اگر ایران سعودی جنگ ہوئی تو نتیجہ کیا ہو گا؟
22 ستمبر 2019 2019-09-22

اگر امریکہ سعودی عرب اور ایران کی جنگ کروانے میں کامیاب ہو گیا تو جو حملہ سعودی عرب کے تیل کے کنوؤں پر چھپ کر کیا گیا ہے پھروہ حملہ کھلے عام ہو گا۔ اگر سعودی عرب دنیا کی سب سے بڑی مسلم فوجی اتحاد رکھنے کے باوجود خود کو ان حملوں سے بچا نہیں سکا تو اعلانیہ جنگ میں جو نقصان ہو گا اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔

ایران خود مختار ہے۔ وہ سوئی سے لے کر جہاز تک خود بناتا ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ دو ماہ قبل امریکی تیز ترین ڈرون طیارے کو ایران نے اپنے جدید نظام سے قابو کر کے گراونڈ کر دیا تھا۔ امریکی صدر نے اسی وقت ایران پر حملہ کرنے کا حکم منسوخ کر دیا تھا۔ دراصل جو کام امریکہ خود نہیں کر سکا اس کام کے لیے وہ سعودی عرب کو استعمال کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ جنگ کا ماحول بنانے کے لیے سعودی عرب پر اس طرح کا ایک اور حملہ ہو سکتا ہے۔ سعودی عرب کو ایران سے لڑوا کر امریکہ ایران کی دفاعی صلاحیت کا اندازہ لگانا چاہتا ہے۔ کیونکہ امریکی ڈرون کے گراونڈ ہونے کے بعد پینٹاگون اور موساد کی تشویش بڑھ چکی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر ایران تیز ترین ڈرون کو ڈھونڈ کر گرا سکتا ہے تو ممکن ہے کہ وہ ایٹمی طاقت حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہو گیا ہو ۔ اگر ایسا سچ ہوا تو ایران سے جنگ دنیا کی تباہی کا باعث بنے گی۔

ایران کی طاقت کا اندازہ آپ اس حقیقت سے لگا لیں کہ جتنی پابندیاں ایران پر لگی ہیں اگر اتنی پابندیاں سعودی عرب پر لگ جائیں تو سعودی عرب کے حالات صومالیہ سے بدتر ہو جائیں۔ کیونکہ سعودی عرب نہ تو ٹیکنالوجی میں کسی قسم کی مہارت رکھتا ہے اور نہ ہی دفاعی صلاحیت پیدا کرنے اور اسے بروئے کار لانے میں خودمختار ہے۔ لیکن ایران ان تمام تر پابندیوں کے باوجود خودمختار ہے۔

یہاں اس پہلو کو بھی نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے کہ ایران کے ساتھ جنگ دراصل قطر، روس اور چین کے ساتھ جنگ تصور کی جائے گی۔ یہ تینوں طاقتیں امریکہ کے خلاف ایران کی حمایت کریں گی۔ ہندوستان امریکہ کی پابندیوں کے باوجود ایران سے تیل درآمد کر رہا ہے۔ وہ اس جنگ کا حصہ نہیں بنے گا۔ امریکہ کو بھی اس حقیقت کا بخوبی اندازہ ہے کہ جنوبی ایشیا میں امریکہ کے دوستوں سے زیادہ دشمن پائے جاتے ہیں۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سعودی عرب اور ایران کی جنگ میں زیادہ نقصان کس کا ہو گا؟ ایک محتاط اندازے کے مطابق اس جنگ میں زیادہ نقصان سعودی عرب کا ہو گا کیونکہ نقصان اس ملک کا زیادہ ہوتا ہے جس کے پاس کھونے کے لیے کچھ ہو ۔ ایران پچھلے چالیس سال سے عالمی پابندیوں کی جنگ لڑ رہا ہے۔ اس جنگ نے ایران کو جتنا مالی نقصان پہنچانا تھا پہنچا دیا ہے۔ ان حالات نے ایران کو اعصابی طور پر مضبوط بنا دیا ہے۔ جنگ میں جیت اسی کی ہوتی ہے جس کے اعصاب مضبوط ہوں۔

اس ممکنہ جنگ میں پاکستان کا کردار بہت اہم رہے گا۔ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستانی فوج کا جھکاؤ جس ملک کی جانب ہوگا وہ ملک زیادہ مضبوط رہے گا۔ پاکستان کی معاشی حالت کے پیش نظر پاک آرمی کا جھکاؤ ممکنہ طور پر سعودی عرب کی جانب ہو گا۔ کیونکہ سعودی عرب نے پاکستان کو تین سال کے لیے تیل ادھار دے رکھا ہے۔ اس کی علاوہ تین ارب ڈالر قرض بھی دیا ہے۔ پاکستان آرمی کے سابق چیف جزل راحیل شریف سعودی عرب کی جس اسلامی فوج کے سربراہ ہیں ایران اس میں شامل نہیں ہے۔ سعودی عرب اور امریکہ چونکہ ایران کے خلاف ایک صف میں کھڑے ہیں اس لیے سعودی عرب کی مخالفت امریکہ کی مخالفت تصور ہو گی۔ پاکستان یہ مخالفت مول نہیں لے سکے گا کیونکہ امریکہ کی مخالفت سے آئی ایم ایف اپنی شرائط سخت کر دے گا۔ دوسری طرف ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کے بلیک لسٹ کرنے ہونے کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ پاکستان میں ڈالر کی قیمت میں کمی کی بڑی وجہ آئی ایم ایف کا قرض اور سعودی عرب کا ادھار تیل ہے۔ سعودی عرب کو سالانہ تین ارب ڈالر کی ادئیگی تیل کی مد میں کی جاتی تھی۔ ادھار تیل کے باعث یہ ڈالر ملک میں ہی موجود ہیں اور آئی ایم ایف کے ایک ارب ڈالر بھی ہماری اکانومی میں شامل ہو گئے ہیں۔ اگر یہ سہولتیں ختم ہو جائیں تو پاکستان معاشی طور پر کہاں کھڑا ہو گا ہم اس کا اندازہ بھی نہیں لگا سکتے۔

ایران سعودی عرب تنازعہ مستقبل میں کیا رخ اختیار کرتا ہے اس کا اندازہ چند دنوں میں ہو جائے گا لیکن ایک بات طے ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ تیسری جنگ عظیم کی طرف پہلا قدم ہو گا۔ ایران ، چین، روس، قطر،شام اور ترکی ایک گروپ ہو گا جبکہ امریکہ، اسرائیل سعودی عرب، برطانیہ اور فرانس دوسرے گروپ میں شامل ہوں گے۔ اگر جنگ طویل ہو گئی تو جو ہتھیار ان ممالک نے اپنی بقا کے لیے بنائے تھے وہ ہتھیار دنیا کی تباہی کے لیے استعمال ہوں گے اور انسان سائنس کی دنیا سے نکل کر پتھر کے زمانے میں واپس چلا جائے گا۔


ای پیپر