ابلاغ،تذکیراورتحقیق
22 ستمبر 2020 (22:55) 2020-09-22

لفظ کی حرمت اور ابلاغ …گزشتہ سے پیوستہ…حضرات گرامی!  آپ میں سے ہرشخص کے پاس وہ صلاحیتیں ہیں جودنیا کے کسی بھی طاقتور شخص کے پاس ہوتی ہیں ۔فرق صرف یہ ہے کہ اس نے انھیں دریافت (Discover )کرلیا اورآپ نے انھیں دریافت نہیں کیا۔ جس نے دریافت کرلیا اس نے وہ مقام پالیا۔جس نے دریافت نہیں کیا وہ درماندہ و بے چارہ رہا۔ تو آپ لوگ جوپاکستان سے یونان آئے آپ نے آدھی بات پر تو عمل کرلیا کہ آپ یونان آ گئے،آپ کو جہاں زیادہ مواقع دکھائی دیے آپ نے وہاں کا رخ کرلیا ۔آپ نے سرزمین تبدیل کرلی۔ آپ نے ہجرت کرلی، آپ یہاں تشریف لے آئے، یہاں آکے امکانات کو تلاش کرلیا، دریافت کرلیا تو مبارک ہو آپ کو۔ آپ نے تو بہت بڑا مرحلہ طے کرلیا۔ اب سوال باقی یہ رہ گیا ہے کہ اس مرحلے میں آپ کے پیشِ نظر جومقصد اورمدعا ہے وہ کیاہے؟  مقصود (Target )ہی سرگرمی( Activity )کی بنیاد ہوتا ہے۔

 کیا ہم اپنے ان رشتوں کے بارے میں وہ حساسیت رکھتے ہیں جس کامیںنے انھی لفظوں کے حوالے سے ذکرکیا ہے کہ ہم اپنے الفاظ کو اظہارکاذریعہ سمجھتے ہیں یہی سمجھا جاتا ہے کہ الفاظ جو ہیں وہ ذریعہ اظہارہیں۔ میں اپنے خیالات کس طرح ظاہر کروں؟  بول کے ظاہر کروں، لکھ کے ظاہر کروں، اشاروں سے ظاہرکروں تو اظہار کا بنیادی ذریعہ( Tool ) زبان ہے تو کیا زبان اظہارِ محض کے لیے ہمیں دی گئی ہے…؟  مجھے نہیں معلوم کہ آپ اس کا کیا جواب دیں گے کہ کیا زبان اظہارمحض کے لیے دی گئی ہے یااظہارخیال کے لیے دی گئی ہے…؟ ممکن ہے کہ آپ اس کا جواب اثبات میں دیں کہ جی ہاں اور کس لیے دی گئی ہے۔ اظہار خیال ہی کے لیے دی گئی ہے۔ لیکن افسوس کہ میں اس سے اتفاق نہیں کرسکتا ۔ زبان اظہارِ خیال کے لیے نہیں دی گئی ہے۔پھرزبان کس لیے دی گئی ہے؟ دیکھیں نا ، ہرعضو جوہے انسان کا وہ استعمال کے لیے بے چین ہے۔ ہاتھ ہے، آپ اسے باندھ کے نہیں رکھ سکتے۔ اگرسزا دینی ہو تو ہتھکڑی لگاتے ہیں۔ یہ سزا ہے ناکہ آپ ہاتھوں کو استعمال نہ کریں۔ پائوں ہیں، چلنے کے لیے بے تاب ہیں۔ آنکھیں ہیں، آپ پٹی نہیں باندھ سکتے آنکھیں دیکھنے کے لیے بے تاب ہیںتو زبان بھی بولنے کے لیے بے تاب ہے۔

آپ کسی پہ زبان بندی کاحکم لگادیں تو یہ ایک سزا ہوگی لیکن میں آپ سے اتفاق  نہیں کرتا کہ زبان اظہارِ خیال کے لیے ہے۔ ایک بڑے فلسفی کا قول یادآگیا وہ کہتا ہے کہ میرے دل میں جو خیالات ہیں اگر میں بعینہٖ وہ خیالات ظاہرکردوں توفی الفور پاگل قرار پائوں… تواس کا کیامطلب ہے کہ وہ ان خیالات کوظاہرنہیں کرتا پھرکونسے خیالات کو ظاہر کرتا ہے؟  ان خیالات کو جو اس موقع، جو اس لمحے ،جواس محفل، جو اس وقت کے مطابق ہیں۔ تو گویا آپ کی زبان نے اظہار کا کام نہیں کیا جو دل میں جذبات تھے اس کو زبان نہیں دی آپ نے کیا کیا؟ آپ نے انھیں روکنے کاکام کیا۔ آپ نے زبان سے purification کا کام لیا۔ آپ نے زبان سے اظہار کاکام نہیں لیا۔ آپ نے تذکیر کاکام لیا ۔آپ نے اپنے الفاظ کوایڈٹ کرنے کاکام لیا۔ اپنے الفاظ کو انتخاب کرنے کاکام لیا۔ اپنے الفاظ کو حسن بخشنے کاکام لیا۔ اپنے جذبات کو سلیقے سے پیش کرنے کاکام لیا۔ جو منہ میں آیا وہ تو نہیں کہہ دیا۔ وہ اسی فلسفی کی طرح کہ جو کچھ میرے دل میں ہے اگر میں وہ کہہ دوں تو دنیا کی نظرمیں فوراً پاگل قرار پائوں… تو جو کچھ دل میں پوشیدہ ہے ہم وہ سب کچھ نہیں کہہ سکتے اور نہیں کہنا چاہیے۔ ہمیں وہی بات کہنی چاہیے جو اس موقع  اورمحل کے لیے موزوں ہو اور جو اس وقت کا تقاضا ہو اور مبنی بر حقیقت ہو۔جومبنی بر صداقت ہو،جومبنی بر واقعیت ہو۔ قرآن پاک میں ایک جگہ اس بات کی بڑی عجیب وغریب وضاحت کی گئی ہے کہ اے ایمان والو! جوخبر تم تک آیا کرے بغیرتحقیق کے اس پر ایمان نہ لے آیاکرو‘‘  یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا إِن جَاء کُمْ فَاسِقٌ بِنَبَأٍ فَتَبَیَّنُوا أَن تُصِیْبُوا قَوْماً بِجَہَالَۃٍ فَتُصْبِحُوا عَلَی مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِین۔ اے ایمان والو!  اگرکوئی فاسق تمھارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانستہ نقصان پہنچا بیٹھو اور پھراپنے کیے پر پشیمان ہو(۴۹:۶)

یعنی  اگرتحقیق نہیں کریں گے تو کسی جہالت میں ،کسی آزمائش میں، کسی مصیبت میں مبتلاہوجائیں گے۔مفسرین نے اس آیت کی تفصیل میں بتایا ہے کہ ہوا یہ تھا کہ قبیلہ بنی المصطلق سے زکوٰۃ کی وصولی کے لیے ایک صاحب کو بھیجاگیا۔ انھوںنے آکریہ کہہ دیاکہ اس قبیلے والوںنے زکوٰۃ دینے سے انکارکردیاہے اور وہ تو مجھے قتل کرنے لگے تھے …جس پر اللہ کے نبیؐ نے ایک لشکر ،مقابلے کے لیے، بھیج دیا یابھیجنے کا فیصلہ کردیا ۔ آگے جاکر پتا چلا کہ خبرغلط ہے، کوئی انکار ہواتھا نہ ارادئہ قتل ۔چنانچہ وہ ساری فوج جو تھی وہ واپس آگئی اور قبیلہ بنی المصطلق کے سردار نے آکر وضاحت کی کہ ہم نے تو آپ کے پیغام رساں کو دیکھاتک نہیں، کجا کوئی انکار کیاہو یا حملے کا ارادہ کیا ہو …یہ سردار حارث بن ضرارتھے جو رسولؐ اللہ کی اہلیہ حضرت جویریہ ؓکے والد ہیں ۔ تواس طرح خدا نے ہمیشہ کے لیے یہ پیغام دے دیا کہ جب آپ کے پاس کوئی خبر آئے تو آپ اس کی تحقیق کر لیا کریں اور اس کے بغیر اسے آگے نہ بڑھائیں اور جھوٹے کی یہ نشانی بتائی کہ جو سنے اسے بلاتحقیق آگے بڑھادے  کفی بالمرء کذباًان یحدث بکُل ماسَمِع…کسی شخص کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ جو بات سنے اسے بلاتحقیق آگے بڑھادے (مسلم)زباں سے کان کی گرپردہ داری ہونہیں سکتی …کوئی لغزش بڑی اس سے تمھاری ہونہیں سکتی…قرآن کہتاہے یَقُولوُا الَّتِی ھِیَ اَحسَن …منہ سے وہ بات نکالوجو بہترین ہو(۱۷:۵۳) ۔بخاری کی ایک روایت میں ہے کہ جواللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتاہے اسے چاہیے کہ کلمہ خیر کہے فَلیَقُل خَیراًاو لِیَصمُت اچھی بات کہے اگراچھی بات نہیں ہے، نہیں کرسکتاہے تو پھرخاموش رہے…افسردہ اگراس کی نواسے ہوگلستاں+ بہترہے کہ خاموش رہے مرغ سحرخیز…اب آپ سوچ لیجیے Whatsappمیں کیا ہورہا ہے جو میسج آیا اس کو فوراً فارورڈکیایعنی آگے بڑھادیا۔ ہروقت، ہر شخص اس کے اندرہی الجھا ہوا ہے۔ وہ کسی نے ایساہی ایک میسج بھیجا کہ مسجد میں جمعے کا خطبہ ہورہاتھا ۔ ایک نوجوان اپنے موبائل میں منہمک تھا ۔ ساتھ ایک بزرگ بیٹھے تھے تو وہ ان سے کہنے لگا کہ انکل مسجد کے  WIFI کاپاس ورڈ کیاہے۔ انھوں نے اس نوجوان کی جانب ناگواری سے دیکھا اور کہا استغفراللہ…کہ خانہ خدامیں بیٹھ کر بھی اسے موبائل سے فرصت نہیں، کیاجہالت ہے ۔تووہ نوجوان خاموش ہوگیااور باردگراپنے فون میں گم ہوکر اس کی کلیں دبانے لگا ۔ تھوڑی دیر بعد کہنے لگا انکل یہ استغفراللہ کیپٹل لیٹرزمیں لکھناہے یا سمال لیٹر زمیں …،تووہ  استغفراللہ کو پاس ورڈ سمجھ کر اسے اپنے موبائل میں فیڈ(feed ) کرتارہا…توظاہر ہے کوئی ویڈیوآئی ہے، اس نے کسی دوست کو فارورڈ کرنی ہے۔ یہی کرنا تھا نا …تویہ سوشل میڈیا جو ہے یہ ہماری زندگی پر اس طرح چھا گیا ہے کہ ہمارے پاس تحقیق کرنے کی فرصت نہیں ہے اور میسج آتاہے وہ جھوٹا ہے سچا ہے وہ فتنہ انگیز ہے، وہ شر انگیز ہے۔ ہم فوراً پڑھتے ہیں، متاثرہوتے ہیں، جلدی سے اپنے دوستوں کوبھیج دیتے ہیں اورآگے ایک سے دس، دس سے بیس، بیس سے دو سو ہزار اور چالیس ہزار۔ تووہ لوگ جن کا تعلق قلم وقرطاس سے ہے، ان کی ذمہ داری اس اعتبار سے بہت بڑھ جاتی ہے کہ ہمارا کام صرف ابلاغ ہے یاہمارا کام ابلاغ کے ساتھ ساتھ تذکیر بھی ہے …؟یا ہمارا کام ابلاغ کے ساتھ تحقیق بھی ہے…؟   (جاری ہے)


ای پیپر