22 ستمبر 2019 2019-09-22

جنگل کے جانوروں میں بھگدڑ مچی ہوئی تھی ایک ہرن نے بھاگتے بھاگتے ایک چوہے سے پوچھا :”کیا بات ہے تمہیں کیسی پریشانی ہے؟

چوہا بولا :” ایک شیرنی اغوا ہوگئی ہے۔“

ہرن :”لیکن تم کیوں پریشان دکھائی دیتے ہو۔؟“

چوہا: ”مجھ پر بھی شیرنی کے اغوا کا شک کیا جارہا ہے۔“

ان دنوں اہل قلم کے سرکاری ادارے کی سربراہی کے لیے ”بھاگ دوڑ“ شروع ہے۔ یار لوگ فیس بک پر بھی ایک دوسرے کو اکادمی کے چیئرمین کے لیے ”نامزد“ کرتے پھررہے ہیں۔ ہرکوئی اپنے ایک دو دوستوں کے نام لکھ کر انہیں ”موزوں ترین“ قرار دے رہا ہے۔ حالانکہ اکادمی ادبیات پاکستان ایک سرکاری ادارہ ہے اور اس کے لیے تجربہ کار سینئر اور کوالیفائیڈ شخصیت درکار ہے اور یہی نہیں ادبی حوالے سے اس کی مسلمہ حیثیت اور قدکاٹھ بھی ضروری ہے۔ اب اس کے لیے ”مہاتڑ“،اور کئی مرے جیسے بھی ایڑیاں اٹھا کر اپنے آپ کو اہل قرار دینے پر تُلے ہوئے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل اسلام آباد میں بعض اہل قلم سے ملاقاتیں ہوئیں۔ وہیں سے یہ خبر بھی علم میں آئی کہ اکادمی کی چیئرمین کے لیے حکومت نے باقاعدہ درخواستیں طلب کررکھی ہیں۔ اور کئی اہل اور باصلاحیت شخصیات کے ساتھ ساتھ ایک دو اپنےتئیں ”قدآور“ بلکہ بقول فرحت شاہ ”دولے شاہ کے چوہے“ نما لکھاریوں نے بھی درخواستیں دے ڈالی ہیں۔ جنہیں پختہ یقین بھی ہے کہ وہ جلد ہی چیئرمین اکادمی ادبیان پاکستان منتخب ہوکر اکادمی کی باگ ڈور سنبھال لیں گے۔

ایک دوست نے ان کی اس ”حرکت“ پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ بعض لوگوں کو پتہ ہوتا ہے کہ وہ الیکشن نہیں جیت سکتے مگر وہ پھر بھی الیکشن میں امیدوار بن کر اپنے کاغذات جمع کرادیتے ہیں اور پھر ضمانتیں ضبط کرابیٹھتے ہیں اس کا فائدہ انہیں صرف ایک ہی ہوتا ہے کہ وہ ساری عمر اپنے نام کے ساتھ سابقہ امیدوار قومی اسمبلی لکھتے رہتے ہیں۔ سو ”دولے شاہ“کے چوہے بھی سابقہ امیدوار چیئرمین اکادمی ادبیات لکھنے کے لیے درخواست دے بیٹھے ہیں۔ اللہ انہیں اپنے مقصد میں کامیاب کرے۔ آمین۔

ذاتی طورپر ہمیں کوئی اعتراض نہیں وہ اگر اکادمی کے چیئرمین منتخب بھی ہوجائیں تو بھی اہل قلم کو کیا اعتراض ہوسکتا ہے؟ پہلے بھی تو ”وسیم اکرم پلس“ قسم کے لوگ مختلف وزارتوں اور اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں۔ یہ تو زمانہ ہی ایسے لوگوں کا ہے۔ ”بقول وارث شاہ :

”اُلٹی صدی خلاف زمانہ جھوٹ جِتے سچ ہارے“

لہٰذااکادمی کا چیئرمین ہو یاکسی اور ادارے کا ہونا تو وہی ہے جسے حکومت وقت کی آشیر باد حاصل ہوگی۔

ہمارے بہت سے اہل قلم کا خیال یہ ہے کہ اکادمی کی چیئرمینی کے لیے درخواستیں اور انٹرویو کے بجائے حکومت ایسے نہایت تجربہ کار اور سینئر ادیب شاعر کو اس عہدے پر تعینات کرے۔

جس پر تمام چھوٹے بڑے تخلیق کار متفق ہوں۔ اور وہ شخصیت سب کے لیے قابل قبول ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے اخلاق وکردار میں بھی نمایاں ہو۔ اب اگرہم کوئی نام تحریر کریں گے تو اس پر بھی تنقید ہوسکتی ہے۔ البتہ ہم ایسے چند نام ضرور لکھ دیتے ہیں جو کم ازکم اس پوسٹ کے لیے اہل ہیں۔ اور ان لوگوں نے شاید خود اس عہدے کے لیے کبھی کوئی کوشش نہیں کی اور نہ ہی طلب کی جانے والی درخواستوں میں ان کا نام شامل ہے۔

مثلاً اظہار الحق اس نشست کے لیے موزوں ہوسکتے ہیں ریٹائرڈ بیوروکریٹ ہیں۔ اگر کشور ناہید راضی ہو جائیں تو وہ بھی سب کے لیے قابل قبول ہوسکتی ہیں ان کا بھی انتظامی عہدوں پر رہنے کا اچھا خاصا تجربہ ہے ۔ پروفیسروں میں دیکھیں تو ڈاکٹر نجیب جمال ، ڈاکٹر انوار احمد، جلیل عالی، ڈاکٹر اصغر ندیم سید، ڈاکٹر خورشید رضوی ، ڈاکٹر سعادت سعید، ڈاکٹر یوسف ، ڈاکٹر زاہد منیر عامر موجود ہیں اگر محض ادیب شاعر اور صحافی ہونا ہی شرط ہو تو فخرزمان پیرزادہ قاسم ، امجد اسلام امجد، جبار مرزا، تابش الوری، ڈاکٹر وحید احمد، اور قدرے متحرک ، نوجوان اہل قلم میں سے محبوب ظفر، ڈاکٹر صغراصدف، ناصر علی سید، جمیل احمد عدیل، ڈاکٹر غافر شہزاد، نصیر احمد ناصر، عقیل عباس جعفری، منصور آفاق اور کچھ دیگر اسمائے گرامی ایسے ہیں جن کو اس عہدے کے لیے چنا جاسکتا ہے۔ یہ نام جو فوراً ذہن میں آگئے ہوسکتا ہے کوئی ان میں سے بھی بہتر نام رہ گیا ہو۔

گزارش صرف اتنی ہے کہ نام ایسا ہو جس میں ادیب ہونے کے ساتھ ساتھ کچھ ایسی صفات بھی ہوں کہ وہ سب کو ساتھ لے کر چل سکے۔ سردست جن دوستوں نے درخواستیں دی ہیں ان میں سے بھی حفیظ خان ،حمید شاہ میرٹ میں سرفہرست ہیں۔ اللہ کرے کمیونٹی کے لیے بلا تعصب کام کرنے والا چیئرمین اکادمی کو میسر آئے جو تخلیق کاروں کے مسائل حل کرے اور زبان وادب کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرے۔


ای پیپر