جمہوریت اور دریا کے کنارے سسکتی انسانیت
22 ستمبر 2020 (16:42) 2020-09-22

وطن عزیز کی سیاست میں گزشتہ سات برسوں سے جاری افراتفری اور بے ترتیبی روزبروز بڑھتی جا رہی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے ملک کے روائتی سیاسی نظام پر سخت تنقید کی اور زندگی کے مختلف شعبوں میں پائی جانے والی خرابیوں کا با آواز بلند تذکرے کرتے ہوئے نئی قانون سازی کے ذریعے فرسودہ نظام کو بہتر بنانے کی تجویز پیش کی اور یوں ایک طرف ملک کی نمائندہ سیاسی جماعتوں پر سے عوام کے اعتماد کو متزلزل کیا اور دوسری طرف اپنی صورت میں ایک انقلابی اور نجات دہندہ کا کردار ادا کرنے کی یقین دھانی کرائی مگر زندگی کا رس گفتگو میں نہیں عمل سے قائم ہے اور موجود سیاسی جماعت کے ساتھ وابستہ عوامی توقعات کی طویل فہرست کے حروف مدھم پڑتے پڑتے اب قریب مٹنے لگے ہیں ہر طرف ایک طرح کی مایوسی اور ناامیدی کا راج ہے وزیر اعظم عمران خان نے اپنے سیاسی منشور میں جو وعدے قوم سے کیے وہ ان میں سے کسی ایک کی بھی تعبیر سے قاصر رہے ہیں اور ایوان بالا و زیریں آج بھی عام آدمی کے مسائل سے لاتعلق اور اشرافیہ کی باہمی آویزش پر دھینگا مشتی میں مصروف ہیں۔ اتوار 20 ستمبر کو اپوزیشن کی تمام نمائندہ جماعتیں متحدہ بیٹھک کرنے جا رہی ہیں جس کا مقصد حال ہی میں ایف اے ٹی ایف(FATF) کے جھنڈے تلے پاس ہونے والے قانون پر مشاورت کرنا اور مستقبل میں عوامی جذبات کی نمائندگی کے لئے لائحہ عمل تیار کرنا ہے تاکہ عوام کو بنیادی ضروریات زندگی تک رسائی کا موقع فراہم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائیدو سورج پہلے ایوان بالا میں ہونے والی رائے شماری میں یہ قانون 200/190 کے معمولی ووٹ کے فرق سے پاس ہوگیا حسب سابق اپوزیشن حیراں ہے کہ سادہ اکثریت سے محروم حکمران جماعت ووٹ کے دن اپوزیشن کے منتخب افراد پر ایوان بالا کے کے دروازے کیسے بند کر لیتی ہے اور اپنی جماعت کی طرف سے سخت تاکید کے باوجود اراکین کی ایک مخصوص تعداد ایوان سے غائب کیسے ہو جاتی ہیاس سوال کا جواب دینے سے پہلے کچھ ذکر ہو جائے ایف اے ٹی ایف (FATF) کا ,یہ ایک منتخب ممالک کا عالمی اتحاد ہے جو دنیا میں پیسے کی غیر قانونی نقل و حرکت اور دہشت گردی کے مختلف امور پر نگاہ رکھتا ہے۔

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس(FATF)جی سیون ممالک ( امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، فرانس، اٹلی، جرمنی اور جاپان) کے ایما پر بنایا گیا ہے یہ ادارہ 1989ء میں قائم ہوا اور اس کے قیام کا مقصد ان ممالک پر نظر رکھنا اور ضرورت پڑنے پر ان پر  اقتصادی پابندیاں عائد کرنا ہے، جو دہشت گردی کے خلاف عالمی کوششوں میں تعاون نہیں کرتے اور عالمی امن کے لئے خطرہ دکھائی دے رہے ہوں, اس ادارے کا ایک خاص کام ان ممالک کی نشاندہی کرنا ہے جو دہشت گردوں کے ساتھ مالی تعاون کرتے ہیں اور ان کے ساتھ ہمدردانہ رابطے کے سبب سے دھشت گردی میں فروغ کا باعث بنتے ہیںاس تنظیم کا صدر دفتر پیرس(فرانس)میں ہے اور 37 ممالک اس کے رکن ہیں۔ اس کا دائرہ کار پوری دنیا ہے, یعنی یہ 

تنظیم دنیا بھر میں کہیں بھی کوئی بھی سرگرمی کرسکتی ہے بس اس کے پاس اپنی سرگرمی کا جواز ہونا چاہیے, یورپی یونین اور مجلس تعاون برئے خلیجی عرب ممالک جیسی تنظیمیں بھی اس ادارے کے دائرہ کار میں آتی ہیں۔ پاکستان اس تنظیم کا رکن بن کر عالمی سطح پر کاروباری,اقتصادی اور دیگر سہولتیں حاصل کرنے کا خواہاں ہے تاکہ اپنی معاشی صورت حال کو بہتر بنا سکے اور اسی خواہش کو چھتری بنا کر گزشتہ شام ایوان سے ایک بل پاس کرایا گیا, جس کا مقصد ملک سے دہشت گردی اور منی لانڈرنگ کو مکمل طور پر کنڑول کرنا اور اس کے سد باب و روک تھام کے لیے عملی اقدامات کرنا  ہیںاس قانون کے تحت کچھ سرکاری ادارے کسی بھی فرد کو کسی بھی وقت کہیں سے بھی گرفتار کرنے/ساتھ لے جانے کے لئے آزاد ہونگے کسی بھی فرد کی ذاتی زندگی پر نگاہ رکھی جا سکے گی, کسی بھی فرد کا فون ٹیپ کیا جا سکے گابنا کسی اجازت نامے کے پولیس اور دیگر ادارے کسی بھی گھر میں داخل ہو سکیں گے اور اس کی تلاشی لے سکیں گے,اس کے لیے انہیں کسی عدالتی اجازت نامے کی ضرورت نہیں ہوگی اور 180 دن تک کسی بھی شخص کو یہ ادارے اپنی تحویل میں رکھ سکیں گے کہ اس کے لیے انہیں کسی قسم کے جواز یا عدالتی/سرکاری/ریاستی حکم نامے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

سوال یہ ہے کہ اتنی بڑی اپوزیشن کے ہوتے ہوئے انسان کے بنیادی حقوق سے متصادم یہ قانون کس طرح پاس ہوگیا اور آج کے دور میں انسان کی انفرادی اور اجتماعی آزادی کو کیونکر اس طرح سلب کیا جا سکتا ہے ملزم کو مجرم تک لے جانے کا عمل اس قدر غیر شفاف اور یک طرفہ کیونکر یو سکتا ہے اور سب سے بڑھ کر جب اپوریشن ایوانِ بالا میں عددی حوالے سے حکمران جماعت سے مضبوط ہے تو پھر کیوں آئے دن ایوان بالا میں ووٹ کی بیحرمتی کے یہ واقعات پیش آتے ہیں؟ بظاہر یہ سادہ سے سوالات ہیں اور سننے میں بہت معنی خیز بھی لگتے ہیں کہ اپوزیشن کرپٹ ہے, اپوزیشن کو عوام کی کوئی پرواہ نہیں, اپوزیشن اس قابل نہیں کہ حکومت کا مقابلہ کرسکے, اپوزیشن محض این آر او کے لیے شور مچاتی ہے, ملک سے کرپشن ختم ہونے تک سب مسئلے جوں کے توں قائم رہیں گے,اپوزیشن کے پاس اس قدر صلاحیت نہیں ہے کہ گزشتہ کئی مہینوں سے مسلسل بڑھتی چینی کی قیمتوں پر اپنی قوت کا مظاہرہ کرسکے اور ایسی بظاہر اچھی لگنے والی بہت سی باتیںواقعی یہ سب باتیں سننے میں بہت اچھی لگتی ہیں لیکن جب اپوزیشن کے نمائندہ افراد سال میں سے آٹھ مہینے جیل میں گزاریں گے اور باہر موجود کے سروں پر خوف اور بیعزتی کی تلوار لٹک رہی ہوگی,جب سیاست دان,صحافی کئی مہینے تک جیل میں قید رہنے کے باوجود قانونی کاروائی کی ابتداء کو ترسیں گے کسی کی عزت ناموس کچھ محفوظ نہیں ہوگا اور ایک طرح کی خوفزدہ کرنے والے فضا موجود ہوگی, عین بل کی پیشکش سے دو دن پہلے جب اپوزیشن کے آٹھ ارکان کو خفیہ فون نمبر سے یہ پیغام پہنچایا جائے گا کہ میاں اگر ووٹنگ کا حصہ بننے کی کوشش کی تو آپ کی فائل تیار ہے اور نیب کے کارپرداز جلد آپ کے خاندانی گھر کے دروازے پر ہونگے تو یقین جانیں کہ تین سندھی اور پانچ پنجابی سینیرز کے پاس ووٹنگ کے دن "بیمار ہونے" کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتامجھ ایسا کوئی بھی پاکستانی اس عمل میں بیمار ہونے والے شخص کے ساتھ ہے کہ اگر صفائیاں دیتے دیتے اپنے بال سفید کرنے ہیں اور جن کے سفید ہیں انہوں نے قبروں میں جانا ہے تو اس سے دو دن کے لیے بیمار ہو جانا ہزار درجے بہتر ہے۔

گرے لسٹ میں موجود پاکستان فنانشل ایکشن ٹاسک فورس میں مناسب مقام پا لے گا کہ اس سے ملک نے معاشی انقلاب کی نئی سرحد کو عبور کرکے عوام الناس کی تجوریاں مال و دولت اور سونے جواہرات سے بھر دینی ہیںاتوار کی اپوزیشن کی بیٹھک ناکام ہو جائے گی کہ بہت سے لوگ بس "بیمار ہونے" والے ہیںنیب اور دوسرے قومی ادارے ہر شخص کی سکریننگ کرکے محب وطن اور غدار وطن کی فہرستیں الگ الگ کرتے رہیں گے_بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ شہباز شریف,شاہد خاقان عباسی,مریم نواز, مولانا فضل الرحمان اور دیگر اپوزیشن اراکین تقریریں کر کے اور تھک ہار کر اپنے گھروں کو لوٹ جائیں گے اور سب ویسے کا ویسے ہوگا جیسا کاتب نے لکھ دیا ہے جب یہ طے ہوچکا کہ موجودہ وزیر اعظم ہی اس ملک کے تمام مسائل کا حل ہیں تو پھر ان کو عوام کی تکلیف کا مداوا کرنے سے کون روکتا ہے؟ کون کہتا ہے کہ بجلی گیس کے نرخ آئے دن بڑھائے جائیں؟کس کے ایماء پر نسبتاً کم قیمت پٹرول ملک کے گلی کوچوں سے غائب ہو جاتا ہے؟ اپوزیشن کے کون سے کرپٹ رکن کی مدد سے جہانگیر ترین چینی سکینڈل کے نتائج کی ترتیب میں رکاوٹ بن کر کھڑا ہو جاتا ہے؟ کس اپوزیشن رکن کے کہنے پر وزراء مشیران کی ایک فوج ٹیکس دینے سے گریزاں ہے؟کون سا اپوزیشن رکن ایسا بے ایمان ہے کہ آئے دن بڑھتی اشیاء روزمرہ کی قیمتوں میں مددگار ہوتا ہے؟ سرکاری تعلیمی ادارے کس اپوزیشن جماعت کی مدد سے آئے روز فیسوں میں اضافے کرنے پر مجبور ہیں؟سرکاری ہسپتال کس اپوزیشن رکن کی وجہ سے گزشتہ چوبیس مہینوں سے ہر طرح کی سہولت سے محروم ہیں؟

ہم پاکستانی عوام اپوزیشن کی تمام جماعتوں اور حکمران جماعت سے دست بستہ گذارش کرتے ہیں کہ ضرور طاقت طاقت کھیلیں,جب تک چاہیں ایک دوسرے کے ساتھ لکن مٹی کھیلیں کہ یہی شملہ بردار دو برس بعد ضرورت پڑنے اور اشارہ ملنے پر نئی رنگین چھتری کے نیچے "متحد"  ہونگے آپ یہ سب کیجیے لیکن خدارا غریب آدمی کے بارے میں سوچیں, اقتدار کی غلام گردش واقعی خوبصورت ہے لیکن اس کی بھول بھلیوں میں عام آدمی کو مت بھول جائیںموٹر وے اور گلی محلوں,گوٹھوں, گاؤں, قصبوں میں نوچی جانے والی عورت کے تحفظ کا انتظام کریںبھوکے اور افلاس زدہ پیٹ کو رزق کی فراہمی یقینی بنائیں کہ آج چناب سندھ ستلج کے کنارے کتا پیاسا نہیں مر رہا بلکہ ان کے کناروں پر انسانیت بھوک اور تذلیل کے ملے جلے جذبات سے زندگی اور موت کے کھیل سے دوچار ہیاس سے پہلے کہ ہم ایک دوسرے سے آنکھ ملانے کے قابل نہ رہیں خدا کے لیے کچھ کیجیے کہ محض اناء سوائے توڑ پھوڑ اور خرابی کے کسی شئے کا حاصل نہیں۔


ای پیپر