عورت مرد کابگڑتا رشتہ....
22 ستمبر 2020 2020-09-22

بدلتے ہوئے وقت نے عورت مرد کارشتہ خراب کردیا ہے وہ رشتہ جو پہلا انسانی رشتہ تھا اور جس رشتے سے تمام رشتوں کا جنم ہوا معاشرتی کشمکش، سماجی برتری اور ثقافتی یلغار کی نذر ہوگیا۔ مختلف خطہ ہائے زمین پر یکساں شروع ہونے والا خوبصورت تعلق مقامی رسموں، رواجوں، مختلف مذاہب اور معاشرت میں شکل در شکل بدلتا چلا گیا فرائض کے بوجھ اقتصادی مسائل بے معنی ضروریات سائنسی بظاہر ترقی اور سہولیات کے حصول کی بھینٹ چڑھ گیا۔

آج عورت مرد کو آپس میں مخاطب دیکھتی ہوں تو مختلف کرہ ارض کے مختلف رنگ نظر آتے ہیں ایک وسیع علاقے میں مرد پر عورت کو غیرت کا سمبل بنا کر مسلط کر دیا گیا ہے وہ غیرت نہ کھائے تو سوسائٹی میں کھڑا نہیں ہوسکتا عورت کو ”کموڈٹی“ ایک چیز بنا کر رکھ دیا گیا ہے.... اپنا شعر یاد آ گیا....

ضرورت کی بہت چیزیں ہیں گھر میں

میں اُن کے ساتھ میں رکھی ہوئی ہوں

اب حالات یہ ہیں کہ نہ عورت اپنا مدعا مو¿ثر انداز میں پیش کر پا رہی ہے اور نہ مرد الجھاﺅ اور بحث کے امور اس قدر ہیں کہ تمام دن تمام چینلز پر ”دانشوروں“ کو بٹھا کر لڑائیاں مذاکرے کرواتے رہیں یہ ختم ہونے والی نہیں.... بہت سارے دانشور تو اپنی انفرادی رائے کو پورے معاشرے پر منطبق ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں اور اکثریت محض اپنے ذاتی تجربے سے باہر آنے کو تیار نہیں....

مجھ سے جب بھی بڑے رائٹر کی تعریف پوچھی گئی میں نے یہ ہی کہا کہ اسے مقتول کی حمایت کرنے سے قبل قاتل کے دل میں بھی اُترنا ہو گا....

جس طرزِ فکر نے مسائل پیدا کر رکھے ہیں وہ متعصب رویہ ہے.... ہم کبھی ذات کے دریا سے باہر کھڑے ہو کر اپنی گلی سڑی لاش کو دیکھنا نہیں چاہتے.... ہمیں سامری جادوگر کا وہ آئینہ چاہئے جس میں ہم انتہائی مثبت اور خوبصورت نظر آتے ہیں.... دیگر بدصورتیوں کے مآخذ مرد عورت کے رشتے کی تشکیل کے آج تک جتنے بھی پیکیج آئے ہیں وہ کجیوں خوبیوں سمیت کسی ایک مکمل سانچے میں ڈھلے ہوئے تھے.... اس لئے پورے کے پورے سسٹم چل گئے.... ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہمیں جینے کو جو عرصہ تاریخ میسر آیا ہے وہ انتہائی کنفیوژڈ اور عبوری ہے ایک ایسا دور جینے کو ملا ہے جس نے ایک خاص شکل میں ڈھلنے سے قبل گزر جانا ہے ہم جو اپنے جینے کو اتنا اہم سمجھتے ہیں اور اپنے خیالات کو اس سے بھی زیادہ اپنی حقیقی حیثیت سے ناآشنا خوش فہم بنے پھرتے ہیں....

پچھلے مکمل معاشرتی ڈھانچے کی ہلی ہوئی چولوں کی چرچراہٹ میں عورت مرد لڑ رہے ہیںنئے معاشرے کی تشکیل میں ابھی وقت ہے (یہ تبدیلی پی ٹی آئی والی نہیں) یہ وہ حقیقی سماجی کروٹ ہو گی جس کی ایک ایک سِلوٹ صدیوں پر محیط ہوتی ہے جس کی گواہی اُس زمانے کے گیتوں فوک فنکاروں ٹپوں، ماہیوں صوفیوں کے کلام میں ملتی ہے حقیقی تاریخ لٹریچر کی اُس گواہی سے آتی ہے جس کے ”آتھر“ عوام اور رائٹر لکھاری ہوتے ہیں یعنی عوامی امنگوں کو تحریر کر پاتے ہیں....

مجھے آج نکاح سے زیادہ ہونے والی طلاقوں پر اس لئے حیرت نہیں ہوتی کہ اس تباہی کی تاریخ کہیں پرانی ہے یہ حقوق و فرائض اور اقتصادیات کی جنگ ہے جذبات محض لڑنے جھگڑنے کے کام آ رہے ہیں.... یہ مسائل کا حل نہیں پیش کر سکتے اس کا حل مارنے والے مرد کے پیر میں کڑا پہنا دینے میں ہے نہ ہتھکڑی لگوا دینے میں.... نہ اُس کی ماں کو الزام دینے میں اور نہ جہالت کو.... یہ ایک لرزید معاشرے میں رشتوں کا انہدام ہے....

جب ”ویہڑے“ میں سے ”بوہڑ“ (والد) اُکھاڑ دیا جائے تو زمین میں ”تریڑیں“ تو پڑیں گی اور جب ماں کا ”بوٹا“ ”سُک“ (خشک) جائے تو قحط تو پڑے گا....رشتوں کی ”چس“ ختم ہو گئی تو ”سُوکھا“ پڑ گیا.... باقی ماندہ ”وائی تباہی“ پوسٹرز بینرز اور فلمی مذاکروں نے پوری کر دی....

معاشرے کی تشکیل میں جو بات سب سے اہم ہے وہ یہ کہ اس کی کروٹ کو کسی کی پرواہ نہیں اس تبدیلی کے لئے نہ ایم پی اے چاہیں نہ ایم این اے یہ زمین کی اپنی انگڑائی ہے اس اکھاڑ پچھاڑ میں عورت مرد کب ایک دوسرے کو دوبارہ پہنچانتے ہیں دیر لگے گی....

ابھی تو بائیسویں گریڈ کی میڈم اور اکیسویں گریڈ کے صاحب میں ٹھنی ہوتی ہے عورتوں کو دفتروںمیں بٹھا کر اعلیٰ ظرف مردوں نے کم ظرف مردوں کے دلوں پر کلہاڑے چلا دیئے ہیں.... جس طرح عورتیں عورتوں پر ظلم کرتی ہیں اس طرح مرد بھی مرد کی نفی کرتے ہیں اور عورت سے دو طرح کا سلوک ایک ہی وقت میں کرتے ہیں جس کی بہترین مثال بیوی اور بیٹی ہے وہ مرد بیوی کے لئے اور ہوتا ہے تنگ نظر اور تنگ دل مگر بیٹی کے لئے کشادہ دل اور اس کی ترقی کا خواہاں یعنی رشتوں کا ادغام ہے بیٹی کی طاقت سے اُسے ڈر نہیں لگتا مگر بیوی کی طاقت سے ڈر جاتا ہے جو کہ برحق بھی ہے یہاں بیوی کو اُس کا سایہ بنا کر لایا جاتا ہے ہمارے ہاں کے معروف محاورے ہیں ” عورت کو رکھنا کسی کسی مرد کو آتا ہے“ یعنی وہ رکھنے کی چیز ہے فلاں نے بیوی کو بہت اچھا رکھا ہوا ہے یعنی بیوی نے اُسے نہیں شوہر نے بیوی کو رکھا ہوا ہے مقامات کا تعین ہوگیا.... اب رکھنے والی چیز ترقی کرنے لگ جائے خود کو مکمل انسان سمجھنے لگے تو ”رکھنے“ کی پوزیشن والا ”مائینڈ“ تو کرے گا....

بگڑتے ہوئے عورت مرد پیکیج کو دونوں ایک دوسرے کو موردِ الزام کر رہے ہیں پیچھے معاشرتی جڑوں اور طاقت کے توازن کو کوئی نہیں دیکھ رہا.... ماضی میں بھی جنئیاتی بنیادوں پر ایک دوسرے کی نفی ہم جنس پرستی کے روپ میں ابھری اب ”تھکی ٹوٹی“ سوچ اور پسماندہ اذہان اُس خوبصورت رشتے کی موت پر بچوں، ہم جنسوں اور جانوروں کو نشانہ بنا رہی ہے عورتوں مردوں میں بڑھتی ہوئی ابنارملٹی ”جینز“ کے عدم توازن کے علاوہ معاشرتی عدم توازن کابھی نتیجہ ہے....

متوازن صحت مند اور مربوط معاشرے کے لئے ہمیں اس رشتے کو بحال کرنا ہے پوری عزت کے ساتھ ایک دوسرے کی تکریم، اقتصادی خوشحالی، حدودوقیود میں ذاتی خودمختاری، انا کے تحفظ اور رشتوں کی سانجھ میں ایسا معاشرہ تشکیل دینا ہے جس میں عورت کے اعضاءکی گالی ممنوع ہو....


ای پیپر