اسلام کاعسکری نظامِ تربیت
22 ستمبر 2020 (16:43) 2020-09-22

سرد جنگ کے خاتمے کے بعد اُبھرنے والی واحد عالمی طاقت‘ اُمت مسلمہ کو عسکری‘ معاشی‘ سیاسی‘ تہذیبی اور ثقافتی طور پر غیر مئوثر اور مغلوب کرکے اپنی بالا دستی قبول کرنے پر مجبور کرے گی۔ چونکہ عا  لمیت (Globalization ) کے نام پر قوت کے موجودہ استعمال اور اسلامی ممالک کی بے حسی نے ملت اسلامیہ کے مستقبل کو تاریک بنا دیا ہے۔ لہٰذا وقت آ گیا ہے کہ عظمت رفتہ اور شوکت اسلام کی بحالی کے لیے ملت اسلامیہ کے ہر فرد کو قرآن و سنت اور افکار صحابہؓ کی روشنی میں تربیت دی جائے۔ تاکہ ایک طرف دنیا امن و آتشی کا گہوارہ بن جائے اور دوسری طرف انسانیت کا تقدس بھی پامال نہ ہو۔

ان الذین عند اللہ الا سلام! ’’اللہ کے نزدیک پسندیدہ دین صرف اسلام ہی ہے‘‘۔ تمام انبیاء اپنے اپنے زمانے میں یہی دین لے کر آئے اور ہر زمانے میں اس کا نام اسلام ہی رہا۔ اسلام سلامتی کا مذہب ہے اور فطرت انساہنی کو سلامت رکھنا چاہتا ہے۔ جب کبھی انسان اپنی فطرت سے بغاوت کرتا ہے تو تمدن میں بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے۔ انسان اپنی عقل سے اس بگاڑ کا علاج کرنا چاہتا ہے۔ جبکہ اس کی عقل ناقص و ناپائیدار ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ فطرت انسانی کا یہ بگاڑ اسے خونخوار بھیڑیے سے بھی زیادہ ظالم بنادیتا ہے۔چنانچہ وہ اللہ کی زمین پر اپنے ہم جنسوں کو ظلم کا نشانہ بنا کر فتنہ و فساد بپا کرتا ہے اور ظلم کو اپنا حق سمجھنے لگتا ہے‘‘۔ ڈاکٹر گل نواز کی کتاب میں شامل یہ سطور آج ہر انسان کیلئے دعوت فکر ہے۔ 

کرنل (ر) ڈاکٹر محمد گل نواز 1950 ء میں سانٹھ سرولہ تحصیل کوٹلی ضلع راولپنڈی میں پید ا ہوئے۔ تقریباً 31 سال پاکستان آرمی کے شعبہ تعلیم و تربیت سے منسلک رہے۔ علوم اسلامیہ میں پی ایچ ڈی کے علاوہ انگریزی میں ایم اے‘ وفاق المدارس سے شہادۃ العالمیہ کے سندیافتہ اور عربی زبان کے ترجمان ہونے کے علاوہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی سے قرات و تجوید میں بھی تخصص رکھتے ہیں۔ کالج آف آرمی ایجوکیشن‘ سٹاف کالج کوئٹہ‘ پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول اور ملٹری کالج جہلم میں بطور انسٹرکٹر کام کیا۔ اور دو مرتبہ بیرون ملک پاکستان کی نمائندگی کر چکے ہیں۔ قومی اور بین الاقوامی سطح پر ریسرچ پیپر پڑھنے کا اعزاز حاصل ہے۔ عسکریت ان کا پسندیدہ موضوع ہے۔ ان کی کتاب ’’ اسلام میں عسکری جذبہ محرکہ کا تصور ‘‘ ملک کی بڑی بڑی لائبریریوں کی زینت بن چکی ہے۔ ان کی ایک اور کتاب ’’احیاء السنن‘سیرت خیرالانام کی روشنی میں‘‘زیر تکمیل ہے۔

ڈاکٹر گل نواز عسکریت سے ہٹ کر دیگر موضوعات پر بھی کبھی کبھی قلم اُٹھاتے رہتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل نام نہاد روشن خیالی اور فحاشی و بے حیائی کے خلاف بھی اُنہوں نے چند جاندار مضامین قلمبند کیے۔ حال ہی میں اُن کی کتاب ’’ اسلام کا عسکری نظام تربیت اور جدید اسلامی افواج‘‘ شائع ہوئی ہے۔ سب سے پہلے گورنر مصر کے نام حضرت علیؓ کے خط سے اقتباس کتاب میں شامل ہے ملاحظہ فرمائیں۔

فوجی اللہ کے سپاہی اور ملک و ملت کے نگہبان ہوتے ہیں جو دین کی حفاظت کیلئے قوت مہیا کرتے ہیں۔در حقیقت وہی امن و امان کے اصل محافظ ہوتے ہیں۔ اور ان کے ذریعے اندرونی انتظام اور انصرام درست رکھا جا سکتا ہے۔ امرائے لشکر کے انتخاب کے بعد ان پر ایسے نظر رکھو جیسے والدین اپنے بچوں پر نظر رکھتے ہیں۔ تاکہ ان کے کردار میں کوئی خرابی پیدا نہ ہو۔ اس کتاب کے پیش لفظ میں ڈاکٹر گل نواز فرماتے ہیں کہ دور حاضر میں مسلم امہ ایک ایسے گرداب میں پھنسی ہوئی ہے اور ہر طرف سے اس کے سر پر خطرات منڈلارہے ہیں۔ قرآن و سنت سے دوری کے باعث مسلم غیروں کا سب سے اہم اور آسان ہدف بن گئے ہیں۔ ایسے میں یہ ضرورت محسوس کی جارہی تھی کہ اسلام کے عسکری نظام تربیت کے متعلق بھی مکمل معلومات ایک کتاب کی صورت میں مرتب کی جائیں۔ اس موضوع پر ابھی تک کوئی تحقیقی کام نہیں ہوا تھا۔ چنانچہ تفاسیر و احادیث کی کتب کے علاوہ پونے دو سو بنیادی اور ثانوی مآخذ کتب کی مدد سے اس موضوع پر اپنی نوعیت کی یہ پہلی کتاب ہے۔ عنقریب اس کے عربی اور انگریزی تراجم بھی پیش کیے جائیں گے۔ 

آج کے اس عہد میں جہاں لوگوں کے پاس وقت ہی نہیں‘ ہر کوئی دن رات ایک کئے دولت کے پیچھے بھاگ رہا ہے‘ ایسے حالات میں اتنی موٹی اور جامع الکمالات کتاب ترتیب دینا بہت بڑی بات ہے۔ عسکریت کے موضوع پر لیفٹیننٹ کرنل (ر) ڈاکٹر گل نواز کی تحریری اور تعلیمی خدمات لائق داد و تحسین ہیں۔ اُنہوں نے وہ کام کیا جس پر دیگر اہل قلم نے کم ہی توجہ دی۔ ان کی خدمات کو دیکھتے ہوئے انھیں اعلیٰ سرکاری بلکہ صدارتی ایوارڈ سے نواز ا جائے۔ اور ان کی کتب اس قابل ہیں کہ اندرون و بیرون ملک یونیورسٹیوں کے نصاب میں شامل کی جائیں۔ ’’ اسلام کا عسکری نظام تربیت اور جدید اسلامی افواج‘‘ایک بہت ہی معیاری کتاب ہے۔ اس میں مصنف نے جو بھی بات کی اس کی دلیل اور حوالہ کتاب میں موجود ہے۔ فورسز میں آنے والے آفیسرز‘ جوانوں بالخصوص طلبہ کیلئے اس کتاب کا مطالعہ نہایت ہی ضروری ہے۔ 556 صفحات پر مشتمل اس کتاب کی قیمت بہت مناسب 300 روپے ہے اورملنے کا پتہ ہے : احمد بک کارپوریشن اقبال روڈ کمیٹی چوک راولپنڈی۔

ڈاکٹر گل نواز ایک شریف ‘مذہبی اور پرہیز گار انسان ہیں ان کا دل اسلام اور پاکستان کے لئے دھڑکتا ہے۔ بلا شبہ وہ ملک و قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ایسے عظیم لوگوں کی پہچان اور قدر کریں اور ان کی تعلیمات سے استفادہ فرمائیں۔آئیں ایک بار 1965 ء جیسے جذبات کے ساتھ ملکہ ترنم نور جہاں کو یاد کر لیتے ہیں اور اُنکی خوبصورت آواز کا تصور بھی ذہن میں لاتے ہیں:۔

اے وطن کے سجیلے جوانو 

میرے نغمے تمہارے لیے ہیں


ای پیپر