرٹ پر ہو اور تسلسل کے ساتھ ہو، کوئی لاڈلا ہو نہ سوتیلا تو عوام اسے قبول کریں گے اور ملک کے لئے سودمند ہو گا۔

مزیدخبریں