22 ستمبر 2019 2019-09-22

میرے بہت سارے دوست مایوسی پھیلاتے ہیں مگر مجھے معاملات کو نئے پہلوو¿ں اور زاویوں سے دیکھنے کی عادت ہے، آپ کہہ سکتے ہیں کہ مجھے اختلاف کی عادت ہے، اس عادت نے پہلے نواز شریف اور پھر شہباز شریف کو بھی ناراض کیا ۔ ماہرین کہتے ہیں کہ عادتیں بدلی جا سکتی ہیں اور اگر یہ بات درست ہے تو آپ اختلاف کی اس عادت کو عادت سے بڑھ کر بھی کچھ کہہ سکتے ہیں۔ میںیہ ریکارڈ اپنے نام کر سکتا ہوں کہ میں نے گلیوں، بازاروں، چوکوں ، چوراہوں میں جتنے پروگرام کئے، عام آدمی سے اہم شخصیات تک جتنی انٹریکشن کی ، کسی دوسرے اینکر، کالم نگار یا صحافی نے شائد ہی کی ہو۔ مجھے ہر طرف مایوسی، ناامیدی اور تباہی دکھائی اور سنائی دیتی ہے۔ کسی ستم ظریف نے فقرہ کسا کہ انڈس موٹرز بند ہوگئی مگر خان انڈس ریور بھی بند کروائے گا۔

مجھے جی ڈی پی اور گروتھ ریٹ کے وہ تمام اعداد و شمار دہرانے کی ضرورت نہیں جو مسلسل زوال پذیر ہیںکہ اعداد و شمار غلط بھی ہوسکتے ہیں مگر قدرت کی طرف سے ودیعت کی گئی خطرات کو محسوس کرنے کی صلاحیت غلط نہیں ہوسکتی۔ میں پہلے بھی کہہ چکا کہ سوائے کرنٹ اکاو¿نٹ خسارے میں کمی کے کوئی دوسرا اشاریہ مثبت نہیں ہے اور وہ کمی بھی برآمدات میں اضافے کی وجہ سے نہیں بلکہ درآمدات میں کمی کی وجہ سے آئی لہٰذا جہاں ملکی پیداوار میں کمی کی وجہ سے روزگار متاثر ہوا وہاں درآمدات میں کمی سے اس سے منسلک لوگ بھی بے روزگار ہوگئے۔ اس وقت پاکستان کی سب سے اہم صنعت، ٹیکسٹائل انڈسٹری، کو تاریخ کے سب سے بڑے بحران کا سامنا ہے۔ فیصل آباد ڈویژن میں ہی لاکھوں محنت کشوں کے رزق ختم یا محدود ہونے کے بدترین امکانات ظاہر کئے جا رہے ہیں۔

مجھے اختلاف کی یہ عادت ترقی کی راہ میں بھی رکاوٹ بنتی ہے۔ نجانے میں کبھی کبھار خود کو نوابزادہ نصرا للہ خان جیسا کیوں محسوس کرتا ہوں ۔ کہتے ہیں کہ نوابزادہ نصراللہ خان جیسا کوئی شخص کسی سمندر میں جہاز کے ڈوب جانے پر ایک تختے کی مدد سے تیرتا ہوا کسی دور دراز کے بظاہر غیر آباد اور سنسان جزیرے پر جا پہنچا، وہ خشکی پر قدم رکھتے ہی اپنی پوری طاقت سے چلایا، اگر یہاں کوئی حکومت ہے تو وہ جان لے کہ میں اس کا مخالف ہوں۔ مجھے یہ کہنے میں عارنہیں کہ مخالفت حکومتوں اور شخصیات کی نہیں ہوتی۔ مخالفت ہمیشہ افعال، کردار اور نظریات کی ہوتی ہے۔بات ہر طرف مایوسی کی ہو رہی ہے تو اپنے صحافتی، کاروباری دوستوں کی ایک محفل میں ان کی طرف سے مسلسل مایوسی پھیلانے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے میں نے کہا کہ حالات اتنے برے نہیں ہیں جتنے ظاہر کئے جا رہے ہیں۔

جی ہاں !یہ میری رائے تھی کہ حالات اتنے برے نہیں ہیں جتنے ظاہر کئے جا رہے ہیں اور دلیل دی کہ پی ٹی آئی کی حکومت میں حالات پیپلزپارٹی کے دورسے زیادہ برے نہیں ہیں۔ میرا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کا دور بھی کرپشن اور بدانتظامی کا شاہکار تھامگر اُس وقت دہشت گردی اور لوڈ شیڈنگ کے دو ایسے عفریت تھے جنہوں نے ملکی معیشت کو ہی نہیں جکڑ رکھا تھا بلکہ پوری قوم کو خوف و ہراس کا شکاربنا رکھا تھا۔آج کے دور میں اسٹیبلشمنٹ اور حکومت اسی طرح ایک پیج پر ہیں جس طرح پرویز مشرف کے دور میں تھیں کہ ہمیں بہت ساری جگہوں پر من و تو کے فرق کا ہی علم نہیں ہوتا مگر پیپلزپارٹی کے دور میں یہ مثالی صورتحال بھی نہیں تھی۔ یہی وہ دور تھا جب میرے بیٹے نے مجھ سے پوچھا، بابا، جس ملک میں بم دھماکے نہیں ہوتے وہاں کے نیوز پیپرز کیا خبریں شائع کرتے ہیںیعنی ہمارے گھر میں آنے والے اخبارات اس کی سوچ بنا رہے تھے کہ ملکی معاملات کا دوسرا نام صرف دہشت گردی ہی ہے۔ لوڈ شیڈنگ کا یہ حال تھا کہ محض خبروں میں نہیں بلکہ حقیقت میں لاہور میں سولہ، سولہ گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ہوتی تھی اور میرے گھر کا طاقتور یوپی ایس بھی جواب دے جاتا تھا۔ مجھے وہ رات آج تک یاد ہے جب بلا کی گرمی تھی اور میں دروازے کھول کر بغیر پنکھے کے سو گیا تھا، مجھے اس روز اس محاورے کی عملی صداقت کا علم ہوا تھا کہ نیند تو سولی پر بھی آجاتی ہے۔ ہم سب پیپلزپارٹی کے دور کی کرپشن ، بدانتظامی اور نااہلی کی سولی پر لٹکے ہوئے تھے۔

مجھے اس وقت شدید حیرت ہوئی جب میرے کسی ایک صاحب الرائے دوست نے بھی میری تائید نہیں کی تو میں نے سوال سب دوستوں سے بار بار کرنا شروع کر دیا ،چاہے کوئی بڑا صحافی اور اینکر تھا یاکسی ادارے کاکامیاب ترین مالک یا ڈائریکٹر آپریشنز، کوئی چھوٹا یا بڑا تاجر تھا یا کوئی سرکاری ملازم، ہاں ، تائید انہوں نے کی جو خود نہیں کماتے، جن کے خرچے باہر سے آنے والے ڈالروں سے پورے ہوتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ پہلے ایک ڈالر کے ایک سو بیس روپے ملتے تھے اور اب ایک ایک سو ساٹھ روپے ملتے ہیں اورپرامید ہیں کہ یہ دوسو روپے تک بھی جائیں گے۔کاروبار بھی صرف ایک ہی کامیاب جا رہا ہے جو امیگریشن کا ہے کہ ہر وہ بندہ جس کے پاس کوئی طریقہ موجود ہے وہ اسے آزماتے ہوئے نکل جانے کے چکر میں ہے۔میں نے اپنے دوستوں سے پھر اختلاف کیااور دلیل مانگی کہ وہ پیپلزپارٹی کے دور کو بدترین کیوں نہیں سمجھتے، جواب ملا، پیپلزپارٹی کو دہشت گردی اور لوڈ شیڈنگ ورثے میں ملی تھی اور یہ ان کی نااہلی ہے کہ وہ صورتحال کو بہتر نہ بنا سکے مگر ا س دور میں بھی کاروبار ہو رہا تھا، نئے ادارے بن رہے تھے، روزگار مل رہا تھا مگر اب کاروبار نہیں ہو رہا،پرانے ادارے بند ہو رہے ہیں اور روزگار ختم ہو رہا ہے۔ عمران خان کو جو پاکستان ملا اسے نواز شریف کا شکرگزار ہونا چاہئے کہ وہ لوڈ شیڈنگ اور دہشت گردی سے پاک تھا، جی ڈی پی اور گروتھ ریٹ میں ریکارڈ اضافے والا تھا۔ انفراسٹرکچر میں وہ بہتری آئی کہ گذشتہ ساٹھ برسوں میں نہیں آئی تھی یوں عمران خان کی حکومت، زرداری حکومت سے اس لئے بدتر ہے کہ زرداری حکومت نے ریورس گیئر نہیں لگنے دیا مگرعمران خان نے ملکی گاڑی کو ریورس گئیر لگا دیا ہے۔

زمینی حقائق اور وزنی دلائل مجبور ہیں کہ میں اپنے موقف کی نفی کرنے والوں سے اتفاق کروں۔ مجھے تو سوشل میڈیا پر بھی اس موقف کی حمایت نہیںملی جہاں ابھی تک خان کے دیوانے (صفحہ 6 پر بقیہ نمبر 1)

برسرپیکار ہیں۔ مجھے لگا ،ہم نے ہردور میں یہی سنا کہ ملک نازک ترین دور سے گزر رہا ہے مگر ماضی میں شائد وہ صرف روایتی بیان تھا اور اب ایک حقیقت ہے۔ ملکی اقتصادیات کی تباہی بھارت کی فوجوں کے سرحد پر کھڑے ہونے سے چھوٹا خطرہ نہیں ہے۔ میں نے کچھ اہل علم اور اہل عقل سے پوچھا کہ اگر ماضی کے کس دور سے موجودہ دور کا موازنہ ہوسکتا ہے، جواب ملا، اگر تمہیں ستر برس کی جدوجہد کے بعد ہونے والے سقوط کشمیر کے نقصان کا درست اندازہ ہوجائے تو جانوگے کہ یہ سقوط بنگال جتنا بڑا ہی سانحہ ہے۔ تم اس دور کا موازنہ یحییٰ خان کے دور سے ہی کر سکتے ہو، اقتصادی محاذ ہویا کشمیر کا محاذ ، اب پھر قوم 71اور72 کے درمیان کھڑی ہے۔

میں نے آپ کو بتایا کہ اختلاف کرنا میری عادت ہے۔ میرا دل چاہا کہ اس لرزہ خیز رائے سے بھی اختلاف کروں ، میں نے الفاظ اور دلائل ڈھونڈنے کی کوشش کی مگر ناکام رہا۔ مجھے لگا کہ میں نے سقوط کشمیر کے دفاع میں کوئی بودی دلیل دینے کی کوشش بھی کی تو وہ ریت کی دیوار سے زیادہ نہیں ہوگی، میں عمران خان کی بطور وزیراعظم صلاحیتوں کا دفاع نہیں کر سکوں گا۔ میں اپنی مخالفت کرنے والوں کو فی الوقت بحث میں ہرا نہیں سکتا مگر دل ہی دل میں دعا ضرور کر سکتا ہوں کہ اللہ کرے ،اس دور کو یحییٰ خان کا دور کہنے والے غلط ثابت ہوں۔اللہ کرے، ہم اقتصادی ترقی کی شاہراہ پربھی گامزن ہوں اور کشمیر بھی پاکستان بن جائے۔آمین، ثُم آمین۔

نجم ولی خان


ای پیپر