اے پی سی کے اثرات
22 ستمبر 2020 (22:56) 2020-09-22

پیپلزپارٹی کی میزبانی میں اے پی سی کا انعقاد ہو چکا ہے مگر کیا اِسے آل پارٹی کانفرنس کہہ سکتے ہیں ؟میرے خیال میں نہیں کیونکہ اِس میں تمام جماعتیں شریک نہیں ہوئیں کچھ حکومتی اتحادکا حصہ ہیں اگر یہ کہیں کہ یہ اے پی سی حزبِ اختلاف کی تھی تو میرے خیال میں یہ بھی درست نہیں کیونکہ جماعتِ اسلامی اِس اجلاس میں شامل نہیں ہوئی بلکہ کئی دیگر چھوٹی جماعتوں نے وفد بھیجنا بھی مناسب نہیں سمجھا اسی طرح بی این پی مینگل گروپ کی طرف سے بھی پہلے یا دوسرے نہیں بلکہ تیسرے درجے کی قیادت شامل ہوئی لیکن یہ بھی کیا کم ہے کہ حزبِ مخالف سے تعلق رکھنے والی زیادہ تر جماعتوں نے مل بیٹھ کر حکومت سے چھٹکارے کالائحہ عمل طے کرنے کا سوچا یہ الگ بات ہے کہ ڈھیروں تجاویز پیش ہوئیںمگرعمل درآمد پر متفق نہیں ہوسکیں مگراے پی سی کے بعد ملک میں ایک بارپھر الیکٹ،سلیکٹ اور پرفیکٹ کا شور مچ گیا ہے جو جس کا طرفدار ہے دلیل کی بجائے مرنے مارنے کو تیار ہونا بالغ نظری نہیں کہہ سکتے ذاتی مفاد پراجتماعی مفاد کو ترجیح دیئے بنا ملک و قوم کے لیے سود مند فیصلے نہیں کیے جا سکتے۔

اے پی سی کے اثرات کی بات کریں تو اِس میں شائبہ نہیں کہ ملک میں بھونچال کی کیفیت ہے حالانکہ عدمِ اعتماد سمیت اسمبلیوں سے ابھی استعفوںکی بات التوامیں ڈال دی گئی ہے جنوری میں اسلام آباد کی طرف مارچ  اور دھرنے کا عندیہ ظاہر ہوا ہے البتہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کا اشارہ ضروردیا گیا ہے جہاں تک تنقید کی بات ہے حکومت کو سقوط کشمیر کا ذمہ دار ٹھہرانے ،کسی اِدارے کی مداخلت کے بغیر نئے انتخابات کا مطالبہ کرنے کے ساتھ ملک گیر جلسے جلوس کرنے کافیصلہ کیا گیاہے پھر بھی اے پی سی نے حکومتی صفوں میں ہراس پیداکردیا ہے وفاقی وصوبائی وزرا طعن وتشنیع میں مصروف ہیں سب کی ایک ہی نُکتے پر تان ٹوٹتی ہے کہ سزا یافتہ کو خطاب کا موقع کیوں دیا گیا؟مگر ایسا کہتے ہوئے شایہ اُنھیں یاد نہیں رہتا کہ جس جج نے سزا دی تھی وہ خود بھی اب سزا یافتہ ہے اگر اے پی سی ٹائیں ٹائیں فش ہے اور کرپٹ مافیا کے اجتماع ہے تو یہ دریافت کرنا تو بنتا ہے کہ جب کچھ ہوا نہیں تو آپ پھر کیوں ہلکان ہیں؟

اپوزیشن جماعتوں میں اے پی سی کی وجہ سے اتفاق کی فضا بنی ہے حالانکہ مولانا فضل الرحمن کی طبیعت پارلیمنٹ سے سخت مکدر ہے اور وہ فوری استعفوں کا کارڈ کھیلنا چاہتے ہیں لیکن اِس کارڈ کی چال چلنے پر کوئی جماعت آمادہ نہیں شاید اسی لیے اُن کا خطاب براہ راست نشر کرنے پرقدغن لگائی گئی جس کا بلاول سے مولانا نے شکوہ بھی کیا ہے یہ احتیاط ظاہر کرتی ہے کہ اپوزیشن ابھی تمام کشتیاں جلا کر میدان میں نہیں آنا چاہتی بلکہ واپسی کے محفوظ راستے رکھنے چاہتی ہے پی ٹی ایم کی شرکت سے اے پی سی پر فوج مخالفت بیانیے کی حامل سیاسی قیادت کی چھاپ کونواز شریف کے خطاب نے مزید گہرا کیا ہے مقابلہ عمران کی بجائے اُنھیں 

لانے والوں کی بات سے ثابت ہوگیا ہے کہ ابھی وہ اِداروں سے نفرت پر مشتمل بیانیہ چھوڑنے پر آمادہ نہیں اور مجھے نہیں لگتا کہ یہ بیانیہ اقتدار کی منزل آسان کر سکتا ہے آصف زردار ی  نے تین سال کے لیے آنے اور ہمیشہ رہنے کی بات کرکے بہت کچھ کھویا اور پھر بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرنے کی تاویلیں پیش کرتے رہے مگر نواز شریف نے اے پی سی سے خطاب کرتے ہوئے کسی مصلحت سے کام نہیں لیا جس کا مطلب ہے کہ وہ اقتدار کی بجائے محاذآرائی کی طرف جانا سیاسی لحاظ سے اپنے لیے زیادہ سود مند تصور کرتے ہے حالانکہ پنجاب میں ایسے بیانیے کو پذیرائی ملنا بہت مشکل ہے جب کہ نواز شریف کا زیادہ ترووٹ بینک پنجاب میں ہے ٹویٹر پر بنائے اکائونٹ میں پہلا ٹویٹ ہی ووٹ کو عزت دو سے بھی یہی واضح ہوا کہ وہ کسی نقصان کی پرواہ کیے بغیراپنی ڈگرپر کاربند ہیں شہباز شریف کے ساتھ مریم نواز کو اے پی سی میں بھیجنے سے بھی یہی ظاہرہوا کہ اُنھیں اِداروں سے راہ و رسم رکھنے میں کوئی دلچسپی نہیں مگر یاد رکھنے والی بات یہ ہے کہ پاکستان میں مسلح افواج کے خلاف بات سُننے اور پھر تائید کا کوئی کلچر نہیں بلکہ ایسی سوچ رکھنے والے کوچہء اقتدار کے ساتھ لوگوں کے دلوں سے بھی اُتر جاتے ہیں پھر بھی گھاٹے کا سودا کیوں کیا گیا آیا کسی طرف سے حوصلہ افزائی ہوئی ہے یا کچھ اور بات ہے اِداروں کو ہدفِ تنقید بنانے سے مسلم لیگ ن کی سیاست متاثر ہونے کا غالب امکان ہے۔

عمران خان فیصلوں پر پچھتاوے کا اظہار کرتے رہتے ہیں نواز شریف کو بیرونِ ملک بھیجنے کو بھی غلطی قرار دیتے ہیں لیکن نوازشریف کی تقریربراہ راست دکھانے والے میڈیا کے خلاف کاروائی کرنے کا عزم ظاہر کرنے والے وزیروں کی بات نہ مان کرانھوں نے ایک طرف توخود اعتمادی ظاہر کی ہے دوسرا میڈیا پر پابندیوں کے شور کوبھی غلط ثابت کیا ہے یہ ایسی تبدیلی ہے جس سے عمران خان کا سیاسی قدبڑھا ہے کیونکہ اب تو یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ براہ راست تقریر نشر کرنے کی عمران خان نے خود اجازت دی اے پی سی میں مسلم لیگ ن اور پی ٹی ایم کی یکساں سوچ کو بے نقاب کیا ہے نواز شریف لانے والوں سے اعلان جنگ کی بجائے اگر حالیہ اسکینڈل تک محدود رہتے تو مہنگائی کے ستائے لوگ یقینی طور پر زیادہ پذیرائی دیتے مہنگائی کے خلاف بات کرنے کے خواہاں لوگوں کو اب نواز شریف کی مشکلات میں اضافہ ہوتا دکھائی دیتا ہے الطاف حسین نے بھی اِداروں سے بگاڑ کر ملک کے خلاف نعرہ بازی کی اب گھنٹوں میڈیا پر بولنے والے کس حال میں ہیں شایدملک میں کم لوگ ہی جانتے ہیں لیکن بیمارنواز شریف کے اِداروں پر تابڑ توڑ حملے سمجھ سے باہر ہیںبظاہر تو ایسا محسوس ہوتا ہے اے پی سی سے حکومت کی بجائے نوازشریف پر دبائو بڑھنا بعیدازقیاس نہیں جنھوں نے پاکستان میں سیاست کرنی ہے وہ ذہن نشین کرلیں لندن میں قیام پذیر نوازشریف کی تقریر اور پی ٹی ایم جیسی جماعت کو ساتھ بٹھا کر کوئی اے پی سی حکومت کے لیے خطرہ پیدا نہیں کر سکتی۔

اے پی سی کے فیصلوں پر اتفاق کے لیے اکتوبر سے دسمبر تین ماہ بہت اہم ہیں اگر فیصلوں پر عملدرآمد کا طریقہ کار طے کر لیا جاتا ہے تو اگلے برس مارچ میں متوقع سینٹ الیکشن میں پی ٹی آئی کااکثریت حاصل کرنے کا خواب متاثر ہوسکتا ہے وگرنہ شہبازشریف سیمنٹ لگانے کا لاکھ دعویٰ کرتے رہیں دراڑیں پڑنا تو ایک طرف متحدہ اپوزیشن کی سوچ عملی جامہ نہیں پہن سکتی گزشتہ ہفتے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید سے سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی رہنمائوں کی ہونے والی ملاقات میں کسی نے اِداروں کی مداخلت کی بات نہیں کی بلکہ نیب کے طریقہ کار پر اعتراض کیا ہے مزے کی بات یہ کہ نیب کے سربراہ کی تعیناتی کی ذمہ دارپی پی اور ن لیگ کی قیادت ہے گلگت وبلتستان کو صوبہ بنانے کے لیے منعقدہ اجلاس میں نیب کا قصہ قطعی غیر مناسب تھا اگر اپوزیشن نے حکومت سے چھٹکارہ حاصل کرنا ہے تو اُسے طریقہ کار بھی طے کرنا ہوگا اِداروں سے محاذآرائی میں توانائیاں ضائع کرنے کی بجائے حکومت پر دبائو ڈالنا ہوگالیکن اے پی سی سے حکومت کی بجائے اِداروں کی مخالفت کا تاثر ملا ہے۔


ای پیپر