اے پی سی کے مطالبات!
22 ستمبر 2020 2020-09-22

میں تو یہی کہوں گا اے پی سی کی ضرورت بار بار آزمائے ہوئے سیاستدانوں کو صرف اِس لیے محسوس ہوئی کہ موجودہ حکمران دوبرس بیت جانے کے باوجود کسی شعبے میں کوئی بڑی کارکردگی دکھانے سے قاصر رہے ہیں، حکمرانوں نے کوئی کارکردگی دکھائی ہوتی، خصوصاً کرپشن کو روکنے کے جس ”متبرک نعرے“ کے ساتھ وہ اقتدار میں آئے تھے، اُس کی روک تھام کے لیے دوبرسوں میں ہلکی سی کوشش کرلی ہوتی، یا اِس حوالے سے قانون سازی کرلی ہوتی، اِس کے علاوہ تعلیم اور صحت کے نظام میں انقلابی تبدیلیاں ظاہر ہے دوبرسوں میں ہونہیں سکتی تھیں ، کوئی ہل جُل ہی اِن شعبوں میں ہوگئی ہوتی، خصوصاً لوگوں کو فوری انصاف مہیا کرنے کے لیے جارحانہ اقدامات کا آغاز ہی ہوگیا ہوتا تو بار بار آزمائے ہوئے یہ تمام سیاستدان جو ایک روز پہلے کاندھے سے کاندھا اور گوڈے سے گوڈا ملاکر موجودہ حکومت کو گرانے کی باتیں کررہے تھے، ہرگز اس کی ضرورت محسوس نہ کرتے، نہ ابھی اِس کا وقت ہے۔ البتہ یہ کاوش اگر محض یہ بتانے کے لیے کی گئی ”ہم ابھی زندہ ہیں“ تو یہ الگ بات ہے، کیونکہ موجودہ حکمرانوں کی طرف سے دوبرسوں میں ہونے والے کچھ عوام دشمن فیصلوں پر اُن کی مکمل خاموشی یا گلانگلوﺅں سے مٹی جھاڑنے کی ہلکی سی کوشش سے عوام اِس احساس میں مبتلا ہوتے جارہے تھے یہ سب سیاستدان اللہ کو پیارے ہوچکے ہیں، یہ بھی ممکن ہے گزشتہ دوبرسوں میں اور تو کچھ کھانے کے لیے مل نہیں رہا تھا اُنہوں نے سوچا ہو فی الحال کھانا ہی مل کر کھالیں، .... اے پی سی نے وزیراعظم کے فوری استعفیٰ کا مطالبہ کیا، اِس مطالبے کی مجھے سمجھ یہ آئی ہے اے پی سی میں شریک سیاستدانوں کو شاید خطرہ ہے گزشتہ دوبرسوں میں وزیراعظم عمران خان کا ذاتی طورپر کوئی مالی سکینڈل سامنے نہیں آیا، نہ ہی دو برسوں میں اُن کے اثاثوں میں ہوش رُبا اضافہ ہوا جو کہ ماضی کے کچھ وزرائے اعظم کے اثاثوں میں ہوتا رہا، مزید تین برس جو خان صاحب کے پاس اقتدار کے ہیں اُس میں بھی اُن کا کوئی ذاتی مالی سکینڈل سامنے نہ آیا تو کہیں پاکستان اور پاکستان کے عوام کو ایماندار وزیراعظم کی عادت ہی نہ پڑ جائے، اے پی سی نے بہتر یہی سمجھا اِس وزیراعظم سے جتنی جلدی جان چھروا لیں بہتر ہے، آج صبح سویرے اے پی سی میں شریک ایک سیاستدان کا فون آیا، میں نے عرض کیا ”کچھ بھی ہو جائے وزیراعظم عمران خان کو اپنے اقتدار کی مدت پوری کرنی چاہیے، وہ ڈیلیورنہ کرسکے اگلے الیکشن میں اپنے انجام سے خود ہی دوچار ہوجائیں گے، اگلے تین برسوں میں کوئی کارکردگی انہوں نے دکھا دی ، خصوصاً پنجاب میں بظاہر ”سائیں“ دکھائی دینے والے بزدار سے عوام کی جان چھڑوا کر کسی اہل شخص کو وزیراعلیٰ بنادیا تو ممکن ہے اگلے الیکشن میں پچھلے الیکشن کی طرح کچھ ”بیساکھیوں “ کا سہارا بھی اُنہیں نہ لینا پڑے۔ لہٰذا آپ کو فی الحال حکومت گرانے یا وزیراعظم کے استعفیٰ کی باتیں نہیں کرنی چاہئیں۔ حکومت پہلے رخصت ہوگئی اِس صورت میں عمران خان آپ کے لیے زیادہ خطرناک ثابت ہوگا، بلکہ ہوسکتا ہے تاریخ میں پہلی بار اُن کے لیے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہو جائے جو ان کے لیے اور آپ سب کے لیے اقتدار کی راہیں ہموار کرتے رہے ہیں، سو بہتر یہی ہے اس دیوار کو اپنے ہی ”وزن “ سے گرنے دیں “ ....میری ان گزارشات کو اے پی سی میں شریک سیاستدان نے بڑے حوصلے سے سنا، پھر فرمایا ” نواز شریف کی حکومت قائم ہوئے ابھی ڈیڑھ دوبرس ہی گزرے تھے عمران خان اُن کی حکومت گرانے کے لیے جب کنٹینر پر چڑھے یا چڑھائے گئے، آپ بھی اُن کے ساتھ جا جاکر کھڑے ہوئے تھے، تب اُن کے پاس وزیراعظم کے استعفیٰ طلب کرنے کے مطالبے کا کیا جواز تھا ؟۔آج جو مشورہ آپ ہمیں دے رہے ہیں، یہ مشورہ اُس وقت آپ نے خان صاحب کو کیوں نہیں دیا تھا؟“ ....میں نے عرض کیا اُن کا مطالبہ بڑا جائز تھا، اُن کا مطالبہ مان لیا جاتا اُنہیں کنٹینر پر چڑھنے کی ضرورت ہی محسوس نہ کرتے، وہ قومی اسمبلی کے چار حلقے کھلوانے کا مطالبہ کررہے تھے جن میں اُن کے خیال میں دھاندلی ہوئی تھی۔ اس ضمن میں حکومت اپنی روایتی ضد کا شکار نہ ہوتی وہ بھی کنٹینر پر شاید نہ چڑھتے، کسی کے اشاروں پر بھی شاید نہ چڑھتے، .... اِس کے برعکس اے پی سی میں شریک زیادہ تر سیاستدانوں کا ایجنڈہ ذاتی مفادات پر مشتمل ہے۔ ان سیاستدانوں کے بارے میں یہ تاثر دن بدن مضبوط ہوتا جارہا ہے موجودہ حکومت کو وہ صرف اپنی کرپشن بچانے یا دوبارہ کرپشن کرنے کے لیے ختم کرنا چاہتے ہیں، کیونکہ اس ملک سے آہستہ آہستہ کچھوے کی چال کے مطابق ہی کرپشن گر ختم ہوگئی سارے ”راشی خرگوشوں“ کو مختلف شعبوں میں دوبارہ کرپشن جاری وساری کرنے میں خاصی مشکلات پیش آئیں گی۔ سو اِس لیے وہ وزیراعظم سے فوری استعفیٰ کا مطالبہ کررہے ہیں، .... البتہ اُن کے کچھ مطالبات کسی حدتک جائز ہیں، انتخابی اصلاحات ضرور ہونی چاہئیں۔ پریہاں بھی سوال یہ پیدا ہوتا ہے اپنے طویل اقتداری مدت میں یہ انتخابی اصلاحات اُنہوں نے خود کیوں نہیں کیں؟،شاید اِس لیے نہیں کیں اُنہیں پتہ تھا جتنی چاہیں یہ اصلاحات وہ کرلیں پر انتخابات میں بڑی کامیابی اِس ملک کی اصل قوتوں کا آلہ کار بنے بغیر نہیں مل سکتی، یہ راز ہمارے خان صاحب بھی پا چکے ہیں، اِس ملک کی اصل قوتیں کسی قانون اور آئین کے تابع ہونے کو اپنی توہین سمجھتی ہیں، سو جو کام اے پی سی میں شریک سیاستدان اپنے اقتداری ادوار میں خود نہیں کرسکے اُس کا مطالبہ موجودہ وزیراعظم یا حکومت سے کرنا بے کار ہے، .... اے پی سی کا دوسرا مطالبہ ”سیاسی قیدیوں“ کی رہائی کا ہے، جہاں تک معلوم ہے اِس وقت تین چار بڑے ”سیاسی قیدی“ ہیں، پیپلزپارٹی کے خورشید شاہ اور نون لیگ کے حمزہ شہباز اُن میں نمایاں ہیں، اے پی سی بہنیں ”سیاسی قیدی“ قرار دے رہی ہے اُن پر کرپشن کے سنگین الزامات ہیں، اس لحاظ سے ”سیاسی قیدی“ کے بجائے اُنہیں ”راشی قیدی“ بھی کہا جاسکتا ہے ، بجائے اِس کے اے پی سی اپنے ایک دوسیاسی یا راشی قیدیوں کی بات کرتی بہتر تھا وہ یہ مطالبہ کرتی، اور اِس پر زور بھی دیتی اِس ملک میں سیاستدانوں کے علاوہ مختلف شعبوں سے وابستہ جن اہم شخصیات بلکہ طاقتور ترین شخصیات نے کرپشن کی اُن پر بھی ہاتھ بلکہ پورا بازو ڈالا جائے، اُنہیں بھی گرفتار کیا جائے، اُن کا احتساب اور حساب کتاب بھی کیا جائے یہ حقیقت ہے اِس ملک کو صرف سیاستدانوں نے نہیں لوٹا، سب سے زیادہ لُوٹ مار کا تاثر جن سے جُڑا ہوا ہے اُن کا نام لینے کی ضرورت بھی نہیں کہ اب ”آپ اپنا تعارف ہوا بہار بلکہ ”خزاں“ کی ہے،”اُن کے علاوہ سول بیوروکریسی نے جو لُوٹ مارکی، اِس ملک میں شفاف احتساب کا کوئی نظام رائج ہوگیا ثابت ہو جائے گا سول بیوروکریسی کی کرپشن سیاستدانوں کی کرپشن کے مقابلے میں کتنی زیادہ ہے؟بلکہ سیاستدانوں کی کرپشن میں بھی سول بیوروکریسی اُن کی ”سہولت کار“ نہ بنتی، اُنہیں کرپشن کے نت نئے راستے نہ دکھاتی، کوئی سیاستدان کرپشن کی جرا¿ت ہی شاید نہ کرتا، .... اے پی سی نے اُن کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی، کیونکہ اے پی سی کو پتہ ہے جس طرح کرپشن میں یہ سول بیوروکریسی اُن کی سہولت کار بنتی رہی ہے اُ سی طرح آئندہ انتخابات میں بھی حسب معمول یہی سول بیوروکریسی اُن کی سہولت کار نہ بنی وہ الیکشن نہیں جیت سکتے، سو اُن کے خلاف زبان یا منہ کھولتے ہوئے اُنہیں موت پڑتی ہے ....ہمارے وزیراعظم کا سارا زور بھی سیاستدانوں کی لُوٹ مار کے تذکرے کرنے اور اُنہیں بدنام کرنے پر ہے، اگر سیاسی شخصیات کے ساتھ ساتھ غیر سیاسی شخصیات کی کرپشنوں کا بھی وہ ذکر کریں، اُنہیں بھی گرفتار کروائیں، سزائیں دلوائیں، بلکہ اُن کے لیے الگ سے ایک نیب قائم کریں، وزیراعظم کی عزت میں اِس سے اضافہ ہی ہوگا، پر یہ ہوگا نہیں، کیونکہ ہمارے اکثر سیاستدان وزیراعظم بننے کے بعد یہ سمجھتے ہیں جتنی عزت اُنہیں ملنی تھی مِل گئی، مزید کی اب ضرورت نہیں۔ (جاری ہے)


ای پیپر