ڈاکٹر آصف محمود جاہ! حکومت کا کرپشن کے خلاف انقلابی قدم
22 ستمبر 2020 (16:44) 2020-09-22

جناب ڈاکٹر آصف محمود جاہ (ستارۂ امتیاز) ، (ہلال امتیاز) فخر پاکستان دنیا میں واحد شخصیت ہیں جو کسٹم سروس میں ہوتے ہوئے عوامی خدمات کی بدولت ملک کے اعلیٰ ترین اعزازات کے لیے مستحق قرار پائے حالانکہ ڈاکٹر آصف محمود جاہ چیف کلکٹر کسٹمز کی ہمہ جہت شخصیت کو یہ اعزازات ملنا ان اعزازات کی تکریم میں بھی اضافہ کا سبب ہے۔ میرے بڑے بھائی جناب معظم علی (جنت مقیم) جیل روڈ کے تاحیات چیئرمین رہے۔ فن پہلوانی، مہمان نوازی، خوش اخلاقی غریب پروری، دوست نوازی، خوبصورتی سخاوت اُن کی نمایاں پہچان تھی۔ وہ محنت اور لگن کی اہمیت کو پہلوانی انداز میں بتاتے ہوئے ایک کہاوت بیان کیا کرتے کہ ایک آدمی اپنی بچھڑی کو روزانہ کندھوں پر اٹھا کر اپنی حویلی کی سیڑھیاں چڑھتا اور اترتا تھا۔ یہ عمل وہ دن میں کئی بار کرتا۔ وقت گزرتا گیا اردگرد علاقہ جات میں دھوم مچ گئی کہ فلاں آدمی گائے یا بھینس کو کندھوں پر اٹھا کر سیڑھیاں چڑھتا اور اتر جاتا ہے۔ لوگ اس کا یہ منظر دور دور سے دیکھنے آتے جب لوگوں نے اس کی خوراک اور اس شہ زوری کا راز پوچھا تو اس نے کہا کہ یہ تو بچھڑی یا بھینس کی بچی تھی میں اس کو پیار کرتا اسے کندھوں پر اٹھا کر سیڑھیاں چڑھتا اور اترتا تھا نہ جانے یہ بھینس یا گائے کب بن گئی۔ میرا تو روز کا معمول ہے۔ غالباً 1997ء کو ڈاکٹر صاحب لاہور تعینات ہوئے کسٹم ہاؤس کی ڈسپنسری کو باقاعدہ اعلیٰ درجہ کا دواخانہ بنا دیا اس کے بعد اے ایف یو ایئر پورٹ تعینات ہوئے اس وقت تمام شعبے ایک اے سی کسٹم کے پاس تھے۔ ڈاکٹر صاحب نے لوگوں کو محبت اور شفقت سے کسٹم ڈیوٹی اور ٹیکس دوست بنایا اور ریونیو میں اضافے کے ساتھ ساتھ کردار سازی کی کوشش بھی کامیاب رہی۔ بہت سے لوگ مِس ڈیکلریشن چوری اور سمگلنگ چھوڑ کر باقاعدہ امپورٹ کی طرف راغب ہوئے ۔ ڈاکٹر صاحب نے بلا تفریق عوام کی خدمات کا آغاز کیا۔ کسٹم ہیلتھ کیئر سوسائٹی ویلفیئر کی این جی او کی بنیاد رکھی جو بعد ازاں باقاعدہ ایک ہسپتال بن گئی اب جس کی شاخیں ملک کے دیگر شہروں میں ہیں۔ جہاں سینکڑوں مریض روزانہ فری علاج کرواتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کے لیے جناب حسن نثار، عطاء الحق قاسمی راقم سمیت نہ جانے کن کن لوگوں نے کالم لکھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے ڈاکٹر صاحب عوامی اور سماجی خدمات میں مذہب، قومیت اور سرحدوں کا امتیاز ختم کرتے ہوئے بین الاقوامی شخصیت بن گئے پھر جہاں آفت ، دکھ، تکلیف وہاں ڈاکٹر آصف محمود جاہ۔ تھر میں وہ کام کر دیئے جو حکومتیں نہ کر پائیں، درجنوں کتابیں جن میں طبی، سفرنامے، ناول، افسانے ہیں جن کے مصنف بن گئے۔ گویا ڈاکٹر صاحب کی انسانی خدمت میں محنت اور لگن کی بچھڑی بھینس بن گئی اور آج اس کی شہرت ترکی، چین، روہنگیا ، شام اور بین الاقوامی ہو چکی پچھلے دنوں مجھے ایک دوست بشارت وہرہ کا فون آیا کہ ڈاکٹر صاحب کا پتہ چلا ہے میں ڈر گیا فون صبح ہی صبح تھا۔ میں نے کہا رک جاؤ مجھے کچھ مت بتانا ۔ چند منٹ رکا اپنے آپ کو تیار کیا اور پوچھا کیا ہوا وہ کہنے لگا کہ کہ ڈاکٹر صاحب کا شدید ایکسیڈنٹ ہوا ہے اور خون کی ضرورت ہے۔ میں نے فوراً اپنے بھتیجے ابو زر معظم، دوستوں رضوان نقوی اور نعیم حنیف سے درخواست کی کہ بریکنگ نیوز چلا دیں لہٰذا  24 چینل، City 42 اور ARY پر بریکنگ نیوز چل گئی۔ ڈاکٹر صاحب سے لوگ عشق کرتے ہیں وہاں ان کی اپنی وجہ سے خون دینے والوں کا تانتا بندھ گیا۔ کسٹم کی نوکری میں میں نے تین شخصیات کو دیانت دار اور قابل تقلید پایا۔ ان میں جناب محمد صادق، جناب ڈاکٹر آصف محمود جاہ، محترمہ طیبہ کیانی ہیں جو انسانیت کا فخر لوگ ہیں۔ باقی سب محمد اسماعیل اور راشد منیر کی طرح کے لوگ ہی تھے۔ ڈاکٹر صاحب کو اس حادثہ میں اللہ نے 4 مرتبہ موت سے زندگی میں بدلا یہ سب لوگوں، ان کے والدین اور گھر والوں کی دعائیں تھیں۔ مجھے یہ جان کر بہت خوشی ہوئی کہ موجودہ حکومت نے Integnty management cell FBR قائم کیا ہے۔ اور اس کا انچارج ڈاکٹر صاحب کو بنایا ہے یہ بدعنوانی کی روک تھام اور اصلاح کے لیے موجودہ حکومت کا پہلا احسن قدم کہا جا سکتا ہے۔ ویسے تو ماضی میں دیکھا گیا کہ اگر ایف آئی بنی تو وفاقی ادارے اس کی چراہ گاہ بن گئے۔ 

اینٹی کرپشن، اینٹی سمگلنگ ، الٹی کرپشن اور الٹی سمگلنگ میں بدل گئے۔ کسٹم انٹیلی جنس محض بھتہ خور تنظیم بن گئی اس حد تک کہ اگر آج یہ ادارے یکسر ختم کر دیں تو کرپشن کم ہو گی باقی کچھ فرق  نہیں پڑے گا۔  لیکن یہ سیل ڈاکٹر صاحب کی موجودگی میں ایسا نہیں ہو گا۔ ڈاکٹر صاحب لاہور کے لوگوں کو تو خوب جانتے ہیں کہ کون کیا تھا اور کہاںپہنچ گیا۔ کن گھٹیا 

طریقوں سے پہنچا وہ بھی جانتے ہیں۔ 

موجودہ دور میں کسی کو کوئی خوف نہیں رہا۔ لاہور کلکٹریٹ میں 2012ء کے بعد 2017ء سے اب تک کرپشن نے اپنے نئے ریکارڈ قائم کیے۔ البتہ جناب محمد صادق کے بعد موجودہ کلکٹر محسن رفیق ایک اچھی شہرت کے مالک ہیں۔ 

لیکن کرپٹ مافیا جس میں سرکاری ملازم شریک کاروبار ہیں کو توڑنا بہت مشکل بلکہ ناممکن ہے۔ ڈاکٹر صاحب کی موجودگی اور نئی ذمہ داری سے امید کی جاتی ہے کہ بدعنوانی میں خاطر خواہ کمی آئے گی۔ پورے ملک میں کرپشن کا خاتمہ تو شاید حکومت نہ کر پائے مگر ڈاکٹر صاحب کے چارج میں آنے والی ذمہ داری وہ خوب نبھاتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے تو بدنام زمانہ پانوں کا سکینڈل پکڑ لیا تھا۔ مگر اس وقت کے کلکٹر نے اسی لمحے ان کو تبدیل کر کے ہیڈ کوارٹر لگا دیا تھا۔ ڈاکٹر صاحب ایک عظیم سرمایہ ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کی حکومت خوش نصیب ہے کہ FBR میں ان کو ایسا ممبر نصیب ہوا۔ وزیراعظم کی نیت کہ کرپشن ختم کرنا ہے اس اقدام سے میں پر امید ہوں کہ بدعنوانی ختم ہو گی۔ اگر خدانخواستہ عمران خان بدعنوانی ختم یا کم نہ کر سکے تو یہ نعرہ ہمیشہ کے لیے وفات پا جائے گا۔ ڈاکٹر صاحب لاہور میں تو ایک دن میں بدعنوانی ختم کر سکتے ہیں کیونکہ کلکٹر جناب محمد محسن رفیق بذات خود ایک نیک نیت اور دیانت دار اور بہادر آفیسر ہیں۔ بس!2017ء کے بعد کلکٹریٹ اور کسٹم انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ میں بڑھی ہوتی بدعنوانی کو روکنا ہو گا تعینات رہنے والوں سے منی ٹریل جس کا بہت شہرہ کے علاوہ تبدیل ہوئی معاشی حالت کے اسباب کا تعین کرنا ہوگا۔ اللہ کے فضل سے سب کام سیدھا ہوجائے گا۔


ای پیپر