کوئی وزیر فضول بات نہ کرے، وزیر کی کوئی ذاتی رائے نہیں ہوتی، وزیراعظم
22 ستمبر 2020 (17:29) 2020-09-22

اسلام آباد: وزیراعظم  کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں   وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کوئی وفاقی وزیر حساس مذہبی معاملات پر بات نہیں کرے گا۔اجلاس کے دوران اسد عمر نے شیریں مزاری کے بعض بیانات پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ سب سے زیادہ شیریں مزاری بولتی ہیں، وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اہم ترین اجلاس میں 18 نکاتی ایجنڈے پر بھی غور کیا گیا ۔

اجلاس میں چیئرمین اوگرا اور ممبر اوگرا کی تعیناتی موخر کر دی گئی ،چیئرمین اوگرا کی تعیناتی کیلئے از سر نواشتہار دیا جائےگا،کابینہ اجلاس میں وفاقی کابینہ کو جنسی زیادتی کی روک تھام پراسیکیوشن میں بہتری تفتیش کے بل پر بھی بریفنگ دی گئی ،جنسی زیادتی کی روک تھام بل پر کابینہ کو بریفنگ مشیر داخلہ نے دی،کابینہ کو بتایا گیا کہ جنسی زیادتی میں ملوث درندوں کو سخت سزائیں دینے کےلئے سخت بل بنایا جائے گا۔

وزیراعظم نے وزراء کے بیانات کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے انہیں غیر ضروری بیانات دینے سے روک دیا۔ عمران خان نے ہدایت کی کہ کوئی وزیر فضول بات نہ کرے، وزیر کی کوئی ذاتی رائے نہیں ہوتی اور کوئی وفاقی وزیر حساس مذہبی معاملات پر بات نہیں کرے گا۔

اس کے علاوہ اجلاس میں مختلف ادویات کی ریٹیل قیمتوں کی منظوری دے دی گئی۔ کابینہ نے کورونا سے متاثرہ مریضوں کو لگنے والے انجیکشن کی قیمت میں کمی، ماڈل جیل کی تعمیر کے لیے اسلام آباد کے ماسٹر پلان میں ترمیم، کنٹونمنٹس ایریا کی درجہ بندی اور کنٹونمنٹ بورڈز کے آئین، جبکہ پاکستان آئی لینڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے قائم مقام چیئرمین کی تعیناتی کے لیے قواعد و ضوابط کی منظوری دے دی۔

اجلاس میں وفاقی کابینہ کی کارروائی کی آٹومیشن پر بریفنگ دی گئی اور اوگرا کے ممبر آئل کی تعیناتی کا معاملہ موخر کردیا گیا۔ بابر اعوان اور شہزاد اکبر نے خواتین و بچوں کے تحفظ سے متعلق بل کے مسودے پر بریفنگ دی۔

وزیراعظم نے کہا کہ بل فوری طور پر کابینہ کمیٹی برائے قانونی سازی میں لایا جائے، عورتوں اور بچوں سے جنسی جرائم میں ملوث مجرمان کو سخت سزائیں دیں گے۔

 


ای پیپر