ہم آزاد ہیں؟
22 ستمبر 2019 2019-09-22

تمہید کہ طو ر پر سُن لیجیے کہ انگریز افسران ، جنہوں نے ہندوستان میں ملازمت کی، جب واپس انگلینڈ جاتے تو انہیں وہاں پبلک پوسٹ؍ذمہ داری نہ دی جاتی۔ دلیل یہ تھی کہ تم نے ایک غلام قوم پر حکومت کی ہے جس سے تمہارے اطوار اور رویئے میں فرق آیا ہوگا۔ یہاں اگر اس طرح کی کوئی ذمہ داری تمہیں دی جائے تو تم آزاد انگریز قوم کو بھی اسی طرح ڈیل کروگے۔

اس مختصر تعارف کے ساتھ درج ذیل واقعہ پڑھئے:

ایک انگریز خاتون جس کا شوہر برطانوی دور میں پاک و ہند میں سول سروس کا آفیسر تھا۔ خاتون نے زندگی کے کئی سال ہندوستان کے مختلف علاقوں میں گزارے۔ واپسی پر اپنی یاداشتوں پر مبنی بہت ہی خوبصورت کتاب لکھی۔ خاتون نے لکھا ہے کہ میرا شوہر جب ایک ضلع کا ڈپٹی کمشنر تھا اُس وقت میرا بیٹا تقریبا چار سال کا اور بیٹی ایک سال کی تھی۔ ڈپٹی کمشنر کو ملنے والی کئی ایکڑ پر محیط رہائش گاہ میں ہم رہتے تھے۔ ڈی سی صاحب کے گھر اور خاندان کی خدمت گزاری پر کئی سو افراد معمور تھے۔ روز پارٹیاں ہوتیں، شکار کے پرواگرام بنتے۔ ضلع کے بڑے بڑے زمین دار ہمیں اپنے ہاں مدعو کرنا باعث فخر جانتے، اور جس کے ہاں ہم چلے جاتے وہ اسے اپنی عزت افزائی سمجھتا۔ ہمارے ٹھاٹھ ایسے تھے کہ برطانیہ میں ملکہ اور شاہی خاندان کو بھی مشکل سے ہی میسر تھے۔ ٹرین کے سفر کے دوران نوابی ٹھاٹھ سے آراستہ ایک عالیشان ڈبہ ڈپٹی کمشنر صاحب کی فیملی کے لیے مخصوص ہوتا تھا۔ جب ہم ٹرین میں سوار ہوتے تو سفید لباس میں ملبوس ڈرائیور ہمارے سامنے آخر دونوں ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو جاتا اور سفر کے آغاز کی اجازت طلب کرتا۔ اجازت ملنے پر ہی ٹرین چلنا شروع ہوتی۔

ایک بار ایسا ہوا کہ ہم سفر کے لیے ٹرین میں بیٹھے تو روایت کے مطابق ڈرائیور نے حاضر ہو کر اجازت طلب کی۔ اس سے پہلے کہ میں بولتی میرا بیٹا بول اٹھا جس کا موڈ کسی وجہ سے خراب تھا۔ اُس نے ڈرائیور سے کہا کہ ٹرین نہیں چلانی۔ ڈرائیور نے حکم بجا لاتے ہوئے کہا کہ جو حکم چھوٹے صاحب۔ کچھ دیر بعد صورتحال یہ تھی کہ اسٹیشن ماسٹر سمیت پورا عملہ جمع ہو کر میرے چار سالہ بیٹے سے درخواست کر رہا تھا، لیکن بیٹا ٹرین چلانے کی اجازت دینے کو تیار نہیں ہوا۔ بلآخر بڑی مشکل سے میں نے کئی چاکلیٹس دینے کے وعدے پر بیٹے سے ٹرین چلوانے کی اجازت دلائی تو سفر کا آغاز ہوا۔ چند ماہ بعد میں دوستوں اور رشتہ داروں سے ملنے واپس برطانیہ آئی۔ ہم بذریعہ بحری جہاز لندن پہنچے، ہماری منزل ویلز کی ایک کاؤنٹی تھی جس کے لیے ہم نے ٹرین کا سفر کرنا تھا۔ بیٹی اور بیٹے کو اسٹیشن کے ایک بینچ پر بٹھا کر میں ٹکٹ لینے چلی گئی، قطار طویل ہونے کی وجہ سے خاصی دیر ہو گئی، جس پر بیٹے کا موڈ بہت خراب ہو گیا۔ جب ہم ٹرین میں بیٹھے تو عالیشان کمپاؤنڈ کے بجائے فرسٹ کلاس کی سیٹیں دیکھ کر بیٹا ایک بار پھر ناراضگی کا اظہار کرنے لگا۔ وقت پر ٹرین نے وسل دے کر سفر شروع کیا تو بیٹے نے باقاعدہ چیخنا شروع کر دیا۔ وہ زور زور سے کہہ رہا تھا، یہ کیسا الو کا پٹھا ڈرائیور ہے ہم سے اجازت لیے بغیر ہی اس نے ٹرین چلانا شروع کر دی ہے۔ میں پاپا سے کہہ کر اسے جوتے لگواؤں گا۔ میرے لیے اُسے سمجھانا مشکل ہو گیا کہ یہ اُس کے باپ کا ضلع نہیں ایک آزاد ملک ہے۔ یہاں ڈپٹی کمشنر جیسے تیسرے درجہ کے سرکاری ملازم تو کیا وزیر اعظم اور بادشاہ کو بھی یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ اپنی انا کی تسکین کے لیے عوام کو خوار کر سکے۔

آج یہ واضح ہے کہ ہم نے انگریز کو ضرور نکالا ہے البتہ غلامی کو دیس نکالا نہیں دے سکے۔ یہاں آج بھی کئی ڈپٹی کمشنرز، ایس پیز، وزرا، مشیران اور سیاست دان صرف اپنی انا کی تسکین کے لیے عوام کو گھنٹوں سٹرکوں پر ذلیل و خوار کرتے ہیں۔ اس غلامی سے نجات کی واحد صورت یہی ہے کہ ہر طرح کے تعصبات اور عقیدتوں کو بالائے طاق رکھ کر پروٹوکول لینے والے کی مخالفت کرنی چاہئے۔ ورنہ صرف 14 اگست کو جھنڈے لگا کر اور موم بتیاں سلگا کر خود کو دھوکہ دے لیاکیجئے کہ ہم آزاد ہیں۔ہما رے ہر نئے آ نے وا لے سر بر اہِ مملکت نے عوا م کو سا دہ ز ند گی گذ ا رنے کا در س دیا۔ مو جو دہ وز یرِ ا عظم نے تو یہ تک کہا کہ وہ بنی گا لہ سے پرا ئم منسٹر ہا ئو س تک جا نے کے لیئے وہ سا ئیکل کا ا ستعما ل کیا کر یں گے۔ مگر پھر سب نے دیکھا کہ وہ سا ئیکل چھو ڑ گا ڑی تو کجا ہیلی کا پٹر پہ یہ آ نا جانا کر تے ہیں ۔ تو جیہہ یہ پیش کی کہ سیکیو رٹی کا معا ملہ ہے۔ مگر کیا سا ئیکل پہ جا نے کا وعد ہ کر تے وقت سیکیو ر ٹی کی اہمیت سے وا قف نہ تھے؟سا نحہ بلد یہ ٹا ئو ن کر اچی، سانحہ ما ڈل ٹا ئو ن لا ہو ر،اور پھر سا نحہ سا ہیو ال کی پر ہول سنگینی کو کو ن بھو ل سکتا ہے؟ مگر نہیں ، ہما رے اعلیٰ ادا رو ں نے شا ئد تہیہ کیا ہو اکہ ان کو اتنا لٹکا یا جا ئے گا کہ با لا آ خر عوا م بھو ل جا نے پہ مجبو ر ہو جا ئیں گے۔ عوا م سوا ل کر تے اس لیئے ڈر تے ہیں مبا دہ ان پہ کہیں کسی قسم کا contempt نہ لگ جا ئے۔ مگر کیا آ زا د ملکو ں میں ایسا ہی ہو تا ہے؟ہما رے ملک میں میڈ یا کی آ زا دی کا سہرا جنر ل پر ویز مشر ف کے سر با ندھا جا تا ہے۔ حا لا نکہ اصل حقیقت کچھ یو ں ہے کہ مغر بی طا قتو ں نے اپنا بے راہ رو کلچرکو ہمارے ملک میں تر ویج دینے کی غر ض سے یہا ں میڈ یا کا سہا رہ ڈ ھو نڈ نا چاہا۔بہر حال وطنِ عز یز میں میڈیا اسقدر بے لگا م نہ تھا کہ اس قسم کے کلچر کو فرو غ دے سکے۔ سو انہو ں نے میڈ یا کو آ زا د کر وا نے کے پر دے میں اپنا الو سیدھا کر نا شروع کر دیا۔تا ہم آ زا د میڈ یا کا ایک فائد ہ یہ ہو نے لگا کہ اس کے لیئے حکو مت کے غلط کا مو ں پہ تنقید کر نا سہل ہو گیا۔ مگر اب سنیئے کہ مو جو دہ حکو مت کی وفا قی کا بینہ نے میڈ یا ٹر بیو نلز قا ئم کرنے کا فیصلہ صا در کیا ہے۔ سوا ل پیدا ہو تا ہے کہ سو ل عد لیہ کی مو جو دگی میں الگ سے میڈ یا ٹربیو نلز کے قیا م کا کیا جوا ز بنتا ہے؟ اور کیا یہ آئین کے آر ٹیکل انیس کی صر یحا ً خلا ف ورزی نہیں؟ ستم ظر یفی تو یہ ہے کہ خو د وزیرِ ا عظم عمر ان خا ن حکو مت میں آ نے سے پہلے میڈیا پہ پا بند یو ں کا رو نا رو یا کر تے تھے۔ اگر وہ انصا ف سے کا م لیں تو تسلیم کر لیں گے کہ ان کی تحر یک کو آ گے بڑھا نے میں میڈ یا کا بہت بڑا کر دار ہے۔ کیا ان کے لمبی لمبی مد تو ں پہ محیط دھر نو ں کو میڈ یا من و عن کو ریج نہیں دیتا رہا؟ بے شک میڈ یا میں بہت سی اصلا حا ت کی ضر ورت ہے۔ میڈ یا کو بے راہ رو کلچر پھیلا نے سے رو کنے کے لیئے اس پہ چیک اینڈ بیلنس کا کڑا ضا بطہ نا فذ ہو نا چا ہیے۔مگر ایک آ زا د ملک ہو نے کے نا طے سے اسے حکو مت کے غلط اقدا ما ت پہ تنقید کی کھلی اجا زت ہو نی چاہیے۔


ای پیپر