دو سال: قرضوں میں اضافہ 14ہزار ارب روپے!
22 ستمبر 2020 (16:45) 2020-09-22

قومی اسمبلی میں وزارتِ خزانہ نے واجب الادا ملکی قرضوں کی تفصیل پیش کرتے ہوئے تسلیم کیا ہے کہ تحریکِ انصاف کے دو سالہ دورِ اقتدار کے دوران ملکی قرضوں میں 14ہزار ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ وزارتِ خزانہ کی طرف سے تحریری جواب میں مزید بتایا گیا ہے کہ سال 2019ء کے دوران مجموعی قرضہ جات GDP کے 105.9فیصد تک تھے جو رواں مالی سال میں اضافے کے بعد GDPکے 106.8فیصد تک پہنچ گئے ہیں۔ وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور جناب خسرو بختیار نے بھی قومی اسمبلی میں کرونا وائرس کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے ملنے والی غیر ملکی امداد کی تفصیل پیش کی ہے۔ جس کے مطابق کرونا سے نمٹنے کے لیے مجموعی طور پر 3ارب 55کروڑ 21لاکھ 10ہزار امریکی ڈالر کی غیر ملکی امداد مل چکی ہے۔ 

اگر دیکھا جائے تو دو سال کے دوران ملکی قرضہ جات میں 14ہزار ارب روپے اضافے اور ان کے GDPکے 106.8فیصد تک پہنچنے کی یہ ـ"نوید" کوئی ایسی غیر متوقع نہیں کہلا سکتی بلکہ کسی حد تک "خوش آئیند"  سمجھی جا سکتی ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت جسے کسی بھی شعبے میں کچھ بھی کارکردگی نہ دکھانے پر مطعون کیا جاتا ہے اس نے کم از کم کسی ایک شعبے میں خواہ وہ قرض لینے کا شعبہ ہی کیوں نہ ہو اپنی پیش رو حکومتوں کے مقابلے میں خاصی پھرتی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور اپنے دورِ اقتدار کے دو سال کے مختصر عرصے میں ملکی قرضوں میں 14ہزار ارب روپے کا اضافہ کرکے انہیں بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔ دو سال کے مختصر عرصے میں 14ہزار ارب روپے کے قرض لینے کو اس طرح بھی بیان کیا جا سکتا ہے کہ تحریکِ انصاف کی حکومت نے اوسطاً ایک سال میں 7ہزار ارب روپے کے قرضے لیے ہیں اور اگر تحریکِ انصاف کی حکومت اپنے اقتدار کے بقیہ تین سالوں میں اوسطاً اسی رفتار سے قرضے لینے کا سلسلہ جاری رکھتی ہے تو تین سال بعد اپنے دورِ اقتدار کے اختتام پر یہ 35ہزار ارب روپے کے لگ بھگ قرضے لے چکی ہوگی۔ اس کا موازنہ اگر قیامِ پاکستان سے جولائی 2018ء تک 71برسوں کے دوران (سٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق) لیئے جانے والے 29ہزار 879ارب ملکی قرضوں سے کیا جائے تو حیرت کا ایک جہان سامنے آتا ہے کہ 71سالوں میں 29ہزار879 ارب روپے قرضوں کی سالانہ اوسط آدھے ہزار ارب روپے سے بھی کم یعنی 0.42 ہزار ارب روپے سالانہ یا دوسرے لفظو ں میں420ارب روپے سالانہ بنتی ہے۔ جبکہ تحریکِ انصاف کے دو سالہ دورِ اقتدار میں قرضے لینے کی اوسط 7ہزار ارب روپے سالانہ ہے۔ قرضے لینے کی سالانہ اوسط میں اتنے بڑے فرق 6580)ارب روپے سالانہ(کا تصور کرنا بھی محال ہے۔ 

بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی، تحریکِ انصاف کے قائدین پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے پچھلے دس سالہ ادوار میں قرضوں کے غیر معمولی اضافے کو اپنی سخت تنقید کا نشانہ بناتے چلے آرہے ہیں۔ انہیں اس کا حق پہنچتا ہے لیکن اگر تحریکِ انصاف کے دو سالہ دورِ اقتدار میں لیے جانے والے 14ہزار ارب روپے کے ملکی قرضوں کا پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے ادوارِ حکومت میں لیے جانے والے قرضوں کے ساتھ موازنہ کیا جائے تب بھی قرضے لیے جانے کی سالانہ اوسط میں اتنا بڑا فرق ہے کہ تحریکِ انصاف کی حکومت بلا شبہ وکٹری سٹینڈ پر کھڑے ہونے کی مستحق ہے۔ تحریکِ انصاف کے قائدین کے مطابق 2008ء میں پیپلز پارٹی کے برسراقتدار آنے سے قبل ملکی قرضوں کا کل بوجھ 6ہزار ارب روپے تھا جو اپریل 2013ء میں پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت کے اختتام تک 14ہزار ارب روپے کی حدود کو چھونے لگا گویا پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت کے پانچ سالوں میں 8ہزار ارب روپے کے قرضوں کا اضافہ ہوا جس کی اوسط 1600ارب روپے سالانہ بنتی ہے۔ کہاں 1600ارب روپے کی سالانہ اوسط اور کہاں 7000ارب روپے کی سالانہ اوسط ۔ فرق 5400ارب روپے کا بنتا ہے۔ اسی طرح مسلم لیگ ن کے دورِ حکومت 2013تا 2018ء کے دوران لیے جانے والے ملکی قرضوں کے بارے میں تحریکِ انصاف کے قائدین کا یہ دعویٰ رہا ہے کہ مسلم لیگ ن نے یہ قرضے 30ہزار ارب روپے کی سطح تک پہنچا دیئے تھے۔ تو اس کا مطلب ہے کہ مسلم لیگ ن کے پانچ سالہ دورِ اقتدار میں تقریباً 14ہزار ارب روپے کے قرضوں کا اضافہ ہوا۔ جس کی سالانہ اوسط نکالی جائے تو یہ 2800ارب روپے سالانہ بنتی ہے۔ یہاں پر بھی مسلم لیگ ن کے دور میں لیے جانے والے قرضوں کی سالانہ اوسط  2800)ارب (اور تحریک انصاف کے دور میں لیے جانے والے قرضوں کی سالانہ اوسط 7000)ارب روپے (میں فرق (4200ارب روپے )کا بنتا ہے۔ اس حسابی جائزے سے پتہ چلتا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نے اپنے دو سالہ دورِ اقتدار میں ملکی قرضوں میں 14000ارب روپے کا اضافہ کرکے اگلے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ بلا شبہ اس "اعلیٰ کارکردگی" پر وزیرِ اعظم جناب عمران خان صاحب سمیت تحریک انصاف کے قائدین اور یمین و یسا سبھی مبارکباد کے مستحق ہیں۔ پوری قوم کو بھی اس پر خوشی کے شادیانے بجانے چاہیے بلکہ مٹھائی بانٹنی چاہیے کہ تبدیلی کس طرح آئی ہے اور کتنے زبردست طریقے سے آئی ہے۔ 

اگر برا نہ مانا جائے تو یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ تحریکِ انصاف کی حکومت ملکی اقتصادی حالت کو بہتر بنانے اور معیشت کو سنبھالا دینے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ حکومتیں قرضے لیتی رہتی ہیں لیکن اس رفتار کے ساتھ نہیں ۔ تحریکِ انصاف کے دو سالہ دورِ اقتدار میں بیرونی قرضے کتنے لیے گئے ہیں اس سے ہٹ کر ملک پر 14ہزار ارب روپے کے ملکی قرضوں کا بوجھ بڑھانا کوئی معمولی بات نہیں۔ پھر یہ بات بھی اہم ہے اور دیکھا جانا چاہیے کہ قرضے جو لیے گئے ہیں کیا وہ مناسب اور ضروری منصوبوں پر خرچ ہوئے ہیں یا نہیں۔ وزیرِ اعظم جناب عمران خان نے سال ڈیڑھ سال قبل اپنی سربراہی میں ایک کمیٹی یا کمیشن بنانے کا اعلان کیا تھا کہ وہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے ادوارِ حکومت میں لیے جانے والے قرضوں کے بارے میں تحقیق اور تفتیش کرے گا کہ ان قرضوں کا صحیح مصرف ہوا ہے یا حکمرانون کی لوٹ مار کا نشانہ بنے ہیں۔ اس کمیشن کی ابھی تک کوئی رپورٹ یا کارکردگی سامنے نہیں آئی ہے۔ جناب وزیرِ اعظم کو چاہیے کہ وہ اس کمیشن کو فعال کرے  اور یہ کمیشن جہاں سابقہ ادوار کے صحیح یا غلط  مصارف کا جائزہ لے وہاں تحریکِ انصاف کے دو سالہ اقتدار کے دوران لیے جانے والے بھاری ملکی اور غیر ملکی قرضوں کے مصارف کا بھی جائزہ لے۔ اس کے ساتھ کرونا وائرس کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے 3ارب 50کروڑ 21لاکھ ڈالر کی جو بیرونی امداد ملی ہے اس کا بھی جائزہ لیا جائے کہ کیا وہ صحیح مدوں میں استعمال ہوئی ہے یا نہیں۔


ای پیپر