ظلم اور ظلمت!!
22 ستمبر 2020 (22:52) 2020-09-22

چیزیں اپنے عکس سے جانی اور پہچانی جاتی ہیں۔ یہ عالمِ دنیا درحقیقت عالمِ کثرت ہے۔ عالمِ کثرت تنوع سے عبارت ہے۔ تنوع کی  بنیاد اختلاف ہے، اور یہی اختلاف اپنی آخری حد کو پہنچ کر تضاد کی شکل میں بدل جاتا ہے۔ وحدت آشنا نظر تضاد میں بھی ہم آہنگی تلاش کر لیتی ہے، کثرت اورتنوع کا کوئی منظر اسے وحدتِ اَمر سے غافل نہیں کر پاتا۔ ظلم کاتضاد عدل ہے۔ عدل کے معنی اگر واضح ہوگئے تو ظلم کے معنی بھی کھل جائیں گے، ظلم کا شکار ہوئے بغیر!!  فکر و نظر کے عادلوں نے عدل کی تعریف یہ طے کی ہے کہ ہر چیزکو اس کے اصل مقام پر رکھنے کا نام عدل ہے۔ شرک کو ظلم ا س لیے کہا جاتا ہے کہ اس میں مقامِ خالق اور مخلوق کو خلط ملط کر دیا جاتا ہے۔ اسی لیے انبیا مبعوث ہوئے تاکہ وہ بتائیں کہ عبدیت اور الوہیت میں کیا فرق ہے۔ جو قوم انبیا پر ایمان لے آتی ہے‘ وہ قدرتی طور پر شرک کے تصور سے پاک ہو جاتی ہے۔ مشرک معاشروں میں رسالت کا تصور نہیں ہوتا۔ اس لیے مخلوق اور خالق کو باہم خلط ملط کرنا خالق کی تلاش کے باب میں ان کی مجبوری بن جاتی ہے۔ یہودی اور نصرانی قوم اپنے انبیا کو اللہ کے نبی اور رسول کے طور پر نہیں مانتی بلکہ انہیں معاذ اللہ اس ذات کی توارث میں شامل کر دیتی ہے، جس کی شان لم یلد ولم یولد ہے۔ مخلوق کو خالق کے درجے میں اور خالق کو مخلوق کے درجے میں شامل کرنا ظلم ہے ، بلکہ ظلمِ عظیم ہے۔

 عدل تصورِ حیات سے شروع ہوتا ہے اور کارگاہِ حیات کے گوشے گوشے میں کارفرما نظر آتاہے۔ راہِ عدل سے انحراف ظلم کی راہ ہے۔ تصورِ حیات باطن کا شعبہ ہے ، اس لیے عدل اور ظلم دونوں کا تصور باطن  میں جھانکنے سے سمجھ میں آئے گا۔ ظلم کا آسان مفہوم یہ ہے کہ کسی شے کو اس کی اصل سے جدا تصور کیا جائے…کسی شے کو اس کے اصل مقام سے جدا کر دیا جائے۔ چنانچہ وحدت الوجود کا شعور اور مشاہدہ رکھنے والوں کے ہاں شرک کی تعریف عوام الناس کی تعریف سے مختلف ہو جائے گی۔ وہ ہر شئے کا  اصل جانتے ہیں۔’’ کل شئی یرجع الی اصلہٖ‘‘ کی رمزجانتے ہیں۔ وہ ’’انالحق ‘‘کہیں تو عین توحید ہے۔’’ لیس فی جبتی الااللہ‘‘  پکار اٹھیں تو یہی اُن کا کلمہ توحید ہے۔ وہ خود کو مثلِ قطرہ سمجھتے ہیں اور مالکِ کل کو قلزم ِ حقیقت جانتے ہیں، اُن کے دل کا جلترنگ نغمۂ سازِ انالبحر چھیڑ سکتا ہے، وہ بزبانِ غالبؔ اقرار کرتے ہیں کہ 

 ہم اس کے ہیں‘ ہمارا پوچھنا کیا

اس کائنات میں انسان ہی وہ مخلوق ہے ‘ جسے ظالم نہیں بلکہ ظلوماً کہا گیا، اسمِ مبالغہ سے پکارا گیا ہے… اسے محض جاہل نہیں بلکہ جہولاً کہا گیا ہے، یعنی جہالت کی بھی آخری حد…یہ انسان جب اپنے اختیارات کو بے لگام استعمال کرتا ہے تو ظلم کا 

مرتکب ہوتا ہے۔ اس کے نفس کو کارِ نیابت سونپا گیا ہے، یہ شتر بے مہار بنتے ہی سب سے پہلے اپنے نفس پر ظلم ڈھاتا ہے۔ یہ ظلم فی الانفس جب حد سے بڑھتا ہے تو آفاق میں برہو جاتاہے۔ بحر وبرّ کا فساد سب سے پہلے انسان کے نفس میں رونما ہوتاہے۔ یعنی انسان باہر ظلم کرنے سے پہلے اپنے نفس پر ظلم کر چکا ہوتا ہے۔ وہ منصبِ نیابت و خلافت تیاگ کر ایک خود مختار اور باغی گورنر کی طرح اپنی بادشاہت کی بنیاد رکھ چکا ہوتا ہے۔ یعنی ہم کہہ سکتے ہیں کہ جب انسان اپنی اصل سے جدا ہوتا ہے، اپنے مقام و منصب کے تقاضوں کو فراموش کر دیتا ہے تو وہ اپنے حق میں ظلم کا ارتکاب کر چکا ہوتا ہے۔ 

جب ہم اپنے فرائض پورے نہیں کرتے تو ہم ظلم کرتے ہیں، اس ظلم کی  زد براہِ راست ان پر پڑتی ہے جن کے حقوق کی ادائیگی ہم پر فرض تھی۔ حقوق کے باب میں سب سے پہلے ہمارے اوپر اپنے خالق و مالک کی بندگی کے حقوق کی ادائیگی فرض ہے۔ ان حقوق میں عبادات سے لے کر معاملاتِ حیات کے سب شعبہ جات شامل ہیں۔ بندوں کے حقوق بھی  درحقیقت اللہ ہی کے حقوق ہوتے ہیں  کہ وہ  سب حقوق اللہ کی طرف سے عائد حقوق ہوتے ہیں… اور بندے بھی تو سب کے سب اللہ  ہی کے بندے ہوتے ہیں۔ ایک صاحب ِ ایمان کی  انسانیت کے تصور میں اور ایک لامذہب انسان کے تصورِ انسانیت میں یہی بنیادی فرق ہے۔ ایک صاحبِ ایمان شخص خدمت ِ انسان اللہ کا حکم سمجھ کر کرتا ہے، وہ خدمت ِ انسانیت کو اللہ اور اللہ کے رسولﷺ کا قرب کا ذریعہ جانتا ہے، جبکہ  ہیو مین ازم کی تحریک سے متاثر شخص ایک زندہ شخص کی خدمت کرتا زندگی کی خدمت سمجھ کر کرتا ہے۔ اس لیے وہ گذرے ہوئے شخص کی  تکریم نہیں کر پائے گا۔ما بعد تصورات سے محروم آدمی مخلوق کی  خدمت رات کے اندھیرے میں نہیں کر پائے گا، وہ   killing   mercy  کا قائل ہوگا۔ اس کی خدمت سیاست کا حصہ ہوگی  یا اس کے اپنے مزاج کی تسکین کا  حصہ !!

گناہ کا ا رتکاب ایک ظلم ہے۔ خواہ اس میں ملکی قانون متاثر نہ بھی ہو رہا ہو‘ تب بھی ظلم ہے…کیونکہ  یہ اپنے نفس پر ظلم ہے۔ یہ  نفس جس کے  ذمے خود شناسی اور پھر خدا شناسی  فرض  تھی، یہ  اپنے فرض ِ منصبی سے غافل ہو گیا۔یہ  لذتوں کی  بھول  بھلیوں میں گم ہو گیا۔ برف کی  چند سلوں کی مانند اسے کچھ لمحات کا سرمایہ دیا گیا، وہ اپنے وقت کو ضائع کر بیٹھا ، یعنی اپنا سرمایہ حیات ضائع کر بیٹھا۔ ایک بزرگ کا کہنا ہے کہ  میں نے زندگی کی حقیقت ایک برف فروش کی صدا سے جانی ،وہ  برف بیچنے والا آواز لگا رہا تھا،  رحم کرو اس شخص پر جس کا سرمایہ ہر آنے والے لمحے میں ضائع ہورہا  ہے۔

الغرض ظلم کی بہت جہتیں ہیں، بیرونِ خانہ ظلم کی  جہات کثیر ہیں‘ لیکن درونِ خانہ ظلم اپنے ہی نفس پر ظلم کرنے سے رونما ہوتا ہے۔ ظلم سے عدل کی طرف ہجرت ہی وہ راستہ ہے جو انسان کو ظلم اور ظلمت کے اندھیروں سے نجات دے سکتا ہے۔ ظلم سے عدل کی طرف ہجرت کا نام توبہ ہے۔ ابنائے آدم کو جاننا چاہیے کہ ان کے جدِ امجد کی سب سے پہلی دعا کیا تھی : ربنا ظلمنا انفسنا والم تغفرلنا لنکونن من الخٰسرین۔ ظلمت ِ نفس سے نورِ ہدایت کی طرف راہ پانے کے لیے سے سب سے پہلے ہمیں اپنے اندر ہی ایک عہد کرنا ہوتا ہے، واپس نہ  پلٹنے کا۔توبہ بھی پلٹنا ہے… اس پلٹنے اور پھر واپس نہ پلٹنے کے عہد کا نام توبہ ہے۔ توبہ پر قیام ہی راہِ عدل کو  جانے والا سیدھا راستہ ہے۔ جس طرح وہ ذات مطلق جو جمیل ہے ، جمال ِ مطلق ہے، وہ جمال کو پسند کرتی ہے، اس طرح وہ ذات عین عدل ہے اور راہِ عدل و اعتدال ہی کو پسند کرتی ہے۔ اَز رُوئے حدیث ،عادل حکمران کو سایہ عرش میں جگہ ملتی ہے ۔ ہمیں جہاں بھی حکمرانی حاصل ہے‘ چاہیے کہ ہم دیکھیں کہ اپنی رعیت سے معاملے کے باب میں ہم عدل سے قریب ہیں  یا دُور؟ اَز روئے قرآن‘ وہ ذاتِ پاک جو سبحان ہے‘ پاکیزگی کو پسند کرتی ہے، توبہ کو پسند کرتی ہے، عدل کو پسند کرتی ہے۔ 

جس طرح جسم کے کچھ تقاضے ہوتے ہیں‘ اس طرح ہماری روح کے بھی کچھ تقاضے ہیں۔ روح کا ایک اہم تقاضا طہارت اور لطافت ہے۔روح طہارت و نظافت میں اپنی جولانیوں پر ہوتی ہے اور ظلمت اور نجاست میں اس کادم گھٹ کر رہ جاتا ہے۔ یہاں تک یہ  ’’نیم مردہ‘‘ رْوح شیاطین کے ہتھے چڑھ جاتی  ہے۔  رحمٰن کے بندے اپنی روح کو پاک اور پوتر رکھتے ہیں، وہ  جانتے ہیں کہ یہی میڈیم انہیں ارواح مقدسہ سے ہم کلام ہونے کا شرف دیتا ہے۔ وہ اپنا برتن صاف رکھتے ہیں تاکہ جب بھی اس کی رحمت کا نزول ہو‘ وہ اپنے لیے  دل کی شفا حاصل کر سکیں۔ 

پس اصل ظلم اپنی جان پر ظلم ہے اور عدل کی اصل اپنے باطنی معاملات میں عدالت قائم کرنے  سے ہے۔ صاحب ِ نہج البلاغہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا ایک معروف قول ہے ، مفہوم جس کا  یوں ہے کہ انسان کوئی نیکی نہیں کرتا مگر اپنے لیے، اور کوئی گناہ نہیں کرتا مگر اپنے لیے! عدل کا منظر یہ ہے کہ عدل پر قائم انسان ہی یہ مشاہدہ کرتا ہے کہ جو ذرّہ جہاں ہے ‘ آفتاب ہے، کیونکہ وہ ذرے اور آفتا ب کو بنانے والی ذات کے حوالے سے اس کائنات کا مشاہدہ کر رہا ہے۔ خود ساختہ اصولوں پر چلنے والا انصاف کے نام پر بھی ظلم کا مرتکب ہو گا۔اپنے نفس پر ظلم ڈھانے والا عدل کی راہ نہ پاسکے گا۔


ای پیپر