اگلی باری کس کی ہے؟
22 ستمبر 2019 2019-09-22

اگلی باری کس کی ہے؟ اقتدار کی نہیں نیب کے شکنجے میں جکڑے جانے کی ، بوجھو تو جانیں، خورشید شاہ بڑے دنوں سے ’’انڈر آبزرویشن‘‘ تھے تحقیقات ہو رہی تھی ٹائمنگ کا مسئلہ تھا۔ اس سے زیادہ مہلت کی گنجائش نہیں تھی۔ اکتوبر میں پیش آنے والے واقعات و حادثات اور ان کے نتیجے میں رونما ہونے والے سانحات کا تجزیہ کرنے کے بعد ہی خورشید شاہ کی گرفتاری عمل میں آئی۔ اپنوں نے ہی ستم ڈھایا ہے۔ جس پہ احسان کرو اس کے شر سے بچو، خورشید شاہ کہاں تک بچتے۔ شاہد خاقان عباسی کہاں بچے، دونوں محسن تھے۔ دونوں اندر، کسی پہ احسان کرنا جرم ٹھہرا۔ یہ الگ بحث ہے باقی کتنے بچے ہیں؟ لائن لگی ہوئی ہے۔ ’’کنے کنے جانا ایں بلو دے گھر‘‘ ان شاء اللہ خان انشاء نے کہا تھا۔

کمر باندھے ہوئے چلنے کو یاں سب یار بیٹھے ہیں

بہت آگے گئے باقی جو ہیں تیار بیٹھے ہیں

سوال مشکل نہیں اگلی باری وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی بتائی جا رہی ہے۔ شاہ جی بھی تیاری کیے بیٹھے ہیں۔ نیب نے بلا بھیجا تھا۔ شاہ جی نے سوالوں کے جواب بھیج دیے خود نہیں گئے۔ کراچی کا کچرا صاف کرنے میں لگ گئے۔ جانے کب بلاوا آجائے۔ خورشید شاہ کی گرفتاری پر البتہ ناراض ہوئے کہ وفاقی حکومت نے خورشید شاہ کو گرفتار کر کے غلط قدم اٹھایا۔ کیا وہ ملک سے بھاگ رہے تھے۔ پتے کی بات کہی کہ کشمیر کے معاملے پر یکجہتی کا مظاہرہ کیا جا رہا تھا۔ گرفتاری سے نقصان پہنچایا گیا۔ لوگوں نے کہا شاہ جی کے سر پر بھی تلوار لٹک رہی ہے۔ بلاول بھٹو ناراض ہوئے اپنے سینئر رہنمائوں کی گرفتاریوں پر احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کیا۔ مگر ابھی تک مولانا فضل الرحمان کے لاک ڈائون میں شرکت سے انکاری، احتجاجی تحریک بھی بس گزشتہ ٹرین مارچ کی طرح ہوگی۔ ہر اسٹیشن پر دو چار سو جیالوںسے پر جوش خطاب اور اگلے اسٹیشن کا انتظار، چار چھ اسٹیشنوں کے بعد تحریک ختم، پیپلز پارٹی کی ایک نیک بی بی نے سوال کیا کہ کیا خورشید شاہ کے ہی آمدن سے زیادہ اثاثے ہیں۔ کسی اور یا اوروں کے ہیں تو وہ بھی بتا دیں۔ نیب حکام وقت پر پہنچ جائیں گے۔ بی بی شہلا رضا کا اشارہ ریڈ لائن کی دوسری طرف ہے تو انہیں انتظار کرنا ہوگا۔ زلف کے سر ہونے تک جینا ہوگا۔ شاہ جی کے علاوہ بھی اپوزیشن لیڈرو کی لائن لگی ہے۔ بڑھ چڑھ کر بولنے والے لیڈر، ایسے لیڈروں کو تو باہر نہیں رہنا چاہیے نا۔ ہر وقت نقص امن کا خطرہ رہتا ہے۔ مثلا شہباز شریف (ضمانت پر اتراتے پھر رہے ہیں)۔ احسن اقبال، مریم اورنگزیب، مشاہد اللہ خان، پرویز رشید، راجہ ظفر الحق، رضا ربانی، قمر زمان کائرہ، رحمان ملک، یوسف رضا گیلانی، شرجیل میمن، قائم علی شاہ اور درجنوں دیگر رہنما گرفتاریوں کے منتظر،ایک دو کو چھوڑکر سب پر ایک ہی الزام آمدن سے زیادہ اثاثے مریم نواز جیل میں جواب دیتے تھک گئیں کہ اثاثے دادا نے بنائے۔ مسلسل ایک ہی سوال کہ دادا نے اتنی دولت کیوں دی، بھلے مانسو دادا اپنی پوتی کو نہ دیتے تو کیا ایدھی یا سیلانی کی نذر کردیتے۔ تحقیقات کرنے والوں کی سمجھ میں خاندانی رموز نہیں آتے۔ ادھر جیل میں پڑے نواز شریف کو رہائی کی

کوئی جلدی نہیں۔ شاید مارچ 2020ء کا انتظار کر رہے ہیں شہباز شریف ملنے گئے تھے خواجہ حارث، احسن اقبال بھی ہمراہ تھے۔ قیدی چاروں کھونٹ مطمئن کہنے لگے۔

دعا کرو کہ سلامت رہے میری ہمت

یہ اک چراغ کئی آندھیوں پہ بھاری ہے

دوسرے دن خواجہ حارث نے عدالت میں کیس پر بحث کے لیے 3 ماہ کا عرصہ مانگ لیا۔ عدالت میںموجود افراد حیرت زدہ کہ فوری رہائی کا مطالبہ کیوں نہیں کیا گیا۔ حساب لگائیں 7 اکتوبر کے بعد خواجہ حارث کے دلائل، دسمبر 2020ء کے بعد مخالف وکیل کے دلائل، جرح، جوابی دلائل اور پھر فیصلہ، بات مارچ 2020 تک چلی گئی، 6 ماہ میں حالات بدل بھی سکتے ہیں۔ بقول آصف زرداری، موسم تبدیل ہو رہا ہے۔ یکسر تبدیلی میں کیا دیر لگتی ہے۔ اکتوبر اہم ہے۔ بلاول اور دیگر رہنمائوں نے دسمبر کو آخری قرار دیا ہے، سال کا آخری مہینہ یا پھر واقعی آخری مہینہ، غالب کا دل بہلانے کے لیے بھی ایسی باتیں کی جاتی ہیں۔ اہل ذکر و فکر کہتے ہیں کہ اکتوبر کے آتے آتے موسم میں تبدیلی کے آثار رونما ہونے لگے ہیں۔ ناں ناں کرتے ہوئے بھی جیل میں بڑی بیٹھک خالی از علت نہیں۔ مولانا فضل الرحمان کسی کے روکے رکنے والے نہیں، 15 لاکھ تو ان کے اپنے ہیں۔ ن لیگ اور پی پی والے کود پڑے تو کتنے کنٹینرز درکار ہوں گے۔ کس کو جانے کا راستہ ملے گا ہزاروں گرفتاریوں سے کام چل جائے گا؟ جنہیں پہلے پکڑا گیا تھا وہ اپنے تھے اپنے بے قابو ہونے لگیں تو ناک سے لکیریں نکلوائی جاتی ہیں تاکہ بندہ اپنی اوقات میں رہے۔ اپنی اوقات پہچان گئے ایک نے سیاست سے توبہ کرلی۔ دوسرے نے ہونٹ سی لیے۔ مولانا فضل الرحمان ڈسے ہوئے ہیں۔ آسانی سے نہیں مانیں گے۔ گرفتاری سے کیا ہوگا تحریک کی باگ ڈور طالب علموں کے ہاتھوں میں آجائے گی۔ حافظ حسین احمد انہیں اپنے خواب سنائیں گے اور ہنگامے کرنے والے خوابوں کی تعبیر ڈھونڈنے میں وفاقی دار الحکومت کو واقعی لاک ڈائون کردیں گے۔ ایسا ہوا تو ویسا بھی ہوسکتا ہے۔ کچھ بھی ہوسکتا ہے اس لیے جو کچھ کیا جائے سوچ سمجھ کر کیا جائے، ایک بار کچھ ہوگیا تو مہنگائی سے تنگ آئے عوام بھی اپنی باری لینے میدان میں کود پڑیں گے۔ تاریخ کے صفحات پر داستانیں جا بجا بکھری پڑی ہیں کہ ریڈ لائن کراس کرنے پر گولی مارنے کی دھمکی لیکن ریڈ لائن کراس، یہ سنی سنائی نہیں۔ مشاہداتی وارداتیں ہیں۔ سیلاب آنے کے بعد بند باندھنا مشکل ہوتا ہے وسیع پیمانے پر تباہی آتی ہے۔ یکے بعد دیگرے گرفتاریوں کے بعد بلاول بھٹو بھی لاک ڈائون میں شرکت پر آمادہ نظر آتے ہیں۔ لیکن لاک ڈائون کو مذہبی بنیادوں پر نہ کیا جائے۔ 30 ستمبر کو ن لیگ بھی حتمی فیصلہ کرلے گی۔ اگر قومی اسمبلی کے کسی ایک حلقہ کے ووٹرز بھی نکل آئے تو ن لیگ کی نمائندگی ہوجائے گی۔ پھر شاید ڈیل کی ضرورت نہ پڑے ڈھیل دے دی جائے کہ یہ ملکی مفاد میں ہوگی۔ لاک ڈائون یا عرف عام میں دھرنے کی صورت میں مڈ ٹرم الیکشن یا پھر ان ہائوس تبدیلی ،کچھ بھی ممکن ہے موسم تبدیل ہونے میں کچھ وقت لگے گا بد قسمتی سے حالات تبدیلی کی طرف جا رہے ہیں۔ ایک سال میں 8333 ارب کا قرضہ، مزید ضرورتیں پوری کرنے کے لیے مزید قرضہ کی تگ و دو بھاگ دوڑ، ’’لے کے قرضہ پھنس گیا ہے دے کے قرضہ چھوٹ جا ‘‘والی صورتحال میسر نہیں ہوگی۔ مہنگائی 17 فیصد سے بڑھ گئی سونا ایک سال میں 33 ہزار روپے فی تولہ مہنگا ہوا۔ ڈالر اسی عرصہ میں 46 روپے بڑھ گیا۔ برآمدات میں معمولی اضافہ، درآمدات میں دل کو تسلی دینے کے لیے کمی، اپوزیشن کے منہ بند کرنے کیلئے معیشت کے روشن پہلو اجاگر کرنے کی ہدایت حقیقت یہ ہے کہ ملکی معیشت ابھی تک آئی سی یو میں ہے قرضوں کی آکسیجن ملنے تک زندہ مگر کلنیکلی ڈیڈ، علامہ طاہر القادری بڑے عرصے سے اپنے خواب کرچی کرچی ہوجانے پر مایوسی کا شکار تھے۔ ڈاکو فرعون کہنے سے ایک بھی خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوا۔ بالآخر نیند سے بیدار ہو کر سیاست سے ریٹائر ہوگئے۔ بہت پہلے لکھا تھا کہ علامہ صاحب اپنی فیلڈ میں لاثانی، بے بدل عالم دین، دینی ریسرچ میں ان کا کوئی ثانی نہیں، ان کا قرآن پاک کا با محاورہ ترجمہ اور تفسیر آج بھی پڑھتے ہیں تو دل کو تسکین ملتی ہے لیکن سیاست شجر ممنوعہ تھی، جانے کس کے کہنے پر انہوں نے سیاست کا پھل چکھا اور جنت سے نکالے ہوئے انسان شمار ہوئے۔ بالآخر ریٹائر ہوگئے صرف علامہ طاہر القادری ہی نہیں۔ موجودہ حالات سے بہتوں کو مایوسی ہو رہی ہے۔ مایوسی اوپر تک پہنچ گئی تو کیا ہوگا؟


ای پیپر