شرح خواندگی: تعلیمی بجٹ میں اضافے کی ضرورت!
22 ستمبر 2020 (22:52) 2020-09-22

قوموں کی ترقی کا خواب تعلیم کے بغیر ممکن نہیں جن ممالک نے تعلیم پر توجہ دی ہے بجٹ میں تعلیم کیلئے خطیر رقم مختص کی اُن ممالک نے ترقی کی ۔بنگلہ دیشن ، سری لنکا اور نیپال بھی شرح خواندگی میں پاکستان سے آگے نکل چکے ہیں جو نہ صرف حکمرانوں کیلئے بلکہ پوری قوم کیلئے لمحہ فکریہ ہے قیام پاکستان کے 73 سال گزرنے کے باوجود ملک میں یکساں نظام تعلیم رائج نہیں کیاجاسکا ملک کی اعلیٰ ترین عدلت سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کے مطابق قومی زبان اُردو کو تمام سرکاری اداروں میں سرکاری زبان استعمال کرنا شروع کیا جائے لیکن سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد نہیں کیا گیا ۔ترقی یافتہ ممالک نے اپنی مادری زبان میں ترقی کی ہے ہمیں اُن ممالک کی طرح اپنے قومی زبان کو رائج کرنا چاہیے تھا لیکن اسکے برعکس انگریزی زبان کو ترجیح دی گئی جس کی وجہ سے پاکستان میں ناخواندگی کی شرح بڑھ گئی موجودہ حکومت نے ہائیر ایجوکیشن کے بجٹ میں اضافہ کرنے کی بجائے 15  ارب روپے کی کٹوتی کر دی ہے جس کی وجہ سے یونیورسٹیاں مالی بحران کاشکار ہوچکی ہیں ملازمین اور دیگر اخراجات کیلئے جامعات قرضے لے رہی ہیں فیسوں میں بے تحاشہ اضافہ کیا گیا حکمرانوں کے ناقص معاشی پالسیوں کی وجہ سے ملک کی طرح اب جامعات بھی قرضوں پر چل رہی ہیں ۔ 

پاکستان مسلم لیگ (ن)حکومت نے تعلیم کے بجٹ میںاربوں روپے اضافہ کیا تھا تعلیم کے 

فروغ کیلئے مثالی اقدامات اُٹھائے تھے اُس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کے احکامات پر بھٹہ مزدوروں کے تقریباً96ہزار بچوں کو سکولوں میں داخل کرا کے اُن کیلئے ماہانہ ایک ہزار روپے وظیفہ مقرر کیا تھا اور خود بحیثیت وزیر اعلیٰ مختلف بھٹوں کا وزٹ کرتے تھے اسی طرح شہباز شریف نے وزرات اعلیٰ کے دوران ناخواندگی کے خاتمے کیلئے انقلابی اقدامات اُٹھا کر طلباء کیلئے لیپ ٹاپ سکیم شروع کی تھی 4 لاکھ 25 ہزار لیپ ٹاپ میرٹ کی بنیاد پر طلباء میںتقسیم کئے جنوبی پنجاب کے غریب طلباء کیلئے وظائف مقرر کئے جس کے تحت چھ لاکھ بچوں کو تعلیمی وظائف دیے گئے اسی طرح اُجالا پروگرام کے تحت طلباء 2لاکھ 10 ہزار سولر لیمپس میرٹ پر تقسیم کیے تھے ان لائٹس 18 گھنٹے بالا تعطل بجلی کی ترسیل ممکن تھی ۔پنجاب کے 8 پسماندہ اضلاع کیلئے "دانش ماڈل سکول " قائم کیے گئے جس میں غریب اور نادار بچے مفت تعلیم حاصل کر رہے ہیںدانش ماڈل سکول میں پورے ملک کے طلباء کیلئے کوٹہ مقرر کیا تھا پنجاب ایجوکیشنل انڈومنٹ فنڈ 1 ارب روپے سے قائم کیا تھا تقریبا2 لاکھ طلباء کو وظایف دئیے گئے جبکہ دس سالوںمیں اس فنڈ کا حجم 20ارب تک پہنچ گیا ۔4500/- سکولوں میں طلبا ء کی تعداد  دُوگنا کیا 80 ہزار اساتذہ کو میرٹ کے بنیاد پر بھرتی کیا جن میں 50% خواتین اساتذہ تھیں ۔

تعلیمی اصلاحات کے تحت دنیا بھر کی اعلیٰ یونیورسٹیوں میں ماسٹر اور پی ایچ ڈی کی ڈگری کے حصول کیلئے " شہباب شریف میرٹ سکالر شپ" سکیم شروع کیا تھی زہین طلباء جو غربت کی وجہ سے امریکہ ویورپ کی یونیورسٹیوں میں ماسٹر اور پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل نہیں کرسکتے تھے ۔خادم پنجاب سکالر شپ کے تحت بیرونی ممالک کے اعلیٰ یونیورسٹیوں میں ماسٹر اور پی ایچ ڈی کی تعلیم حاصل کررہے ہیں اور میرٹ سکالر شپ سکیم میں پورے ملک کے طلباء کو شامل کیا گیا تھا اور میرٹ کی بنیادپر طلباء کو بیرونی ممالک بھیجوا گیا تھا ہر سال میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے امتحانات میں پوزیشن ہولڈر طلباء کو لاہور بلا کر اُن کی حوصلہ افزائی کی جاتی تھی اور اُن میں نقد انعامات تقسیم کیے جاتے تھے اور پوزیشن حاصل کرنے والے تعلیمی اداروں کے اساتذہ میں بھی کڑوروں روپے کے نقد انعامات دیے جاتے تھے اور یورپین ممالک کے مطالعاتی دورے میں کرائے جاتے تھے ۔شہباز شریف کے ان اقدامات کو ملک اور بیرونی ملک سمیت عالمی ادارے بھی سراہتے ہیں ۔ شہبا ز شریف کے تعلیم کیلئے انقلابی اقدامات سے پنجاب کے علاوہ پورے ملک کے طلباء مستفید ہو رہے ہیں اور ملک کے طلباء آج بھی پنجاب ایجوکیشنل انڈومنٹ فنڈ لیپ ٹا پ سکیم کو اچھا الفاظ میں یاد کرتے ہیں تحریک انصاف کی حکومت نے نہ صرف لیپ ٹاپ سکیم ، اُجالا پروگرام سمیت میرٹ سکالر شپ سکیم کو بند کیا ہے ۔طلباء کو مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت کے مثالی اقدامات سے محروم کر دئیے گئے ہیں ۔


ای پیپر