سعودی عرب کا قومی دن
22 ستمبر 2019 2019-09-22

مملکت سعودی عرب کے قیام کا اعلان 23 ستمبر 1932ء کو شاہ عبدلعزیز بن عبدالرحمٰن آلِ سعود نے کیا تھا۔ سعودی عرب کو اللہ تعالیٰ نے بہت سی نعمتوں سے نوازا ہوا ہے۔ اسلام کا پیغام اسی سرزمین سے سے پوری دنیا میں پھیلا اور آج سعودی عرب کو یہ شرف حاصل ہے کہ اس نے نفاذِ شریعت کو اپنا اولین مقصد قرار دے رکھا ہے۔ یہ دنیا کا واحد ملک جس کا دستور قرآن و حدیث پر مبنی ہے اور اسٹیٹ کا نظم و نسق شریعت کے تابع ہے۔ اسلامی قوانین پر سختی سے عملدرآمد کی وجہ سے جرائم کی شرح دنیا میں سب سے کم ہے۔ انسانی خدمت کے لئے رابطہ اسلامی تنظیم قائم کر رکھی ہے جو مسلمانوں کی عالمی تنظیم کا درجہ رکھتی ہے۔ جس کا مقصد مسلمانوں میں یک جہتی پیدا کرنا ہے، اسلام کی دعوت و تبلیغ اور اسلامی تعلیمات کو فروغ دینا، اسلام کے بارے میں شکوک و شبہات کو دور کرنا اور گمراہ کن عقائد و نظریات کی نفی کرنا ہے۔ آلِ سعود نے ہمیشہ اپنی اسلام دوستی، اسلامی تعلیمات پر پوری طرح عملدرآمد، ملک میں نفاذِ قرآن و سنت اور ایک مستحکم اسلامی معاشرے کے قیام کے لئے تاریخی خدمات انجام دی ہیں۔ سعود بن محمد سے لے کر شاہ سلیمان بن عبدلعزیز تک اس عظیم خاندان نے سعودی عرب کو ایک مکمل فلاحی اسلامی مملکت بنانے میں نہ صرف عظیم قربانیاں دی ہیں بلکہ ایک طویل جد وجہد کے ذریعے اسلامی معاشرہ قائم کر دیا ہے۔ اسلامی معاشرے میں ایک دوسرے کا احترام، جان و مال کا تحفظ اور امن و امان کی شاندار مثال سعودی عرب میں دیکھی جا سکتی ہے۔

26اپریل 2016ء کو خادم الحرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے2030ء کے ویژن کا جو اعلان کیا تھا اس پر عملدرآمد شروع ہو چکا ہے۔ سعودی مملکت اپنی معیشت کو متنوع بنانے کے لئے حتی الامکان کوششیں کر رہی ہے۔ 500بلین ڈالر کی لاگت سے عظیم شہر کا پراجیکٹ شروع کیا گیا ہے، توانائی، پانی، بایو ٹیکنالوجی، خوراک وغیرہ کی ترقی کے لئے کارخانے قائم کئے جا رہے ہیں۔ ترقیاتی پروجیکٹوں کے آغاز سے روزگار کے مواقع حاصل ہوں گے اور سعودی عرب کی معیشت کو فروغ ملے گا۔ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سعودی معیشت کو ٹھوس بنیادوں پر استوار کر رہے ہیں ورنہ اس سے قبل سعودی عرب کا انحصار صرف تیل کی برآمد پر تھا جس میں تبدیلی کے اثرات سعودی معیشت پر بھی مرتب ہوتے تھے۔ سعودی معیشت کو جدید خطوط پر آگے بڑھانے کے لئے شاہ سلیمان بن عبدالعزیز کی نظریں مستقبل پر لگی ہوئی ہیں۔ ان کا نیا شمسی توانائی کا منصوبہ 2030ء اپنی نوعیت کا دنیا کا سب سے بڑا پراجیکٹ ہے۔ اس منصوبے کے تحت نہ صرف توانائی کی ضروریات پوری ہوں گہ بلکہ ایک لاکھ لوگوں کو بلاواسطہ اور بالواسطہ روزگار ملے گا اور سعودی عرب کی مجموعی قومی پیداوار 12بلین ڈالر بڑھ جائے گی اور 40بلین ڈالر سالانہ بچت ہو گی۔ اس کے علاوہ سعودی عرب اپنی تیل کی صنعت کو بھی مستقل طور پر مضبوط بنا رہا ہے اور سرکاری اداروں کی تعمیرِ نو کا ایک پروگرام بھی شروع کر رکھا ہے۔ تجارت اور سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے کے لئے اہم اقدامات کئے گئے ہیں۔ چھوٹی اور متوسط صنعتوں کو فروغ دیا جا رہا ہے۔

گزشتہ چند برسوں کے دوران سعودی عرب کی حکومت نے ملک میں معاشی اور سماجی اصلاحات کے لئے بے مثال پروگرام کے تحت کئی ایسے اقدامات کئے جنہوں نے تمام طبقات کی زندگیوں پر اس کے مثبت اثرات مرتب کئے۔ انہی اصلاحات میں خواتین کو بہت سے شعبوں میں با اختیار بنانے کے اقدامات بھی شامل ہیں۔ نئی اصلاحات کے ذریعے خواتین کو کئی روایتی پابندیوں سے آزاد کیا گیا ہے، دنیا کے 57ملکوں کی یونیورسٹیوں میں سعودی خواتین زیرِ تعلیم ہیں۔ آج سعودی لڑکیاں پارکوں، سڑکوں اور کھلے مقامات پر نظر آتی ہیں۔ سعودی عرب میں انٹر نیٹ کی آمد حقیقی انقلاب کے مترادف ہے انٹر نیت نے خواتین کی زندگیوں کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ ایک وقت تھا کہ سعودی عرب میں موسیقی کے بارے میں بات کرنا ممنوع تھا۔ اب خواتین بالخصوص یونیورسٹی کی طالبات انٹر نیٹ سے ڈاؤن لوڈ کی گئی موسیقی سے بھر پور لطف اندوز ہوتی ہیں۔ گزشتہ چار سال سعودی خواتین کی آزادیوں کے حوالے سے اہم ترین ہیں۔ اس عرصہ میں انہیں ووٹ ڈالنے، کاروبار کرنے، ڈرائیونگ اور سرپرست کے بغیر سفر کرنی کی سہولتیں حاصل ہوئیں۔ جامعات میں بہتر تعلیمی نتائج حاصل کرنے میں طالبات طلباء سے آگے ہیں۔ اب مملکت میں خواتین کو وکالت کرنے، انجینئرنگ، فوج میں بھرتی ہونے اور کئی دوسرے شعبوں میں کام کرنے کا حق حاصل ہے۔

پاکستان اور سعودی عرب میں بہت مضبوط برادرانہ تعلقات دہائیوں سے قائم ہیں ۔ ہر مشکل وقت میں سعودی عرب کا ساتھ کھڑا ہونا پاکستانی عوام کبھی بھلا نہیں سکتی اسی طرح پاکستان نے بھی ہر کڑے وقت میں سعودی عرب کی مدد کی ہے۔ موجودہ معاشی بحران میں سعودی عرب پاکستان کا بھرپور ساتھ دے رہا ہے۔ سعودی عرب ہمارا برادر اسلامی ملک ہی نہیں بلکہ حجازِ مقدس کے باعث دنیا بھر کے مسلمانوں کے لئے جذباتی اہمیت رکھتا ہے۔ حالیہ میزائل حملوں پر وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان نے تشویش کا اظہار کیا ہے اور گزشتہ روز سعودی شاہ سے ملاقات میں واضح کیا ہے کہ پاکستان ہمیشہ سعودی عرب کی حمایت جاری رکھے گا اور کسی کو سعودی عرب پر حملہ کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔


ای پیپر